تخلیق کا کرب

تیز ہوا کا ایسا جھونکا آیا کہ ننھی کلی کی باغ عدن میں آنکھ کھلی۔ اُسکے پیر ٹہنی پر جم نہیں رہے تھے۔ کبھی دائیں اور کبھی ہائیں گرتی پڑتی۔ تیز ہوا میں سورج کی کرن ایک طرف پتوں کی اوٹ سے کیاری میں داخل ہو رہی تھی۔ سب پودے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی شعاع ان کے وجود سے ٹکراتی پھول تو انگڑائیاں لیتے کھل جاتے اور ہوا میں جھومنے لگتے۔ یہ کلی ابھی

Read more

ٹک ٹاکر کا قتل

فی الحال سوچنے پر پابندی نہیں لگی لیکن جلد لگ جائے گی پھر حکم ہو گا فلاں شخص کو درخت سے لٹکا دو، ذبح کردو یا سینے میں گولیاں اُتار دو۔ بہر صورت جب سبجیکٹ تڑپ تڑپ کر جان دیتا ہے اس کا نظارہ قاتل کو نشے کی سی سرشاری دیتا ہے۔ مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ بھٹو یا کینیڈی کیونکر مرے، میرے سامنے تو ایک خوبصورت عورت کی شبیہ ہے جس کی گردن گلوٹین سے اڑا

Read more

حیات بعد از ممات

موت زندگی کی اٹل سچائی ہے۔ ایک ایسا بھید جسے پانے کے لئے مرنا ضروری ہے۔ اور آج تک کوئی واپس آ کر اس راز کو فاش نہیں کر سکا۔ موت کو لے کر میرا تجسس ایک عرصے سے ہے۔ شاید اس لیے کہ کسی قریبی کی جدائی کے کرب سے نا آشنا ہوں۔ مگر بیرونی دنیا میں اس کے عملی مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر بھی متشدد ویڈیوز کی شکل میں ڈھیروں مواد ایک کلک کی دوری

Read more

بنوں گی ڈاکٹر

  صنوبر بیٹا اِدھر دیکھو جب میں تم سے مخاطب ہُوں، اپنے بھائی کی فکر چھوڑو اسے کھلونوں میں ہی مگن رہنے دو۔ بڑا منہ کھولو آ آ یہ کھیر بھی تو جلدی سے ختم کرنی ہے۔ ”ماما آپ ڈوکر کے پاس کیوں گئے تھے“ ۔ ڈوکر نہیں بیٹا، ماما کو ہائی ہوئی تھی۔ اس لیے ڈاکٹر سے بینڈیج کرانے گئی تھی۔ آپ سو رہے تھے اس لیے آپ کو دادو کے پاس ہی چھوڑ گئی تھی۔ اگلی دفعہ آپ

Read more

کنوارے کا ویلنٹائن

سند باد جہازی بھی بننا پڑے گا کبھی سوچا نہیں تھا۔ پہلے پہل تو سمندر سے کبھی بنی نہیں موا ہماری لانچ کو ڈبونے کے چکر میں ہی رہا۔ دیکھو تو کیسی ہری ہری کائی پھیل رہی ہے جیسے سڑی ہوئی ٹونا فش کا جوہڑ ہو۔ بھائی لوگ بولے ہیں لانچ سمندر کو چیرتی ہوئی جاتی ہے۔ جال ڈالتے جاؤ، کھانا اور موتی بٹورتے جاؤ۔ لیکن یہ موا تو مردہ ہے۔ بھوکے میں نہ تن کی آگ بجھائے نہ گلے

Read more

محبت ، ڈیٹنگ یا شادی

شادیوں کا سیزن عروج پر ہے، شہنائیاں بج رہی ہیں، بچے رو رہے ہیں۔ مٹیاں جالے کھا کر پل بھی رہے ہیں۔ اذیت اگلی نسل میں ٹراسنڈ ہو رہی ہے۔ میں اپنے پاپا سے پوچھتا ہوں، ہم شادی کیوں کرتے ہیں، وہ بولے بیٹا، کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ جواب مجھے سمجھ نہیں آیا۔ والدین پر پریشر ہے، مکان بنا کر دو، بیگم نوکری چھوڑ، بچوں کو پالنے میں اپنی پروفیشنل لائف کے سمجھوتے کا معاوضہ مانگ رہی ہیں۔ نفسیاتی مسائل

Read more

پس آئینہ کوئی اور ہے

انسان کا ہر عمل ایک سوچ کا محتاج ہوتا ہے جو محرک ہوتی اور کسی عمل کی جیسے سافٹویئر ہارڈویئر کو ہدایات فراہم کرتا ہے۔ شعور جس کی بابت بڑے لوگ حجت فرماتے رہتے ہیں، ماحول کے مطابق پروان چڑھتا ہے۔ اگر میں جھوٹ بولتا ہوں، والدین سے باتیں چھپاتا ہُوں میری عادات میرے مشاہدے کا پرتو تو ہیں لیکن میرا لاشعور کثیر عوامل کے تحت اس نہج تک پہنچا ہے۔ شعوری ذہن کو لاشعور میں چھپی چیزوں کا ادراک

Read more

ایسی تھی بشریٰ

آج ابا جی کے ہاتھ میں دو تھیلے تھے۔ ایک میں تو ضرور کیمرہ ہو گا جس کی وہ کافی دونوں سے ضد کر رہی تھی کیونکہ ابا اُس کی کسی بات کو نہیں ٹالتے تھے۔ لاڈلی بھی تو بہت تھی، مجھے بچوں کی تصویریں اتارنا ہوتی ہیں اور آج نئی ریل مع کیمرا حاضر تھا اور دوسرے تھیلے میں کپڑے تھے۔ شاپنگ ہمیشہ اماں ہی کرتی تھیں۔ خود بازار جاتی اور دو بہنوں اور بھیا کے گرمی سردی کے

Read more

کنوارے کی فریاد

’ آج سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو‘ اس خدائی حکم کے بعد آدم اور حوا کو جنت سے نکال دیا گیا آسمانی صحائف تو گیہوں پر الزام دھرتے ہیں تاثیر بھی تو گرم ہے اس میوے کی ہمیشہ سے لباس فطرت میں کود پھاند کرتے آدم کو برہنگی کا احساس دلا دیا۔ سائنس کے مطابق ہومو سپیئن سے پہلے ہومونی انڈرتھل زمین پر بستے تھے۔ بھلے ہی اس نے تہذیب ایجاد کر لی لیکن ہر دور کا انسان

Read more

پروفیسر لوگ کا گھر

خواجہ صاحب پروفیسر لوگ ہیں۔ اُوپر تلے دونوں اڑوت، بے کیف اور دانشور۔ چھوٹے خواجہ کیمسٹری پڑھے ہیں لیکن زندگی کی کیمیا میں ان کا ری ایکشن نہیں چلا۔ مزدور صفت، سنجیدہ مزاج جتنے یہ خود ہیں اتنا ہی آنگن ان کا سونا ہے۔ کرسیاں، پیڑ، اور چارپائی سب اپنی جگہ پر رکھے رہتے ہیں۔ اور ہوا پتے بکھیرتی رہتی ہے۔ صاحب اپنے سارے کام خود کرنے کے قائل ہیں۔ اس لیے کسی سے مشورہ مانگنا کسر شان سمجھتے ہیں۔

Read more

گرجاکھ

وہ بس ایسا ہی ہے۔ قدیم، سنہری اور روہانسو۔ جس کے سینے میں میری ماں دفن ہے۔ جب میں چھوٹا تھا تو اس کی گلیوں میں ننگ دھڑنگ پہیے دوڑاتا پھرتا تھا۔ بوگن ویلیا جسے دیکھتے ہی ابا جی ایک مضبوط ٹہنی توڑ کر میرے ہاتھ میں پکڑا دیتے۔ ہر گھر میں کیکر کے درخت اور بکریاں تھی جو ذرا سا پچکارنے پر کلاچے بھرتی غائب ہو جاتی۔ کہتے ہیں وہاں پہاڑی کے اُوپر میراں شاکر شاہ کے مزار کے

Read more

پھولوں بھری منڈیر

میں شکستہ قدموں کے ساتھ چلتا جا رہا تھا۔ نظریں جھکائے ہوئے جیسا میں ہُوں۔ پھر مجھے وہ گیٹ دکھا پھولوں کی بیلیں اس پر سے جھک رہی تھیں۔ مجھے یاد ہے کیسے میں نے تعلیم کے لیے شہروں کی خاک چھانی اور اب برسوں بعد واپسی پر بھی یہ گیٹ اپنی خوبصورتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ جب پانچویں کلاس میں سکول پارٹی ہوئی تھی اور پھولوں والے گھر کی لڑکی نے ڈانس کیا تھا۔ اپنے سرخ فراک میں مجھے

Read more

ٹھرک کا اژدہام ہے ساقی

ڈاکٹر صاحب ہاؤس جاب سے فارغ کیا ہوئے، چاروں جانب قمقمے سے چمکنے لگے۔ ذہن ایسا رساں ہوا ہے پیا ہر طرف تیری آفرینش ہے اول روز سے کتابیں اٹھائے کوٹھے میں فروکش ہوئے کہ ہو نہ ہو اب پارٹ ون کی تیاری مار گرائیں گے۔ ولولے دو دِن میں ڈھیر ہوئے میاں پڑھائی سے سیر ہوئے۔ کھیلیے روبلاکس اور سینکیے اکھیاں۔ بھیا ہیگا یہ تعلقات کا جمانہ، نہ ہوگی سفارش نہ ملو گی نوکری، دیجو گھر گھر سیوی، پائیو

Read more

ہسپتال کی جمالیات

ایک مہیب تاریکی اور خاموشی جو یہاں چار سو پھیلی ہے تمہیں اس کا سراغ مل نہیں سکتا۔ دیکھو یہ تا حد نگاہ شام اور کانٹے دار راہداری جو تمہیں اکیلے عبور کرنی ہے۔ کوئی یہاں تمہاری پکار کا جواب نہیں دے گا۔ خون آلود گلیاں، مانوس کتوں کے بھونکنے کی آوازیں اور جا بہ جا ڈھانچے۔ دیکھی بھالی جگہ لگتی ہے ناں جیسے یہاں پہلے کوئی اور بھی بستا تھا۔ ان خالی حویلیوں میں موت کا سایہ ہے جہاں

Read more

انفرنو کا نقشہ – فکشن

ایک مہیب تاریکی اور خاموشی جو یہاں چار سو پھیلی ہے تمہیں اس کا سراغ مل نہیں سکتا۔ دیکھو یہ تا حد نگاہ شام اور کانٹے دار راہداری جو تمہیں اکیلے عبور کرنی ہے۔ کوئی یہاں تمہاری پکار کا جواب نہیں دے گا۔ خون آلود گلیاں، مانوس کتوں کے بھونکنے کی آوازیں اور جا بہ جا ڈھانچے۔ دیکھی بھالی جگہ لگتی ہے ناں جیسے یہاں پہلے کوئی اور بھی بستا تھا۔ ان خالی حویلیوں میں موت کا سایہ ہے جہاں

Read more

ہوا کے حوالے

کتنا مشکل ہے ناں سوچوں کو ترتیب دینا آخر میں کہنا کیا چاہتا ہوں اور مخاطب کس سے ہوں۔ کتنی باتیں ذہن میں گونجتی رہتی ہیں جو ہم کسی سے کہ نہیں سکتے۔ جب میں پانچ سال کا بھی نہیں تھا ہم اکے میں گھر کا سامان لاد کر نئے مکان میں شفٹ ہو گئے لیکن اپنے پرانے گھر میں لگا نیم کا پیڑ آج بھی میرے دل میں گھنا سایہ کیے ہوئے ہے۔ جب میں نے اسکول جانا شروع

Read more

گناہ کا اوتار

خدا کا یہ نیا تعارف کتنا پاورفل تھا۔ جب میں اپنی ذات میں پنپتے گناہ کا سراغ پا کر ڈر گیا اور عبادت کی خاطر تم مجھے معبد کی سیڑھیاں پر چڑھاتے لے گئیں۔ میں نے دیکھا کہ تمہیں قرآن کے مضامین پر زبردست دسترس ہے اور میری ازلی معصیت کی یاس بھی سند، تو تم نے مجھے تبدیل ہونے کا عندیہ دے دیا۔ لفظوں کو نوک پلک سنوارنے والے ڈے ڈریمر کو تم الٰہیات کا سبق دینے چلی تھیں۔

Read more

ہاؤس جاب کی کہانی

سنتے آئے تھے کہ دنیا گول ہے اور پھسلن کے کارن ایک جیسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ اتنی چھوٹی بھی ہے اس کا ہمیں اندازہ بلکل بھی نہیں تھا۔ ابھی کل کا دِن تھا کہ ہاؤس جاب شروع ہوئی تھی۔ ہم صبح صادق کے قریب اٹھتے اور رنگ گورا کرنے والی کریمیں پے در پے گالوں پر لیپتےرہتے۔ پھر ٹائی درست کرتے اور جھڑکیاں کھانے وارڈ میں پہنچ جاتے۔ راؤنڈ کے دوران ہم سر کو اور وہ

Read more

راندہ درگاہ

میں 2024 کا نوجوان ہوں، میں نے جب بھی کسی سوال کی کھوج کی ہے ایک نئے واہمے کا شکار ہوا ہوں۔ شاید یہ میرے لا شعوری فرار کی تلاش کا نتیجہ ہے۔ میرے سارے آئیڈیل اور سٹیریو ٹائپ معیارات پر ذہن نے کھانسنا شروع کر دیا ہے۔ یا یہ سوال ہمیشہ سے موجود تھے اور تسلیم بنا تحقیق ہی پرانا چلن تھا۔ جب اپنی جڑوں پہ ہی اعتبار نہ رہے تو یقین کا پودا کیسے پروان چڑھے۔ بچپن سے

Read more

عورت کیا ہوتی ہے

عورت کیا ہوتی ہے۔ میرے لیے اس کا تعارف تبدیل ہوتا رہا ہے۔ جب میں بچہ تھا، تو مجھے کھانا کھلانے والی، میرا خیال رکھنے والی ایک ہستی جسے میں ’اماں‘ کہتا تھا، موجود تھی۔ وہ مجھے ابو کے غصے سے بھی بچاتی، نہلاتی، صاف کپڑے پہناتی، کئی دفعہ اسکول کھانا دینے بھی آ جاتی تھی۔ دیکھنے میں عام سی تھی۔ باہر جاتی تو موٹے سے کپڑے کا برقع پہن لیتی اور آہستہ آہستہ ننھیال جاتی، اور ہم بھی اس

Read more

ونڈو شاپنگ

یہ اتوار بھی دراز پر نت نئے لیپ ٹاپ دیکھتے گزر گیا۔ تلاش تو ایک کروم بک کی تھی جس پر مضامین پڑھے اور لکھے جا سکیں اور جس کا وزن بھی نہ ہونے کے برابر ہو اور جس پر دیگر ٹامک ٹوئیاں بھی ماری جا سکیں۔ پھر بھیا کا میسج آ گیا کہ فلاں کورس کر لو، اس کی مدد سے تم کمپیوٹر نیٹ ورکس کی مہارت حاصل کر لو گے۔ اب انہیں کیسے بتائیں، اپنی عمر ہو گئی۔

Read more

ٹھرک کے فضائل

صاحبو، بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ زیادہ میٹھا، صحت کے لیے مضر ہوتا ہے۔ لیکن اپنے بڑوں کو شیرے کے لگن میں ڈبکیاں کھاتے ہی دیکھا۔ والد صاحب سویاں بہت جی سے کھاتے تھے۔ اور گڑ کے چاول تو بڑی بی بناتی ہی تھی، لیکن اماں جی نے نمکین مزاج پایا۔ فریقین کے مزاج کی یہ تقسیم کیسے معتدل ہوئی، وہ اِک داستان طویل ہے۔ لیکن ہمیں ایک بات ضرور معلوم ہو گئی، کہ ددھیال میں سب تکلف سے

Read more

چین اک پل نہیں اور کوئی حل نہیں

صاحبو ہاسٹل میں رہنا اور پڑھنا دو الگ فعل ہیں۔ اور اگر آپ لڑکے ہوں، مزید غبی اور آلسی ہوں تو صورت حال دو چند ہو جاتی ہے۔ ہمارے ساتھ بھی یہ ہی ہوا اور اتوار کا دِن کسی بھالو کی طرح بستر پر لوٹیاں لگانے میں بیت گیا۔ ایک وحشی خواب سے بھی ہم کنار ہوئے جسکا ذکر بیان کیے دیتے ہیں۔ ہسپتال کی ڈیوٹی سے لوٹے، بیٹھے بیٹھے سویا کیے، سوچا کڑک سی چائے بنائی جائے۔ گھر سے

Read more

اعتبار توڑنے کی سزا

ہر انسان کے اندر ایک نو گو ایریا ہوتا ہے۔ جہاں اس کے اس کی روح کے گھاؤ، پچھتاوے اور غم بے آب و گیاہ کٹے پھٹتے پڑے ہوتے ہیں۔ ہر آدمی اپنے لا شعور کی اس وادی میں قدم رکھنے سے کتراتا ہے اور وہاں جانے کی کسی کو اجازت نہیں دیتا۔ ہمارے دکھ، اور ہر طرح کے ذہنی امراض کی زیادہ تر وجوہات کا سراغ لا شعور کی کھوج میں مل سکتا ہے لیکن یہ تھراپسٹ کے لیے

Read more

محرومیوں کی سائنس

افسوس میرے بچگانہ خیالات پر، لیکن انہیں بیان کیے بغیر مجھے چین نہیں آئے گا۔ میرے ہسپتال میں ایک مریضہ آئی، جو ایک جلدی مرض میں مبتلا تھی، جس میں جلد سانپ کی کینچلی کی طرح اترتی رہتی تھی، پھر ایک عورت جسے پیشاب کی نالی کا انفیکشن تھا اور اس کے گھر والے اس سے گھن کھاتے تھے، اور ایک بوڑھے بابا جی ( جو اکیلے آئے تھے ) اور جن کا پیٹ بہت سافٹی سافٹی تھا، میں ایک

Read more

ایک بے نام کا قتل

بڑی ہمت کر کے قلم تھام تو لیا ہے لیکن آج انگلیاں ساتھ نہیں دے رہی۔ ایک نئی ادھوری سے شناخت کے ساتھ ہواؤں میں معلق چہرے ڈھونڈ رہا ہوں لیکن آنکھیں درد کی چبھن سے لال ہیں۔ ہمدم دیرینہ آج آنکھ ملانے کا یارا نہیں۔ کہانی لکھوں تو دل پر نشتر سے چلنے لگتے ہیں۔ ہاں وہ آیا تھا میرے پاس چھم چھم آنسوؤں کی برسات لیے کہا پیسے دے دو مجھے نہ کردہ گناہوں کا تاوان بھرنا ہے۔

Read more

لبیڈو: ایک تخلیقی صلاحیت

ٹین ایج لائف کو ناسمجھی کا زمانہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ لڑکا یا لڑکی جذبات کی رو میں بہہ رہے ہوتے ہیں اور زندگی کے تلخ حقائق سے نابلد اور ناتجربہ کار ہوتے ہیں۔ ایسے میں وہ ایک نئی چیز سے متعارف ہوتے ہیں جو ان کے اذہان پر بم پھوڑتی ہے۔ وہ ہے لیبیڈو، یعنی انسان کے تخلیقی اعضا کی وہ عنایت جو قدرت نے ایک اہم مقصد کے لیے پروگرام کی ہے مگر نوجوان اس

Read more

منطقی انجام کی طرف

کیا آپ جانتے ہیں کہ روایات کے مطابق جب آدم کے بیٹے نے اپنی نیاز قبول نہ ہونے کے الزام اور حسد میں اپنے بھائی کو قتل کیا تھا تو اُسکے آخری الفاظ کیا تھے۔ ’میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی کرنی کر گزرو اور میرے حصے کا بوجھ بھی اٹھا لو‘ ۔ انسان نے ہر دور میں ایسے کارنامے انجام دیے ہیں کہ تاریخ کا چہرہ چمک رہا ہے۔ ایسے میں صالحین اور صلح جو افراد کا جو انجام

Read more

بارے کچھ ان بابوں کے

ایک کمزور نحیف و نزار چٹا سفید وجود جو ہمارے آس پاس تو رہتا تھا مگر ہم نے کبھی اسے ایک حد سے زیادہ لگاؤ نہیں کیا۔ کیا آپ جانتے ہیں، وہ شیطان صفت وجود جو میرے ابا جان کے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر میرے ننھیال کے خلاف سازشیں کرتا تھا وہ کون تھا۔ وہ میرے دادا جی تھے۔ مجھے ان کا پہلا تعارف ایسے ہی کرایا گیا تھا اور انھوں نے بھی ایسی ہی کوئی کہانی ہمیں

Read more

وہ مانوس خاموشی

میں جب چھوٹا تھا تو سردیاں بہت شاندار گزرتی تھی۔ اتنے ڈیجیٹل آلات تو نہیں تھے مگر سچی خوشی دستیاب تھی۔ وہ مانوس سی اذان، وہ کمرے کی چھت کو سونے سے قبل گھورتے رہنا۔ ایک حال نما کمرے میں ہم سب بھائی سوتے تھے۔ ساتھ ساتھ چارپائیاں ہوتی، سب مل کر عینک والا جن دیکھتے، اماں کے ہاتھ کے سادہ کھانے کھاتے، کہانیاں پڑھتے اور سر شام سو جاتے۔ کھیل بھی کیا ہوتے سلیٹی سے دیواروں، میزوں پر لکیریں

Read more

لالچ کی اناٹومی

ایک دوست نے ویڈیو بھیجی جس میں ایک پروفیسر صاحب نو جوانوں سے بھرے ہوئے پنڈال سے مخاطب تھے۔ ان کی تقریر کا لب لباب یہ تھا: ملک کو بچانا اب آپ کا کام ہے، پچھلی نسل صحیح نہیں تھی، اسلامی شعار اپنائیں اور آفاقی سطح پر لوگوں کے لیے کارآمد بنیں۔ سچ پوچھیں تو مجھے گوز بمپس آ گئے اور قریب نصف گھنٹہ نشے کی کیفیت کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ اثر کرے نہ کرے سن تو

Read more

پچاس فیصد خوشی

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ نیکی اور بدی کی کشمکش جو قلب انسان میں شروع دن سے ہے، جو اسے ہر لحظہ بے چین رکھتی ہے کیا کبھی ختم نہیں ہو سکتی اور انسان اپنے لیے ایک واضح نصب العین کا تعین کر کے ایک چین کی موت نہیں مر سکتا۔ ہر چند ضمیر اور نفس کی آواز اسے محو سفر رکھتی ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے چند امثال سے رجوع کرتے ہیں۔ ایک نو جوان جو اپنے

Read more

ڈم کالونی

کلاس تو بتائیں، کثرت زچگی سے کون سے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور کیا علامات آئیں گی۔ سو نفوس سے بھرا ہوا لیکچر تھیٹر مگر مکمل سناٹا۔ پروفیسر نے کتنی ہی بار سوال دہرایا، جواب ندارد۔ صبح کے آٹھ بجے ہیں، آخری سال کے طلبہ جو پاس آؤٹ ہونے ہی والے ہیں، بن ٹھن کر تیار ہوئے، آئے ہیں مگر کسی سوال پر بولتے نہیں۔ ابھی کل کی بات ہے، سپورٹس ویک کی اختتامی تقریب پر ان کے فلک

Read more

چیونٹی کی للکار

میں کرہ ارض کے ایک گمنام مقام پر بیٹھا ہوں، اور اپنے سامنے چیونٹیوں کی قطار دیکھ رہا ہوں، جب بھی میرا جی چاہتا ہے، کسی چیونٹی کو پاؤں سے پچکا دیتا ہوں۔ مجھے اس سرگرمی سے مسرت و انبساط حاصل ہو رہی ہے۔ تڑپتی ہوئی چیونٹی کے سامنے میں کسی ظالم عفریت سے کم نہیں مگر وہ یہ نہیں جانتی کہ میں ایک انسان ہوں جو ممالیہ ہیں اور ارض و سماء کے سب سے بڑے چغد ہیں گو

Read more

شریف لڑکے

ہم نے لوگوں کو ماپنے کے پیمانے بنا رکھے ہیں۔ جو شخص اس سانچے میں پورا نہ اترے ہم اسے زندگی سے نکال باہر کرتے ہیں۔ ننھے سے تھے جب اسکول گئے، گرو جی نے بتایا اس لڑکے سے دوستی مت کرنا نالائق ہے، پنجابی بولتا ہے، گندا مندہ ہے۔ ذرا بڑے ہوئے تو سنا، ماسٹر جی کے لڑکے ہو، شریف ہو جاؤ سب سے الگ۔ ایسے نہیں ہنستے اچھے لڑکے، کھیلتے نہیں۔ پڑھائی میں دل لگاؤ، اسکول میں اول آنا ہے۔ سر جھکتا چلا گیا۔ نماز پڑھا کرو، با وقار لباس پہنا کرو، داڑھی رکھو، کالج میں دل لگا کر پڑھائی کرو۔

Read more

کتیا کے مظلوم بچے اور حاجی صاحب

حاجی صاحب بڑے نیک آدمی ہیں۔ ایک بڑی تعلیمی درسگاہ کے ساتھ ان کا گھر ہے۔ مسجد کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ باریش، دودھیا رنگ۔ گلی کی نکڑ کا اسٹور انہی کا ہے۔ اپنی نئی موٹر سائیکل پر آتے ہیں۔ کریانہ بھی بیچتے ہیں اور ایک کیفے پیزا، برگر بنانے کے لیے بھی اٹھا رکھا ہے۔ حاجی صاحب کا بڑا لڑکا اب اسکول سے چھوٹنے والا ہی ہے تو اس کے مستقبل کو لے کر پریشان رہتے ہیں۔ گھر آئے

Read more

نسوانیت کے تعاقب میں

یہ گائنی وارڈ ہے۔ میں لیبر روم کے ساتھ کمرے میں بیٹھا کانوں میں ہیڈ فونز لگائے بیٹھا ہوں۔ ہر طرف عورتیں ہیں، دبلی، فربہ، پڑھی لکھی، حاملہ، گہری آنکھوں والی اور ہم قریب بیس لڑکے ہر روز یہاں پڑھنے آتے ہیں۔ میں ان کی باتیں سنتا ہوں عورتوں سے متعلق، ان کی گالیاں، ان کی مردہ آنکھوں کے خواب۔ وہ سامنے دروازہ کھلا ہے۔ liquor amni (زچگی میں بچے کی جھلیوں میں پایا جانے والا پانی) کی تیز سرانڈ

Read more

علمی گلیمر اور کنزیومر ازم

وٹو میرا اچھا دوست ہے۔ کتابوں کو شوقین، علم کا رسیا۔ اس نے گھر کو ایک لائبریری میں بدل رکھا ہے۔ علمی مباحث میں حصہ لیتا ہے، کاٹھا دانشور بھی ہے اور میری طرح اسے بھی علمی بد ہضمی رہتی ہے۔ اس شام میں نے اس کے ہاتھ میں ایک کتاب دیکھی جو انسانی تاریخ کا مختصر جائزہ تھا۔ مانگی اور پڑھ ڈالی۔ میں نے کنزیومر ازم (consumerism) کی نئی اصطلاح دیکھی۔ اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ دار نئی

Read more

نکمے کے ایڈونچر

اور مجھے لگا کچھ دیر میوزک سن لینے سے شاید طبیعت بہتر محسوس کرے مگر اب میری گردن میں درد ہو رہا ہے۔ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے کھل اٹھتے ہیں ہم لوگ اور چھوٹے مسائل ہمارا پلان ہی چوپٹ کر دیتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کتنا بے بس ہے انسان اپنی انا، ضد، شوق، وہم اور ادراک کے آگے۔ اول تو آنکھیں غلط دیکھتی ہیں، پھر ذہن عجیب و غریب زاویے کھینچتا ہے اور حضرت انسان ایک نئی تھیوری بنائے

Read more

جھوٹا ہے یہ پیالہ

عظیم انسان کی تلاش جاری تھی۔ خدا جانے کس جرم کے بدلے یہ خبط پلے باندھ دیا گیا۔ ہم تین دوست اپنی کمیونیٹی میڈیسن کی ریسرچ کے سلسلے میں انٹرویو کر رہے تھے۔ ہمیں ڈپریشن کے سلسلے میں عمومی رائے اور حقائق کی کھوج لگانی تھی۔ اس دوران ہی پرانے زخم ہرے ہو گئے کہ انسان کے خمیر میں عظمت کے حصول کی جو جستجو ہے اس خیال کے اثرات ہمارے لا شعور میں کہاں تک جاتے ہیں۔ مجھے آج

Read more

سیلف ہارم

اس نے مجھے بتایا کہ ’کافی دنوں سے ذہنی خلفشار کا شکار ہے۔ اور اسے نیند نہیں آتی اور دل چاہتا ہے کہ خود کو زخم لگائے‘ وہ میرا پہلا مریض تھا۔ میں نے اس کی ہسٹری لی اور نتائج چونکا دینے والے تھے۔ الف حال ہی میں کالج میں آیا تھا۔ سارے جسم پر چاقو، چھریوں کی مدد سے نشانات تھے جو غالباً پرانے تھے اور اب داغ بن چکے تھے۔ اس نے مجھے بتایا کہ کسی سے بات

Read more

سلگتی ہوئی شام

آج میرے ابو کا دفتر میں آخری دن ہے۔ وہ ریٹائر ہو رہے ہیں۔ سوچتا ہوں انہیں فون کروں مگر کہوں گا کیا۔ ہم لوگوں کو سب علوم آ جاتے ہیں مگر ماں باپ سے حال دل کہنا نہیں آتا۔ مزدور کیا اس کی زندگی کیا، گول سی روٹی کا چکر۔ مجھے اپنا قیمتی وقت نصابی کتب کو دینا چاہیے۔ مگر میں پین پیپر لے کر کیا کر رہا ہوں۔ میری تحاریر اگر کسی کے ہاتھ لگ جائیں تو شاید

Read more

کہاں جا رہے ہو؟

میں کل اپنی خالہ کے پاس جا رہا ہوں۔ میں نے انہیں کبھی دیکھا نہیں، بس اتنا سنا کہ ان کی ساری تصویریں جلا دی گئیں۔ پھر ان کا ذکر نہ ماں نے کیا نہ باپ نے۔ خدا جانے کیسا جرم کیا ہو گا۔ شادی ہوئی تھی، نئی نویلی دلہن چلی گئی، ارے بھئی کہاں چلی گئی۔ تم ابھی چھوٹے ہو ناں! کیا سمجھو گے، عاشق تھا اس کا بھگا کر لے گیا۔ میں نے پھر ماں سے پوچھا کہاں

Read more

لوگوں کی اقسام

لکھو اپنی بی چارگی کی داستان۔ کیسے تم نے اک عمر سے زہریلے گھونٹ پیے۔ وحشتوں کے سلسلے جو دل و دماغ میں رچ بس گئے ہیں۔ الفاظ کا ظرف بہت وسیع ہے۔ یہ تمہارے دکھوں کو پی جائیں گے۔ کسی ہمدرد ماں کی طرح تم اپنے سارے بوجھ، حسرتیں اور ملال ان کے سپرد کر دو۔ اپنے من کی سیاہی، اجلی صبحوں کے منظر نامے سسکتی روح کی فریاد سب لکھ دو۔ یہ تو مرتے بھی نہیں۔ تا ابد

Read more

خلل ہے دماغ کا

ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہمیشہ اپنے والدین اور اساتذہ کے منہ سے ”عظیم انسانوں“ کی کہانیاں، حالات زندگی اور افکار کا ذکر ہی سنا۔ کیسے نیل آرم سٹرانگ خلاباز بنے، لنکن کے بچپن کی اضوبتیں اور جانے کیا کیا، مگر جب حقیقی زندگی میں قدم رکھا تو جا بجا بد حواسی اور ناکامیوں سے ہی سامنا ہوا۔ ہم نے جانا کہ احساسات کی دنیا تو حقیقت سے میل نہیں کھاتی۔ خیر کمر پر بستہ لٹکائے بستی بستی

Read more

انسانی دماغ تصویروں میں سوچتا ہے

ذرا لمحہ بھر کے لیے اپنی والدہ کے بارے میں سوچیے تو جھٹ سے ان کا چہرہ آپ کے سامنے آ جائے گا۔ بالکل اسی طرح مختلف اشیاء کی شبیہ ذہن میں ابھرتی ہے، اور انسانی دماغ کا سادہ سا کلیہ سمجھ میں آتا ہے۔ ہم چاہے کوئی تحریر پڑھیں یہ کوئی دھن سنے ہمیں ہر لمحہ کسی تصویر کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہم اس احساس کو کوئی شکل دے سکیں۔ مثال کے طور پر مینار پاکستان، مسئلہ فیثا

Read more