ہمارے تعلیمی اداروں میں تعلیم و تربیت کا فقدان


کسی بھی سماج کی بہتری کے لئے اس کے افراد کا تعلیم یافتہ ہونا بے حد ضروری ہے۔ تعلیم بغیر تربیت کے نامکمل و ادھوری ہوتی ہے۔ یوں کہہ لیجیے کہ تعلیم و تربیت کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ اگر کسی سماج میں تعلیم محض، زبانی جمع خرچ، حصول نوکری اور پیسے کمانے کا ذریعہ بن جائے تو وہ اپنے معنی کھو بیٹھتی ہے۔ تعلیم محض ڈگری حاصل کر لینے کا نام بھی نہیں ہے۔ تعلیم سماج کے ان پڑھ لوگوں پر فضیلت حاصل کرنے کا ذریعہ بھی نہیں ہونی چاہیے۔ تعلیم کسی خاص ڈسپلن میں صرف معلومات حاصل کرنے کا نام بھی نہیں۔ ایک تعلیم یافتہ شخص اپنے عمل سے اسے ثابت کرنے میں اگر ناکام ہو جائے تو اس کے تعلیم یافتہ ہونے پر سوالیہ نشان ہو گا۔کیا ہم مخصوص عرصہ میں چند کتابیں رٹ لینے کو تعلیم کہہ سکتے ہیں؟ کیا ہر آنے والے سال کے ساتھ طلباء کے بستوں میں پہلے سے زیادہ کتابیں ٹھونس دینے کا نام (جن کو وہ اٹھانے سے بھی قاصر ہوں) تعلیم دینا ہے؟ آئیں ہم ان سوالات کی گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم جہاں تعلیم و تربیت کی بات کر رہے ہیں وہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ہمارے تقریبا آڑھائی کروڑبچوں کو سکول کی شکل دیکھنا بھی نصیب نہیں ہوتی۔ یہ بچے یا تو اپنے غریب و نادار والدین کے ساتھ ہاتھ بٹا تے ہیں یا پھر ان کے والدین وفات پا چکے ہیں۔ ان کا بوجھ اٹھانے سے قاصر عزیز و اقارب کے ساتھ ساتھ ریاست بھی ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے۔ ایسے میں وہ معصوم اس بے رحم دنیا کی نظر ہو جاتے ہیں۔ صبح گھر سے نکل کر کام پر جاتے ہوئے ہمیں بچوں کا ایک ہجوم تعلیمی اداروں/درس گاہوں کی طرف جاتا تو دوسری طرف معصوم بچوں کا جم غفیر کام کاج کی جانب رواں دواں ملتا ہے۔ ہر سال بچوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
کم سن مزدوروں کے حق میں لمبے لمبے بھاشن دیئے جاتے ہیں مگر نتیجہ صفر ہی رہتا ہے۔ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ زبانی جمع خرچ اور دن منانے کی رسم کی تقریب کے سوا کچھ اثرنہیں رکھتے۔ کیا یہ تعلیم و تربیت سے عاری بچے، بڑے ہو کر سماج میں بہتری لانے کاذریعہ بنیں گے یا کہ بگاڑ پیدا کرنے کا؟ اس سوال کا جواب قارئین کے لئے چھوڑے دیتا ہوں۔

طلباء کا تعلق سرکاری تعلیمی اداروں سے ہو یا کہ نجی، بات یہ ہے کہ کیا ہمارے نصاب تعلیم کو دور کے تقاضوں کے مطابق روشناس کروایا گیا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جو راقم سے اکثر دامن گیر رہتاہے۔ یہاں یہ امر بھی سامنے رہنا چاہیے کہ ہم مکمل طور پر کم و بیش 200 سال تک دور غلامی میں رہے ہیں۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارا نصاب تعلیم ہمیں عروج و زوال کی اس داستان سے روشناس بھی کرواتا کہ نہیں۔ نو آبادیاتی دور میں نصاب تعلیم ،بددیسی قوم کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے 1835 کے بعد بنایا گیا۔ جس میں لارڈ میکالے کا اہم عمل دخل نظر آتا ہے۔ نوآبادیاتی نظام تعلیم کے نتیجے میں جو طبقہ معرض وجود میں آیا وہ بظاہر تو شکل و رنگت کے لحاظ سے ہندوستانی ہی تھا مگر سوچ وہی تھی جو آقا کی طرف سے ودیئت ہوئی تھی۔ یہ طبقہ اپنی روشن تاریخ سے نابلد تھا۔ اسی طرح سائنس، ٹیکنالوجی و تخلیق میں بھی کوئی مقام حاصل نہ کر سکا مگر اس نو آبادیاتی نظام کی ضروریات کو پورا کرتا ضرور نظر آتا ہے۔ آزادی کی پون صدی کے بعد تک بھی ہم صفر پرکھڑے ہیں۔ رٹا سسٹم اور غیر تخلیقی نصاب کی مو جودگی میں سائنسی علوم کا پھلنا پھولنا ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ ہم کوئی اعلی تربیتی نظام بھی وضع نہ کر سکے۔ جو تعلیم دی وہ تخلیق سے خالی تھی ۔ حتی کہ طلبہ کو تعلیم مکمل کر لینے کے بعد نہ تو آئین پاکستان میں موجود بنیادی انسانی حقوق سے آگاہی ہو پاتی ہے اور نہ ہی اس میں سماجی سمجھ بو جھ پیدا ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ بطور پاکستانی شہری اپنے حقوق و فرائض سے آگاہی حاصل کر سکے۔ رہی بات تربیت کی تواس کی کوئی جانچ پڑتال کا نظام ہی سرے سے موجود نہیں۔ کیا یہ طلبہ پڑھ لکھ کر سماج میں کوئی مثبت کردارادا کر سکیں گے؟

اس ضمن میں ایک اہم نکتہ ہمارے تعلیمی اداروں کی ترجیحات ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جو چیزیں نصاب میں موجود ہیں ان کو طلبہ تک صحیح اندازہ میں پہچانا ، اس پر تعلیم و تربیت کے عمل کو یقینی بنانا تعلیمی درس گاہوں کا ہی کام ہوتا ہے۔ کیا ہم اس میں کامیاب ہو پائے ہیں؟ سرکاری تعلیمی اداروں میں سہولیات کا فقدان، وسائل کی کمی، بہت سے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، شدید ترین موسمی حالات میں بلڈنگ کا فقدان و غیرہ ، یہ چند بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے طلبہ کا تعلیم و تربیت کا نظام ان اداروں میں بہت متاثر رہا ہے۔ اس کے برعکس نجی تعلیمی ادارے جو کہ اکثر اوقات بہت ہی کم اور چھوٹی سی بلڈنگ میں سمائے ہوتے ہیں۔ وہ نظم و ضبط پر تو خصوصی توجہ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں تاکہ ماحول ساز گار رہے اور والدین پر سکون ہو جائیں کہ ان کا بچہ محفوظ ادارے و ذمہ دار انتظامیہ کی چھتری تلے تعلیمی عمل مکمل کر رہا ہے۔ اس سے بڑھ کر وہ اور کچھ خاص تخلیقی کام کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ سارا سال تعلیم و تربیت کی بجائے نمبر گیم پر ہی زور دیا جاتا ہے۔ ان نجی اداروں میں اساتذہ کی امدن قلیل ہوتی ہے اسی وجہ سے سارا سال اساتذہ کرام کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ان میں بہت سارے اساتذہ تو پروفیشنل بھی نہیں ہوتے۔ اداروں کی انتظامیہ کو اللے تللوں سے ہی فرصت حاصل نہیں ہوتی۔ طلبہ و والدین کو کسٹمرز کا پروٹوکول اور اسا تذہ کے بہت سے بنیادی حقوق بھی سلب کر لیے جاتے ہیں۔ نجی اداروں کے مالکان کے لئے اکثر سکول یونیفارم، سکول کیفڑیریا، سکول بستوں سے حاصل ہونے والی امدن توجہ کا مرکز و محور رہتی ہے۔ ایسے میں تعلیم و تربیت کہیں گم سم ہو کر رہ جاتی ہے۔ رہی بات ہم نصابی سرگرمیوں اور لائبریریوں کی ، ان کو نہ سرکاری اسکولوں اور نہ ہی نجی سکول میں اہمیت حاصل ہے۔ ایک طرف سرکاری اداروں میں مسائل کا انبار نظر آتا ہے تو دوسری جانب نجی تعلیمی اداروں کی کاروباری ترجیحات سامنے آتی ہیں۔ اس صورتحال میں تمام تعلیمی ادارے تعلیم و تربیت سے بڑھ کر نمبرگیم کی دوڑ میں نظر آتے ہیں۔ راقم کے خیال میں یہ طرز عمل تعلیمی مقاصد کو پورا کرنا تو درکنار بلکہ کسی اور سمت لے کرجاتا دیکھائی دےرہاہے۔

تعلیم و تربیت کا نظام کسی بھی سماج میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد تخلیق اور تربیت کا بنیادی تعلق سماجیات سےہوتا ہے۔ دونوں مل کر ایک تعمیری، تخلیقی اور مہذب معاشرے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ تعلیم کا مقصد یہ بھی نہیں ہوتا کہ محض آپ کو چند سالوں بعد ایک کاغذ کا ٹکڑا پکڑا دیا جائے جو آپ کے پڑھے لکھے ہونے کی دلیل و اکلوتی علامت ہوں ۔تربیت ہمارے اندر ضبط ،حکمت و دانائی پیدا کرتی ہے۔ تعلیم انسان کے اندرمثبت رویوں کوپروان چڑھانے کا نام ہے تو تربیت ، حاصل علم پر رسوخ حاصل کرنے کا نام ۔ تعلیم و تربیت کی سمت کا درست انداز میں متعین ہونا ،انسانی سماج سے بدحالی او رخوف کا خاتمہ کرتا ہے اور سماج کو جنت نظیر بنا دیتا ہے۔ ہم بھی اگر بطور قوم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا نصاب تعلیم نوآبادیاتی سوچ اور طریقہ کار سے آزاد کروانا ہو گا۔ قومی زبان کو اہمیت دینا ہو گی۔ زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی مہارتوں کو بروئے کار لانا ہو گا۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں وسائل بہم پہچانا ہو نگے۔ نجی اداروں کے بابت پالیسی میں بہتری لانا ہو گی۔ طلبہ کو رٹا کی بجائے عملی پروجیکٹس دینا ہو ں گے۔ اساتذہ کی عزت و تکریم کو بحال کرنا ہو گا۔ جب تک ہم ان چیزوں کو تبدیل نہیں کر لیتے اور ان کا رخ درست سمت میں نہیں موڑ دیتے، تعلیمی اداروں میں تعلیم و تربیت کا عمل کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا۔ صرف ہمارا خواب او رحسرت ہی بن کر رہ جائے گا۔ یہ الم ناک صور ت حال ہمیں ترقی کی اس دوڑ میں پیچھے دھکیلتی رہے گی۔ اور ہم اس بھنور میں کھڑے خوابوں کے محل تعمیر کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS