آئی ایم ایف سے معاہدے پر جشن؟
بالآخر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خدشہ ختم ہو گیا ہے۔ موجودہ حکومت کا پچھلے 15 ماہ میں سب سے بڑا کارنامہ پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانا ہے۔ پچھلی حکومت پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے کے کنارے پر چھوڑ گئی تھی۔ اپنے پرائے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ اس معاہدہ کے طے پانے میں بے پناہ رکاوٹیں درپیش تھیں۔ آئی ایم ایف نے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی میں نہ صرف پاکستان کو تگنی کا ناچ نچایا بلکہ ناک کی لکیریں نکلوا دیں۔ اس کی بنیادی وجہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 2019 ء میں طے پانے والے معاہدہ پر عمل درآمد نہ کرنے بد اعتمادی کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔
عمران خان نے اقتدار کا سنگھاسن ڈولتے دیکھ کر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو اپنے پاؤں تلے روند کر پٹرول اور بجلی کی قیمتیں کم کر کے مختصر مدت کے لئے ان کی جگہ لینے والی حکومت کے لئے بارودی سرنگیں بچھا دیں جس کے باعث شہباز شریف کی حکومت کے 15 ماہ کانٹوں کی سیج سے کم نہ تھے۔ پچھلی حکومت کی بچھائی بارودی سرنگوں نے پاکستان کو لہولہان تو کر دیا لیکن حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا خدانخواستہ پاکستان ڈیفالٹ ہو جاتا تو آج کوئی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوتا۔ کامیابی کے سب باپ بن جاتے ہیں لیکن ناکامی کا کوئی باپ نہیں ہوتا سینیٹر اسحق ڈار معاشی ٹارزن بن کر پاکستان آئے لیکن انہیں جگہ جگہ ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا یہ 2017 کا پاکستان نہیں پلوں کے نیچے سے دریاؤں کا بہت پانی گزر چکا تھا جس پر لوگوں نے سینیٹر اسحق ڈار کے لئے آئی ایم ایف کو ان کی چڑ بنا دیا تھا۔
وہ جدھر سے گزرتے انہیں آئی ایم ایف بارے سوال کا سامنا کرنا پڑتا۔ آئی ایم ایف کے طرز عمل نے انہیں بلند فشار خون کی خطرناک بیماری میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ آئی ایم ایف بارے میں سوال سے اس حد چڑ گئے کہ ایک صحافی سے الجھ بیٹھے عالمی مالیاتی ادارے اور پاکستان کے درمیان 3 ارب ڈالر کی فراہمی کا معاہدہ ہوا ہے۔ اسے آئی ایم ایف کے ساتھ 2019 ء کے ای ایف ایف کی بجائے سٹینڈ سٹینڈ بائی معاہدہ قرار دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کا بورڈ وسط جولائی تک سٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے گا۔ پاکستان کو 9 ماہ کے لئے آئی ایف ایم سے 3 ارب ڈالر حاصل کرنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑے ہیں۔ یہ رقم تین اقساط میں ملے گی لیکن مزید دو اقساط کے اجراء کے لئے پاکستان کو متعدد مزید اقدامات کرنا پڑیں گے اگرچہ وزارت شماریات کے جاری کردہ اعداد و شماریات کے مطابق 7 ماہ میں پہلی بار مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 4 ء 29 ہو گئی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے۔
آئی ایم ایف کے معاہدہ کے بعد ہمیں توانائی شعبے کی لاگت وصول کرنے کے لئے ٹیرف میں اضافہ کرنا پڑے گا۔ پاکستان کو صارف نرخ ریکارڈ مہنگائی کے باوجود بڑھانا ہوں گے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے بعد ڈالر کے مقابلے میں روپیہ قدرے مضبوط ہوا ہے۔ ہر روز ڈالر کی قدر تیزی سے گر رہی ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے خریدار کم جب کہ فروخت کرنے والوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ آئی ایم ایف معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہے کہ کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کے بارے میں غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی اور وہ لوگ اوپن مارکیٹ میں ڈالر لانے پر مجبور ہو گئے ہیں جنہوں نے بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے ڈالروں سے تجوریاں بھر رکھی تھیں اس وقت پاکستان کے کے زرمبادلہ کے ذخائر 5 ء 3 ارب ڈالر ہیں جن سے ایک ماہ کی درآمدات کی ادائیگی کی جا سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کی ہدایت پر سٹیٹ بینک کو درآمدی پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔ پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی آنے پر درآمدات پر پابندی عائد کی تھی۔ درآمدات پر پابندی ختم کرنے سے وہ تمام صنعتیں دوبارہ چالو ہو جائیں گی جو درآمدات پر پابندی سے بند پڑی ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو مارکیٹ بیس شرح تبادلہ پر مجبور کر دیا ہے اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے 3 ارب دینے کا وعدہ کیا تھا جو اب آئی ایم ایف کے معاہدے کے بعد پاکستان کو مل جائیں گے۔
پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے میں چینی قرضوں کا بڑا رول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے جہاں دیگر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔ وہاں چین کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ آئی ایم ایف معاہدے سے قبل وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اسحق ڈار نے جیو پولیٹیکل صورت حال کا برملا ذکر کیا تھا اور اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ معاہدے کی راہ میں جیو پولیٹیکل صورت حال حائل ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے جتنی بار ملاقاتیں اور رابطے قائم کیے شاید ہی کسی وزیر اعظم کو آئی ایم ایف کے پاس کشکول اٹھا کر جانا پڑا وزیر اعظم نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے قرضوں کے حصول میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا وزیر اعظم نے پیرس کانفرنس میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے بات چیت کرانے میں سری لنکا کے صدر کا بھی شکریہ کیا وہاں انہوں نے پاکستان کے ان اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا ذکر بھی کیا جن کی خواہش تھی کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں پاکستان ڈیفالٹ ہو جائے یہ بات حقیقت پر مبنی ہے۔ قرض لے کر ملک چلانا کوئی فخر کی بات نہیں مقروض ملک اپنی خود مختاری گروی رکھنا پڑتی ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ سے سٹاک مارکیٹ پر اچھے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایک دن میں 2446 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ آنے والے دنوں میں روپیہ مضبوط ہو گا۔ مہنگائی میں کمی آئے گی۔
پاکستان نے آئی ایم ایف کو لیٹر آف انٹینٹ کے ذریعے 9 یقین دہانیاں کرائی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ مالی سال 2023 کے اختتام کے لئے 4.056 ارب ڈالرز کی موجودہ سطح کے مقابلے میں مالی سال 2024 ء کے اختتام تک زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 7.65 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لئے تمام تر اقدامات کرے گا جو بڑھ کر 11.7 ارب ڈالر ہو جائیں گے۔ اگر جون 2024 کے اواخر تک مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 11، 7 ارب تک پہنچ جائیں تو یہ 1.8 ماہ کی درآمدی ضروریات کے لئے کافی ہوں گے۔
پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران کثیر الجہتی اور دو طرفہ قرض دہندگان سے بیرونی فنانسنگ کو یقینی بنانا ہو گا۔ پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب اور متحدہ عرب امارات سے ایک ارب ڈالر ملنے کی امید ہے۔ اسلامی ترقیاتی بنک سے ایک ارب کا قرض بھی کی امید وابستہ ہے۔ اوگرا نے گیس یوٹیلٹی کے دو متعلقہ اداروں کے لیے پہلے ہی گیس کے نرخوں کو 45 اور 50 فیصد تک بڑھانے کی سفارش کر دی ہے۔ ہے۔ پاکستان مخالف بیرونی قوتیں چاہتی تھیں کہ پاکستان سری لنکا بن جائے اور پھر عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بیل آؤٹ کے لئے پاکستان اپنی خود مختاری پر کمپرو مائز کرے پاکستان کو اپنا کشکول توڑنے کے لئے شاہ خرچیاں کم کرنا ہوں گی۔ درآمدات اور برآمدات میں توازن پیدا کرنا ہو گا۔ بصورت دیگر پاکستان کو ہر وقت کشکول ہاتھ میں اٹھائے رکھنا ہو گا۔

