پاکستان کے معاشی حالات


ملک عزیز کو جانے کس کی نظر لگی ہوئی ھے کہ آۓ دن معاشی حالات خراب سے خراب تر ہوتے رہے ھیں اور فی الحال کسی بہتری کی کوئ کرن جلوہ گر ہوتی دکھائ نہیں دیتی ۔ راقم کو بخوبی یاد ھے کہ بچپن میں اکثر بازار بھیجا جاتا یہ پوچھنے کے لئے کہ کوٹہ آگیا کہ نہیں ۔ اب کوٹا کیا بلا تھی جس کا لوگوں کو ھر وقت انتظار کرنا پڑتا ، بالخصوص نوجوان قارئین کو تو یقیناً ادراک بھی نہیں ہوگا واضح کردوں کہ یہ وہ سامان خور و نوش ہوتا تھا جیسے آٹا ، گھی ، پتی ، سگریٹ وغیرہ جو حکومت راشن بندی کے تحت ایک مخصوص تاریخ پہ دیتی تھی ورنہ ان اشیا کا حصول ایک خاصا مشکل کام تھا ۔ گندم بھی امریکہ سے منگوائی جاتی تھی اور کچھ عرصہ پکی پکائی روٹی ملنا شروع ہوئی جس کا سلسلہ بھی زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا کہ کچھ نابغۂ روزگار سائینسدانوں نے یہ کہنا شروع کردیا ھے کہ یہ روٹی کھانے سے نوجوان نامردی کا شکار ہوجائیں گے جس سے ہماری آبادی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوسکتی ھے۔ بہرحال بات لمبی ہوگی مقصد تھا کہ یہ عالم 70′ کی دہائ کا ھے ۔ یہ بات بھی تسلسل سے سننے میں آتی ھے کہ ملک انتہائی نازک دور سے گذر رہا ھے ۔ یہ نازک دور ختم کب ہوگا اور کیسے ہوگا اس کا جواب فی الحال تو سواۓ خاموشی کے اور کچھ نہیں ملتا ۔ ہمارے ھاں اھل علم ودانش اور تجربہ کار ماھرین کی بھی کوئ کمی نہیں مگر اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ آخر اس ساری خرابی کے اسباب و علل جانچنے کی کوئ سنجیدہ کوشش کیوں نہیں کی جاتی اور ان کا حل کیوں نہیں ڈہونڈا جاسکتا۔ آج عالم یہ ھے کہ ھم گھٹنے ٹیک کر ، ناک رگڑ رگڑ کر قریباً سجدہ ریز ہوکر محض چند روپوں کا قرضہ مانگنے پہ مجبور ھیں اور اس ساری عرق ریزی کے بعد جب کمال شفقت سے ساہوکار ھمیں قرضہ عنایت فرما دیتے ھیں تو ھماری خوشیاں دیدنی ہوتی ھیں سجدۂ شکر بجا لاتے ھیں اور حکمران سکھ کا سانس لیتے ھیں کہ مبارکاں قرض مل گیا البتہ ایک عام آدمی اس لمحے عجب سی شرمندگی و ندامت کا شکار دکھائی دیتا ھے اسے یہ فکر دامن گیر ہوتی ھے کہ وہ ان قرضوں کا بوجھ کیسے اپنے ناتواں کندہوں پہ لادے گا کیونکہ لامحالہ یہ قرض اسے ھی ادا کرنا ہوتا ھے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے شکل میں پھر جب پٹرول کی قیمت بڑھتی ھے تو گویا ھر چیز کو آگ سی لگ جاتی ھے ۔ آج زرعی ملک ہونے کے باوجود عام خوردونوش کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے باھر ہوتی جارہی ھیں ۔ خوردنی تیل تک کا تو ھم اپنے ھاں آج تک کوئ مناسب بندوبست کرنہیں سکے ۔ روٹی کی قیمت اس وقت 25 روپے تک جاپہنچی ھے ۔ ملک عزیز کی ایک وسیع آبادی کو صاف پانی تک بھی رسائی نہیں ۔ شہروں سے باھر قصبات اور دیہات میں موبائل سگنل صحیح نہیں پہنچ پاتے جس وجہ سے بچے تعلیمی معیارات کو نہیں پہنچ سکتے چہ جائیکہ وہ بیرونی دنیا سے ربط کرکے خود روزگار کا کوئ سلسلہ ڈہونڈ سکیں ۔ بس قرض کی کے پی کر محو نشاط رھنے کا چلن چہوڑنا ہوگا ۔ کب تک ھم بیرونی قرضے لیتے رھیں گے اور دنیا عالم میں اپنی تضحیک کا موجب بنتے رہیں گے ۔ خود اعتمادی اور خود انحصاری سے کام لینا ہوگا تب ھی ملک درست ڈگر پہ گامزن ہوکر عوامی امنگوں کے مطابق چلے گا ورنہ بچت کی اور کوئی صورت نہیں۔

Facebook Comments HS