ویٹیکن سٹی میں نماز!
ویٹیکن سٹی عیسائی مذہب کے لئے اتنا ہی مقدس اور اہمیت کا حامل ہے جنتا ہم مسلمانوں کے لئے کعبہ شریف و مدینہ منورہ۔
پچھلے دنوں ویٹیکن سٹی جانے کا موقع ملا، گھومنے پھرنے کے بعد سستانے کے لئے سبزہ زار میں بیٹھ گیا کہ نماز کا وقت ہو گیا، ساتھ ایک اور پاکستانی بھی تھا جو روم (اٹلی) کا ہی مقیم تھا اس سے پوچھا کہ کیا یہاں نماز ادا کرلوں؟ اس نے مثبت میں جواب دیا تو میں نے وہیں نماز ادا کرلی۔ بعد میں پوچھنے پر بتایا کہ کرونا کہ دنوں میں تمام گرجا گھر (عیسائی عبادت گاہیں ) بند تھیں لیکن روم میں مقیم مسلمانوں کی درخواست پر روم میں ایک بھی مسجد بند نہ کی گئی۔
اسی طرح یورپ میں جہاں بھی گیا وہاں نماز پڑھنے میں کوئی دِقت نہ تھی بس اپنی عبادت کریں لیکن کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے کسی کے احساسات مجروح ہوں۔
لیکن عید کے دن سویڈن میں ایک سابقہ عراقی عیسائی جو عراق میں داعش کے خلاف ایک نجی ملیشیا کا جنگجو بھی رہ چکا ہے اور سویڈن میں عارضی پناہ لے رکھی ہے کی طرف سے کتابِ مقدس کلامِ اللہ سبحان و تعالی قرآنِ مجید کی بے حرمتی سے مسلم امہ کے احساسات سخت مجروح ہوئے اور ایسے شخص کی سزا صرف اور صرف ”سر تن سے جدا“ کے نعرے بلند ہوئے۔ اس شخص کا یہ گھناؤنا عمل یقیناً اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسے سویڈن کی مستقل شہریت درکار ہے، اب وہ بہانہ بنائے گا کہ میرے جان کو خطرہ ہے، مجھے مستقل پناہ دی جائے۔ یہ کذاب اگر یہاں بچ بھی گیا تو روزِ محشر انشا اللہ اس کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے۔
اس واقعہ کے ردِ عمل میں واقعہ کے دن سے آج تک سویڈن کے سڑکوں پر سینکڑوں مسلمان با آوازِ بلند قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور انہیں کوئی روک ٹوک نہیں اور کل ہی سویڈن کی حکومت نے ایک مسلمان کو بھی اس بات کی اجازت دی کہ وہ انجیل، تورات اور زبور کو نذرِ آتش کردے حالانکہ سویڈن ایک عیسائی ملک ہے۔ مسلمان شخص نے اجازت ملنے کے باوجود مذہبی کتب کی بے حرمتی نہ کر کے امتِ مسلمہ کا سر فخر سے بلند کیا اور اس بات کا ثبوت دیا کہ اسلام امن و رواداری کا دین ہے اور ہمارے دین میں کسی کی بھی دل آزاری سخت گناہ ہے۔
اب آتے ہیں پاکستان کی طرف جہاں سویڈن کو سخت لعن طعن اور بائیکاٹ کا سامنا ہے۔
کیا ہمارے ملک میں کئی دفعہ مندروں و گرجا گھروں کی بے حرمتی نہیں ہوئی؟ اور خیبر پختون خوا میں آئے روز سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جاتی ہے۔ لیکن کیا کسی ہندو یا عیسائی کی اتنی ہمت ہے کہ اپنی عبادت گاہ کی بے حرمتی کے ردِ عمل میں وہ سویڈن کے مسلمانوں کی طرح با آوازِ بلند پاکستان کی سڑکوں پر اپنی عبادت کریں؟
کیا آج تک ہمارے درمیان موجود درندے ایک دوسرے کا قتلِ عام فقہی اختلاف کی بنیاد پر نہیں کر رہے ہیں؟ کیا ان درندوں نے سینکڑوں مساجد و امام بارگاہیں بموں سے تباہ نہیں کی؟
کیا آج بھی کُرم ایجنسی میں فقہ کی بنیا پر قبائل ایک دوسرے کے خلاف جدید اسلحہ سے مورچہ بند نہیں؟
یہ سب دینِ محمدی ﷺ کی تعلیمات ہیں؟
کیا سب ہمارے پیارے نبی محمد ﷺ اور قرآنِ مجید کی بے حرمتی نہیں؟


