سائنس اور مذہب
یہ بات تو سمجھ اتی ہے کہ ایک عقلمند شخص یا تو ایک طاقتور غیر مرئی خدا پر یقین کر سکتا ہے یا پھر خدا کے وجود سے انکار کر سکتا ہے۔
یہ کائنات کیسے وجود میں آئی؟
زندگی کس نے پیدا کی؟
اور اس کائنات کو چلانے والے قوانین کس نے بنائے؟
ان جیسے سوالات کا کسی بھی طرح سے کوئی عقلی جواب نہیں ہے۔ جس طرح کوئی ملحدانہ موقف اختیار کر سکتا ہے کہ خدا کو ماننے کی ضرورت نہیں ہے، اسی طرح ایک مضبوط دلیل یہ دی جا سکتی ہے کہ یہ کائنات کسی منصوبہ ساز اور خالق کے بغیر معنی نہیں رکھتی۔
تاہم جو چیز غیر معقول ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی انسان کو جو مافوق الفطرت طاقتوں کا دعویٰ کرتا ہے اسے مافوق الفطرت درجہ تفویض کر دیا جائے۔ کوئی بھی چیز جو عقلی اور سائنسی طور پر سمجھ سے باہر ہو، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فطرت کے قوانین سے باہر ہے۔ امکان یہ ہے کہ، آج ہمارے پاس سائنسی فریم ورک کے اندر ان واقعات کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ تاہم، انسانی علم کی ترقی کے ساتھ، ہم مستقبل میں کسی وقت ان کی وضاحت کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔
مثلاً ایک وقت تھا جب بارش اور سورج اور چاند گرہن کو خدائی واقعات میں شمار کیا جاتا تھا جن کی کوئی عقلی تاویل نہیں تھی۔ تاہم آج نہ صرف ہم ان کی سائنسی اصلیت کو سمجھتے ہیں بلکہ مستقبل میں ہونے والے ان واقعات کی پیشین گوئی بڑی درستی کے ساتھ کر سکتے ہیں۔
مذاہب اور تصوف انسانی تاریخ میں بڑی قوتیں رہے ہیں۔ بہت سی مذہبی شخصیات کے ساتھ مافوق الفطرت واقعات منسوب کیے جاتے ہیں۔ مسیحی یسوح مسیح کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔ ان کی مقدس حیثیت کو قائم کرنے کے لیے عموماً بہت سے معجزات ان کے ساتھ منسلک کیے گئے ہیں۔ تاہم، جس چیز کے بارے میں زیادہ نہیں سوچا جاتا وہ یہ ہے کہ مذہبی شخصیات سمیت تمام انسانوں نے مکمل طور پر عام زندگی گزاری ہے۔ ان کی پیدائش قدرتی انداز میں ہوئی، بچوں کی طرح پرورش پائی، جوان ہوئے، پھر بڑھاپے کا سامنا کیا، اور آخر کار کسی دوسرے انسان کی طرح فطری یا حادثاتی وجوہات کی وجہ سے مر گئے۔
زندگی کے لیے ان کے تقاضے، مثلاً رہائش، کپڑے اور خوراک، دوسرے انسانوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھے۔ بہت سے معاملات میں عام سی زندگی گزاری، ان میں سے بیشتر نے شادی کی، بچے پیدا کیے، اور کسی بھی عام انسان کی طرح خاندان میں بیماری اور موت کا سامنا کیا۔ تاریخ میں ایک بھی انسان ایسا نہیں ہے جو کسی مختلف طریقے سے پروان چڑھا ہو یا جو زندگی میں کسی غیر معمولی کیفیات یا تقاضوں کی نمائش کر سکے۔ ہر کوئی، بشمول وہ لوگ جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ مردوں میں جان ڈالنے کا معجزہ کر سکتے تھے، خود ایک عام انسان کی طرح عمر کی معمول کی حد کے اندر ہی مر گئے۔
تاہم ایسا ضرور ہے کہ انسانوں میں سے کچھ نے دوسروں پر سبقت حاصل کی۔ کچھ کو ہنر سے نوازا گیا، جس نے انہیں منفرد بنا دیا۔ ان کی ذہنی طاقت، ان کی جسمانی طاقت، یا ان کی فنکارانہ صلاحیتوں نے انہیں اپنے اپنے دائروں میں دوسروں سے برتر بنا دیا۔ یہ برتری کیسے حاصل کی جاتی ہے یہ ہمارے علم میں نہیں ہے۔ ان کی جڑیں شاید عصبی باہمی ربط، ڈی این اے کی ساخت، یا انسانی ساخت کے کسی اور پہلو میں مخفی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ہم اس فرق کا ماخذ نہیں جانتے ہیں، تب بھی اسے کسی اعلیٰ اتھارٹی کی طرف سے مقرر کردہ مافوق الفطرت ہنر کے طور پر پیش کرنا انتہائی نامناسب ہو گا۔ سائنس اور سائنسی آلات کی ترقی کے ساتھ، اس بات کا امکان ہے کہ ہم ان سوالات کے جوابات مستقبل قریب میں پا سکیں۔
مذہبی حلقوں میں عام طور پر عقلی رویہ کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔ ایسے دعوے کیے جاتے ہیں جن کا کوئی عقلی جواز نہیں ہے۔ کچھ افراد خدا کے ساتھ ایک خاص تعلق کا دعوی کرتے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے وہ یہ مافوق الفطرت تجربات کر سکتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر سائنسی فریم ورک کے اندر قابل قبول نہیں ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سائنس اور سائنسی فکر کیا ہے۔ یہ سمجھنا کیوں ضروری ہے کہ سائنسی قوانین ہی کسی بھی واقعے یا وقوعہ کی وضاحت کا واحد ذریعہ ہیں؟
سائنس کی جدید بنیادوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں دو ہزار سال سے زیادہ پہلے عظیم یونانی ریاضی دان اقلیدس کی طرف جانا ہو گا۔ اقلیدس نے جیومیٹری کی بنیاد ڈالی اور ایک کتاب لکھی جس کا نام Elements تھا۔ یہ کتاب اب تک لکھی گئی سب سے زیادہ با اثر کتابوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ سائنسی قوانین کی بنیاد کا معیار طے کرتی ہے۔ لیکن کس طرح؟
اقلیدس نے ان تمام جیومیٹری کے نظریات کو دیکھا جو ان سے پہلے کی صدیوں کے دوران دریافت ہوئے تھے۔ پھر انھوں نے وہ چند (پانچ) اصول دریافت کیے جن کی بنیاد پر جیومیٹری کے تمام نظریات اخذ کیے جا سکتے تھے۔
اقلیدس کے اس تصور نے، کہ جیومیٹری کے مختلف نظریات، ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہیں، بلکہ جیومیٹری کی عمارت صرف پانچ سادہ سے اصولوں پر قائم ہے، اس جدید سائنسی انقلاب کی بنیاد فراہم کی جو نیوٹن نے اقلیدس کے تقریباً دو ہزار سال بعد شروع کیا تھا۔ سائنسی نقطہ نظر کا بنیادی مقصد ایسے قوانین کو وضع کرنا اور دریافت کرنا ہے جن کی ایک آفاقی حیثیت ہو۔ ایک یا چند واقعات کی وضاحت کرنے کے بجائے، ایک سائنسی قانون کو قدرت کے سارے مظاہر کی پیشین گوئی اور وضاحت کرنے کے قابل ہونا چاہیے، چاہے وہ کہاں اور کب رونما ہوں۔
اس کی بہترین مثال نیوٹن کا قانون ثقل ہے۔ یہ قانون، اقلیدس کی روایت کی پیروی کرتے ہوئے، چھوٹی اور بڑی تمام اشیا کے لیے درست ہے۔ مثال کے طور پر ، یہی قانون ایک طرف یہ بتا سکتا ہے کہ درخت پر سیب زمین پر کیوں گرتا ہے اور دوسری طرف یہ بتاتا ہے کہ چاند ہمارے سیارے زمین کے گرد کیوں گھومتا ہے۔ نیوٹن نے حرکت کے قوانین بھی بنائے۔ ایک بار پھر، یہ قوانین تمام اشیا کی حرکت کی وضاحت کرتے ہیں۔
پھر، بیسویں صدی کے اوائل میں، کوانٹم مکینکس کے قوانین اور نظریہ اضافیت نے نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کی جگہ لے لی۔ یہ قوانین آفاقی ہیں اور اس کائنات میں موجود ہر شے اور ذرے پر لاگو ہوتے ہیں۔ اب تک ان سائنسی نظریات کی کوئی خلاف ورزی نہیں دیکھی گئی۔
لیکن سائنس کی بنیاد عقائد پر نہیں ہے۔ جس دن، یہ پتہ چلے گا کہ بعض مشاہدات سائنسی نظریات کی پیشین گوئیوں سے متصادم ہیں، سائنسدان ان نظریات کو ترک کر دیں گے اور فطرت کے نئے قوانین کی تلاش شروع کر دیں گے، ایسے قوانین جو اس وقت تک کے تمام مشاہدات کو واضح کر سکیں۔
آفاقیت کے علاوہ ایک اور معیار بھی ہے جسے سائنسی نظریہ کو پورا کرنا چاہیے۔ ہر سائنسی نظریہ میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ اس کی ہر پیش گوئی کو ہر کوئی کسی وقت بھی کسی جگہ پر جانچ سکے۔ اگر کوئی سائنس دان اپنی لیبارٹری میں تجربہ کرتے ہوئے کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے تو اس کی تصدیق ہر اس شخص سے ہونی چاہیے جو اپنی لیبارٹری میں یہی تجربہ کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو سکے تو سائنسی نتیجے کو غلط سمجھا جائے گا اور ترک کر دیا جائے گا۔ سائنس کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
تاہم، کچھ واقعات ایسے ہوسکتے ہیں جو صرف ایک بار ہوتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال کائنات کی تخلیق ہے۔ کائنات کی تخلیق کی وضاحت ایک ماڈل کے ذریعے کی گئی ہے جسے بگ بینگ ماڈل کہتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اس ماڈل کو نقل نہیں کیا جا سکتا تو ہم اسے سنجیدگی سے کیسے لیں؟ یہاں ہمارا سائنسی اعتماد اس حقیقت پر مبنی ہے کہ کائنات کے وجود میں آنے کے وقت سے اب تک اس کے ارتقا کی وضاحت ان قوانین کا استعمال کرتے ہوئے کی جا سکتی ہے جو دوسرے مشاہدات کو کامیابی سے بیان کر سکتے ہیں۔
یہ کشش ثقل کے قوانین ہیں جن کی وضاحت البرٹ آئن اسٹائن کے ساتھ ساتھ کلاسیکی اور کوانٹم میکانکس کے قوانین کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ اگر کبھی کوئی ایسا مشاہدہ کیا گیا جس کی وضاحت فطرت کے موجودہ قوانین کو استعمال کرتے ہوئے نہ کی جا سکے گی تو بگ بینگ ماڈل سائنس دانوں کی نظر میں اپنی ساکھ کھو دے گا اور ایک نئے ماڈل کی تعمیر کی ضرورت ہوگی جو نئے سمیت تمام مشاہدات کی وضاحت کرسکے۔
ایک سائنسدان اپنی حدود کو تسلیم کرنے میں کبھی نہیں ہچکچاتا۔ اگر کچھ مشاہدات کی موجودہ قوانین کے ذریعے وضاحت نہیں کی جا سکتی، تو سائنس دان کبھی بھی ان ماڈلز اور نظریات کے ذریعے ان کی وضاحت کرنے کی کوشش نہیں کرے گا جن کو وہ دوسروں کو خالص عقلی فریم ورک کے اندر قبول کرنے پر قائل نہیں کر سکتا۔ سائنسی ترقی کے موجودہ مقام پر بھی جب ہم فطرت کے بنیادی قوانین کو جانتے نظر آتے ہیں، بہت سے ایسے مظاہر ہیں جن کو سائنسدان سمجھنے سے قاصر ہیں۔ سائنسی ارتقا ابھی جاری ہے۔
اب ذرا سائنسی رویے کا مذہبی عقائد اور روایات کے ساتھ موازنہ کریں۔ عقائد اور روایات کی بنیاد عقل پر نہیں ہوتی، یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ انسانی دماغ قدرت کا سب سے بڑا تحفہ ہے اور یہ دنیا میں ہونے والے واقعات کو جاننے اور تجزیہ کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس کی جگہ کوئی اور چیز نہیں لے سکتی۔ ہمارا علم حواس خمسہ سے حاصل ہو تا ہے اور ہم اس علم کی بنیاد پر دماغ کے ذریعے، عقل اور منطق کی بنیاد پر معقول نتائج اخذ کرتے ہیں۔ ابھی تک کسی ایسے علم کا کوئی سائنسی ثبوت نظر نہیں آتا جو حواس اور عقل کے ذریعے حاصل کردہ علم سے بالاتر ہو۔
تاہم یہ افسوسناک بات ہے کہ پوری تاریخ میں انسانوں نے یہ رویہ اپنایا ہے کہ وہ اپنی سوچ اور تجربات پر زیادہ بھروسا نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی طرف سے بتائی گئی باتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ رویہ علم کے بہت سے شعبوں میں اپنایا گیا ہے۔ تاہم، یہ مذہبی عقائد میں خاص طور پر اہم ہے۔ مذہبی عقائد کی بنیاد ان روایات پر قائم ہے جو سینکڑوں، بلکہ ہزاروں سال پرانی ہیں اور تاریخ کے انتہائی ناقص ذریعے سے ہم تک پہنچیں۔ ان روایات کی پیروی کرتے ہوئے ہم میں سے بیشتر نے یہ سوچنے اور جاننے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ ان روایات کا منبع کیا ہے؟ یہ روایات سب سے پہلے کس نے بیان کیں؟ اس کی اپنی معلومات کا کیا ذریعہ تھا؟ اور یہ کہ وہ کتنا متعصب تھا؟
سوچنے کی بات ہے کہ آج کے ابلاغ کے انتہائی ترقی یافتہ دور میں واقعات اور فرمودات کی سچائی معلوم کر نا کتنا مشکل ہے۔ ایسے واقعات جو اسی ہفتے وقوع پذیر ہوئے، اور اخباروں اور ٹیلی وژن میں بیان کیے گئے، ان تک کی سچائی مشکوک ہوتی ہے۔ اکثر اوقات تعصب اڑے آ جاتا ہے۔ اس صورت حال میں صدیوں پرانی روایات جن کی تاریخی بنیادیں انتہائی متزلزل ہیں، کسی انسان کے عقائد کی بنیاد کس طرح بن سکتی ہیں۔
یہاں ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ انیسویں صدی میں تقریباً سو سال تک یورپ کے علمی حلقوں میں اس سوال پر ایک سنجیدہ بحث جاری رہی کہ آیا مسیح کا وجود تھا؟ اس سوال کی بنیاد یہ تھی کہ مسیح کا ذکر پہلی صدی کی کسی مستند کتاب میں موجود نہیں۔ مسیح اربوں پیروکاروں کے ساتھ زمین پر سب سے بڑے مذاہب میں سے ایک کی بانی شخصیت ہیں۔ کافی تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مسیح کے وجود کے شواہد اس امکان سے کہیں زیادہ ہیں کہ مسیح کا وجود کبھی نہیں تھا۔
یہ واقعہ بہت مناسب طریقے سے ظاہر کرتا ہے کہ انسانیت کو درپیش سب سے اہم مسئلے پر ہمارا علم کتنا پیچیدہ، غیر واضح اور نامکمل ہے۔ ایک ایسے مذہب پر اربوں لوگ کیسے یقین کر سکتے ہیں جو ایسی متزلزل بنیادوں پر کھڑا ہو کہ اس کے بانی کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے سو سالہ بحث کی ضرورت تھی۔ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اسی طرح کی خود شناسی کی ضرورت ہے۔
تاہم، اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اگرچہ مذاہب کی بنیاد تاریخی طور پر کمزور روایات پر رکھی گئی ہے، لیکن انہوں نے اکثر معاشرے کی ترقی میں تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ مذاہب انفرادی اور قومی، دونوں سطحوں پر طاقتور محرک قوتیں رہے ہیں۔ کوئی بھی اس حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کر سکتا کہ کسی بھی معاشرے کی زیادہ تر ثقافتی اور سماجی اقدار مذاہب سے آتی ہیں۔ بلاشبہ بعض صورتوں میں مذاہب کی طاقت کو دوسروں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے اور مذاہب نے تاریخ میں قتل و خون سے پر متعدد تنازعات کی بنیاد فراہم کی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مذاہب کو ایک آفاقی سچائی کے طور پر سمجھنے کی بجائے، ثقافتی اقدار کے طور پر سمجھا جائے، اس میں سے نفرت اور خود راست بازی کا زہر باہر نکالا جائے اور صرف ان اقدار کو سامنے لایا جائے جو امن، انصاف اور مساوات پر مبنی ہوں۔


