غین غ (ڈرامہ)
کردار:
٭ غین: ایک نابینا بوڑھا، عمر: 88 سال 8 مہینے 8 دن
٭ غ: ایک نابینا بوڑھا، عمر: 88 سال 8 مہینے 8 دن
٭٭٭ ٭٭٭
غین: مسئلہ بہت بڑا ہے۔ اوپر سے یاد بھی نہیں آ رہا۔
غ:اوہ! اس سے تو مسئلے کی سنگینی اور بڑھ گئی!
غین: پھر بھی اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مسئلہ حل کرنا ہی ہو گا۔ چاہے سو یا دو سو برس لگ جائیں۔
غ: سو تک تو ٹھیک ہے لیکن۔ دو سو!
غین: میں انتظار کر لوں گا! بس آپ بے صبری نہ دکھائیں۔
غ: ٹھیک ہے۔
غین: کچھ پتا بھی ہے کہ بے صبری کیا شے ہے؟
غ: جی! لیکن۔ چلیں، آپ ہی بتا دیں!
غین: میں! ۔ آپ کا مطلب ہے۔ میں؟
غ: میں؟ نہیں نہیں، میرا مطلب ہے آپ!
غین: ارے واہ۔ یہی تو کہہ رہا ہوں میں۔ بالکل صحیح!
غ: صاف بات کریں۔
غین: کسی غلط فہمی سے بچنے کے لیے دو بار کہے دیتا ہوں۔ بالکل صحیح، بالکل صحیح! میرا خیال ہے۔
غ: عجیب اتفاق ہے! یہی تو میرا خیال ہے۔ آپ کا نہیں، میرا۔ یعنی صرف میرا خیال ہے کہ مسئلہ حل ہو گیا۔ لیکن۔ لیکن مسئلہ تھا کیا؟
غین: یہی تو بڑی بات ہے، بہت بڑی بات! جو مسئلہ تھا ہی نہیں، وہ بھی خوش اسلوبی سے حل ہو گیا! واہ پھر واہ پھر واہ!
غ: یقینا، یقینا! لیکن مسئلہ یہی تو ہے کہ مسئلہ ہے کیا؟ میرا مطلب ہے۔
غین: بالکل، بالکل!
غ: میں تو بچپن ہی سے یقین رکھتا ہوں۔
غین: البتہ ایک مسئلہ ہے! ۔ مسئلے کا حل ہے کیا؟
غ: عجیب بات ہے۔ میرا بھی یہی خیال ہے۔ مسئلے کے حل سے بچنا چاہیے۔ آج سے نہیں، 23 مارچ 1940ء سے!
غین: 23 مارچ 1940ء کی شام۔ سرخ آندھی۔ رشیدہ بوا کی چادر۔
غ: آج عجیب واقعات ہو رہے ہیں! ۔ سرخ آندھی، رشیدہ بوا کی چادر، اندھیرا، پھر آج تک اندھیرا ہی اندھیرا! یہ تفصیل تو میں بتانے جا رہا تھا۔ یعنی میں! آپ، آپ۔ آپ تو ’میں‘ نہیں ہیں؟ یہ ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا!
غین: پھر وہی مسئلہ، پھر وہی حل، پھر وہی میں، پھر وہی آپ! مسئلے کے حل سے بچنا چاہیے! ۔ یہ کون کہہ رہا تھا؟ میں یا آپ؟
غ: دیکھیے، میری طرف غور سے دیکھیے! ۔ میں یا آپ۔ آپ یا میں۔ میں یا میں۔ آپ یا آپ! مسئلہ بہت الجھ گیا ہے۔
غین: ارے بھئی وہ مسئلہ کیا ہے جو بہت الجھ گیا ہے؟ مجھے تو اس پر غور کرنا پڑے گا۔ لگتا ہے ہم پھر وہیں آ گئے ہیں۔ کان کھول کر سن لیں۔ مسئلہ کچھ نہیں ہے! ۔ لیجیے، سارا مسئلہ حل کر دیا۔ میں نے؟ یا آپ نے؟
غ: یا دونوں نے؟
غین: کیا مطلب؟ سوال تو پورا ہونا چاہیے۔ دونوں دو نے؟ یا دونوں ایک نے؟
غ: لگتا ہے آپ کو پھر یاد نہیں رہا۔ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ۔ خیر چھوڑیں۔ آپ رشیدہ بوا کو کیسے جانتے ہیں؟
غین: کمال کرتے ہیں آپ بھی۔
غ: اس میں کمال کی کیا بات ہے؟ میں ویسے بھی خود کو کامل نہیں سمجھتا!
غین: حد ہو گئی، واقعی حد ہو گئی! حضور! یہ کامل والا کمال نہیں ہے۔
غ: یہ تو زیادتی ہے۔ یہ توقع نہیں تھی آپ سے!
غین: زیادتی! توقع! آپ!
غ: میرا مطلب ہے رشیدہ بوا۔ رشیدہ بوا کی کالی چادر۔ کچھ بتا ہی نہیں رہے آپ!
غین: حد ہو گئی، واقعی حد ہو گئی! رشیدہ بوا کی کالی چادر! میں نے تو۔ ہاں، میں نے ہی۔ میں نے تو صرف چادر کہا تھا! آخر آپ چاہتے کیا ہیں؟
غ: اوہ! اب آپ بات بڑھا رہے ہیں۔
غین: پھر وہی بات! آپ، ’آپ‘ ہی رہیں، ’میں‘ بننے کی کوشش نہ کریں۔ سمجھتے کیوں نہیں! ۔ ارے بھئی، آپ، ’آپ‘ ہیں اور۔ کیا کہتے ہیں؟ میں! ۔ ہاں میں، ’میں‘ ہوں! ۔ مجھے مجبور نہ کریں!
غ: مجبور نہ کریں؟ یعنی رشیدہ بوا کی کالی چادر۔ نہیں، صرف رشیدہ بوا۔ تو رشیدہ بوا کے بارے میں پوچھا جائے تو آپ مجبور ہو جاتے ہیں؟ عجیب منطق ہے۔
غین: دیکھیے، دیکھیے۔ پھر کہہ رہا ہوں۔ ابھی وقت ہے۔ یہ حرکتیں چھوڑ دیں۔ میں اکیلا ’میں‘ ہوں، بالکل اکیلا! آپ کے لیے مناسب یہی ہے کہ ’آپ‘ ہی رہیں! ورنہ۔ ورنہ میرا داماد بنگالی عامل ہے! اکہتر جن نکال چکا ہے اب تک۔
غ: دیکھیے، دیکھیے۔ مجھے تو معاف ہی رکھیے! اپنا نقلچی پن کہیں اور دکھائیں! ۔ بھلا بتاؤ! یہ بازاری چمتکار کسے دکھائے جا رہے ہیں؟ اس بنگالی عامل کے سسر کو جو اکہتر جن نکال چکا ہے اب تک! واہ بھئی واہ! ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری!
غین: پھر وہی ’میں‘ بننے کی ضد! میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ آپ میں ایسی کیا کمی ہے جو ’میں‘ بننے پر اکسا رہی ہے! ۔ یہ کوشش بلکہ سازش، اور وہ بھی 88 برس کے ایک اندھے بوڑھے کے خلاف! میری کل جمع پونجی ’میں‘ ہی ہوں۔ اگر آپ کچھ پڑھے لکھے ہوتے تو مجھے یہاں ’میں ہوں‘ کی بجائے ’میں ہے‘ کہنا چاہیے تھا۔
غ: لگتا ہے آج پاگل ہو کر ہی اٹھوں گا۔ غضب خدا کا! عربی، فارسی، سنسکرت۔ یعنی کہ، یعنی کہ۔ بس اب کیا کہوں!
غین: برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ یہیں رک جائیے! ورنہ میں اور آپ، ’میں‘ اور ’آپ‘ نہیں رہیں گے۔
غ: بڑے میاں! ہرگز مت بھولیے گا کہ میں چوری معاف کر سکتا ہوں مگر ڈاکا نہیں!
غین: اتنی زندگی ہو گئی میری۔ بخدا ایسی صورت حال کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اللہ آگے بھی نہ دکھائے! ۔ لاحول ولا قوة! کر خود رہے ہیں، الزام دوسروں پر۔
غ: آپ کو منطق آتی ہے؟
غین: اس سوال کا یہاں کیا موقع تھا؟ میں آپ کے لیے ایک لفظ سوچ رہا ہوں۔ سوچ لیا تو کسی کو منہ دکھا نے کے لائق نہیں رہ جائیں گے آپ!
غ: ارے آپ کا تو دماغ چل گیا ہے، آپ کیا سوچیں گے! ۔ میرا ایک نالائق اور نکما شاگرد بالکل آپ ہی کی طرح کا تھا۔ میں اسے کم غصے میں ’کندہ¿ ناتراش‘ اور زیادہ غصے میں ’مجہلة الجہلائی‘ کہا کرتا تھا۔
غین: ارے اخلاق وغیرہ کا تو جنازہ نکال دیا آپ نے! یا اللہ! مجھے اٹھا لے! اٹھا لے مجھے! ۔ انسان کا یہ روپ نہیں دیکھا جاتا!
غ: استغفراللہ! کیا کہوں؟ کیسے کہوں؟ کس سے کہوں؟ دھت تیری کی!
غین: ’کیوں کہوں؟ ‘ اصل سوال تو یہ تھا جس سے کنی کترا کر آپ نے تین سوالیہ نشان ضائع کر دیے! ۔ میاں صاف بات کیا کرو! صاف، سیدھی، دو ٹوک!
غ: پہلے رشیدہ بوا، پھر رشیدہ بوا کی چادر۔ پھر میری ڈگریاں، پھر میرا داماد، پھر۔ اور پھر ایسی بے شرمی کہ کندہ ناتراش، مجہلة الجہلائی۔ اور، اور۔ بلید الذہن بھی! ارے کیا مجھے بالکل ہی کھکھل کر کے چھوڑیں گے؟
غین: آہ، یہ بہتان بھی سننا تھا! لعنت! سو بار لعنت!
غ: ارے میری طرف سے ہزار بار، لاکھ بار، کروڑ بار لعنت! میرا صبر اب جواب دینے جا رہا ہے۔
غین: پھر وہی ’میں میں‘ ! سارے جھگڑے کی جڑ یہی تو ہے۔
غ: خاک ڈالو ’میں میں‘ پر! میرے باپ دادا پر قبضہ۔
غین: ابے چل! بڑا آیا میرے باپ دادا والا! کان کھول کر سن لے! میں ہوں خاندانی آدمی۔ میں تیرے باپ دادے کو نہیں سیٹھتا! بالکل نہیں سیٹھتا۔ بر پشم قلندر! تو بھی اور تیرے۔
غ: کیا؟ کیا؟ نہیں سیٹھتا! اس کا مطلب ہے معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ لڑ مر کر نہیں نمٹے گا۔
غین: کیا یہ کوئی دھمکی ہے؟
غ: دھمکی؟ کیا مطلب؟
غین: دھمکی کا مطلب ہے دھمکی!
غ: یہ کیسے ہو سکتا ہے! ۔ بھلا کوئی چیز خود ہی اپنا مطلب ہو سکتی ہے؟
غین: کیوں نہیں۔ یا شاید۔ نہیں!
غ: شاید نہیں۔ یقیناً نہیں! ۔ ارے مجھے کس چکر میں ڈال دیا! شاید ہاں، یقیناً ہاں!
غین: اوہو! شاید نہیں، شاید ہاں۔ یقیناً ہاں، یقیناً نہیں۔ لعنت ہو مجھ پر۔ اور تم پر بھی!
غ: پھر الجھا دیا! لعنت ایک اور ہم دو! کیا لعنت آدھی ہو سکتی ہے؟
غین: کیوں نہیں! ۔ یا۔ شاید نہیں!
غ: پہیلیاں مت بجھواو¿! صاف بتاو¿۔ لعنت کے دو ٹکڑے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟
غین: ہو سکتے ہیں۔
غ: تمھیں یقین ہے!
غین: نہیں ہو سکتے۔
غ: تمھیں یقین ہے!
غین: پھر وہی کج بحثی۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا تمھیں یقین پر یقین ہے؟
غ: میں پھر کہہ رہا ہوں۔ یہ مسئلہ لڑ مر کر طے نہیں ہو گا!
غین: تو وہ مسئلہ لے آؤ جو لڑ مر کر حل ہوتا ہے۔ دیکھتا ہوں کون لڑتا ہے اور کون مرتا ہے!
غ: ظاہر ہے جو لڑے گا وہی مرے گا!
غین: چلو تو پھر جیتے جی نمٹا لیتے ہیں! حالانکہ میں جانتا ہوں۔ جینا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بھیانک، تاریک، ٹھنڈا، تنہا! لیکن۔ خیر تم کہو، اب میں سن لوں گا!
غ: حیرت ہے۔ مگر کیسی حیرت! واقعی، اٹھاسی برس کا ہو گیا ہوں۔ آج تک پتا نہ چلا کہ حیرت کیا ہوتی ہے؟ کیسی ہوتی ہے؟ کیوں ہوتی ہے؟
غین: ارے آپ بھی! اٹھاسی برس! یہ تو میری عمر ہے! ۔ لیکن خیر، آپ برا نہ مانیے گا ورنہ مسئلہ جوں کا توں رہ جائے گا۔
غ: ہم عمری میں کیا حرج ہے! ۔ محض اتفاق ہے۔ ہاں، اتفاق ہی ہے۔ اتفاق نہ ہوتا تو بات الجھ جاتی یا سلجھ جاتی! اور یہ کم از کم میرے لیے ناقابل قبول ہوتا!
غین: بھائی، اتفاق ہے یا اتفاق نہیں ہے۔ اس پر میرا موقف کچھ نرالا ہے۔ لیکن خیر، آپ بتائیے کہ ہماری ہم عمری محض اتفاقی چیز نہ ہوتی تو کیا ہوتی؟ میں بس جاننا چاہتا ہوں کسی تبصرے کے بغیر، کسی مباحثے کے بغیر، کسی۔
غ: جی میں سمجھ گیا! معلوم نہیں یہ کیا معاملہ ہے کہ۔
غین: اچھا لگ رہا ہے، اچھا ہو رہا ہے! ۔ اتنی عمر گزار لی، یہ تجربہ آج ہوا ہے! ۔ میں جانتا ہوں، یعنی آپ جانتے ہیں کہ یہ محض اتفاق ہے اور محض اتفاق نہیں ہے! ۔ آپ مجھے دیکھ سکتے ہیں؟
غ: دیکھنا، یعنی دیکھنا! اصل میں بات یہ ہے، میرا مطلب ہے اصل میں نہ سہی لیکن بات یہی ہے کہ دیکھنا، یعنی دیکھنا۔ میں سمجھ تو رہا ہوں، اچھی طرح سمجھ رہا ہوں البتہ کہہ نہیں پا رہا کہ دیکھنا، یعنی دیکھنا۔
غین: آہ۔ دیکھنا، یعنی دیکھنا!
غ: اوہ۔ گویا آپ بھی، یعنی کہ میں بھی! 23 مارچ 1940۔ ”لے کے رہیں گے پاکستان“ ۔ رشیدہ بوا کی چادر۔ درد، درد، درد۔ آنکھیں۔ اندھیرا، گھپ اندھیرا۔ درد اور گھپ اندھیرا!
غین: دیکھنا۔ نہیں، نہیں۔ نہ دیکھنا، یعنی۔ یعنی دیکھنا!
غ: میں تو جناب 23 مارچ 1940 کی شام سے پہلے پہلے سارا دیکھنا دیکھ چکا تھا! اسی کو دہراتا رہتا ہوں۔ رشیدہ بوا کی کالی چادر، ابا کی بھوری داڑھی۔ اور وہ پتنگ! سبز اور سنہری پتنگ۔ اس کی سرمئی ڈور۔ اور، اور۔ بالآخر سرخ، سرخ، سرخ۔ پتا نہیں کیا! شاید وہ درد کا رنگ تھا!
غین: ہاں، درد کا رنگ۔ نہیں، درد کا زنگ!
غ: درد کا زنگ۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں، میں ٹھیک کہتا ہوں۔ دونوں۔ کیا واقعی دونوں!


