احسان کرنے کی آڑ میں بہروپیے


ایک ویران وادی میں در بدر گھومنے کے بعد اچھی امید کے ساتھ ایک راستہ اختیار کیا۔ جس کی منزل کا مجھے کوئی علم نہیں تھا کہ یہ راستہ کس جانب کو جاتا ہے۔ لیکن ہر راستے کی ایک منزل تو ضرور ہوتی ہے۔ اس راستے کی بھی کوئی منزل ضرور ہو گی۔ منزل کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر احساس ہوا کہ یہ راہ کتنی کٹھن ہے۔ کبھی ہار مان کر بیٹھ جاتی ہوں، تو کبھی ان ٹھوکروں سے سیکھ کر مضبوط بننے کی کوشش کرتی ہوں۔

اس راہ پر کچھ عجیب لوگوں سے سامنا ہو رہا ہے۔ ایک وہ جو دل و جان سے بس میری راہنمائی کر نے یعنی منزل کو ڈھونڈنے میں ہر وقت موجود رہتے ہیں لیکن دوسری طرف کچھ بے حسی سے بھرے احسانات جتانے والے بھی مل رہے ہیں۔ ایک لڑکی کا اپنی صحیح منزل کی تلاش اس کی زندگی کا سب سے کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔

ہر راستے میں مشکلات اور آزمائشیں ضرور ہوتی ہیں۔ لیکن یہ آزمائشوں سے ہمیں یہ ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ اصل کون ہے کم اصل کون ہے۔ میں نے جونہی منزل کو ڈھونڈنے میں ایک راستہ اپنایا اور اس راستے پر منزل کے حصول میں جب میرا سامنا مشکلوں سے ہوا اور میں نے مدد کے لئے پکار کی تو بہت سے لوگوں نے ہاتھ بڑھایا۔ لیکن ہر مدد کو آنے والے ہاتھ کے پیچھے سانپ چھپے پائے۔ بے مطلب بے غرض یہ ہاتھ نہیں اٹھے۔

ہر ایک نے اپنی غرض اور اپنی بھوک کو مٹانے کے لئے ہی ہاتھ آگے کیا۔ کیونکہ میں ان لوگوں کو بے بس، تنہا اور کمزور لڑکی نظر آئی۔ ان بہت سارے ہاتھوں میں ایک ہاتھ ایسا ملا کہ جس نے مدد کے لئے یا بے جا سہارے کے لئے آگے نہیں کیا بلکہ بس اس نے صحیح راہ کا تعین کر کے بتایا کہ آپ کی درست منزل اس جانب کو ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ تلقین بھی کی کہ سہاروں کے بجائے خود کو مضبوط بناؤ۔ انسانوں کا روپ دھارے سانپ جو مدد کی آڑ میں تمہیں ڈسنے کے لئے بیٹھے ہمیشہ تیار رہتے ہیں ان سے بچو۔ لہذا خود ہی سنبھل کر قدم رکھنا۔ یہاں کوئی بنا مطلب کے ساتھ نہیں دے گا۔ پہلے مدد کی آس دے گے، پھر اسی آس پر آپ کو ذلیل و خوار کریں گے۔ ذہنی طور پر اتنا مفلوج کر دیں گے کہ آپ ان کی ہر بات ماننے کو تیار ہوجائیں گے۔ یہیں ان لوگوں کا وتیرہ ہے ”۔ لہذا خود ہی سنبھل کر قدم رکھنا۔

اس کی باتیں سن کر میں سب بہروپیوں کی چنگل سے جان چھڑا کر روانہ ہوئی۔

اب بھی مجھ پر جب کوئی مشکل کا موڑ آتا ہے، اپنے مطلب کے رال ٹپکاتے ہوئے لوگ اس امید کے ساتھ سامنے آ جاتے ہیں کہ ایک بے بس سی لڑکی کو مدد کا جھانسا دے کر اپنا مطلب پورا کر لیں گے۔ احسان کر کے پھر جتا جتا کر اس کو مجبور کر لیں گے۔

لیکن میں اب یہ بات جان گئی ہوں کہ کوئی بھی آپ کی مدد بغیر مطلب کے نہیں کرتا۔ آج جو احسان کر رہے ہیں کل کو یہی احسان جتا کر نوچ ڈالنے میں کوئی حرج نہیں محسوس کریں گے۔ یہ بے حس اور بے ضمیر لوگوں کا دور ہے جہاں نسلی لوگ کم اور کم اصل لوگ ہر جانب ہے۔ جو انسانیت کا روپ دھار کر ڈسنے اور نوچنے کی تاک میں بیٹھے رہتے ہیں۔

میرا ماننا یہ ہے کہ انسانیت سے خالی انسانوں کی اس دنیا میں لڑکیوں کو خود مضبوط ہونا چاہیے، کسی بھی قسم کے مشکل وقت اور حالات میں لوگوں پر انحصار کے بجائے اسے خود انحصاری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ تب ہی درست منزل مل سکتی ہے ورنہ یہ رال ٹپکاتے لوگ آپ کی مدد کم اور ذہنی مریض زیادہ بنا دیتے ہیں۔ تب ہی ہم منزل پا سکتے ہے اگر ہم بہروپیوں کے سہاروں کے بجائے اپنی غلطیوں اور آزمائشوں سے سیکھیں۔

Facebook Comments HS