پاکستانی معیشت۔ ایک جائزہ


اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مستقل مندوب ملیحہ لودھی کی شائع کردہ کتاب ”Pakistan beyond the crisis state“ میں پاکستان کے ممتاز ماہر معاشیات میکال احمد نے آج سے بارہ سال پہلے ”An economic crisis state“ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ”پاکستان میں معاشی نظم و نسق اس حد تک خراب ہو گیا ہے کہ معیشت ایک مالیاتی بحران سے دوسرے مالیاتی بحران کی طرف لپکتی ہے۔ اس مسئلے کی بنیادی وجہ قومی خزانے کا غیر ذمہ دارانہ استعمال اور ملکی معیشت میں موجود کچھ انتظامی مسائل ہیں جنہیں برے انتظامات اور ناقص گورننس نے مزید بڑھا دیا ہے۔ اس غیر موثر گورننس کے نتائج ہمیں معاشی عدم استحکام، آسمان کو چھوتی مہنگائی، ناقص عوامی خدمات، سماجی شعبوں کی مجرمانہ غفلت، وسیع پیمانے پر بدعنوانی، بجلی کی بندش، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، بڑھتی ہوئی غربت اور بگڑتے ہوئے قرض پروفائل کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام اپنی شرائط کے طور پر کچھ اصلاحات نافذ کرتا ہے لیکن جیسے ہی یہ پروگرام ختم ہوتا ہے تمام اصلاحات واپس لے لی جاتی ہیں۔“

یوں لگتا ہے کہ ایک دہائی پہلے کہی گئی یہ تمام باتیں پاکستان کی موجودہ معاشی حالت پر لکھی گئی ہیں۔ آج بھی کچھ نہیں بدلا۔ آج بھی ہم اپنی معاشی خودمختاری کے تحفظ کے لیے قابل عمل ترقی کی راہ تلاش کرنے کے بجائے بیرونی مالی امداد اور قرض لینے پر انحصار کرتے ہیں۔ آج بھی پاکستانی معیشت کم شرح نمو، بلند افراط زر، بے روزگاری، گرتی ہوئی سرمایہ کاری، ضرورت سے زیادہ مالیاتی خسارے، گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر اور بھاری قرضوں کی واپسی میں جکڑی ہوئی ہے۔ اس وقت پاکستان کے پاس صرف ایک ماہ کے درآمدی بل کی ادائیگی کے لیے غیر ملکی ذخائر موجود ہیں۔ (آئی ایم ایف کی قسط سے وقتی بہتری کے امکانات ہیں۔ )

اگرچہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں بہت سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں مگر میرے نزدیک دو عوامل ایسے ہیں جن کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اور انہی دو عوامل کا پاکستان کے موجودہ معاشی بحران میں سب سے زیادہ کردار ہے۔ حکومت کے پاس پیسہ کمانے کے دو ذرائع ہوتے ہیں۔ پہلا ذریعہ آمدن ٹیکس وصولی اور دوسرا ذریعہ سرکاری ادارے جنھیں (State owned enterprises) کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کا نظام غیر موثر اور فرسودہ ہے جبکہ (SOEs) یا سرکاری ادارے ملکی معیشت پر بوجھ ہیں۔ ان دونوں عوامل میں اصلاحات لانے کے لئے سخت فیصلے لینے ہوں گے۔ ان اصلاحات کا دار و مدار گڈ گورننس پر ہے۔

پاکستان میں حکومت کا خاطر خواہ ٹیکس ریونیو اکٹھا نہ کرنے کے پیچھے غیر موثر ٹیکس اصلاحات ہیں۔ بہت سے سروس سیکٹرز اور کاروبار آج بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ آج بھی زرعی آمدن پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا جبکہ ملک میں ایک کثیر تعداد بڑے زمینداروں کی موجود ہے۔ ہمیں ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ہو گا۔ وہ ملک جو قرضوں پہ چلتا ہو، ادھر ایسے ریفارمز کی سخت ضرورت ہے۔ بہت سے کاروبار حکومت کی جانب سے صارفین سے وصول کیے جانے والے سیلز ٹیکس حکومت کو پوری طرح ادا نہیں کرتے۔ اس طرف بھی توجہ دینا چاہیے۔ کاروباری حضرات اور ٹیکس حکام کی ملی بھگت اور سسٹم میں موجود خامیوں کی وجہ ٹیکس چوری ہوتا ہے۔ ٹیکس کے محکمے میں بھی ریفارمز کی شدید ضرورت ہے جس میں نئی بھرتیاں اور ریگولیٹری قوانین سر فہرست ہیں۔

دوسری طرف ملکی خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے بجٹ کے وسائل کی ایک بڑی رقم استعمال کر رہے ہیں، جو کہ ملک خزانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔ بنیادی طور پر بدعنوانی اور نا اہلی اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ان اداروں کی طرف سے اپنی پیداواری صلاحیتوں، استعداد وغیرہ کو بہتر بنانے کے لیے کوئی موثر کوشش نہیں کی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر سال حکومت کی جانب سے ان SOEs کی بقا کے لیے ایک بڑی رقم استعمال کی جاتی ہے۔ ان SOEs کی مینجمنٹ اگر بہتر کر لی جائے تو یہ نہ صرف اپنا خرچہ خود اٹھا سکتی ہیں بلکہ حکومتی خزانہ بھرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان ریلوے، پاکستان پوسٹ آفس، پاکستان ائر لائن اور پاکستان اسٹیل ملز وہ ادارے ہیں جو پچھلی کئی دہائیوں سے پستی کا شکار ہیں۔

اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ بجلی کے خسارے اور غیر ہدف شدہ سبسڈیز کو دور کیا جا سکے۔ پاکستان کو اپنی برآمدات پر مبنی صنعتوں جیسے کہ ٹیکسٹائل، زراعت اور فارماسیوٹیکلز کی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے لیے ٹیکنالوجی، تحقیق اور ترقی اور مارکیٹنگ میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔ ملکی پیداوار کو فروغ دے کر اور مقامی صنعتوں کو ترقی دے کر درآمدات کو کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس سے ملک کا درآمدات پر انحصار کم کرنے اور ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اور آخر میں قانونی نظام کی مضبوطی اور سرکاری کاموں میں شفافیت کے بغیر کوئی بھی منصوبہ بندی من چاہے نتائج نہیں دے سکتی۔

Facebook Comments HS

محمد ارسلہ خان

محمد ارسلہ خان پاکستان میں روس کے اعزازی قونصل ہیں

muhammad-arsallah-khan has 11 posts and counting.See all posts by muhammad-arsallah-khan