آبادی کا عالمی دن
بے ہنگم طریقے سے بڑھتی ہوئی دنیا کی آبادی رواں صدی کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ سب سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ان ممالک میں ہے جو سب سے کم ترقی یافتہ ہیں۔ ان میں زیادہ تر بر اعظم افریقہ اور ایشیا کے ممالک شامل ہیں جن کی اوسط سالانہ شرح آبادی 2.4 فیصد ہے۔ مزید براں، دنیا کو شہری آباد کاری اور نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کا چیلنج بھی درپیش ہے۔ 2007 پہلا سال تھا جب دیہی علاقوں کی نسبت شہری علاقوں کی آبادی زیادہ ہو گئی۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک دنیا کی تقریباً 66 فیصد آبادی شہروں میں رہ رہی ہو گی۔
بڑھتی ہوئی آبادی، شہری آبادکاری اور نقل مکانی کے اثرات کسی بھی ملک کی معاشی ترقی، روزگار، آمدنی، غربت اور سماجی تحفظ کے نظام پر بہت دور رس ہوتے ہیں۔ ان عوامل سے صحت، تعلیم، رہائش، صفائی، پانی، خوراک اور توانائی کے مسائل حل کرنے کی کوششیں بھی متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ لوگوں کی ضروریات کو اس وقت تک پورا نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ پالیسی سازوں کو یہ نہ معلوم ہو کہ دنیا میں کتنے لوگ رہتے ہیں، کہاں رہتے ہیں، ان کی عمریں کیا ہیں اور ان کے بعد کتنے لوگ آئیں گے۔
پاکستان اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچوں بڑا ملک بن چکا ہے۔ 2.4 فیصد کی بلند ترین شرح پیدائش کی وجہ سے ہم ہر سال اپنی آبادی میں تقریباً 50 لاکھ بچوں کا اضافہ کر رہے ہیں۔ اس تیزی سے بڑھتی آبادی نے پاکستان کو دنیا کی آبادی میں اضافے کا تیسرا بڑا حصہ دار بنا دیا ہے۔ اس غیر معمولی شرح پیدائش کے سنگین نتائج ہیں جن میں سماجی مسائل سے لے کر قومی سلامتی تک کے خطرات شامل ہیں۔
ہم انسانی ترقی کے انڈکس میں اس وقت 192 ممالک میں سے 161 ویں نمبر پر ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق نصف آبادی کو صحت و صفائی کی بنیادی سہولیات حاصل نہیں ہیں۔ بے روزگاری کی شرح 6.5 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ تقریباً ً ایک چوتھائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔
ہمارے برعکس بڑی آبادی والے کئی دیگر مسلمان ممالک اپنی شرح پیدائش پر قابو پا کر معاشی اور سماجی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ ان ممالک میں انڈونیشیا اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انڈونیشیا نے پاکستان کی آبادی کے حوالے سے 1953 کے ماڈل کو عملی طور پر نافذ کیا اور 1990 کی دہائی میں آبادی کا عالمی ایوارڈ اپنے نام کیا۔ انڈونیشیا کی طرف سے اٹھایا جانے والا پہلا قدم جمعہ کے خطبوں کے ذریعے علما کی مدد حاصل کرنا تھا۔ یہی طریقہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی ریاستوں میں بھی موثر انداز سے استعمال کیا گیا۔
اسی طرح سے بنگلہ دیش کے پالیسی سازوں نے بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کے لیے تعلیم، عوامی آگاہی اور دیگر ضروری اقدامات کو ترجیح بنایا۔ میڈیا کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل اشیا متعارف کرائی گئیں۔ اس کے علاوہ خواتین کو ان کے خاندان کے معاشی حالات اور صحت کی بہتری کے لیے کم بچوں کی پیدائش کی اہمیت سے آگاہ کرنے لیے کی مہم چلائی گئی۔
مختلف سرویز سے یہ بات معلوم ہو چکی ہے کہ ان پڑھ خواتین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی اوسط تعداد تعلیم یافتہ عورت کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ ہمارا برادر اسلامی ملک ایران خواتین کی شرح تعلیم کو بڑھا کر ایک عورت کے ہاں پیدا ہونے والے اوسط بچوں کی تعداد کو دو پر لے آیا جب کہ 1980 میں وہاں ایک عورت کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد اوسطاً سات ہوتی تھی۔
جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے آبادی میں اس تیزی کے ساتھ اضافے کا بنیادی سبب بلند شرح پیدائش ہے۔ ہمیں 2030 تک اپنی آبادی میں اضافے کو 2.4 فیصد سالانہ سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ کم و بیش پچھلے پانچ سال سے آبادی کی اس بڑھتی ہوئی رفتار میں کوئی قابل ذکر کمی واقع نہیں ہوئی۔ بین الاقوامی معاہدات کی رو سے ہمیں مانع حمل ادویات کی دستیابی کی شرح کو 2020 تک 55 فیصد تک لانا تھا مگر یہ شرح آج بھی 35 سے 40 فیصد سے زیادہ نہیں ہیں۔
پاکستان میں آبادی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے ہمیں بنگلہ دیش، ایران اور انڈونیشیا جیسے اسلامی ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوری طور پر چند اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
1۔ ان میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ حکومت بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لے۔
2۔ والدین کو اپنی اولاد کی اچھی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سے آگاہ کرنے کے لیے جمعہ کا ممبر استعمال کیا جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ اس حوالے سے ان سے جوابدہی کی جائے گی۔ وزارت مذہبی امور اس مسئلے میں اپنا کردار ادا کرے۔
3۔ خواتین کی تعلیم آبادی کو کنٹرول کرنے میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور معاشی خود مختاری کو ہدف بنایا جائے۔ خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیم کی حوصلہ افزائی انہیں اپنے خاندان سے متعلق سوچے سمجھے فیصلے کرنے میں با اختیار بنا سکتی ہے۔
4۔ ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن کمیٹی کو فعال بنایا جائے اور بین الشعبہ جاتی تعاون کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرامز کو موثر بنایا جائے۔
5۔ پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے ذریعے تمام بنیادی و دیہی مراکز صحت میں خاندانی منصوبہ بندی کی کاونسلنگ اور خدمات کو یقینی بنایا جائے۔


