ڈاکٹر نجیبہ عارف کا ناول: مکھوٹا

ساتھی لکھاریوں کی بہت سی کتابیں زیر مطالعہ رہتی ہیں مگر ان میں ناول پڑھنے کا موقع خال خال ہی ملتا ہے۔ کل برکھا رت میں ڈاکٹر نجیبہ عارف کا ناول مکھوٹا ملا تو زیر مطالعہ انتظار حسین کی کتاب کو موقف کر کے مکھوٹا کا مطالعہ کرنے کی ٹھانی۔
میں نہیں جانتی نجیبہ عارف کب مجھ سے ملیں اور کب دوستی کے اس مقام پر پہنچ گئیں جہاں مدتوں سفر کے بعد کوئی پہنچتا ہے۔ ہم جب بھی ملتے ہیں ہمیشہ دوستانہ بے تکلفی کے ماحول ہی میں ملتے ہیں۔ اور بہت سی باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے۔ دوستی کی مہک تو دوست نواز ہی جان سکتے ہیں۔ میری زندگی اس لحاظ سے بہت خوش قسمت رہی ہے کہ کالج کے زمانے ہی سے میرے حلقہ احباب میں بہت ذہین لڑکیاں رہیں۔ جنہوں نے بعد میں زندگی میں بہت نام کمایا۔ یہ الگ بات کہ وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکیں مگر مجھے آج بھی ان کی دوستی پر فخر ہے۔ میرے اور ڈاکٹر نجیبہ عارف میں دو ہی قدریں مشترک ہیں ایک یہ کہ ہم دونوں سرگودھا کالج میں زیر تعلیم رہیں۔ اور دوسری یہ کہ ہم دونوں ”ہم زلف“ ہیں۔ یعنی دونوں سفید بالوں والی۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف کی تحریروں میں مجھے ہمیشہ اپنی ذات سانس لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے شاید اس لیے میں ان کی ہر کتاب ترجیحاً بڑے ذوق و شوق اور دلچسپی سے پڑھتی ہوں۔
کل جب میں نے نجیبہ عارف کو میسیج کیا کہ اپنا ایڈریس بھیجیئے مجھے آپ کو اپنی کتاب بھیجنی ہے تو انہوں نے فوراً جواب دیا مجھے بھی اپنی ایک کتاب آپ کو دینی ہے یونیورسٹی سے فارغ ہو کر آپ کی طرف آؤں گی اور ہم دونوں اپنی اپنی کتابیں لے لیں گے۔ میں تو خوشی سے نہال ہو گئی۔
کسی بھی کامیاب اور نامور خاتون سے خوامخواہ ناتا بنا لینا مروجہ چلن تو ہو سکتا ہے۔ مگر دوستی کی خوشبو کو روح تک محسوس کرنا تو معجزہ ہے نا!
مجھے یاد آ رہا ہے سلمی اعوان نے میرے لاہور آنے کے پروگرام کے ساتھ دوستوں کے لیے ایک ڈنر کا اہتمام کیا۔ اس میں بشری رحمان بھی تھیں بشری رحمان میرے خوابوں میں رچی بسی ایسی خاتون تھیں جن کے ناول پڑھ کر ہم نے اپنے تخیل کی صفیں درست کیں۔ ان کی شخصیت کا رعب ہی اتنا تھا کہ میں ان کے پاس ڈری ڈری سہمی سہمی سی بیٹھی ہوئی تھی۔ کچھ دیر بعد گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر ہم دونوں ہی بے تکلف ہو گئیں۔ دعوت ختم ہوئی تو بشری رحمان نے مجھے کہا۔ نعیم اب کی بار لاہور آؤ تو سیدھا میری طرف آنا میں تم سے سے ڈھیر ساری باتیں کرنا چاہتی ہوں۔ سلمیٰ آپا بھی ساتھ ہی تھیں بشری رحمان چلی گئیں تو سلمی آپا نے کہا نعیم تم تو بہت خوش قسمت بڈھی ہو بشری رحمان تو کسی کو خاطر میں نہیں لاتی۔
اب کی بار لاہور آؤ تو میری طرف بے شک نہ آنا سیدھا بشری رحمان کی طرف چلی جانا بہت اللہ والی ہو گئی ہے پتہ نہیں تم سے کیا باتیں کرنا چاہتی ہے۔
اور پھر وہ لمحہ کبھی نہیں آیا میرا لاہور جانا ہی نہ ہوا اور ان کی دنیا سے رخصتی کا وقت آ گیا۔
اس کے بعد میں نے سوچا زندگی مہلت دے نہ دے اگر دل میں کسی کے لیے محبت کا جذبہ ہو تو کہہ دینا چاہیے۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف اچھی خاصی ذہین خاتون ہیں۔ بولتی ہیں تو دل چاہتا ہے بولتی ہی رہیں اور ہم سنتے ہی رہیں۔ لہجے میں مٹھاس، ہونٹوں پہ مسکراہٹ اور جملوں میں تیکھا اور چلبلا پن۔ مگر جب لکھتی ہیں تو کردار کی گہرائی میں اس حد تک چلی جاتی ہیں کہ توتو نہیں رہتا وہ کردار ”میں“ ہو جاتا ہے۔ نہ جانے انہوں نے کردار میں حلول کرنا کہاں سے سیکھا۔ مکھوٹا جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کوئی عام ناول نہیں۔ سلیمہ رخسانہ یا پھر فرزانہ کے کردار میں بسا اوقات مجھے محسوس ہوا شاید میرے کردار کو لکھ دیا بسا اوقات اس کردار میں ڈاکٹر نجیبہ عارف کی اپنی روح بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہے
ڈاکٹر صاحبہ متجسس ذہن کی مالک ہیں وہ کائنات کو حیرت سے دیکھتی ہیں زندگی اور موت کے فلسفے میں اسے سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اور جب کوئی زندگی کی حقیقت سے آشنا ہو جاتا ہے تو اس میں انکساری کے علاوہ زندگی کو پرکھنے اور برتنے کا ایک اور ہی ہنر پیدا ہو جاتا ہے۔ فلسفۂ زندگی کو سمجھنا آسان نہیں ہے نجیبہ عارف کھوجی ہیں وہ جب تک معاملے کی تہہ تک نہ پہنچ جائیں ان کا سفر ختم نہیں ہوتا۔ سلیمہ کا کردار سچا ہے یا فرضی لیکن اس میں کھوج کا سلسلہ کہیں نہ کہیں نجیبہ عارف سے جا ملتا ہے۔
سلیمہ بچپن ہی سے منفرد شخصیت کی مالک ہے واقعات حاضرہ پر اس کی رائے بھی باقی بچیوں سے مختلف ہوتی ہے اس کا ظاہر جیسا بھی ہے مگر اس کا باطن خوابوں، امنگوں، ولولوں سے لبالب بھرا ہوا ہے۔ اس کا متجسس ذہن واقعات کا بڑی گہری نظر سے مشاہدہ کرتا ہے۔ پھر اسے کس کس طرح جذب کرتا ہے اس سے سلیمہ کی شخصیت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بہت ہی دلچسپ کہانی ہے جسے ایک منطقی نتیجے پر لا کر نجیبہ عارف نے اپنے تئیں ختم کر دیا مگر پھر ایک قاری کی رائے جس میں وہ کہتا ہے۔
” محترمہ!
یہ آپ نے کیا کیا؟ آپ کو ہمارے جذبات سے کھیلنے کی اجازت کس نے دی؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ قاری جب کوئی ناول پڑھتا ہے تووہ اسے ایک فرضی یا جھوٹی داستان سمجھ کر نہیں پڑھتا وہ تو اسے ایک حقیقت سمجھتا ہے اور کرداروں کی زندگی خود پر بتا لیتا ہے وہ ان کرداروں کی روح میں شامل ہو جاتا ہے وہ ان واقعات کی روح کو جھیلتا ہے، ان کے لطف و مسرت میں شامل ہوتا ہے وہ ناول کو سچ سمجھتا ہے آپ نے تو سلیمہ کے وجود ہی کو معدوم کر دیا ہے اور پھر ہمیں بتا بھی دیا کہ سلیم بی بی کسی ایک شخصیت کا نام نہیں کئی شخصیات کا مجموعہ ہے یہ کیا بات ہوئی۔ ہم منتظر تھے کہ کہ سلیمہ بی بی کے لاہور کے قصے معلوم ہوں گے اس کی زندگی کے اگلے ابواب سے آشنائی ہو گی۔
مگر نجیبہ عارف اپنے موقف کی توضیح تو بیان کرتی ہے مگر جو واقعات اس کے قلب میں اتر کر اس کے دل و دماغ کا حصہ نہیں بنتے اسے بیان کرنے سے معذرت کر لیتی ہے۔ یہ ایک مکمل ناول ہے جو قاری کی پکڑ نہیں جکڑ لیتا ہے اور قاری بھی مصنفہ کے ساتھ ساتھ ظاہر اور زیادہ تر باطن کے ایسے ایسے تجربات سے گزرتا ہے جو اسے ایک نئی طرح سے سوچنے اور محسوس کرنے پر اکساتا ہے۔ منظر نگاری ایسی کہ قاری پڑھتے ہوئے اس منظر کا حصہ بن جاتا ہے۔ بس اتنا ہی باقی آپ خود پڑھ کر تجزیۂ کیجیئے سوچیئے اور پھر سوچتے رہیے۔



