غلامی کے پنجرے میں بند ہماری آزادی!


انسان نے جتنا آزادی کی طرف سفر کیا اتنا ہی غلامی نے بھی انسانوں کا پیچھا کرنا شروع کیا، آج اس جدت اور ماڈرن دنیا میں بھی ہم غلام ہیں، اپنی سوچ، نظریات اور معاشرتی اقدار کے غلام۔ حقیقت یہی ہے کہ انسان کبھی پوری طرح آزاد ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ پوری آزادی کے لئے ہمیں زماں اور مکاں کی قید سے بھی آزاد ہونا ہو گا، انسان پنجرے میں رہنے والے اس پرندے کی طرح ہے جسے ایک محدود آزادی تو میسر ہوتی ہے لیکن وہ اس پنجرے کی حدود کو کراس نہیں کر سکتا، انسان خود کو قید کیے اس پنجرے میں خود پر مسلط کیے ضابطوں کے خلاف تو جنگ لڑ سکتا ہے، اس پنجرے کی سپیس کو کم یا زیادہ تو کر سکتا ہے لیکن اس سے مکمل آزاد نہیں ہو سکتا۔ تاریخ کی طرف دیکھا جائے تو انسان اس پنجرے کی سپیس کو بڑھا کر خود کو آزاد کرنے کی کوشش ضرور کرتا رہا ہے، انسان نے خود پر مسلط کیے ہوئے ضابطوں کے خلاف ہمیشہ اعلان جنگ کیا جس کو سراہا بھی جانا چاہیے۔

انسان کی 3 بڑی ضروریات میں روٹی، کپڑا اور مکان کو شامل کیا جاتا ہے لیکن میرے خیال سے ایک چوتھی بھی انسان کی اہم ضرورت ہے اور وہ ہے آزادی۔ انسان کی فطرت میں نہیں ہے آزادی پر کمپرومائز کرنا، انسان زیادہ دیر تک غلامی کو برداشت نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ اس نے تاریخ کے ہر دور میں اپنی آزادی کی جنگ لڑی۔ جب معاشرے میں دولت کی عدم تقسیم سے طبقات وجود میں آئے تو ایلیٹ کلاس اور مڈل کلاس کا فرق بڑھتا چلا گیا اور معاشرے میں عدم مساوات نے بھی جنم لینا شروع کیا۔ ایک طبقے کے پاس بہت وسائل آ گئے، ایک کے پاس بہت کم، ایک کے پاس دنیا کی ہر آسائش تھی اور ایک بنیادی ضروریات سے بھی محروم رہا۔ ایسے میں معاشرے میں آہستہ آہستہ ایلیٹ کلاس نے اپنا رعب جمانا شروع کیا، ایلیٹ کلاس چاہتی تھی کہ حکمرانی صرف وہی کریں، معاشرے کی ہر چیز پر صرف ان کا اثر و رسوخ ہو، اب ان دونوں طبقات میں فرق کی وجہ سے ان کے مفاد اور نقصان میں بھی فرق آنے لگا، ایک طبقے کا مفاد دوسرے کا نقصان بن گیا اور دوسرے کا مفاد پہلے کا نقصان بن گیا۔ اب چونکہ حکمران طبقہ ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتا تھا تو انہوں نے اپنے مفاد کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنے شروع کیے اور اپنے لئے قانون سازی کرنے لگے،

معاشرے کے ایک طبقے کے پاس آزادی تھی، وہ جو چاہے کر سکتا تھا، اس کے پاس تعلیم، دولت اور ہر آسائش تھی جبکہ دوسرا طبقہ غلام بن کر رہ گیا، وہ سارا سارا دن مزدوری کرتا صرف اپنی بنیادی ضروریات کے لئے، نہ اس کے پاس آسائش تھی نہ اس کے پاس آزادی، نہ وہ اپنی سوچ ریاست تک پہنچا سکتا تھا نہ ریاست اس کی بات سننا چاہتی تھی۔ ایسے میں انسان کے اندر سے آزادی کی آوازیں آنے لگی، ایک سے دو دو سے چار، ہزاروں اور پھر لاکھوں کی تعداد میں انسانوں نے خود کو سننا شروع کیا، ان کو یہ احساس ہونے لگا کہ اب معاملہ آزادی اور غلامی کا بن چکا ہے اور اب غلامی کے خلاف جنگ فرض ہو چکی ہے، مڈل کلاس طبقے کو یہ سمجھنے میں وقت لگتا ہے کہ ان سب کا مفاد یکساں ہے، اور وہ اپنا حق اجتماعی مساعی سے ہی لے سکتے ہیں۔ فرانسیسی انقلاب اس کی بہترین مثال ہے جب مڈل کلاس طبقے نے ایلیٹ کلاس کا تختہ الٹا تھا اور آزادی کی صورت میں اپنا حق لینے میں کامیاب ہوا تھا۔ کوئی بھی طبقہ ریاست یا حکومت انسانی آزادی کو مجروح نہیں کر سکتی اگر وہ ایسا کرنا بھی چاہے تو عوام کا ردعمل آتا ہے۔ یہی ردعمل انقلاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔

پاکستان کو دیکھیں تو چار ڈکٹیٹرز نے جمہوریت پر حملہ کر کے عوام کی آزادی کو چھیننے کی کوشش کی، اختلاف اور آزادی اظہار پر پابندی لگانا چاہی لیکن عوامی ردعمل سے ان کو بھی شکست ہوئی، پاکستان کو ہمیشہ سے ان چیزوں کا سامنا رہا، یہاں کبھی حقیقی جمہوریت آئی ہی نہیں۔ پاکستان میں جمہوریت اور عوامی آزادی پر حملے مارشل لا میں بھی کھل کر کیے جاتے ہیں اور یہی پابندیاں آئین کی بحالی کے بعد بھی جاری رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا پاکستان کو ڈیپ سٹیٹ کے طور پر جاننے لگی ہے اور یہی سوچ آہستہ آہستہ جمہوری سیاستدانوں میں بھی آ رہی ہے جو کہ بالکل بھی ایک اچھی خبر نہیں ہے، اگر جمہوری لوگ بھی اپنے خلاف رائے کو سننا نہیں چاہیں گے، ہر دور کی اپوزیشن پر مقدمے ہوں گے تو اس سے غیر جمہوری قوتوں کو تقویت ملے گی اور جمہوریت کمزور سے کمزور تر ہوتی جائے گی۔

لہذا سیاستدانوں کو اپنے اندر قوت برداشت پیدا کرنی ہوگی، بولنے اور اختلاف رائے کی آزادی مکمل طور پر اپوزیشن اور عوام کو منتقل کرنی ہوگی، خود کے بجائے عوام کی آزادی کو مضبوط کرنا ہو گا، عوام کی بنیادی ضروریات پوری کر کے سیاسی سوچ عوام میں منتقل کرنی ہوگی۔ ترقی، جمہوریت اور آزادی کی واحد امید عوام ہوتی ہے کیونکہ جب ریاست عوام کو ان کے حقوق نہیں دیتی تو اپنی آزادی کوجنتا چھیننا بھی جانتی ہے۔

Facebook Comments HS