چین اک پل نہیں اور کوئی حل نہیں


صاحبو ہاسٹل میں رہنا اور پڑھنا دو الگ فعل ہیں۔ اور اگر آپ لڑکے ہوں، مزید غبی اور آلسی ہوں تو صورت حال دو چند ہو جاتی ہے۔ ہمارے ساتھ بھی یہ ہی ہوا اور اتوار کا دِن کسی بھالو کی طرح بستر پر لوٹیاں لگانے میں بیت گیا۔ ایک وحشی خواب سے بھی ہم کنار ہوئے جسکا ذکر بیان کیے دیتے ہیں۔ ہسپتال کی ڈیوٹی سے لوٹے، بیٹھے بیٹھے سویا کیے، سوچا کڑک سی چائے بنائی جائے۔ گھر سے لائی دیگچی نکالی، صابون سے مانجی اور پانی چولہے پر چڑھایا اب انتظار کیے کافی دیر ہوئی جاتی ہے، دیکھتے ہیں تو برقی چولہے کا تار ٹوٹا ہوا ہے۔ خیر تعلیم بھی جہاد ہے کا نعرہ مستانہ بلند کیا، سوکھی ڈبل روٹی کھا کر دھڑام سے سو گئے۔ دیکھتے کیا ہیں ، کہ دو بڑے بڑے سیارچے زمین کی طرف بڑھ رہے ہیں اور آسمان لال ہو رہا ہے، طوفان برپا ہے ، تمام انسان چھپکلی کی مانند زمین سے چمٹ رہے ہیں اور خوف برپا ہے، ایسے میں ٹیلی ویژن پر لائیو آکراپنی دیرینہ حسرت کا ازالہ صورت احوال سنا کر کیا ( ۔استاد اعظم فرائیڈ جو کہ گئے ہیں ) اور بوجوہ گلے میں کڑوے پانی کے حلول، جسے دکن میں رؤسا ری گر جی ٹیشن بھی کہتے ہیں، اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ شکر ادا کیا کہ محو خواب تھے۔ وقت قریبا صبح صادق کا تھا، جھٹ سے مانگے کے انٹرنیٹ سے مزاحیہ ویڈیوز دیکھنے لگے۔ ایک اطمینان تھا کہ دھوبی گھاٹ سمیٹ چکے ہیں۔
دو چار دن میں نئی کتابیں آ جائیں گی، جنکا سوچ کر ہی جان نکل رہی ہے کہ ہزاروں روپے اڑا دیے، پڑھے گا کون ۔ چائے کا مسئلہ برقرار ہے اس لیے رینڈم چیٹ روم میں ہر بندے سے کھانے کی ٹپس پوچھ رہے ہیں، بعد ازاں دراز سے ونڈو شاپنگ اور انسٹاگرام پے جلوہ بتاں میں دِن بتانے کے بعد اب سوموار کے خوف میں تھر تھر کانپ رہے ہیں۔
سوتے ہیں تو کتابوں کا انبار کندھے میں چبھتا ہے، جاگتے ہیں تو امتحانات کا خوف فشار خون کیے دیتا ہے۔ اس لیے فرحت اللہ بیگ کے مضامین میں رہ فرار ڈھونڈ رہے ہیں ، اور یہ سطریں لکھ رہے ہیں کہ بیتے دنوں میں جب پنکھے تلے دستی فوارے کی برسات میں بڑھاپا انجواۓ کریں گے تو جوانی کی وحشتوں کا کوئی گواہ تو ہو۔ ڈھول بھی ایک وحشی آلہ ہے، لیجئے ہم اپنی آکسفورڈ ہینڈبک پر تھاپ الاپنے لگے، رقص مے تیز کرو ڈھول کی لے تیز کرو ، سوئے مے خانہ سپانسر کے قدم آتے ہیں (فیض سے معزرت کے ساتھ ). فریڈرک ایٹیکسیا ، والن اے ردہم ،اب قالب خاکی میں ارتعاش پیدا ہو رہا ہے۔ اور ڈاکٹر صاحب غم دوراں، غم جاناں میں ، دنیا و ما فیہا سے لا تعلق ناچ رہے ہیں۔
افق سے ایک نیک روح فرشتہ اُترتا ہے اور بے چارے کی رُوح قبض کر لے جاتا ہے۔ اس امید پر کہ غریب کے سوکھے توس تو نکلیں گے۔ ارمانوں کی بہر حال خیر ہے۔

Facebook Comments HS