بوسنیا کی چشم دید کہانی (43)
فروری کے آغاز میں شیوا اور پریم کا تبادلہ موسطار ہو گیا۔ وہ سٹولک اسٹیشن کے ان آٹھ معماروں میں سے تھے جن میں ان کے علاوہ پاکستان، ڈنمارک اور پولینڈ کے مانیٹرز شامل تھے۔ سیکا کے بقول سٹولک اسٹیشن میں وہ بہار پھر کبھی نہ لوٹی جو ابتدائی دنوں میں اس کا حصہ بنی تھی۔ ان دنوں کو یاد کر کے وہ اکثر کہتی تھی
Once there was a station, once there was a family.
شیوا اور پریم کے تبادلے پر ہم نے ان کی دعوت کی جس میں اقبال نے ایشور اور چاند کو خصوصی طور پر مدعو کیا۔ اس کی حکمت عملی کام یاب رہی۔ ایشور اور چاند کو بھی اب ان کے لیے الوداعی دعوت کا انتظام کرنا پڑا۔ یوں ان کے ”تاوان“ کی اقبال کی دیرینہ خواہش آخر کار پوری ہو گئی۔
ادھر بایئرم یعنی عید میں اب چند دن باقی تھے۔ چپلینا، سٹولک اور ٹرے بینیا میں متعین افسران کو موسطار میں مقیم پاکستانی ساتھیوں نے عید کے دن کے کھانے کی دعوت پہلے ہی دے دی تھی۔ اس دعوت کا اہتمام راولپنڈی اور فیصل آباد پولیس کے افسران زاہد اور سلیم نے کیا تھا۔ مرزا اور میمن نے اپنی 26 رمضان سے شروع ہونے والی چھ دن کی ماہانہ چھٹی اس دفعہ ہمارے ساتھ گزارنے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔ لہٰذا وہ آخری روزے کے افطار سے کچھ دیر قبل ہمارے پاس پہنچ گئے۔
عید کے دن ہم علی الصبح موسطار کے لیے روانہ ہوئے۔ ہرزے گووینا میں جنگ کے بعد موسطار ہی ایک ایسا شہر تھا جس کا مشرقی حصہ واحد مسلمان بستی کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھ سکا تھا۔ لوگ نماز عید کی ادائیگی کے لیے مختلف مساجد کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ہم نے مشرقی موسطار کے وسط میں واقع جامعہ کروازوبیگویچ کا انتخاب کیا۔ اقامت الصلوٰۃ تک مسجد نمازیوں سے مکمل طور پر بھر چکی تھی۔
نماز کی ادائیگی کے بعد مرد و زن کی اکثریت کا رخ قبرستانوں کی طرف تھا۔ موسطار کے سب سے بڑے قبرستان ساریچہ حرم میں شاید ہی کوئی قبر ایسی ہو کہ جس کی صفائی کے بعد اس کے سرہانے پھولوں کے گل دستے نہ سجائے گئے ہوں۔ ساریچہ حرم سے ہم آگے بڑھے تو قبرستان شہدا کے پاس آ کر ٹھہرے۔ جنگ سے پہلے اس مقام پر ایک چھوٹا سا پارک تھا۔ دوران جنگ کام آنے والے جاں نثاروں کے لاشے جب گولوں اور بارود کی برسات میں شہر سے ہٹ کر واقع مختلف قبرستانوں تک لے جانے ممکن نہ رہے تو انھیں ایک ایک کر کے اس پارک کی آغوش میں ڈال دیا گیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے یہ سارا پارک قبرستان میں تبدیل ہو گیا میں جب بھی موسطار آتا تھا تو اس قبرستان میں فاتحہ کے لیے ضرور رکتا تھا۔ یہاں دفن کسی بھی شہید کی عمر تیس سال سے زیادہ نہ تھی۔ شہداء کے لواحقین اس قبرستان کے مختلف حصوں کو بڑی باقاعدگی کے ساتھ صاف کرتے اور رنگ بہ رنگی پھولوں سے لدی کیاریوں کو سنوارنے میں مصروف پائے جاتے تھے۔ یہاں پھول اتنی بڑی تعداد میں روش روش پھیلے ہوئے تھے کہ ان کے درمیان موجود قبریں چھپ سی جاتی تھیں۔ آج تو ان پھولوں کا نکھار کچھ ایسے جوبن پر تھا کہ آنکھ بھر کے دیکھا تو دل بھر آیا۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو سن پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے شہداء کی نذر، تنویر نقوی کے اشعار کی گونج خیال میں ابھرنے لگی۔
جس کے ہر قطرے میں خورشید کئی
جس کی ہر بوند میں اک صبح نئی
دور اس صبح درخشاں سے اندھیرا ہو گا
رات کٹ جائے گی گل رنگ سویرا ہو گا
رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو
قبرستان شہداء سے واپس ہوتے ہوئے اور اس کے بالکل سامنے گلی میں واقع اسلامک سینٹر کے عملے کو عید ملتے ہوئے ہم دریائے نرٹوا کے کنارے جامعہ محمت پاشا آئے۔ اس جامعہ کے پرانی طرز کے محرابی در سے اندر داخل ہوں تو سامنے صحن ہے جس کے وسط میں وضو کے لیے سبیل بنائی گئی ہے۔ بائیں ہاتھ پر عثمانی طرز کی سہ گنبدی مسجد کی عمارت ہے۔ جب کہ دائیں طرف چند حجرے بنے ہوئے ہیں۔ انھی میں سے ایک حجرہ امام مسجد کی بیٹھک کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
ہم امام مسجد صاحب کو عید ملنے کی غرض سے یہاں آئے تھے لیکن ان کے حجرے کو مقفل پا کر لوٹ آئے۔ مسجد کے دروازے سے باہر قدم رکھا ہی تھا کہ دیکھا چند ہسپانوی فوجی اور سپاہی مسجد میں داخل ہو رہے تھے۔ مجھے یہ خیال گزرا کہ یہ سپاہی آج موسطار میں شاید یہ دیکھنے کے لیے گھوم رہے ہیں کہ مسلمان عید کا تہوار کیسے مناتے ہیں۔ ہم نے ان سپاہیوں کو ہیلو کہا۔ جواب میں ایک سپاہی نے آگے بڑھ کر السلام علیکم کہتے ہوئے ہم سب سے باری باری ہاتھ ملایا۔
اس کے بعد وہ ہسپانوی زبان میں کچھ بولتا رہا اور ساتھ ساتھ اشاروں کی مدد سے ہمیں کچھ سمجھانے کی بھی کوشش کرتا رہا۔ لیکن ہمارے پلے کچھ بھی نہ پڑا۔ اس نے ہمیں اشاروں ہی کی مدد سے کچھ دیر وہاں ٹھہرنے کو کہا۔ پھر باہر سڑک کی جانب تیز تیز قدموں سے روانہ ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آیا تو کپڑے میں لپٹی ہوئی کوئی چیز اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے جب ہمارے قریب پہنچ کر کپڑے کو ہٹایا تو جو چیز سامنے آئی وہ قرآن مجید کا ایک عربی نسخہ تھا۔
اس نے اس نسخے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہمارے اور اپنے تعلق کی نشان دہی کی۔ پھر ٹھہر ٹھہر کر اپنا نام بتایا، محمد ابن دادی۔ اب بات مکمل طور پر واضح ہو چکی تھی کہ وہ مسلمان تھا۔ ہم نے اسے گلے لگایا اور عید کی مبارک باد دی۔ مزید بات چیت چوں کہ ممکن نہ تھی لہٰذا ہم نے مقامی مسلمانوں کے الفاظ وداع، اللہ امانت کہتے ہوئے اس سے اجازت چاہی۔
اب ہم صابر کی رہائش گاہ کی طرف رواں تھے۔ میں راستے بھر یہ سوچتا رہا کہ محمد ابن دادی کے لیے یہ بات اتنی اہم کیوں تھی کہ وہ اپنے مسلمان ہونے کا اظہار ہم سے ضرور کرے۔ پھر مجھے اپنی ترجمان لیپا کے وہ الفاظ یاد آئے جو اس نے بوسنیا کے مسلمانوں کے بارے میں کہے تھے۔ ”یہ بھی کیسے عجیب لوگ ہیں کہ رہتے کسی کے ساتھ ہیں اور قربت کسی سے محسوس کرتے ہیں“
اظہار قربت کا ایک اور مظاہرہ اس کے فوراً بعد اس وقت دیکھنے میں آیا جب ہم صابر کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ وہ اور اس کے ساتھی جس گھر میں رہتے تھے ان کے مالک مکان کی رہائش اس کی دوسری منزل پر تھی۔ یہ اندرون شہر کی ایک بند گلی میں واقع آخری مکان تھا۔ باہر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ہم صحن سے گزر کر اندر کے دروازے پر ہی پہنچے تھے کہ ایک بھرپور مردانہ وجاہت والا شخص اوپر کی منزل سے نیچے اترا اور ہمیں بایئرم مبارک کہا۔
پھر بتایا کہ صابر اور زاہد تھوڑی ہی دیر پہلے سلیم کی طرف گئے ہیں۔ ہم واپس ہونے کا سوچ ہی رہے تھے کہ اس نے ہمیں اپنے ہاں چلنے کی دعوت دی۔ ہم نے کچھ تکلف کیا تو وہ زبردستی ہاتھ پکڑتے ہوئے اوپر لے گیا۔ گھر میں داخل ہوئے تو ہمارے سامنے ایک چھوٹا سا برآمدہ تھا جس میں ایک طرف کھانے کی میز بچھی تھی، دوسری طرف چند آرام دہ کرسیاں اور ایک چھوٹی سی میز۔ چھوٹی میز پر رکھا ہوا ریڈیو ہلکی ہلکی آواز میں بج رہا تھا جس سے طربیہ نغموں کے درمیان وقفوں میں عید کی مبارک باد کے پیغامات نشر ہو رہے تھے۔ ہمارے میزبان کا نام ابراہیم تھا۔ وہ ہمیں سیدھا کھانے کی میز پر لے گیا۔ اس دوران اس کی بیوی بھی کمرے سے باہر آ گئی۔ ابراہیم نے اس کا تعارف کروایا۔ نیوزا (Nevza) ۔
دونوں میاں بیوی کی عمریں پینتالیس، پچاس کے درمیان ہوں گی۔ نیوزا ہنس مکھ خاتون تھی۔ شکل بس واجبی سی تھی۔ ابراہیم کے ساتھ اس کا جوڑ کچھ ایسا برابر کا نہ تھا۔
( کوسوو مشن کے بعد کے زمانے میں ایک دفعہ کہیں ایسا ہی بے جوڑ جوڑا دیکھنے پر جب میں نے اپنے زمبیین ساتھی پنزا سے پوچھا کی زیادہ تر ایسا دیکھنے میں کیوں آتا ہے۔ وہ بولا۔ سوچو اگر دنیا کے تمام جوڑے خوبصورت ہوں تو پھر اس جیسے ماٹھے لوگ اس جہاں میں کیسے آ پائیں ) وہ بے اولاد تھے لیکن نہ تقدیر سے شاکی اور نہ کاتب تقدیر سے۔ تھوڑی ہی دیر میں میز طرح طرح کے کھانوں سے بھر دی گئی جن میں بھنا ہوا گوشت اور اخروٹوں کی آمیزش سے تیار کردہ مشہور مقامی حلوہ بکلاوہ نمایاں تھے۔
ابراہیم اور نیوزا ہمارے ساتھ باتیں بھی کرتے جا رہے تھے اور ہر ڈش بھی باری باری ہماری طرف بڑھاتے جاتے تھے۔ یہ ہماری اور ان کی پہلی ملاقات تھی لیکن لگتا تھا کہ وہ ہم سے ایک عرصے سے آشنا ہیں۔ سٹولک کی جب بات چلی تو ابراہیم اداس ہو گیا پھر جب شاہی مسجد اور امرائے سٹولک کے مسکن بیگووینہ کی تباہی کا ذکر آیا تو وہ بے اختیار پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ لگتا تھا ایسے شریک غم بڑے انتظار کے بعد اسے ملے تھے کہ جن کے سامنے ضبط کا تکلف ضروری نہ تھا۔
سلیم کی رہائش گاہ پر موسطار اور اس کے گردونواح میں کام کرنے والے تمام ساتھی موجود تھے۔ پرتکلف کھانے کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں اور سہ پہر کے بعد ہم سب اپنے اپنے ٹھکانوں کو لوٹ گئے۔




