عمران خان اور جنرل باجوہ میں لڑائی کیوں ہوئی


18 اگست 2018 عمران خان پاکستان کے بائیسویں وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ انہیں اس منصب تک پہنچانے میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کا مرکزی کردار تھا۔ جس کا اعتراف جنرل باجوہ اور عمران خان کھلے لفظوں میں کر چکے ہیں۔ عمران خان اپنے تمام تر اقتدار کے دوران جنرل باجوہ کو ہر لحاظ سے آئیڈیل قرار دیتے رہے۔ اس عرصے میں پوری پی ٹی آئی اور عمران خان جنرل باجوہ کی قصیدہ گوئی میں انہیں پاکستان کا سب سے بہترین ایڈمنسٹریٹر آرمی چیف اور پالیسی میکر کے القابات سے نوازتے رہے۔

جب کہ دوسری طرف جنرل باجوہ خان حکومت کی ہر جائز اور نا جائز خواہشات پر عمل پیرا رہے۔ اتحادیوں کو ماننے، اپوزیشن پر کیسز اور سزائیں، عالمی طاقتوں سے معاملات، قرضوں اور امداد کا حصول یہ تمام کام اسیران محبت نے خوشی خوشی انجام دیے۔ عمران حکومت کے دوران جنرل باجوہ اپنی سفارت کار کی بدولت سولہ ارب ڈالر دوست ممالک سے پاکستان لے کر آئے۔

دو طرفہ محبت کی یہ داستان یکا یک اس وقت مشکوک ہونے لگی جب مارچ 2022 میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی۔ یہ تبدیلی اتنی اچانک تھی کے عمران خان اور ان کے حواری اس کا مسلسل مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ اسے ایک نا کام موو قرار دیتے رہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی نے سب سے پہلے اس سوال کو جنم دیا کہ اچانک سیم پیج دو مختلف حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ عمران خان اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں ہی اس تبدیلی کو امریکی سازش کا شاخسانہ قرار دے چکے تھے۔ اور اقتدار سے رخصت ہونے کے ساتھ ہی جنرل باجوہ کو میر جعفر کی صفوں میں لا کھڑا کیا۔ مگر اہل دل اس گفتنی نا گفتہ بے پر کب یقین کرنے والے تھے۔

گزشتہ دنوں جنرل باجوہ اور عمران خان کے متواتر انٹرویوز نے اس اہم راز سے بھی پردہ اٹھا دیا کے یہ با ظاہر پیار اور محبت کے رشتے میں بندھا نظر آنے والا یہ تعلق انتہائی سمجھوتے اور مجبوری کے کچے دھاگے سے بندھا تھا۔ عمران خان اور جنرل باجوہ کے درمیان اختیارات کی رسہ کشی روز اول سے ہی موجود تھی مگر دونوں فریقین باہمی سمجھوتے اور رضا مندی کو ہی عافیت سمجھے ہوئے خاموش تھے۔

جنرل باجوہ اور عمران خان کے درمیان تین بنیادی تنازعات
1۔ پنجاب کی چیف منسٹر شپ اور عثمان بزدار
2۔ عمران خان کا انتقامی ایجنڈا
3۔ عمران خان کی خود پسندی اور خارجہ امور

مسند اقتدار کو سنبھالتے ہی عمران خان کے سامنے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا انتخاب ایک چیلنج تھا۔ پی ٹی آئی میں تقریباً دس افراد کے قریب وزارت اعلیٰ کے امید وار تھے۔ مگر ان سب میں عبدالعلیم خان کا پلڑا بھاری تھا جس کی بنیادی وجہ ان کی اسٹبلشمنٹ سے قربت اور عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ گزشتہ دس سال کی رفاقت تھی۔ مگر عمران خان کے انتخاب کا ہما سردار عثمان بزدار کے کندھے پر بیٹھا جو واقعتاً ایک بہت بڑا سرپرائز تھا۔

اس انتخاب کے ذریعے عمران خان تمام ٹر اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کرنا چاہتے تھے۔ عمران خان کے مطابق جنرل باجوہ عبدالعلیم خان کی وزارت اعلیٰ کے لئے لابنگ کر رہے تھے کیوں کہ علیم خان نے ان کے سسر جنرل اعجاز امجد کو چار کنال کا بنگلہ بنا کر دیا تھا۔ عمران خان کے مطابق جنرل باجوہ سیاست کو نہیں سمجھتے تھے اگر علیم خان کو وزیر اعلیٰ منتخب کرتے تو پارٹی میں اقتدار کی رسہ کشی کے باعث پارٹی کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتی۔ جب کے جنرل باجوہ کہتے ہیں کہ عثمان بزدار کی نا اہلی اور کرپشن انہیں سراسر نا پسند تھی اور وہ اسے پنجاب اور پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔ عثمان بزدار کی نان پرفارمنس ادارے کی بدنامی کا باعث بن رہی تھی۔

عمران خان اور جنرل باجوہ کے درمیان دوسری وجہ نزع عمران خان کا انتقامی ایجنڈا تھا۔ عمران خان کو بارہا یہ بات سمجھائی گئی کہ اپوزیشن پر یہ تمام کیسز اور ارینجمنٹ انہیں اقتدار میں لانے کے لیے کیا گیا تھا جب کہ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ ان کیسز پر توجہ دینے کی بجائے معیشت پر توانائیاں صرف کیجئے، کیوں کہ ایک مستحکم معیشت ہی ایک مضبوط ملک کی ضامن ہے۔ جب کہ عمران خان کے لئے اقتدار کا واحد مقصد صرف اقتدار کا حصول اور اپوزیشن کو دیوار سے لگانے تک محدود تھا۔ وہ اپوزیشن سمیت اپنے اتحادیوں کو بھی اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے احتساب کے نام پر اپوزیشن کو ملیا میٹ کرنا چاہتے تھے۔

جنرل باجوہ کے مطابق عمران خان ایک انتہائی خود پسند انسان ہے۔ جو اپنی ہی شخصیت کے سحر میں مبتلا ہے۔ عمران خان اپنے تمام کو عقل کل سمجھتے تھے۔ وہ سفارتی آداب سے بے بہرہ تھے۔ بیرونی دوروں کے دوران غیر ضروری گفتگو اور لایعنی بیانات ان کی حماقت کی نشانی ہے۔ وہ اتنے نرگسیت کا شکار تھے کہ بیرونی دوروں کے دوران کسی بھی سربرہ مملکت سے کسی ملاقات کو اپنی ذات کا کرشمہ قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک تمام عالمی دنیا ان کے سحر میں مبتلا تھی اور وہ جو کہیں گے وہ مان لے گی۔ اسی ذہنیت کی وجہ سے وہ کبھی ایران اور سعودی عرب کو ثالثی کی پیش کش کرتے تھے، اور کبھی کسی بھی مسئلے میں غیر ضروری بیان بازی۔

Facebook Comments HS