لون ایپس:میں زندگی سے گیا زندگی بناتے ہوئے
مرے کو مارے شاہ مدار
یہ کہاوت اس وقت کہی جاتی ہے جب کوئی شخص تکلیف یا مصیبت میں گرفتار ہو اور اس پر کوئی دوسری نئی مصیبت وارد ہو جائے اس کہاوت کے معانی، مضمرات اور متعلقات سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔
مشہور ہے کہ حضرت بدیع الزمان زندہ شاہ مدارؒ جن کا مزار مبارک قصبہ مکھن پور ضلع کانپور، یوپی میں واقع ہے۔ شاہ مدار کا روحانی تربیت کا خاص طریقہ تھا۔ صوفی کی روحانی زندگی میں ایک مقام فنا کا ہے جو دنیوی مفہوم میں موت کے مترادف ہے۔ فنا کی حالت میں صوفی تمام دنیوی رشتوں اور خواہشات سے بے نیاز ہو کر ہر دھمکی، خطرے، اور خوف سے نجات پا لیتا ہے۔ اہل دنیا انہی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر دھمکیاں دیتے ہیں۔ شاہ مدار کو یہ قدرت حاصل تھی کہ جو صوفی مرتبۂ فنا میں پہنچ جاتے آپ اپنی ریاضت اور کمال سے ان کو اس مقام سے نکال کر فناء الفنا میں پہنچا دیتے تھے۔
اسی وجہ سے یہ فقرہ ”مرے کو ماریں شاہ مدار“ زبان زد خاص و عام ہو کر ضرب المثل بن گیا۔ ڈاکٹر خالد مسعود تو ”لفظ پرستوں“ کے اس انطباق کو ”کفر“ سے تعبیر گردانتے ہیں۔ لیکن شاید وہ عرف کی فقہی اصطلاح سے صرف نظر کر گئے۔ ، بہر حال یہ ضرب المثل ہی رہے گی عرفی انطباق کے تحت بات کو آگے بڑھانا ہماری مجبوری ہے۔ آج کل پاکستانی حکمران بھوک سے دم توڑتے عوام پر مہنگائی کے کوڑے برسا رہے ہیں۔ دگرگوں معاشی حالات اور غربت نے کمزوروں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
بلوں کی ادائیگی کریں یا مکان کے کرائے، نان جویں کو ترستے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کریں یا تعلیمی۔ ایسی ہی ضروریات کے لیے قرض صدیوں سے ہر کوئی لیتا چلا آ رہا ہے، زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ضرورت کے تحت قرض لینا پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام میں قرض حسنہ کو احسن اور سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ غربت اور مالی مشکلات کے مارے ”آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداق“ اپنے معاشی مسائل کا حل لون ایپس میں ڈھونڈنے والے لٹ رہے ہیں۔
ان ایپس کو ڈاؤن لوڈ کرتے ہیی آٹو پرمیشن سے آئی ڈیز اور پاسورڈ پر رسائی حاصل کر لی جاتی ہے۔ گیم شوز اور بنک ویری فکیشن کے نام پر شہریوں کے اکاؤنٹس سے پیسے نکلوانے والے گروہ اب ان ایپس کے ذریعے انہیں اپنا شکار بنا رہے ہیں۔ ایزی لون، آسان قرضہ، ضرورت کیش، منی باکس، ادھار پیسہ، بروقت، لون کلب اور اسمارٹ قرضہ کے ناموں سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر موجود ہیں۔ ان کمپنیوں کی جانب سے تیز، آسان، بروقت طریقوں سے قرضہ دینے کے اشتہار سوشل میڈیا پر چلتے ہیں جس میں قرضہ لینے والے خواہش مند افراد کو ایک سے دو دن میں قرضہ کی سہولت دینے کی پیش کش کی جاتی ہے۔
زیادہ تر کمپنیاں 10000 سے 50000 ہزار تک قرضہ فراہم کرتی ہیں۔ آن لائن قرضہ دینے والی یہ ایپس پاکستان میں پلے اسٹور سے سب سے سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی ایپس میں شامل ہیں۔ ضرورت مند یا آزمانے کے غرض سے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنا ہی عذاب بن جاتا ہے۔ ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے ہی بنا قرض لینے سے انکار کے باوجود قرضہ ایپ اکاؤنٹ میں رقم منتقل کر دی جاتی ہے۔ بعض کمپنیاں قرضہ تین ہزار سے ایک لاکھ روپے تک دیتی ہیں ضرورت مند شہریوں کے لئے ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنا عذاب بن جاتا ہے۔ قرضے پر سود لیا جاتا ہے۔ تین ہزار پر پانچ سو اور بارہ ہزار قرض پر 16 ہزار ادا کرنے ہوتے ہیں۔
آن لائن قرضے کی مدت نوے دن بتائی جاتی ہے لیکن چھ دن بعد ہی کمپنی سے قرض واپسی کے تقاضے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر قرض دہندہ چھ دن میں پیسے واپس نہ کر سکے تو اس سے ایکسٹنشن منی کے نام پر پیسے وصول کر کے ادائیگی کے لیے دس دن کی توسیع دی جاتی ہے۔ دس دن گزرنے کے بعد مزید دس دن کی توسیع کا کہا جاتا ہے اگر کوئی بحث کرے تو کہا جاتا ہے ان کے رشتہ داروں کو فون کر کے بتایا جائے گا۔ کال ختم ہوتے ہی کچھ دیر بعد ایک دو رشتہ داروں کی جانب سے کال بھی آ جاتی ہے کہ سنا ہے تم نے قرضہ لیا اور اب ادا نہیں کر رہے۔
بعض متاثرین کا کہنا ہے کہ 21000 قرض پر انہیں 16800 روپے ملے باقی کمیشن کے نام پر کاٹ لیے گئے۔ سوشل میڈیا پر ایسے سینکڑوں متاثرین موجود ہیں جنھوں نے ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں ڈرا دھمکانے کے اپنے تجربات شیئر کیے ہیں۔ لون ایپس کے ذریعے یہ سودی کاروبار جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا سے چلایا جا رہا ہے۔ ایف آئی کو موصول ہونے والی شکایات کے مطابق شہری ایپ کا استعمال بند کر دے تو بھی قرض دہندہ کی ایپس سے کال آتی ہیں، اضافی رقم نہ دینے اور زبردستی قرضہ دینے کی شکایت پر عریاں تصاویر وائرل کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ قرض کے اس آن لائن سودی دلدل میں پھنس کر خود کشی کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
اضافی رقم نہ دینے پر متاثرین کی عریاں تصاویر وائرل کرنے، ان کے گھر والوں اور عزیز و اقارب کو کال کرنے کی دھمکیاں دے کر متاثرہ شہریوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ راولپنڈی کے علاقہ چاکرہ کا محمود مسعود 6 ماہ قبل بے روزگار ہوا تو گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لئے ایک آن لائن کمپنی سے 13 ہزار قرض لیا، مقررہ تاریخ تک رقم ادا نہ کر پایا تو کمپنی نے ایک ہفتے بعد سود کے ساتھ 50 ہزار روپے کا مطالبہ کر دیا۔ اور رفتہ یہ قرض 7 لاکھ تک پہنچ گیا۔ نوسر بازوں کے ہتھے چڑھنے اور سودی قرض کی دلدل میں بری طرح پھنسنے کے بعد مسعود نے گزشتہ دنوں خودکشی کرلی تھی۔
دیا جلاتے ہوئے روشنی بناتے ہوئے
میں زندگی سے گیا زندگی بناتے ہوئے
سوشل میڈیا پر اپنے آڈیو پیغام میں انہوں نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے اہلیہ سے معافی طلب کی۔ اس کیس میں 19 افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا، 9 کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جنہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کمپنیز میں ٹارچر کالز کے الگ سیکشن ہیں اور انہیں شہریوں کو کال کرنے کا روزانہ کا ٹارگٹ ملتا تھا، متاثرہ شہریوں کے دوستوں اور ان کے رشتے داروں کو کالز کرتے تھے۔ المیہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے تو ہمارے ادارے خواب غفلت سے جاگ جاتے ہیں جیسے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں صرف اس قسم کی دو ایپس یا ادارے رجسٹرڈ ہیں باقی سینکڑوں غیر قانونی طور پر یہ دھندا جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایسے گھناؤنے جرائم کے سدباب کے لئے پیشگی منصوبہ بندی کیوں نہیں ہوتی۔ ایسی غیر قانونی ایپس کیسے معرض وجود میں آ گئیں؟ آن لائن لون ایپس کے ذریعے شہریوں کو بلیک میل کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ حکومتی ادارے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے مطابق بہت ساری ایپس بغیر لائسنس کے کام کر رہی ہیں جو غیر قانونی عمل ہے۔ کیونکہ پاکستان کا قانون کسی کو نجی طور پر قرضے دینے کی ممانعت کرتا ہے۔
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو رواں سال مئی تک لائسنس یافتہ قرض دینے والوں کے خلاف 1,415 اور بغیر لائسنس والے قرض مہیا کرنے والوں کے خلاف 181 شکایات موصول ہوئیں جس کے بعد وفاقی پولیس نے ان ایپس کی بارے میں تحقیقات شروع کیں۔ ان شکایات میں گاہکوں کو بلیک میل کرنے جیسی شکایات سرفہرست تھی۔ سوال یہ ہے کہ اتنی شکایات ملنے کے باوجود کارروائی کیوں نہ کی گئی۔
ایک خاتون نے قرض کے لیے اپلائی نہیں کیا لیکن کمپنی نے ان کے بینک اکاؤنٹ میں 10,000 روپے بھیج دیے۔ اس رقم کو فوری طور پر واپس کر دیا گیا لیکن کمپنی نے کسی رقم کی وصولی کا سرے سے انکار کرتے ہوئے، ان سے مسلسل رابطہ رکھا اور پھر خاندان کے اراکین کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ رابطہ فہرست تک رسائی حاصل کر کے دھمکیوں کے ساتھ بدسلوکی تک شروع کر دی۔
دھمکیوں کا سلسلہ رکوانے کے لیے اس متاثرہ خاتون نے 40 ہزار روپے ادا کیے لیکن کالوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس نے بالآخر اس ایپ کے منتظمین کے خلاف حکام کو شکایت درج کرائی۔
ایس ای سی پی کی طرف سے اب ڈیجیٹل قرض فراہم کرنے والوں کے لیے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جن کے تحت بینکوں کے علاوہ قرض تقسیم کرنے والی مالیاتی کمپنیوں (NBFCs) کو ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کریڈٹ ظاہر کرنا ہو گا۔ جس میں انہیں قرض کی اصل رقم، شرح سود، فیس، سروس چارجز اور قرض کی مدت صارفین کو آڈیو یا ویڈیو اور ای میلز اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں مہیا کرنا ہوں گی


