پختون مذہبی ایسٹبلشمنٹ اور فنکار دشمنی
مذہبی انتہا پسندوں سے پہلے، دوسرے سماجوں کی طرح، پختونوں کے پاس بھی اپنی لوک دانش موجود تھی جس کے مطابق وہ اپنی روزمرہ کی زندگی چلاتے اور معاملات سلجھاتے۔ لوک دانش یا عوامی فہم صدیوں پر محیط کسی معاشرے کی وہ یادداشت ہوتی ہے جو زمانے کی بھٹی میں کندن بن کر سماجی فیصلے سہل، مانوس اور معلوم بناتی ہے۔
پختون تلقین کرتے ہیں کہ مولوی جو کرتا ہے، وہ نہیں کرنا۔ وہ جو کہتا ہے، وہ کرنا ہے۔ یہ بات مولوی کےقول و فعل میں موجود تضاد کے متعلق کی جاتی ہے۔ لیکن اب مولوی کے قول و فعل کا تضاد ختم ہوگیا ہے یا شاید پختون لوک دانش آخری سانسیں لے رہی ہے۔ بارود اور طارق جمیل سے پہلے پختون عام انسان تھے۔ محنتی، سادہ دل، مہمان نواز اور مسلمان۔ جو کپڑے اپنی ثقافت کے مطابق، فیصلے پختونولی کے تحت اور زندگی لوک دانش کی روشنی میں گزارتے تھے۔ ایک دوسرے کو بے غیرت بہادر سخی شوم مہمان نواز تو کہتے اور سمجھتے تھے لیکن کسی اور یا دوسرے پختون کو کافر، گردن زدنی، سر تن سے جدا اور یہود کا ایجنٹ کبھی نہیں سمجھتے۔ ہاں ماضی میں جب جب بھی ان کے درمیان مذہبی مولوی بھیجا گیا تو پیر روخان اور باچا خان مرتد اور ہندو بنائے گئے لیکن وہ وقتی ابال جلد بیٹھ جاتا، آج کی طرح نہیں تھا کہ جو بھی ان جیسے فیشن اور رویے سے مطابقت نہیں رکھتا وہ زندگی اور روزگار کرنے کا حق کھو بیٹھتا ہے۔
اول: ان سیاسی اور بھیجے گئے مولویوں نے ثواب کی نیت سے پختونوں کے نام تبدیل کئے، پھر ان کا لباس غیر شرعی قرار دیا، پھر ان کی آبادیوں کے نام مسلمان کئے، پھر ان کی سڑکوں اور چوکوں کے نئے نام رکھے، پھر ان کے حجرے ویران کرا کے ان کو مساجد میں محصور کیا، جہاں ہر آج ان کو بولنے کا نہیں، صرف سننے کا حق حاصل ہے۔ یوں بڑی مہارت سے پختون کو اپنے معاملات جرگے اور علاقے میں بولنے، فیصلہ کرنے، اجتماع کرنے اور یہاں تک کہ خوش رہنے اور خوشیاں منانے کے حق اور اختیار سے بھی دستبردار کرا کر یہ سارے اختیارات اور حقوق مولوی کے حوالے کئے گئے۔
مولوی کبھی بھی پختون سماج میں برابر کا رکن نہیں تھا۔ وہ معاشرتی مدارج میں کمتر سماجی درجے کے دوسرے بے زمین ارکان میں سے ایک لیکن غیر پیدواری اور طفیلی حصہ دار تھا۔ دوسرے مٹکا، درانتی، بال، جوتا، فرنیچر اور موسیقی بنا کر پیداوار میں اپنا حصہ ڈالتے تھے لیکن مولوی صرف دعا دیتا۔ مولوی جرگے کا ممبر ہوتا تھا نہ فیصلے کا حصہ، وہ دعا برکت اور نماز تک محدود تھا۔ یہاں تک کہ وہ مسجد میں محفل نعت و درود کیلئے بھی محلے کے پختون مشر کی اجازت کا طلب گار ہوتا۔ پھر اس نے غیرمحسوس انداز میں پختون کو اللہ اور رسول کے نام کی آڑ میں اپنے فیصلے اپنے خاندان کے معاملات اپنے بچوں کی تربیت اپنی بیوی اور بہن کے کپڑوں کی پسند اور معاشرتی ذمہ داریوں سے بڑی چالاکی سے دستبردار کرایا اس لیے اب وہ جرگے فیصلے یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں بھی اس کی نمائندگی تک کیلئے موجود ہے۔
مسجد، مدرسہ، تبلیغ، سکول، جنازہ، نکاح، تعزیت، اجتماع، ختم القرآن، ختم بخاری، تقسیم اسناد، دستار بندی، عیدین غرضیکہ ہر موقع پر وہ اپنا تفرقہ پڑھاتا اور پھیلاتا ہے۔ سیاست کرتا اور اپنی ذات اور جماعت کی شہرت بڑھاتا ہے۔ وہ مسجد میں بات چیت پر پابندی لگاتا ہے تاکہ وہ اکیلا بولتا رہے، مسجد کی تقدس کے نام پر زبان بندی نافذ کرتا ہے تاکہ اس پر کوئی اعتراض کرسکے نہ ایسا سوال جس کا اس کو جواب دینا پڑے یا جس کا اس کے پاس جواب نہ ہو۔
باقی سیاسی پارٹیاں خاص مواقع پر اپنی شہرت بڑھانے، منشور پہنچانے یا ووٹر تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہیں جس پر انہیں بہت محنت اور اخراجات کرنے پڑتے ہیں۔ جبکہ سیاسی مولوی عوام سے پیسہ چندہ امداد لینے کے ساتھ ساتھ ان کو ہمہ وقت اپنے تقدس کے ہالے کے گھیرے میں رکھتا ہے۔ اس کی مخالفت اللہ اور رسول کی مخالفت قرار دی جاتی ہے یہاں تک کی اس کی مخالفت پر آپ کو نمازیں ضائع ہونے کا دھڑکا لگانے کے ساتھ آپ کا نکاح بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ مسجد کی تقدیس کی آڑ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نمائیندہ اور ‘وارث’ ہونے کی وجہ سے وہ خود کو ہر جگہ آپ پر حاوی کرتا ہے۔ آپ کی مسجد میں آپک ی تنخواہ سے اپنا روزگار کرتا ہے لیکن آپ کو اپنا مقتدی اور ملکیت کہتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب آپ اس کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں تو تب آپ کی طرح اس کی نماز کی ویلیو بھی بڑھ جاتی ہے ورنہ اس کی نماز بھی سنگل شمار ہوتی ہے۔ آپ جسے اسلام کی تبلیغ اور قال اللہ قال الرسول سمجھتے ہیں وہ دراصل اس کی سیاسی پارٹی فرقے اور مسلک و لیڈر کی پروپیگیشن ہوتی ہے۔ علما کے ساتھ جڑے رہو، علما کی قدر کرو، علما کی ناراضگی سے پناہ مانگو، ایسی باتیں بار بار سنا کر وہ آپ کو ہمہ وقت اپنی پارٹی کو ووٹ دینے اور حمایت کرنے کیلئے تیار کرتا رہتا ہے۔ وہ اتنا چالاک سیاستدان ہے کہ جو آپ کے پیسے سے اپنا روزگار چلاتا ہوا اسمبلی تک پہنچتا ہے۔ یہ وہ عالم بالکل نہیں جو اللہ کے ڈر سے جھوٹ بولنے سے، دھوکا دینے سے، بھوکا رہنا پسند کرتا ہے لیکن اللہ اور اس کی مخلوق کی بھلائی کیلئے محنت کرنا نہیں چھوڑتا۔ وہ بھی آپ کے آس پاس موجود ہیں۔
خوشی کی طرح اس کا اظہار بھی فطری اور بے ساختہ ہوتا ہے۔ نیویارک کے پنتھ ہاؤسز کے ماڈرن انسان سے لیکر ایمیزون کے جنگلات کے سادہ انسانوں کے درمیان جو چیز مشترک دیکھی جا سکتی ہے وہ خوشی کے اظہار کیلئے ناچنا اور موسیقی کا استعمال ہے۔ درخت کے کھوکھلے تنے کو کسی ڈنڈے سے بجانا، مڑی ہوئی لکڑی پر تنے ہوئے چمڑے کے تسموں کو انگلی سے انگیخت کرنا، ہرن کی کھال کو کسی گول شکل پر چڑھانا اور ایک خاص مانوس ردھم کے ساتھ بجا کر ناچنا ساری دنیا کی طرح ان کی بھی خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔
باقی انسانوں کی طرح پختون بھی خوشیاں منانا ناچنا گانا اور سب کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنا اس وقت تک جانتے تھے جب تک ان کو برین واش نہیں کیا گیا تھا۔ مردان پشاور اور سوات میں فنکاروں کے باقاعدہ محلے تھے جہاں سے فنکار پختونوں کی بہادری رحم دیالوپن اور غیرت کے گیت گانے کیلئے ان کی محفلوں میں جاکر اپنا رزق کماتے۔ لیکن اب خیبر میں شادی میں ناچنا گانا اور لورا لائی میں سرکس لگانا بھی غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دیا جاتا ہے جس کا تعلق اسلام اور شریعت سے زیادہ پختونوں سے ان کے جرگے اور فیصلے کرنے کے اختیارات ضبط کرنے سے ہے۔
ایک طرف سے بندوق مارکہ ڈرائی کلیننگ والوں نے پختونوں کو اجتماعی طور پر ڈائی کلین کرکے لال رنگ میں رنگ دیا ہے تو دوسری طرف صوفی صابن والوں نے ان کے ذہنوں کو زومبی پھپھوندی کی پنیری لگانے کیلئے ٹھیکے پر لے لیا۔ جس کی وجہ سے ساز بجانے والے داڑھیاں چھوڑ کر راج مستری بنے، پشتو زبان اور قوم کی گیت گانے والیاں گنے کے کھیتوں اور کوڑے کی ڈرموں سے لاشوں کی صورت میں برآمد ہونے لگی۔ ایک خاتون فنکارہ کی لاش سوات میں بجلی کے کھمبے سے کئی دن تک بے پردہ لٹکتی رہی۔ اور اب تو بظاہر قوم پرست بنے سیاسی مولوی بھی یہی کہتے ہیں کہ ڈمے (خاتون فنکارائیں) اور ہیجڑے (الفاظ اس کے ہیں) ہماری روایات نہیں۔ اگر ایسا سچ ہے تو پھر سوات بنڑ ڈبگرے پشاور اور خوڑ سر مردان میں سریلے محلے کس کے تھے یا پھر اس وقت کے پختون، پختون نہیں تھے، ڈم تھے۔
دنیا بھر میں فنکار امن پسند صلح جو، بے ضرر اور تشدد گریز ہوتے ہیں اس لیے اردگرد تشدد دیکھ کر پختون فنکار تنہا اور پسپا ہوگئے۔ جو نکل سکتے تھے وہ ملک چھوڑ گئے، باقی مارے گئے جبکہ لڑکیوں میں چند دوسرے صوبوں میں جسم فروشی پر مجبور ہوگئیں کیونکہ وہاں کوئی ان کی زبان نہیں جانتا تھا تو وہ گاتی کس لیے؟
پختونوں کیلئے انٹرٹینمنٹ اتنی مضر ہے کہ ماضی میں پانچ سنیماؤں پر مشتمل شہر مردان میں اس عید پر آرمی نے ایک سینما کھول دیا تو جماعت اسلامی کے ایک وکیل نے شہر کے نیشنلسٹ مئیر حمایت مایار کی آشیرباد سے اسے بھی بند کردیا۔
کمزور فنکار چلے گئے تو اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندانی پختون خانزادوں اور سید زادوں نے رباب ہارمونیم اور طبلہ پکڑ کر وحشت اور دہشت کا مقابلہ شروع کیا، ان سورما پختون۔فنکاروں کو آج پختون قوم خانزادہ انجنئیر سردار علی ٹکر، سید زادہ ہارون باچا، سید زادہ کفایت باچا، ڈاکٹر کرن خان، پختون زادہ فیاض خویشگی اور اعجاز افق کاکڑ کے معزز ناموں سے جانتی ہے۔ دوسری طرف جب بھی پشاور میں مولوی حکومت مہمان پختون فنکاروں کو رات کی تاریکی میں پولیس کی طاقت پر چھاپے مارکر اٹھاتی ہے تو حیات روغانی احتجاجاً گلے میں ہارمونیم ڈال کر دوسرے پختونوں کے ساتھ سڑک پر اس ظلم کی مذمّت کیلئے نکلتا ہے۔
جس طرح گانا اور بجانا پختون روایات کا نہ الگ ہونے والا حصہ ہے اسی طرح دریائے آمو سے لیکر کراچی تک بکھرے ہوئے پختونوں میں روایتی ناچ بھی ان کے رگوں میں رواں خون کی طرح موجود ہے۔ البتہ انفرادی طور پر کسی غیر فنکار خاندان سے کسی پختون کا ناظرین کیلئے ناچنا برا سمجھا جانے والا عمل تھا۔ لیکن جس طرح پختون کی بہادری باقی اقوام میں ضرب المثل ہے اسی طرح عظیم خوشحال خان خٹک کے خاندان سے تعلق رکھنے والے خانزادہ اسفندیار خان خٹک نے یہ ٹیبو توڑ ایک نیا راستہ کھول دیا ہے۔ حیات روغانی نے پشاور مفکورہ میں اتنڑ کیلئے کلاسز کا اجرا کر کے خانزادہ اسفندیار خان کا اکیلے ناچنے کا گلہ بھی ختم کر دیا۔
پشتو موسیقی پختون سماج کی صدیوں پر محیط یادداشت ہے، اسے مٹنے سے بچانے کی خاطر، جس طرح فنکار خاندانوں کے پیچھے ہٹنے پر، پختون خاندانوں کے فرزند آگے بڑھے اور اپنے نغمے کو مرنے نہیں دیا، اسی طرح ہر باشعور پختون حیات روغانی بن کر اپنی ثقافت کو بھی مٹنے سے بچانے کیلئے باہر نکل کر آواز اٹھائے گا، کیونکہ پختون ثقافت پر ہونے والے یہ حملے انفرادی نہیں، بڑے منظم اور سوچے سمجھے ہیں۔



N