یہاں سب ممکن ہے


بڑی دیر کردی صنم آتے آتے۔ نواز شریف کی جانب سے بڑی دیر بعد بیان سامنے آیا کہ واپسی پر جیل جانا پڑا تو ضرور جاؤں گا۔ یہ خیال نواز شریف کو ایسے وقت پر آیا جب عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کا فیصلہ آنے والا اور حکومت اپنی مدت پوری کرنے والی ہے۔ اگر نواز شریف گزشتہ سال نومبر، دسمبر میں ہی پاکستان واپس آتے جیل جاتے تو اب تک شاید ان کے کیسز بھی ختم ہو جاتے اور سردی کی جیل میں پریشانی بھی نہ ہوتی جبکہ ان کی مقبولیت کا گراف بھی اوپر جاتا ان کا کارکن بھی متحرک ہوتا لیکن الیکشن سے دو ماہ قبل پاکستان واپس آ کر جیل جانا زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہو گا۔

اگر نواز شریف اگست میں واپس آتے ہیں تو ان کو سب سے پہلے سرینڈر کرنا ہو گا ائرپورٹ پر ہی ان کو گرفتار کر لیا جائے دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ اسحاق ڈار کی طرح ایک یا دو ہفتوں کی حفاظتی ضمانت لے کر پاکستان واپس آئیں پھر سرینڈر کر دیں۔ یہ واپسی ایسے وقت پر ہو گی جب ایک عدالت عمران خان کو قید یا نا اہلی کی سزا سنا چکی ہو گی۔ ایسے وقت میں عدالت کی جانب سے نواز شریف کو ریلیف دینے سے اسٹبلشمنٹ اور شہباز شریف پر سوالات اٹھیں گے۔

دنیا میں بھی عدالت کے طرز انصاف پر سوالات اٹھیں گے کہ الیکشن سے دو ماہ قبل ایک جماعت کے سربراہ کو نا اہل کیا جا رہا ہے اور دوسری جماعت کے سربراہ کو اہل کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے ورکرز میں اسٹبلشمنٹ مخالف مزید جذبات بھڑکیں گے۔ عمران خان کے لندن پلان والے دعوے کو بھی مزید پذیرائی ملے گی۔ کیونکہ وہ بار بار کہہ رہے ہیں نواز شریف کی شرط ہے پہلے پی ٹی آئی کو ختم کرو اور عمران مائنس کرو میں پھر پاکستان واپس آؤں گا۔

اگر الیکشن سے دو ماہ قبل عمران خان نا اہل ہوتے ہیں تو عوام میں ان کے لیے مزید ہمدردی کا عنصر فروغ پائے گا۔ عمران خان کا ووٹر وقتی کریک ڈاؤن سے خاموش ضرور ہے ختم نہیں ہوا۔ اگر نواز شریف کے بغیر مسلم لیگ (ن) الیکشن میں جاتی ہے تو نون لیگ سادہ اکثریت بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی کیونکہ پنجاب میں ووٹ صرف نواز شریف کے نام پر نون لیگ کو ملتا ہے۔ نواز شریف کے لئے ایک اور بڑی مشکل جسٹس بندیال کے ہوتے ریلیف لینا ہے کیونکہ نواز شریف کو توقع نہیں ان کی موجودگی میں مجھے کوئی ریلیف مل سکے گا۔

اگر الیکشن سے دو ماہ قبل نواز شریف کی سزا ختم بھی ہوجاتی ہے تو نواز شریف کو مہنگائی میں پسی عوام کا بھی سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ پنجاب کے عوام اس وقت سب سے زیادہ نون لیگ کو ہی کوس رہے ہیں اور مہنگائی کا ذمہ دار سمجھ رہے ہیں۔ باخبر ذرائع بتاتے ہیں ایک پلان پیش کیا گیا ہے کہ اگر نواز شریف پاکستان واپس آئیں الیکشن کیمپین کریں آپ کی پارٹی جیت جائے تو شہباز شریف کو ہی دوبارہ وزیراعظم بننے دیا جائے۔ شہباز شریف چھ ماہ یا ایک سال حکومت چلائیں آپ ضمنی الیکشن لڑیں اور پھر وزیراعظم بن سکتے ہیں اگر ایسے ہوتا ہے تو الیکشن سے قبل عمران مائنس والا تاثر بھی زائل ہو جائے گا۔

فی الحال نواز شریف نے اس پلان پر رضامندی ظاہر نہیں کی لیکن غور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ آپشن نواز شریف کو سوٹ کرتا ہے کیونکہ الیکشن سے قبل نواز شریف کی نا اہلی ختم ہونا اور عمران خان کا نا اہل پورے سسٹم پر کئی سوالات کھڑے کرے گا۔ نواز شریف کو 2018 کے الیکشن سے ایک سال قبل نا اہل کیا گیا تھا جبکہ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ الیکشن سے دو ماہ قبل آئے گا۔ نواز شریف کی واپسی، سزائیں ختم کروانا پھر عوام کا اعتماد حاصل کرنا اور پھر وزیراعظم کی کرسی تک پہنچنا کچھ لوگوں کو تو بہت آسان لگ رہا لیکن یہ مشکلات سے بھرپور راستہ ہے جو نواز شریف کو طے کرنا ہے۔ خیر یہ پاکستان ہے یہاں سب ممکن ہے۔

Facebook Comments HS