پر تشدد معاشرتی رویے اور ہماری فلمیں
بڑے شہروں میں سڑکوں پر افراتفری، بے یقینی اور ہماری زندگیوں میں کسی بھی وقت کچھ ہو جائے کا ڈر تقریباً ہر شہری کو دبوچے رکھتا ہے۔ مائیں اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے پہلے ایسے دعائیں پڑھتی ہیں جیسے لڑنے سرحد پر بھیج رہی ہوں۔ کبھی کسی نے سوچا کیوں؟
کیونکہ اگر کسی کمیونٹی کو یاد آ گیا اس کی تنخواہ کم ہے یا کوئی اور محکمانہ زیادتی ہوئی تو ان میں سے کوئی شخص ہم سب کے فلمی ہیرو سلطان راہی کے انداز میں باقیوں کی غیرت کو للکارے گا اور دو درجن لوگ کوئی بھی اہم شاہراہ ٹریفک کے لئے روک دیں گے
اگر کسی سیاسی یا مذہبی گروہ کے جذبات مجروح ہو گئے تو فلمی ولن مصطفی قریشی کے فلمی انداز میں عمارتوں اور گاڑیوں کو آگ بھی لگائی جا سکتی۔
احتجاج کے ان پر تشدد طریقوں سے جو سب سے زیادہ متاثر ہو گا وہ عوام ہو گی اور اس کے معمولات۔ بچے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں اور اگلے روز ان کے امتحانات ملتوی کر دیے جاتے ہیں پھر بے یقینی۔ کیوں؟ کیونکہ سڑکوں پر پر تشدد رویوں کا راج ہے
یہ پر تشدد روئیے آئے کہاں سے۔ کس نے سکھائے؟ مائیں تو نہیں سکھاتیں بچوں کو کہ مرضی کے خلاف بات پر توڑ پھوڑ کی جائے اور سوشل میڈیا سے متاثر نسل تو ابھی پروان چڑھ رہی پھر یہ درمیانی عمر کے جوانوں اور اس سے پچھلی نسل کے بزرگوں نے کہاں سے یہ سبق سیکھا؟ کیا کسی سکول میں سکھایا گیا؟ میں نے تو کتنے اساتذہ سے پوچھا وہ تو مانے نہیں۔
تو پھر۔ ۔ ۔
گجرات یونیورسٹی سے میڈیا سٹڈیز میں مکمل ہونے والے ایک پی ایچ ڈی مقالے کا موضوع نظر سے گزرا ”پرتشدد پاکستانی فلموں کے معاشرے پر اثرات“
دلچسپ موضوع دیکھ کر مقالے میں نتیجے کا باب پڑھا تو محقق ڈاکٹر قیصر شریف دو دہائیوں میں دو مختلف انداز حکومت میں پاکستانی سینما کا تجزیہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ فلموں میں سرمایہ کاری نظریاتی طبقے کی بجائے اس طبقے نے کی جس کے پاس پیسے تھے اور وہ ”سکرین پر اپنی نا آسودہ خواہشات کی تکمیل دیکھنا چاہتا تھا“ کبھی طاقت کا بے تحاشا استعمال کر کے اور کبھی ریاست کی رٹ کو چیلنج کر کے۔ کسی بھی ذات یا پیشے کو نشانہ بنانا مقصد نہیں لیکن فلمیں یوں بنیں۔ ”ضدی فلاں فلاں“ یعنی
فلاں کی جگہ آپ کوئی بھی ذات لگا دیں بات ایک ہی اور ضد ہیرو کی اعلی صفت ٹھہری۔
”فلاں دا کھڑاک“ کیونکہ کھڑاک ہی نہ ہوا تو مزہ کیا آنا۔
”حسینہ کلاشنکوف“ او بھائی حسن کو تو کسی خوبصورت پیرائے میں بیان کر دو اس کا پیمانہ بھی ہتھیار۔ ”اتھرا پتر“ اتھرا ہو گا تو ٹائر جلا کر سڑک بند کرے گا نہ شریف اور منکسرالمزاج تو ہمارا ہیرو ہی نہیں۔ ”رنگا ڈاکو“ :بہرام ڈاکو ”ڈاکو کیوں ہیرو نہیں ہو سکتا۔“ فلاں دا ویر ”ویر یا دشمنی رکھنا اور قتل کرنا کرانا تو بہادری کی علامت ٹھہرا۔ اس ٹرینڈ کو ماضی کا حصہ نہ سمجھا جائے کیونکہ آج کے دور میں بھی پاکستانی سینما کی کامیاب ترین فلم“ مولا جٹ ”کا ری میک ہی ہے۔
اپنے مقالے میں ریسرچر ڈاکٹر قیصر شریف سوال اٹھاتے ہیں کہ گنڈاسا ’دشمنی، للکار، غیرت اور خون خرابہ“ ہم اب بھی انہیں چیزوں کو گلیمرائز کر رہے ہیں۔ مارکیٹ ڈیمانڈ اور تکنیکی لحاظ سے یہ ایک کامیاب فلم ہے جو یقیناً ڈوبتے ہوئے سینما کو بچانے کے لئے اہم ہو سکتی لیکن کیا معاشرے کو بچانے کی طرف بھی کسی کی توجہ ہے۔ کیا عدم تشدد اور شائستگی کسی ہیرو کے اوصاف نہیں ہو سکتے۔
ماہر نفسیات متفق ہیں کہ بچے کے مزاج اور عادات و اطوار پر گھر کے ماحول کے ساتھ ساتھ سکول ’محلہ‘ رشتہ دار اور بالخصوص میڈیا بھی اثر انداز ہوتا ہے
اور میڈیا صرف بچوں کی ہی نہیں بلکہ ان کے والدین، اساتذہ، محلے داروں سب کی لا شعوری تربیت میں اہم ترین محرک ہے تو اس محرک کو اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔ یونیورسٹیاں اور بالخصوص سوشل سائنسز میں ڈاکٹریٹ کی سطح پر تحقیق کا مقصد معاشرے میں فکری بحث کا آغاز کرنا ہے اس طرف توجہ دلانے میں گجرات یونیورسٹی میں سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر زاہد یوسف، اس مقالے کے سپروائزر ڈاکٹر ارشد اور ریسرچر ڈاکٹر قیصر شریف کی کاوش دوسری یونیورسٹیوں کے لئے بھی قابل تقلید ہے۔ صرف ڈگری کے حصول کے لئے ریسرچ کرانے کی بجائے تحقیق کے ایسے موضوعات کی حوصلہ افزائی کریں جو معاشرے کے لئے سودمند ہوں۔


