چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بورے والا

جون 1981 تک میجر صاحب اپنی رہائش بوریوالا میں منتقل کر چکے تھے اور سکولوں میں گرمیوں کی تعطیلات کی وجہ سے میں بھی اُن کے ساتھ وہیں پر ہی قیام پذیر تھا۔ ایک دن صبح ہی مجھے بلایا اور کہا کہ، گاڑی کا بندوبست کرو۔ ہم لوگ سی ایم ایچ ملتان جا رہے ہیں۔ کیوں کہ مجھے صبح سے ہی سینے میں درد محسوس ہو رہا ہے۔ میجر صاحب بھی کیا درویش صفت انسان تھے۔ فوج میں سروس کے

Read more

پاکستان کا انقلابی ضمیر کون؟

یہ مردِ آہن سنہ 1928 ء میں ہوشیار پور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد پاکستان میں آباد ہوئے۔ ان کی شاعری نے ان کو جنوبی ایشیا کے بے باک عوامی شاعر طور پر منوا لیا۔ ان کے الفاظ محض شعر نہیں بلکہ مزاحمتی نعرے تھے جو ملک بھر کے اسکولوں، عدالتوں، جیلوں، اور احتجاجی اجتماعات میں گونجتے تھے۔ وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں، بلکہ ایک طاقتور سیاسی آواز تھے۔ انہوں نے پاکستان کے عام شہریوں

Read more

پرانی یادیں: ایوب خان کا زوال اور مارشل لا

1968 میں 27 اکتوبر 1958 کے ایوب خان کے فوجی انقلاب کو دس سال ہو چکے تھے۔ اس موقعے پر ملک بھر میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ حکومت اپنے کارنامے اجاگر کر نا چاہتی تھی۔ ایوب خان کے دور سے وابستہ متضاد آرا تھیں۔ ان کے دور میں ایک استحکام تھا جو اس کے بعد پاکستانی قوم کو کبھی نصیب نہیں ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب پانچ سالہ منصوبے بنتے تھے اور ان پر عمل ہوتا تھا۔

Read more

اردو ادب کا ارتقا، نئے زاویے

اردو ادب کے ارتقا پہ بات کریں اور اس میں اکیسویں صدی تک کے ادب کی بات کریں تو ہمیں اس کو قیام پاکستان کے وقت سے دیکھنا ہو گا کیونکہ تقسیم ہند ہوتے ہی جو سب سے پہلے ہوا، وہ یہ تھا کہ دونوں طرف کہانی و شاعری کے موضوعات بدل گئے۔ کچھ لاشعوری طور پہ ایسا ہوا تو شعوری طور پہ وہی تحریر پڑھی جا رہی تھی جو حالات ہو گئے تھے۔ دونوں طرف تاریخ کی بڑی ہجرت

Read more

پرانی یادیں: ایوب خان بمقابلہ فاطمہ جناح

1965 پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین سالوں میں سے ایک تھا۔ اس سال کے دوران دو ایسے اہم واقعات رونما ہوئے جنہوں نے پاکستانی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 1965 کے آغاز میں، میں آٹھویں جماعت میں تھا لیکن اپنے ارد گرد اس وقت رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں اپنے خیالات اور جذبات بہت واضح انداز میں یاد ہیں۔ اس مضمون کا مقصد 1965 میں وقوع پذیر ان تاریخی واقعات کو اپنے نقطہ نظر سے بیان

Read more

”تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے“: ایک عام فکری مغالطہ اور پاکستان

”تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے“ ۔ یہ جملہ ہم پاکستانی اکثر بولتے اور سنتے ہیں۔ ملک میں کئی بار مارشل لا لگائے جانے کی بات ہو، ایک ہی سیاسی جماعت کے بار بار اقتدار میں آنے کا معاملہ ہو، ایک ہی طرح کے سانحے کا بار بار وقوع پذیر ہونا ہو، یا آزادی سے لے کر اب تک مجموعی طور پر ملک کو ایک سے مسائل کا سامنا کرنے کی بات ہو، ہم بے اختیار کہ اٹھتے ہیں، کہ

Read more

راجہ انور بطور ادیب اور مصنف

راجہ انور کو میں نے اپنے کالج کے زمانے میں ان کی بھرپور جوانی میں دیکھا تھا۔ 70 کی دَہائی کے وسط کی بات ہے۔ ہم تین دوست بینک روڈ راولپنڈی صدر میں گھوم رہے تھے۔ ہمارا ایک دوست زور سے چلایا۔ ”وہ دیکھو! راجہ انور!“ دراز قد، لمبے اور گھنے سیاہ بال، سیاہ ریش، سفید شلوار قمیض میں ملبوس سرخ و سفید رنگ کے راجہ انور دو تین ساتھیوں سمیت اُسی طرف چلے آرہے تھے، جہاں ہم کھڑے تھے۔

Read more

حُر کیمپ جوہی

سندھ کے عوام نے تاریخ کے ہر دور میں حب الوطنی کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ یہ جذبہ ان کی تہذیب، روایت، اور خاندانی ورثے میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ تاہم، اس کے باوجود ایک مکمل قومی شعور کی تشکیل یا اس کا وسیع پھیلاؤ سندھ میں مکمل طور پر نہیں ہو سکا۔ پھر بھی جب کبھی بیرونی جارحیت یا ظلم و ستم ہوا، سندھ کے مختلف قبیلوں نے انفرادی سطح پر بھرپور مزاحمت کی، جس کی تائید تاریخی شواہد

Read more

جنگ کا بیوپار اور بنیے کا پوسٹ کارڈ

منٹو اپنے ہی رنگ کا لکھنے والا تھا۔ امرتسر کے شرارتی لڑکے کی ابھی مسیں نہیں بھیگی تھیں کہ 1919 ءکا جلیانوالہ باغ ہو گیا۔ پنجاب میں مارشل لا لگ گیا۔ امرتسر کی سرکش گلیوں میں رینگنے پر مجبور کیے گئے محکوم ہندوستانیوں کی آنکھوں میں بے بسی کے انگارے سلگتے تھے لیکن سروں میں آزادی کی ہوائیں چلنے لگی تھیں۔ ریٹائرڈ مگر دل پھینک سب جج غلام حسین کے سات سالہ لڑکے نے اردو زبان کے پرچے میں بار

Read more

مَیں نے سندھ طاس معاہدہ طے پاتے دیکھا

یوں تو ہمارے داخلی اور خارجی چیلنجز ایک سے ایک ہوشربا ہیں، مگر بھارت کی موجودہ اَندھی قیادت نے جو روش اختیار کی ہے، اُس میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی بہت زیادہ فساد بپا کر سکتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جس طرح 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات پاکستان سے چھیڑ چھاڑ اُس کے لیے عبرت کا سامان بن گئی ہے، اِسی طرح پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوشش اُس کے پورے وجود کو ہلا کے

Read more

فرخ یار کا عشق نامہ

خلقت کے اجتماعی حافظے اور اس کے تخیل کی حیران کن کرشمہ سازیوں (یا کارستانیوں؟) نے جہاں گزشتہ کئی صدیوں سے شاہ حسین اور میلہ چراغاں کی رنگا رنگی کو لازم و ملزوم کر رکھا ہے وہاں شاہ حسین کی تصویر بھی بہت کچھ بدل دی ہے۔ سوال ہے کیا شاہ حسین واقعی یہی کچھ تھے : تکالیفِ شرعی سے آزاد بلکہ ان کی تضحیک و تحقیر کرنے والے، افعال شنیعہ میں مبتلا، مے نوش و امرد پرست و ہر

Read more

کیا جمہوریت خطرے میں ہے؟

حال ہی میں پاکستان پر بھارت کی طرف سے مسلط کی ہوئی جارحیت کے نتیجہ میں ہونے والی جنگ کے بعد ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اندیشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان جھڑپوں میں فوج کی کامیابی اور اسے ملنے والی عوامی تائید اور سرکاری ہمدردی کے بعد ملک میں جمہوری نظام حکومت کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس بارے میں مختلف خیال آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ بعض

Read more

کامریڈ چودھری فتح محمد کی پانچویں برسی

کامریڈ چودھری فتح محمد ایک انقلابی سیاسی رہنما، کسان تحریک کے بانی اراکین میں سے ایک اور پاکستان کے محکوم طبقات کے حقوق کے لئے زندگی بھر جدوجہد کرنے والے سپاہی تھے، جو پیر، 25 مئی 2020 کی صبح انتقال کر گئے۔ چودھری فتح محمد 16 مئی 1923 کو ضلع جالندھر کے نزدیک ایک چھوٹے سے گاؤں ”چاہڑکے“ میں نچلے متوسط طبقے کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بی اے کے امتحان کے بعد انہوں نے برطانوی فوج میں کیڈٹ افسر

Read more

کالم لکھنا ہے

منگل 20 مئی کا دوسرا پہر شروع ہو چکا تھا۔ کالم قریب قریب مکمل ہو چکا تھا۔ اچانک برادرم فتح نصر نے حسب عادت Dictation بیچ میں چھوڑ کر تازہ خبروں پر ایک نظر ڈالی اور چونک کر ایک بڑی خبر سنائی۔ درویش ایک لحظے کو سکتے میں آ گیا۔ چند لمحات کی خاموشی کے بعد دھندلے پڑتے حافظے کی تختی پر عربی زبان کے دو جملے ابھرے۔ بے ساختہ کہا ’فالحمد للہ علیٰ ذالک۔ جزاکم اللہ احسن الجزائ۔‘ انسانی

Read more

عمران خان کا بادشاہ اور جنگل کا قانون

ستم ظریفی دیکھئے کہ تحریک انصاف کے بانی اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کی خواہش میں آرمی چیف عاصم منیر کو ’فیلڈ مارشل‘ بننے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ اور خیبر پختون خوا میں ان کے ’وزیر اعلیٰ‘ امین گنڈا پور حکومت کو دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر عمران خان سے ملاقات نہ کرائی گئی تو وہ آئی ایم ایف پروگرام میں تعاون نہیں کریں گے۔ دونوں قوم کے مفاد کی آڑ میں ذاتی سہولتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس

Read more

تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد

ایوب خان کا دور، جو اکثر سنہری دور کہلایا جاتا ہے، اتنا چمک دار تھا کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ ملک میں دن دونی اور رات چوگنی ترقی کا ایسا شور تھا کہ اگر کسی نے رات کو آنکھ کھولی تو لگا جیسے کوئی نیا صنعتی انقلاب برپا ہو چکا ہو۔ سڑکیں، ڈیم، صنعتیں اور وہ مشہور و معروف ”ترقی“ جو صرف چند خاص علاقوں اور خاص طبقات تک محدود تھی۔ سب ایوب خان کی حکومت کے چمکتے دمکتے کارنامے تھے۔

Read more

پروفیسر خورشید احمد :علمی روایت کا قصہ تمام شد

اُدھر ڈاکٹر تقی عابدی کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں کینڈین سول انعام ”کنگ چارلس سوم ایوارڈ“ دینے کی خبر اِدھر پاکستان پہنچی الحمد اسلامی یونیورسٹی، شعبہ اردو کے چیئرمین ڈاکٹر شیر علی خاں نے، ان کے پاکستان آنے پر ایک تقریب کی منصوبہ بندی کرلی۔ ڈاکٹر تقی عابدی آ گئے تو یہ تقریب بہت اہتمام سے ہوئی۔ میں اس تقریب کا احوال سنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ وہاں کہے ہوئے پروفیسر فتح محمد ملک کے

Read more

قصہ ڈاکٹر ہارون اور ان کے آشرم کا

                                    پروفیسر ہارون احمد صاحب سے پہلی ملاقات ایک کالج کے طالبعلم کی حیثیت سے لگ بھگ 4 دہائیوں قبل ہوئی، 80 کی دہائی، ملک بھر میں جنرل ضیاء کے آمرانہ دور کی سیاہ پرچھائیاں قومی تشخص پر مذہبی جماعتوں، افغان جہاد کی جنونیت اور ریاستی جبر کے تسلط کا ماسک چڑھانے کی کوششیں، معاشرے کے گرد گھٹن کے جالے جنھوں نے تعلیمی

Read more

خواب، محبت اور زندگی (13)

ٹیچرز ہاسٹل کالونی کے اندر ہی اسکول کے سامنے واقع تھا اور امی کی میری کئی استانیوں سے دوستی ہو گئی تھی۔ ایک مرتبہ اسکول کے ڈرامے میں ایک کردار میرا بھی تھا۔ اسٹیج پر آنے کے بعد میں نے اپنے مکالمے بولنا شروع کیے تھے کہ اچانک میری نظر امی پر پڑی جو پہلی قطار میں صوفے پر استانیوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کی موجودگی میرے لئے غیر متوقع تھی۔ نروس ہو کے میری ہنسی چھوٹ گئی

Read more

کچھ پروفیسر خورشید احمد کے بارے میں

’ بڑے لوگوں کی صحبت انسان کو بڑا بنا دیتی ہے‘ ۔ اس مقولے کو مجسم دیکھنا ہو تو پروفیسر خورشید احمد کو دیکھئے۔ ان کے آبا و اجداد جالندھر کی خاک سے اٹھے اور دلی کے ہو گئے پھر رشتوں ناتوں کا سلسلہ ترکی تک دراز ہو گیا، یوں اس خاندان میں وہ کیفیت پیدا ہوئی جسے اقبال نے سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے کہہ کر بیان کیا ہے۔ پروفیسر خورشید کے والد نذیر احمد قریشی

Read more

خواب، محبت اور زندگی (10)

وزیر خان کی مسجد کے پیچھے لاہور میں ہمارا قیام ابی کی مرحومہ پھوپھی کے مکان میں رہا (جن کی بڑی بیٹی سے ابی کی شادی ہوتے ہوتے رہ گئی تھی) ۔ یہ مکان وزیر علی خان کی تاریخی مسجد کی عقبی گلی میں واقع تھا۔ لاہوریوں کی موجودہ نسل اسے اب وہاں نہیں پائے گی کیونکہ برسوں پہلے اسے مخدوش قرار دے کر منہدم کیا جا چکا ہے لیکن میری یادوں میں وہ آج تک اسی طرح قائم و

Read more

کھوئی ہوئی جمہوریت، حقوق اور نہروں کے خلاف تحریک

جب سے معاشرہ وجود میں آیا ہے، تب سے کسی نہ کسی شکل میں سماجی تحرک معاشرے کے جسم میں خون کی مانند گردش کرتا رہا ہے۔ انہی سماجی ڈھانچوں سے بادشاہتیں، ریاستیں، جمہوریتیں، ممالک اور حکومتیں جنم لیتی رہی ہیں۔ ریاست اور حکومت کے نظم و نسق کے ساتھ سماجی تحریکیں بھی کسی نہ کسی صورت میں جڑی رہی ہیں۔ نئی سماجی تحریکیں اور متنازع رویوں کے مظاہر کو سڈنی ٹارو، جو اس موضوع پر گہری بصیرت رکھتے ہیں،

Read more

حبیب جالبؔ کی بتیسویں برسی

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا اشتراکیت پسند، جمہوریت پسند، انقلابی اور عوامی شاعر حبیب جالب جن کا اصل نام حبیب احمد اور تخلص جالبؔ ہے۔ حبیب جالبؔ کی پیدائش عید الفطر کے دن یعنی 24 مارچ 1928

Read more

مطالعہ پاکستان کی خیر و برکات

ہمیں جب بھی پاکستان کی خوبصورتی، شاندار کامیابیوں اور ناقابلِ یقین کارناموں کے بارے میں پڑھنے کا اشتیاق ہوتا ہے، تو سیدھے مطالعہ پاکستان کی کتاب کھول لیتے ہیں۔ جیسے ہی چند صفحات پڑھتا ہوں، ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ہماری سوچ کو چنبیلی کے عطر میں ڈبو کر، شہد میں گھول کر، اور دودھ میں نہلا کر دماغ میں ڈال دیا ہو۔ یہ ایسی محب وطن کی جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ پھکی ہے جس سے ہر طرح

Read more

ذوالفقار علی بھٹو اور نشانِ پاکستان

وطن عزیز پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست کا ایک ایسا نام ہیں جن کی سیاست سے آپ اختلاف کریں یا اتفاق لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ پاکستانی سیاست نہ صرف ان کے ذکر کے بغیر نا مکمل ہے بلکہ انہوں نے پاکستانی سیاست پر اتنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں کے آج بھی پاکستانی سیاست میں ان کے نام کی گونج سنائی دیتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستانی سپریم کورٹ نے ذوالفقار

Read more

بلوچستان، باریک بینی درکار ہے

گزشتہ کالم میں بلوچستان کے حوالے سے کچھ گزارشات عرض کی تھی۔ کچھ احباب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس پر مزید گفتگو ہو، خاص طور پر اس تصور پر کے بلوچستان میں مسلح کارروائیاں کرنے والے عناصر کے سرپرستوں کے ذہن میں کیا کوئی اور بھی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے اور اس زمینی حقیقت کے اظہر من الشمس ہونے کے باوجود کے وہ پاکستان کی جغرافیائی سالمیت کو گزند نہیں پہنچا سکتے ہیں مگر پھر بھی

Read more

شناخت پریڈ

وضاحت: پاکستان کے قانون شہادت کی دفعہ 22 ہائی کورٹ سندھ کے مختلف سرکلرز اور سپریم کورٹ کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق ملزم کی گرفتاری کے پندرہ دن کے اندر اس کی شناخت ہوگی۔ اس شناخت کی بنیادی احتیاط یہ ہے کہ گواہ یا مدعی نے ملزم کو دوران حراست دیکھا نہ ہو، تاکہ عمل شناخت کا تقاضا غیر جانبدار اور شفاف رہے۔ اس کارروائی کی مزید تفصیل پولیس رولز مجریہ 1934 کی دفعہ 26.32 کی ذیلی شقوں سی

Read more

وفاداری بشرط استواری

ہمارے بچپن کی یادوں میں پرائمری جماعت کے درس عمر کے کسی حصے میں بھی فراموش نہیں ہوتے، ان نصابی اسباق میں اکثر سماجی برائیوں کے نقصانات کو سبق یا کہانی کی صورت میں پیش کیا جاتا تھا، ہمیں سبق کے ذریعے دھوکہ دہی اور جھوٹ کی لعنت سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی تھی تاکہ ہمارے اندر سماجی تہذیب و شائستگی کے ساتھ سماج کے برتاؤ میں ایماندار رہنے پر ترجیح دی جائے اور ہمیں جھوٹ اور دھوکہ

Read more

شہاب کی روحانیت کیا تھی

یہ بھی حقیقت ہے کہ قدرت اللہ شہاب نے اپنے روحانی پہلو کو ہمیشہ چھپا کر رکھا۔ دوران ملازمت تو خاص طور سے اسے پوشیدہ اور لو پروفائل رکھا۔ اس کے دو تین انتہائی قریبی دوستوں ممتاز مفتی، اشفاق احمد وغیرہ کے سوا شاید ہی کسی کو علم ہو۔ اس کے قریبی دوستوں میں احمد بشیر جیسا مارکسسٹ اور ابن انشا، جمیل الدین عالی وغیرہ بھی شامل تھے جو تصوف میں دلچسپی رکھتے تھے۔ سوشل میڈیا پر ایک الزام شہاب

Read more

تحریک نظام مصطفیٰ کا شہرہ آفاق کمالیہ نکیل کیس

21 مارچ 1977 کو پنجاب کے تاریخی شہر کمالیہ میں وقوع پذیر ہونے والے اس شرم ناک مگر شہرہ آفاق کمالیہ نکیل کیس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی حکومت کی میعاد ختم ہونے سے قبل ہی عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مساجد بنا رکھی ہیں، لہذا وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ آسانی سے یہ انتخابات جیت

Read more

ڈیپ اسٹیٹ اور ہارڈ اسٹیٹ: حقیقت یا سراب؟

ہیلری کلنٹن نے 2011 میں ایک انٹرویو کے دوران ”ڈیپ اسٹیٹ“ کے تناظر میں پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں ایک ایسی غیر منتخب اسٹیبلشمنٹ موجود ہے جو پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس بیان کے بعد یہ بحث چھڑ گئی کہ آیا پاکستان واقعی ایک ڈیپ اسٹیٹ ہے یا نہیں؟ ڈیپ اسٹیٹ کیا ہے؟ ڈیپ اسٹیٹ (Deep State) اس غیر مرئی مگر طاقتور ریاستی ڈھانچے کو کہا جاتا ہے جو رسمی حکومتی

Read more

خوشامد کی ‘انڈسٹری’ کے قلم مزدور

پاکستان میں شاعروں، ادیبوں کی طرف سے حکمرانوں کی خوشامد کی صنعت نے ایوب خان کے دور میں خاصی ترقی کی، اس موضوع پر گزشتہ چند سال سے مسالہ اکٹھا کررہا ہوں جو ہوتے ہوتے اتنا ہوگیا ہے کہ کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ اس مواد نے حیرت کے کئی در وا کیے، بڑے بڑوں کے بھرم ٹوٹے، آج میں نے دو معروف فکشن نگاروں اشفاق احمد اور ممتاز مفتی کے رشحات قلم کے بارے میں کچھ لکھنے کی ٹھانی ہے

Read more

پاکستان کی بقا بلوچستان سے جڑی ہے

نوروز خان 1860 کے آخر یا 1870 کے اوائل میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ بلوچی بلوچستان کے زرکزئی قبیلے سے تھا جسے زہری بھی کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کا علاقہ چار شاہی ریاستوں قلات، مکران، لسبیلہ اور خاران پر مشتمل تھا۔ یہ ریاستیں کبھی افغانیوں، کبھی ایرانیوں اور کبھی دہلی کے حکمرانوں کی مطیع رہیں۔ 1875 یعنی نوروز خان کی پیدائش تک اس علاقے میں امن تھا۔ 1875 میں برطانوی راج کی نظر جیسے ہی اس وسیع علاقے پر پڑی

Read more

شکرگزاری کے مریض

آج کل ہماری سیاست نسلوں سے منتقل کی گئی ”شکرگزاری“ کے لا علاج مرض میں اس قدر مبتلا ہے کہ علم اور دانش کی منتقلی کے بجائے اب ہم ”دہشت گردوں“ کی امریکا حوالگی یا منتقلی پر پھولے نہیں سما رہے اور ہمارے حکمران اور اپوزیشن کہلائی جانے والی جماعت تحریک انصاف کا بس نہیں چلتا کہ وہ صدر ٹرمپ کی قدم بوسی کر کے ”شکر گزاری“ پہ سجدہ ریز ہو جائیں اور اس وقت تک نہ اٹھیں جب تک

Read more

” عوامیّت“ کی موجِ بلاخیز اور جمہوریت!

امریکی اور یوکرینی صدور، ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان حالیہ مکالمہ چند منٹوں پر مشتمل تھا لیکن اِس مکالمے سے شروع ہونے والا ”مکالمہ“ ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ شرکائے نشست کی گفتگو، الفاظ اور لب و لہجہ ہی نہیں، ”بدن بولی“ (Body Language) بھی دیدنی تھی۔ یہ اُس عوامیّت (Populism) کا عُریاں مظاہرہ تھا جس کی کرشمہ سازیاں اَب یورپ، امریکہ اور لاطینی امریکہ تک ہی محدود نہیں رہیں، ایشیا تک آن پہنچی ہیں۔ کوئی آٹھ

Read more

مریم نواز، جنرل اقبال، راجہ گدھ اور غریب طبقہ

دو تین روز قبل بہاولپور شہر کے پوش علاقہ سیٹلائیٹ ٹاؤن کی مرکزی سڑک حسینی چوک تا بہاری کالونی پہ ڈپٹی کمشنر نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ کروڑوں روپے مالیت کے بنگلوں کے سامنے سرکاری جگہ پہ قائم کی گئی تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا۔ بنگلہ اگر دس مرلہ یا ایک کنال کا تھا تو سامنے گزرتی مرکزی سڑک کے اردگرد کی جگہ جو کہ سو فٹ چوڑی ہے اس کے دونوں اطراف بنگلہ مالکان نے چاردیواری

Read more

ٹرمپ کی یک طرفہ سفارت کاری سے یورپ تنہا رہ جائے گا

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی طرف سے یوکرین پر جنگ شروع کرنے کا الزام سامنے آنے کے بعد یورپی ممالک میں ایک نئی بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ البتہ سوموار کو پیرس میں ہونے والے یورپی لیڈروں کی ملاقات میں کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی تھی۔ اب بدھ کو یہ لیڈر ایک بار پھر یوکرین جنگ کے بارے میں امریکی پالیسی پر غور کریں گے۔ یوکرین کے علاوہ ڈنمارک اور پولینڈ جیسے ممالک یورپ کا دفاع

Read more

سر سکندر حیات خان آف واہ سے سردار سکندر حیات تک

قیام پاکستان سے قبل کی سیاست کے ایک اہم سرخیل متحدہ پنجاب کے پہلے مسلمان گورنر و پہلے مسلمان وزیر اعظم سر سکندر حیات خان مرحوم آف واہ کے پوتے، ضلع اٹک کی تحصیل فتح جنگ سے دو مرتبہ 1988 اور 1993 میں ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے اور 1993 میں صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات رہنے والے سردار سکندر حیات خان کی چند ماہ بیشتر 7 اکتوبر 2024 بروز سوموار کو لاہور میں رحلت سے پنجاب کی سیاست سے

Read more

”سیاسی عدمِ استحکام“ کا تصوراتی بیانیہ!

اپریل 2022 سے اَب تک، پی۔ ٹی۔ آئی کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود پاکستان کسی سیاسی بحران کا شکار ہوا نہ روایتی عدمِ استحکام کا کوئی ایسا بھونچال آیا کہ دَرودِیوار لرز اٹھتے اور نظمِ حکومت کو سنبھالے رکھنا مشکل ہوجاتا۔ البتہ پی۔ ٹی۔ آئی کی اپنی کشتی بَرمودا تکون کے خونیں جبڑوں تک آن پہنچی ہے۔ چوبی تختے چرچرا رہے ہیں، بادبان دھجیاں ہو رہے ہیں، کشتی کو سنبھالا دینے کے بجائے مسافر ایک دوسرے کو سمندر میں دھکیل

Read more

سرراہ احتجاج اور پس پردہ مذاکرات

آج کل سوشل میڈیا پر یہ شعر زبان زدعام ہے قمیض وچ موریاں تے ارباں دیاں چوریاں جلسے وچ بد معاشیاں تے خط وچ معافیاں یہ شعر پڑھ کر مجھے اک لطیفہ یاد آ گیا۔ سیاست دانوں کا ایک گروہ کسی دور دراز علاقے میں بس میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک بس کی بریک فیل ہو گئی اور وہ بے قابو ہو کر کھائی میں گر گئی۔ اہل علاقہ حادثے کی جگہ پہنچے اور تباہ شدہ بس میں

Read more

اپنا آئین اپنی مرضی: سامنے آئینہ رکھ لیا کیجئے

عمر ایوب نے شکوہ کیا ہے کہ پاکستان میں آئین پر عمل نہیں ہو رہا۔ تحریک انصاف کے لیے آئین 10 اپریل 2022 کے بعد معرض وجود میں آیا۔ اس سے قبل صحافت پابند سلاسل، سوشل میڈیا اور میڈیا پر قابو پانے کے سو سو ٹوٹکے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، قانون کی عملداری جبکہ لاپتہ افراد ریاست کے باغی اور ہزارہ لاشیں بلیک میلر قرار پائیں۔ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں اشتراک کے سُنہرے دن، ہائبرڈ دور کی چاندنی راتیں

Read more

سیاسی شعور سے عاری طلبہ، روبوٹک مزدوروں کی افزائش

نو آبادیاتی معاشروں میں سیاسی آزادی پر قدغن کوئی نئی بات نہیں ہے یہ نا صرف معمول کا ہی حصہ سمجھی جاتی ہے بلکہ اپنا تاریخی تسلسل بھی رکھتی ہے کیونکہ ایسے معاشروں کی کل تاریخ سیاسی آزادی پر قدغن اور پابندیوں کا ہی شاخسانہ ہے۔ پاکستان بھی جو برطانوی استعمار سے آزاد ہو کر (کچھ لوگوں کی رائے البتہ مختلف ہے ) دنیا کے نقشے پر ابھرا، ایسے ہی المیے کا شکار رہا ہے۔ پہلے انگریزوں کی پابندیاں تھیں

Read more

ہمارا سیاسی شعور اور تیری یاد

صدیوں سے اس دنیا کے سیاہ و سفید میں ہمارا حصہ’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔ ادب ہو یا مصوری، موسیقی ہو یا تعمیرات، سیاسی تدبر ہو یا سائنسی فکر، علمی جستجو ہو یا مشین کا معجزہ، کار آسماں ہو یا بندوبست زمیں، ہمارا شعار فقط یہی ٹھہرا ہے کہ کبھی اپنی سہل کوشی کے زعم میں جدید سے انکار کرتے ہیں اور کبھی خودپسندی سے مغلوب ہو کر نئی دنیا کی تعمیر کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کشمکش

Read more

انگریز اور لاہور

لاہوریوں کی تو بات کیا کریں۔ ہم دوسرے شہروں کے لوگ بھی کسی نہ کسی حوالے سے لاہور کے رومانس میں مبتلا رہے ہیں۔ اس لئے یہ تو طے ہے کہ ہم سب کو پروفیسر عزیز الدین کی کتاب کولونیل لاہور پڑھ کر بہت مزہ آئے گا۔ یہ کتاب دراصل ان کے 1990 کے عشرے میں لکھے جانے والے مضامین کا مجموعہ ہے جسے ان کے چھوٹے بھائی محمد تحسین نے کتابی شکل دی ہے اور اس کا تعارف وجاہت

Read more

اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 جج عمران خان کے ساتھ ایک پیج پر کیسے؟

ان دنوں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو لکھے گئے دو خطوں کا چرچا ہے۔ ایک خط تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے اڈیالہ جیل سے لکھا ہے اور اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں آئینی انتظام ناکام ہو چکا ہے لہذا سپریم کورٹ عوامی حقوق کی حفاظت کے لیے معاملات اپنے ہاتھ میں لے۔ دوسرا خط اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کی جانب سے دوسری ہائی کورٹس سے ججوں کے مبینہ تبادلوں

Read more

خان صاحب، آپ واک کیا کریں

ہمارے محلے میں ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے جو دانت درد سے عارضہ قلب تک ہر بیماری کا علاج ایک ہی گولی سے کیا کرتے تھے، اور دلچسپ بات یہ تھی کہ اکثر مریضوں کو اس سے افاقہ بھی ہو جایا کرتا تھا، یعنی بہ قولِ مجید امجد ’بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے … خرید لوں میں یہ نقلی دوا جو تو چاہے۔‘ وہ حکیم صاحب اس لیے یاد آئے کہ میرا معاملہ بھی ان

Read more

علی امین گنڈا پور کا ’نوشتہ دیوار‘ انجام

علی امین گنڈاپور سے کبھی سرِ راہ تعارفی ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ انہیں فقط ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی کلپس کی بدولت جانتا ہوں۔ اپنے حلیئے، رویے اور بول چال سے وہ ایک روایات شکن سیاستدان نظر آتے ہیں۔ عمران خان کے وفادار اور ان کی خاطر جان دینے کو ہمہ وقت تیار۔ ذات کے اس رپورٹر کو لیکن فروری 2024ء کے انتخاب کے قریب موصوف کے بارے میں انتہائی قابل اعتماد ذرائع کی مہربانی سے

Read more

محمد صدیق الفاروق مرحوم

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما محمد صدیق الفاروق طویل علالت کے باعث گزشتہ ماہ 15 دسمبر 2024 بروز اتوار اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور دوسرے روز پیر کی صبح 11 بجے ایچ الیون  قبرستان اسلام آباد میں نماز جنازہ کے بعد ان کے جسد خاکی کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ مرحوم ایک عرصے سے دل اور گردوں کی بیماریوں کا شکار تھے جس نے انہیں بہت لاغر اور کمزور کر دیا تھا۔ مرحوم نے ایک

Read more

القادر مِس ٹرسٹ کیس

  اربوں انسان مذاہب سے روحانی و دنیاوی راہ نمائی حاصل کرتے ہیں، مذہبی احکامات کی روشنی میں اچھا انسان بننے کی کوشش کرتے ہیں، اور اپنی دنیا و عقبیٰ سنوارنے کی سعی کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی درست ہے کہ ہر طاقت ور نظریے کی طرح مذہب کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے۔ ہزاروں سال سے بالا دست طبقات اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے مذہب کی چھتری تلے پناہ لیتے رہے ہیں، بادشاہوں کاالوہی حقِ حکمرانی اور کاہنوں

Read more

پنجابی کہانیاں : ایک مطالعہ

”پنجابی کہانیاں“ ڈاکٹر سمیرا اکبر کی تازہ کتاب ہے جو تجزیہ پبلیکیشنز، فیصل آباد سے جنوری 2025 ء میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب میں اٹھارہ پنجابی افسانوں کو منتخب کر کے اُنھیں اُردو روپ دیا گیا ہے۔ افسانوں کا انتخاب ڈاکٹر صاحبہ کے ذوقِ مطالعہ پر منحصر ہے اگر کوئی صاحب اس کی تحقیقی اور تدوینی وجہ تلاش کرے تو اسے یقیناً مایوسی کا سامنا ہو گا۔ مذکورہ کتاب کے تمام افسانے انسان دوستی، رواداری اور محبت کے جذبے

Read more

پاکستانی جمہوریت اور اس کی ناکامی کے اسباب

پاکستان میں جمہوریت کے پنپنے میں ناکامی کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں تاریخی، سماجی، سیاسی، اور معاشی عوامل شامل ہیں۔ ان وجوہات کا تجزیہ کرنے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ جمہوریت کو کیسے مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ 1۔ سیاسی مداخلت اور فوجی حکومتیں : پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کا ایک بڑا سبب بار بار فوجی حکومتوں کا قیام رہا ہے۔ ملک کی تاریخ میں چار بڑی فوجی حکومتیں قائم ہوئیں، جنہوں نے جمہوری

Read more

کراچی پریس کلب

کراچی پریس کلب کا شمار میری محدود معلومات کے مطابق پاکستان کے اولین پریس کلب میں ہوتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں پاکستان میں انگریزوں کے چھوڑے ہوئے جم خانوں، سوشل کلبوں، نائٹ کلبوں کے بعد یہ واحد کلب بنا جس کے ممبر ایک مخصوص پیشے سے تعلق رکھنے والے صاحبان یعنی صحافی تھے۔ ابتدا میں اس کی روایات بھی اس وقت کے دیگر سماجی کلبوں سے ملتی جلتی ہی تھیں یعنی کھیلو کودو، کھاؤ پیو، کچھ دیر کی ذہنی

Read more

ستتر سال سے ایک سوال : اب کرنا کیا ہے؟

قیام پاکستان کے فوراً بعد لوگ ایک دوسرے سے سوال کرنے لگے کہ ہم نے پاکستان تو بنا لیا لیکن ’اب کرنا کیا ہے؟‘ اس ایک سوال نے درجنوں نئے سوال پیدا کر دیے۔ یہ بحث شروع ہو گئی کہ نو تخلیق پاکستان جس نئے سفر آغاز کرے گا اس کی سمت کیا ہو گی؟ سیاسی نظام، جمہوری ہو گا یا آمرانہ؟ طرز حکومت، صدارتی ہو گی یا پارلیمانی؟ ریاست، سیکولر ہو گی یا مذہبی، اس کی ہیئت وحدانی ہو

Read more

حصول انصاف کے لئے نظام تبدیل کیجئے!

بانی تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل میں بھائی سے ملاقات کے بعد پیغام دیا ہے کہ عمران خان ملکی عدالتی نظام میں انصاف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لیے اب انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ’ہم اپنے کیسز بین الاقوامی سطح پر لے کر جائیں گے‘ ۔ اگرچہ اس کی کوئی نظیر یا روایت موجود نہیں ہے کہ کوئی عالمی ادارہ کسی خود مختار ملک میں مقدمات کا سامنا کرنے والے

Read more

منقش مرغ اور اونی بھیڑ کی حکایت

غریب قلم مزدوروں کی کیا بضاعت ہے۔ سیٹھ صاحب اور ان کے موروثی پرچہ نویسوں کی نگہ نیم باز کے اشارے پر رکھے چراغ ہیں۔ اک پل کی پلک پر دنیا ہے۔ صاحبان محرم راز نے ٹیڑھی آنکھ سے دیکھا تو روٹیوں کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسے فیض صاحب جیل گئے تو مشتاق گورمانی کی بن آئی اور سالک صاحب کی سرگوشی سے ”امروز“ میں چراغ حسن حسرت کا چراغ دھواں دے گیا۔ کچھ ہفتے قبل

Read more

صورتِ حال: گردشِ ماہ و سال

اِس ہفتے ماہ و سال کی گردش غیرمعمولی طور پر تیز رہی۔ وقفے وقفے سے عجیب و غریب واقعات رونما ہوتے گئے۔ ایک رات اچانک ٹی وی میں شور اُٹھا کہ جنوبی کوریا کے صدر نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا ہے۔ صبح اُٹھے، تو معلوم ہوا کہ مارشل لا صرف چھ گھنٹے جاری رہا، کیونکہ پارلیمنٹ نے اُس کی توثیق سے انکار کر دیا تھا اور عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ بعد میں فوج کے سربراہ

Read more

صورتِ حال: جھوٹ اور گھمنڈ کا پھندا

میری ناسازیِ طبیعت کے باعث دو کالم ناغہ ہو گئے اور اِس دوران میرا پیارا وطن ایک سخت آزمائش سے گزر گیا۔ دراصل اِس وقت ہمارے عوام جھوٹ اور دَغابازی کے اژدہوں سے ڈسے جا رہے ہیں۔ تاریخ میں بار بار اَیسا ہوا ہے کہ جھوٹ کا پھندا کچھ عرصے بعد موت کے پھندے میں تبدیل ہو جاتا ہے اور قوموں کی قومیں تباہی کے دہانے تک پہنچ جاتی ہیں۔ بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں شعلہ بیاں ہٹلر نے

Read more

جنوبی کوریا میں مارشل لا کی ناکام کوشش

جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کی طرف سے ملک میں مارشل لا لگانے کی ناکام کوشش کے بعد اب انہیں پارلیمنٹ میں مواخذے کا سامنا ہے۔ اگرچہ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کو مواخذے کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے لیکن حکمران پیپل پاور پارٹی کے متعدد ارکان بھی صدر کی طرف سےمارشل لا لگانے کے یک طرفہ فیصلہ کے خلاف ہیں۔ یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ممکنہ طور پر جمعہ کو مواخذے کی

Read more

فلسطینی جدوجہد میں مسیحیوں کا کردار ( قسط اول )

شمالی اسرائیل کی وادی گلیلی میں نزرتھ شہر آج سے نہیں بائیس سو قبل مسیح سے بسا ہوا ہے۔یہاں حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی جنم ہوا۔ عربی میں نزرتھ کو الناصرہ کہا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے مسیحیوں کو نصاریٰ کہا جاتا ہے۔ یعنی عیسی الناصری کے امتی۔ نذرتھ یا الناصرہ مسیحیوں کے لیے اتنا ہی مقدس ہے جتنا کہ مغربی کنارے کا قدیم شہر بیت الحم۔نزرتھ اس وقت اسرائیل کا سب سے بڑا عرب اکثریتی شہر ہے۔ضلع کی

Read more

جنریشن زی کے لطیفے: مکمل کالم

ہمارا تعلق اُس نسل سے ہے جس نے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا ہوا ہے، یہ امتحان کیا ہوتا ہے، جنریشن زی کو کیا پتا۔ اور یہ جنریشن زی کیا ہوتی ہے، ہمیں کیا پتا! آپ میں سے جن لوگوں کو اِس جنریشن کا علم نہیں وہ انٹرنیٹ پر صرف اِس کے بارے میں لطیفے تلاش کر کے دیکھیں دل و دماغ تازہ ہو جائیں گے۔ وہ بچے جو سن 2000 ء کی دہائی کے آس پاس پیدا

Read more

سیاسی مقدمے، کل اور آج

ہمارے بچپن میں ایوب خان کا مارشل لا لگا تو اخبارات میں اور گھر میں بڑوں کی سیاسی گفتگو میں ایک لفظ ”ایبڈو“ پڑھنے اور سننے کو ملا کچھ عرصہ بعد اس کا مطلب سمجھ میں آیا کہ ایوب خان نے سیاست دانوں اور ان کی سرگرمیوں پر پانچ سال کے لئے پابندی لگا دی ہے۔ سیاست دانوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ یا تو وہ رضاکارانہ طور پر اپنی سیاسی سرگرمیاں چھوڑ دیں یا پھر حکومت کی تادیبی

Read more

پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی

پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کی وجوہات کو سمجھنے کے لیے ملک کے سیاسی پس منظر کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پیچیدہ اور نشیب و فراز سے بھرپور ہے، جس میں کئی عوامل جمہوری نظام کی کمزوری کا باعث بنے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ملک کو شدید سیاسی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی وفات ( 1948 ) اور لیاقت علی خان کی شہادت ( 1951 ) کے بعد قیادت

Read more

”گولڈ“ کے کھلنڈرے روبوٹ

صاحبو! تاریخ کے بھی دلچسپ نشیب و فراز ہوتے ہیں، تاریخ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوششیں ہر دور میں کی جاتی رہی ہیں مگر تاریخ ہے کہ اپنی ثابت قدمی پر استقامت سے مضبوط قدموں سے کھڑی رہی اور کھڑی ہے، زمانے کے مدوجزر اور موسموں کی تبدیلی نے انسانی سماج میں ہلچل پیدا کی، زمین کے پاؤں اکھڑے یا بستیاں برباد ہوئیں، تاریخ نے ان حقائق ہی کو رقم کیا جو اس وقت کی تلخ حقیقت تھے، پھر

Read more

کوئی لاش گرے، کوئی خون بہے، کوئی بات بنے!

تحریک انصاف کے بانی، عمران خان نے 24 نومبر کو ”یومِ مارو یا مر جاؤ“ قرار دے دیا ہے۔ دیکھیے اِس بحر کی تہہ سے کیا اُچھلتا اور گنبد نیلوفری کیا رنگ بدلتا ہے۔ اِس سوال کے جواب کے لئے افلاطونی دانش کی ضرورت نہیں کہ تحریکِ انصاف کو کس نے بند گلی کے اندھے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے؟ پی۔ ٹی۔ آئی کی تخلیق سے لے کر آج تک، اٹھائیس برس کے طویل عرصے میں، عمران خان نے

Read more

احتجاج اور مارچ کی ایک اور کال

عمران خان نے ایک بار پھر تحریک انصاف کے کارکنوں کو اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کی بہن علیمہ خان نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے 24 نومبر کو اسلام آباد مارچ کی کال دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ مستقبل میں ہم نے مارشل لا میں رہنا ہے یا آزادی میں رہنا ہے‘

Read more

صورتِ حال: ایک نیم جاں کالم

  آئینی اصلاحات کی تندوتیز ہوا چلنے لگی اور شبِ تاریک میں سیاسی رہنماؤں کے درمیاں سرگوشیاں ہوتی رہیں، تو مجھ پر تجسّس کا بخار چڑھنے لگا۔ اِسی عالمِ اضطراب میں 26 ویں آئینی ترمیم دونوں ایوانوں سے منظور ہو گئی اور وزیرِ اعظم جناب شہباز شریف نے اعلان فرمایا کہ پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کا در کھل گیا ہے اور اَب ہُن برسنے والا ہے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ معجزہ کس طرح وجود میں

Read more

آئینی ترمیم۔ پارلیمنٹ کی جارحانہ دفاعی جست

چھبیسویں آئینی ترمیم کی اونٹنی کم وبیش دوماہ تڑپنے پھڑکنے، پہلو بدلنے، بلبلانے اور دردِزہ جیسے کرب سے گزرنے کے بعد بالآخر، حکومتی اتحاد کے موافق کروٹ بیٹھ گئی ہے۔ برحق زمینی حقیقت اب یہ ہے کہ چھبیسویں ترمیم آئین کے حجلہِ عروسی میں آ بیٹھی ہے۔ اِس ترمیم کے ذریعے کی گئی تمام تبدیلیاں پاکستان کے آئین کا حصہ بن چکی ہیں۔ اِن تبدیلیوں کا درجہ ومقام اَب وہی ہے جو 1973ء کے دستور میں درج شقوں کا ہے۔

Read more

ایوب خان نے اسکندر مرزا کی چھٹی کیسے کروائی ؟

 مارشل لا حکومت کے تحت کام کرتے ہوئے کوئی تیرہ روز گزر گئے۔ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ایوب خان لاہور اور ڈھاکہ میں بہت بڑے عام جلسوں سے خطاب کر کے کراچی واپس آئے تھے۔ شام کو اعلان ہوا کہ اسکندر مرزا، جنہوں نے 56 کے آئین کے کچھ حصوں کو بحال کر دیا ہے، ایک نئی کابینہ تشکیل دے رہے ہیں جس کے وزیراعظم جنرل محمد ایوب خان ہوں گے، میں نے دفتر میں ایسوشی ایٹڈ پریس

Read more

ضیاء کے مارشل لا کے خلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی عظیم قربانیاں

1983 کا سال پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے تاریک ادوار میں سے ایک تھا، جب جنرل ضیاء الحق کا آمرانہ مارشل لا اختلاف رائے کو کچل رہا تھا اور جمہوری آوازوں کو خاموش کیا جا رہا تھا۔ ایسے میں جو لوگ اس بے رحم حکومت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوئے، ان میں سے ایک بڑا نام محمود خان اچکزئی کا تھا۔ 7 اکتوبر کو، محمود خان اچکزئی، جو اُس وقت پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی (اب پشتونخوا ملی

Read more

ایسی ہوتی ہیں سیاسی جماعتیں؟

میں اتوار کے دِن یہ کالم لکھ رہا ہوں جو آپ منگل کو پڑھیں گے۔ عالم یہ ہے کہ گزشتہ چار روز سے اسلام آباد کی سڑکیں، گلیاں، بازار، منڈیاں، تعلیمی ادارے اور دفاتر بند پڑے ہیں۔ مریض ہسپتالوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ مسافر ہوائی اڈوں تک نہیں جا سکتے۔ تازہ سبزیوں، پھلوں اور روزمرہ استعمال کی اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ دیہاڑی دار مزدوروں اور محنت کشوں پر

Read more

سات اکتوبر: پاکستان میں پہلی فوجی آمریت مسلط کی گئی

پاکستان میں جنرل اسکندر مرزا اور جنرل محمد ایوب خان کے مشترکہ فوجی انقلاب کے بعد ملک کی سیاست میں زبردست ہنگامہ تھا۔ چند مہینے پہلے عراق میں بھی فوجی انقلاب برپا ہوگیا تھا جس کے دوران شاہ فیصل اور وزیراعظم نوری السعید اور ان کے دوسرے ساتھی مارے جا چکے تھے۔ عراق کا یہ انقلاب امریکہ اور برطانیہ کی سیاسی پشت پناہی کے خلاف انتہائی تشدد کے عالم میں ہوا تھا مگر پاکستان میں بہرحال فوجی انقلاب کی نوعیت

Read more

پچاس کی دہائی کا پاک ٹی ہاؤس

سید راشد اشرف بے پناہ آدمی تھے۔ اردو ادب کے قبیلے میں کون ہے جو سید راشد اشرف کو نہیں جانتا۔ اور جو نہیں جانتا، اس کے جانے یا نہ جاننے سے کیا فرق پڑتا ہے کہ جون 1932 میں پیدا ہونے والے سید راشد اشرف تو مارچ 2023 سے وجود اور عدم سے ماورا اس پینگ کے ہلارے میں ہیں جہاں شفق رنگ بدلیوں میں اڑان بھرتے پرندے ان کی ہر آن بلائیں لیتے ہیں۔ ***       

Read more

مولانا کی شعبدے بازیاں

پاکستان میں شاید ہی کوئی ایک شخص ایسا ہو جسے یہ یقین نہ ہو کہ مولانا فضل الرحمان حکومت کی تجویز کردہ آئینی ترامیم کی حمایت پر راضی ہوجائیں گے۔ البتہ وہ سیاسی بیان بازی اور لچھے دار گفتگو سے فوج مخالف بیانیہ میں بھی حصہ دار بننا چاہتے ہیں، جمہوریت کے چیمپین بھی کہلانا چاہتے ہیں اور جس پارلیمنٹ میں وہ ’کردار‘ ادا کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، اسے جعلی اور غیر نمائندہ کہنے پر بھی مصر ہیں۔

Read more

تحریک بحالی جمہوریت: ایم آر ڈی 1983 کے شہدا

آج سے چار دہائی قبل ملک میں جنرل ضیاالحق کی آمریت کے خلاف اور جمہوریت کی بحالی اور مارشل لا کے خاتمے کے لئے ملک کی تقریباً ساری سیاسی جماعتوں نے "تحریک بحالی جمہوریت” "ایم آر ڈی” بنائی تھی۔ جو جدید پاکستان کی سب سے بڑی اور منظم جدوجہد تھی۔ جس کی با قاعدہ شروعات 14 اگست 1983 سے پورے ملک سے کی گئی۔ پہلے مرحلے میں سیاسی کارکنوں اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے اپنی گرفتاریاں پیش کر کے

Read more

دستور میں ہی بقا ہے ‎

مجوزہ آئینی اصلاحاتی پیکج جو خفیہ طریقے سے رات کی تاریکی میں لایا جا رہا تھا وہ پارلیمانی نظام حکومت میں ایک شرمناک عمل تھا۔ ذرا تصور کریں مہذب اور سیاسی ساخت رکھنے والی ریاستوں اور قوموں میں اصلاحات کا عمل ایسے ہوتا ہے کہ اس کو بغیر عوامی آراِ کے نافذالعمل کیا جائے۔ انتخابات کی صورت میں جو پارلیمانی سیٹ اپ تشکیل دیا گیا ہے۔ جس میں اپوزیشن کا ایک واضح اور اہم کردار ہوتا ہے اور اُن کو

Read more

ماموں جان

ماموں جان محمد ظہیر فرخ (قلمی نام ایم زیڈ فرخ) 17 اکتوبر 1931 کو دہلی، بھارت میں پیدا ہوئے اور 16 اگست 2024 کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اپنی 93 سالہ زندگی میں انہوں نے خاندان، کمیونٹی اور اصولوں کے ساتھ گہری وابستگی کے ذریعے ہر اُس شخص پر گہرا اثر ڈالا، جو انہیں جانتا تھا۔ وہ امرتسر کے معروف معلم صوفی محمد صغیر حسن اور بریلی کی ممتاز شاعرہ رابعہ پنہاں کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔

Read more

ستمبر، بارانِ رحمت کا مہینہ

ہمارے اہلِ قلم عام طور پر ستمبر کے مہینے کو ’ستم گر‘ لکھتے آئے ہیں، مگر اِس بار وُہ رَحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ثابت ہو رہا ہے۔ پہلا بڑا سبب یہ کہ اِس میں بارہ ربیع الاوّل وارد ہوا ہے جو سرورِ کائنات حضرت محمد ﷺ کا یومِ ولادت ہے جو مختلف وجوہ سے غیرمعمولی جوش و خروش سے منایا گیا ہے۔ گھر گھر خوشیوں کے چراغ روشن ہوئے اور فضا درود و سلام کی صداؤں سے گونج اُٹھی۔

Read more

تاریخ میں پہلی بار

تاریخ وہ لوگ رقم کرتے ہیں جو زندگی کا گہرا شعور اَور اِحساس رکھتے ہیں۔ شاعرِ مشرق اقبالؔ کہتے ہیں ؎ تُو اِسے پیمانۂ امروزِ فردا سے نہ ناپ ؍ جاوداں، پیہم‌دواں، ہر دم جواں ہے زندگی۔ اُن کے ہاں زندگی ایک مقصد سے عبارت ہے جس کا مختلف صورتوں میں اظہار ہوتا رہتا ہے۔ پاکستان جو ایک عظیم الشان مقصد کی قوت سے وجود میں آیا ہے، وُہ اُسی نصب العین کی طاقت سے ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ

Read more

سیاسی ڈرامہ

پاکستان میں سیاسی رسہ کشی اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو ملکی سیاست کے ایک پیچیدہ اور حساس پہلو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اکثر اوقات سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشمکش رہی ہے، جو مختلف وجوہات کی بنا پر سامنے آتی ہے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو عموماً فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جن کا ملکی سیاست پر بڑا اثر رہا ہے۔ پاکستان میں فوج نے کئی بار براہ

Read more

صورتِ حال: پسندیدہ زِندگی کا عمدہ نمونہ

جہانگیر اے جھوجھا حیاتِ مستعار کی 83 بہاریں دیکھ کر 30 ؍اگست کو اَپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے اور اَپنے پیچھے ایک بھرپور زِندگی کی ایک اچھی مثال چھوڑ گئے۔ اُن کا تعلق وکالت کے پیشے سے تھا جس میں بڑا نام پیدا کیا۔ وہ اَپنی وسیع اور متنوع سرگرمیوں کی بدولت پورے پاکستان میں جانے پہچانے جاتے اور بیرونی ممالک میں بھی اُن کا ایک حلقۂ تعارف موجود تھا۔ اُنہوں نے وکیلوں کی مختلف تنظیموں اور بار کونسلوں

Read more

اندھیرے کنویں میں اترتی سیڑھیاں

محض ماہ و سال کا حساب ہوتا تب بھی اکرام اللہ لمحہ موجود میں بزرگ ترین اردو فکشن نگار قرار پاتے۔ اسد محمد خان 1932ء اور محمد سلیم الرحمن 1934ء میں پیدا ہوئے تھے۔ اکرام اللہ جنوری 1929ء میں جالندھر کے قصبے جنڈیالہ میں پیدا ہوئے۔ 1961ء میں اکرام اللہ کی پہلی کہانی ’اتم چند‘ ادب لطیف میں شائع ہوئی تو ان کے رنگ تحریر پر منٹو کا گہرا اثر تھا۔ موضوع اور اسلوب کے اعتبار سے اکرام اللہ کی

Read more

عدالتی ایجادات کی کثیرالعیال ماں!

عزت مآب جسٹس منصور علی شاہ کے ”تصوّرِ آئینی توازن“ کی روشنی میں عدلیہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے مجھے اس امر کا احساس رہتا ہے کہ جسٹس صاحب ہماری عدلیہ کا معتبر نام ہیں۔ بطور جج اُن کے کردار و عمل پر بھی کم ہی انگلی اٹھائی گئی۔ اگلے ماہ وہ چیف جسٹس کے منصبِ بلند پر فائز ہو رہے ہیں۔ جسٹس (ر) اعجازالاحسن مستعفی نہ ہوتے تو شاہ صاحب کو 6 اگست 2025 تک انتظار کرنا تھا۔

Read more

بلوچستان۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

بلوچستان میں عسکریت کی ایک لمبی تاریخ ہے یہ پہلی جنگ عظیم سے شروع ہوتی ہے جب 1916 ء میں بریگیڈیئر ڈائر نے بلوچستان میں آپریشن کیا تھا دوسری عسکریت 1948 ء، تیسری 1958 ء، چوتھی 1962 ء، پانچویں 1973 ء، اور چھٹی 2006 ء میں شروع ہوئی۔ بلوچستان کی آگ! کی بنیاد ہمارے مقتدرین کی اپنی غلطیاں ہیں۔ ہمارے بہت سے دانشور لاعلم ہیں کہ قیام پاکستان کے وقت بلوچستان اس میں شامل نہیں تھا۔ مکران، خاران، لسبیلہ اور

Read more

قاسمی صاحب کس دھندے میں پڑ گئے

قبلہ عطا الحق قاسمی نے عجب چونچال طبیعت پائی ہے۔ بیٹھے بٹھائے مینڈھے لڑانا کوئی ان سے سیکھے۔ اسحاق المعروف بہ طاہر القادری نامی ایک مرد پیر بعمر تہتر برس کینیڈا کے گوشہ عزلت میں ’ایک تکیہ بنائے اپنی اولاد کو لیے بیٹھا ہے‘۔ نہ کاہو سے دوستی، نہ کاہو سے بیر۔ ہاتف کا اشارہ ہو تو ’ریاست بچانے‘ یا ’انقلاب‘ برپا کرنے وطن مالوف کا رخ کرے، ورنہ اپنے پارہ نان پر اکتفا ہے۔ ’انقلاب‘ کا پھریرا تحریک انصاف

Read more

’عدلیہ وکٹری کے نشان والے ہجوم کے نرغے میں‘

عدالتوں کے اکثر فیصلے یقیناً آج بھی منصفانہ اور معیاری ہوتے ہیں۔ مگر اس مطالبے کا کیا کیا جائے کہ میرا مقدمہ فلاں کے بجائے فلاں جج سنے۔ ان سرگوشیوں سے کیسے کان بند کریں کہ بس اس جج کو ریٹائر ہونے دو۔ اس کے بعد آنے والا معاملات سیدھے کر دے گا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کی تحریر

Read more

”خوف، رعایت، رغبت اور عناد“ کی صَلِیب پہ لٹکا ”آئینی توازن“ !

10 اگست کو ”اقلیتوں کے حقوق“ کے حوالے سے منعقدہ ایک سمینار میں تقریر کرتے ہوئے عزت مآب جسٹس منصور علی شاہ نے بعض نہایت فکر انگیز نکات اٹھائے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ”سپریم کورٹ کے فیصلوں پر ہر صورت میں عمل درآمد کرنا ہو گا۔ یہ ایک لازمی آئینی تقاضا ہے۔ اس طرف چل پڑے تو“ آئینی توازن ”بگڑ جائے گا۔ انتظامیہ کو سمجھنا ہو گا کہ فیصلوں پر عمل درآمد کے سوا کوئی چوائس نہیں۔“ خیال

Read more

کیا عمران خان کا کورٹ مارشل ہو سکتا ہے؟

اگر فیض حمید نو مئی کے تعلق سے وعدہ معاف گواہ بننے پر تیار ہو جاتے ہیں تو پھر عمران خان کا زد میں آنا ناگزیر ہے۔

Read more

ملکی سیاست پر خوف کے گہرے سائے

یوں تو زیادہ تر سیاسی سرگرمیاں ’گرے زون‘ میں ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں سیاسی حوالے سے مقابلے بازی کی موجودہ فضا میں لگتا ہے کہ اس میں صرف سیاہ و سفید علاقہ باقی ہے۔ ایک طرف سیاسی گروہ بندی میں مواصلت و مفاہمت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں تو دوسری طرف ایسے تبصرے اور قیاس آرائیاں سننے میں آتی ہیں کہ پاکستان کے مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ عمران خان کے ساتھ صلح کرلی جائے۔

Read more

تحریک انصاف میں مائنس ون کا منصوبہ

ملک میں حالات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں البتہ ان کا تعلق ملکی معیشت یا نظام حکومت سے نہیں ہے بلکہ یہ طے کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ کون سا طریقہ موجودہ بے چینی و بحران ختم کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے لیے آئی ایم ایف کے قرض اور دوست ممالک کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے لیکن ملک میں سیاسی استحکام اور اتفاق رائے ضروری ہے۔

Read more

’میں اسلامی نظام کی بات کر رہا ہوں، آپ لوگ ہندوانہ قسم کا نغمہ نشر کر رہے ہیں‘، جب جنرل ضیاالحق بینجمن سسٹرز کا گیت سن کر غصے میں آ گئے

اختر وقار عظیم نے اپنی کتاب میں جہاں جنرل ضیا کی اپنی تقاریر کے بعد نشر ہونے والے نغموں میں ان کی دلچسپی کو تفصیل سے بیان کیا ہے وہیں ایسے ملی نغموں کی تیاری کا بھی ذکر کیا ہے جو زبان زدِ عام ہو گئے۔

Read more

پاپولسٹ سیاست: جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کا نیا سامراجی حربہ

منتخب حکمرانوں کی کرپشن یا بدعنوانی، جمہوریت کو ڈی ریل کرنے ( پٹڑی سے اتارنے ) کا بہترین جواز ہے اور پاپولسٹ سیاست کا مقبول بیانیہ منتخب جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس لیے بنگلہ دیش کی سات اگست کے اور پاکستان کے نو مئی کے واقعات و منظر نامے میں مماثلت محض اتفاق نہیں۔ آج کے اس دور میں جب عوامی سیاسی شعور کے برعکس سیاسی بیداری اور تبدیلی کا واحد ذریعہ سوشل میڈیا ہے،

Read more

جاگ اٹھوں تو بدن سے تری خوشبو آئے : جناب شہزاد احمد کی برسی پر

”بھئی، حامد۔ یہ بتاؤ کہ تم مشاعرہ پڑھنے جا رہے ہو یا کلاس؟“ شہزاد احمد صاحب کے اس اچانک سوال نے مجھے ہڑبڑا دیا ہے۔ سال انیس سو اٹھاسی ہے۔ شاعروں سے بھری ویگن اپنی سی رفتار سے لاہور سے جڑانوالہ کی جانب رواں دواں ہے جہاں سیلاب زدگان سے اظہار ہمدردی و یک جہتی کے لیے مقامی انتظامیہ نے ایک خصوصی مشاعرہ کا اہتمام کیا ہے۔ لاہور سے جن شعرا کو مدعو کیا ہے ان میں شہزاد صاحب کے

Read more

’حدیث دیگراں‘ اور اپنے ملال کا بیان

مشفق مکرم عرفان صدیقی نے حالیہ تحریر کا آغاز ’چوں کفر از کعبہ بر خیزد…‘ کے فارسی مصرعے سے کیا ہے۔ گویا اردو کالم میں فارسی شعر کے حوالے کی روایت کو تازہ سند مل گئی۔ درویش تو بزرگوں کے اتباع میں عافیت ڈھونڈتا ہے۔ طالب علم کو اپنی شکستہ بیانی پر غالبؔ جیسا غرہ نہیں کہ کسی پری وش کے ذکر سے راز داں کے رقیب بننے کا اندیشہ لاحق ہو۔ سو، میں مولانا روم کے ایک شعر کی

Read more

عمران خان کی قید کا ایک سال: ’جس بحران کے خاتمے کے لیے انھیں جیل میں بند کیا گیا تھا، وہ ختم نہیں ہوا‘

پانچ اگست 2023 کو عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اس ایک سال کے دوران پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اس کے ساتھ ہی بہت سے سوالات بھی پیدا ہوئے، جیسے کہ عمران خان کو قید رکھنے سے کس کو کیا فائدہ ہوا؟ کیا اس عرصے کے دوران عمران خان کی مقبولیت میں کمی آئی اور اس کا انتخابات یا ملکی سیاست پر کیا اثر پڑا؟

Read more

قرارداد مقاصد اور علامہ شبیر احمد عثمانی (13)

اس اظہاریے میں جماعت اسلامی اور سید ابوالاعلیٰ مودودی اس لیے زیر بحث آئے کہ قرارداد مقاصد منظور ہونے کے بعد جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ نے 15 مارچ 1949ء کو ریاست پاکستان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے مطابق ’پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے یہ قرارداد (قرارداد مقاصد) منظور کر کے جماعت اسلامی کے مطالبہ کی روح کو قبول کر لیا ہے۔ اگر اس قرارداد کے الفاظ اور ان کے مضمرات و

Read more

خون آلود پارا چنار میں ایک رات

”جب بھی یہاں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوئے تو کہیں سے بھی یہ نہیں لگتا کہ یہ دو فرقوں یا دو فریقین کی لڑائی ہے۔ فساد ایک دفعہ شروع ہو جائے تو لگتا ہے کہ یہ معمولی فساد نہیں بلکہ دو ملکوں کی جنگ ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ پارہ چنار کی شیعہ آبادی کے لیے کوئی ملک بھی اپنا نہیں ہوتا“ یہ بات شہر کی مضافات میں زیڑاں نامی گاؤں میں ایک لڑکے نے علی زیارت پہ اس

Read more

سقوط ڈھاکہ؛ مارشل لاء پالیسیاں اور فوجی آپریشن

  عمران خان نے اسی سال ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ‘ہر پاکستانی کو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کرنا اور یہ جاننا چاہیے کہ اصل غدار تھا کون؛ یحییٰ یا مجیب’، اور اس میں شامل ویڈیو میں یحییٰ کو غدار اور پاکستانی فوج کو سانحہ مشرقی پاکستان کا مکمل ذمہ دار ٹہراتے ہوئے بہت سے الزامات لگائے ہیں۔ اسی موضوع پر میرے پچھلے مضامین میں سے پہلا عمران کی اس ٹویٹ کو کرنے کے ممکنہ مقصد اور دوسرا

Read more

ملکی صورتحال۔ کون کیا کر رہا ہے

ملک میں عام انتخابات کے 6 مہینے بعد صورتحال کچھ یوں ہے کہ نہ ملک میں سیاسی استحکام آ رہا ہے نہ معاشی استحکام اور نہ ہی امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ درجہ بالا تینوں کے بغیر عوام کو سہولت دینے اور ملکی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ہے۔ مسلم لیگ کی وفاقی حکومت کا خیال ہے کہ چونکہ ہمیں حکومت نہیں ایک بھاری ذمہ داری دی گئی ہے۔ خزانہ و

Read more

 مسئلہ بند نہیں، کھُلی عدالتیں ہیں!

گزشتہ ہفتے، تین معزز جج صاحبان نے، مختلف مواقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس، مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے جسٹس اطہر من اللہ کے تحریر کردہ ایک فیصلے سے جزوی اختلاف کرتے ہوئے اپنے نوٹ میں افسوس کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ خود ہی جلد فیصلہ سنانے کے اصول پر عمل نہیں کرتی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ دسمبر 2023 میں ہو گیا تھا جسے تحریر کرنے کی ذمہ داری جسٹس اطہر من اللہ

Read more

ناول ”جنگل میں منگل“ کا تجزیاتی مطالعہ

ناول ”جنگل میں منگل“ کا تجزیاتی مطالعہ، ساختیاتی وظائفیت کے تناظر میں اکیسویں صدی کے اُردو ناول پر نظر ڈالی جائے تو کئی نام ناول کے منظر نامے پر دکھائی دیتے ہیں جن میں شمس الرحمان فاروقی، مرزا اطہر بیگ، حسن منظر، عاصم بٹ، طاہرہ اقبال، خالد فتح محمد، محمد الیاس، رحمان عباس، صدیق عالم، سید محمد اشرف اور اختر رضا سلیمی کے نام بطورِ خاص نمایاں ہیں۔ ان ناول نگاروں نے جدید انسان کے مسائل اور اکیسویں صدی میں

Read more