مذہب اور سائنس کا تقابل – ایک جائزہ


مذہب کی تاریخ انسانی تاریخ جتنی ہی قدیم ہے یہی وجہ ہے کہ آگہی، شعور، معاشرت، معیشت اور اخلاقیات سمیت مذہب ہی انسان کا سب کچھ ہوا کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی سوچ نے فلسفہ اور منطق کو دریافت کیا جس سے مذہب کا اولین تقابل کیا جانے لگا لیکن تقدیس کے باعث اس تقابل کو قبولیت عامہ نہ ملی بلکہ یہ اعتراض محض اعتراض تک ہی محدود نہ رہا اور متقابلین کڑی اور جان لیوا سزاؤں کے مستحق قرار پائے۔ سائنس کی دریافت کے بعد یہ تقابل اب سائنس کے ساتھ کیا جانے لگا کیونکہ سائنس نے فطری اصولوں کو اس انداز سے محیط کیا کہ پھر ہر وہ طریقہ جو فطرت کے اصول پر مبنی ہو وہ ”سائنسی طریقہ“ کہلانے لگا۔

تقابل کیا جانا ایک موضوع لیکن معاملہ یہ ہے کہ مذہب اور سائنس کا تقابل ایسے پیرائے میں کیا جاتا ہے جس پر سائنس پوری اترتی ہے لیکن مذہب نہیں۔ اسی بنیاد پر لامذہب طبقہ اسے مذہب کے رد کا جواز قرار دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اسی طرح یہ تقابل اس پیرائے میں کیا جائے جس پر مذہب پورا اترتا ہے تو کیا یہ جواز سائنس کے رد کا ہو سکتا ہے؟ یعنی اس طرح کا تقابل تعصب سے چاہ کے بھی خالی نہیں۔ حقیقت یہ ہے ان دونوں کا کوئی تقابل ہے ہی نہیں کیونکہ یہ دونوں متضاد خصوصیات کے حامل ہیں، مثلا؛

۔ سائنس موجودات کا علم ہے اور مذہب مغیبات کا۔

۔ سائنس اور دیگر موجودات کے علوم کا مطمح نظر انسان کا جسم اور اس سے متعلق امور ہیں جبکہ مذاہب کا مطمح نظر روح اور اخلاقیات ہیں۔

۔ سائنس اور موجودات کے علوم بقاء بذریعہ ارتقاء کو مانتے ہیں جبکہ مذاہب کلی فنا پر یقین رکھتے ہیں۔

۔ سائنس اور دیگر موجودات کے علوم کے نزدیک حیات بعد از موت کا کوئی تصور نہیں جبکہ مذاہب نہ صرف حیات بعد از موت پر یقین رکھتے ہیں بلکہ یہ ان کا مبادیاتی موضوع ہے۔

۔ سائنس اور دیگر موجودات کے علوم کا ماخذ سوچ ہے جبکہ مذاہب کا ماخذ اسے متعارف کرنے والے، ان کی پیش کردہ کتب اور ان کے فرمودات ہیں۔

۔ سائنس اور دیگر موجودات کے علوم ارتقائی ہیں جو مشاہدہ، نظریہ، تجربہ اور تجزیہ کے ذریعہ دریافت کیے گئے ہیں جبکہ مذہب انزالی ہے جو دریافت نہیں ہوا اور ایک مخصوص عرصے میں انسانوں تک پہنچا جو مشاہدہ، نظریہ، تجربہ اور تجزیہ کے بجائے ماننے اور یقین کرنے کا نام ہے۔

۔ تمام ارتقائی علوم بشمول سائنس ترقی کرتے ہوئے آج اپنے اوج کمال پر ہیں جبکہ تمام مذاہب بشمول اسلام اپنی ابتدائی کیفیت سے کم ہوتے ہوئے آج اپنی نچلی ترین سطح پر ہیں یعنی جو علوم انبیاء کو حاصل تھے ان سے کم ان کے رفقاء کو ملے اور جو انہیں ملا اس سے کم ان کے شاگردوں نے حاصل کیا اسی طرح تنزل کا یہ عمل جاری ہے۔

۔ سائنس اور دیگر موجودات کے علوم اپنے اپنے موضوعات پر ہی بحث کرتے ہیں جن میں باہمی تعلق اصول اور منطق کی حد تک ہوتا ہے لیکن ٹکراؤ کہیں نہیں جبکہ تمام مذاہب کا محور تصور خدا ہے جو گو اپنی کیفیت کے لحاظ سے مختلف مذاہب میں مختلف ضرور ہے لیک تمام ہی مذاہب کا مقصد انسان کو خدا سے ملانا ہے تاکہ وہ خدا کا تابعدار بنے لیکن ان میں تصور کے فرق کی وجہ سے باہمی ٹکراؤ کی کیفیت موجود ہے جو اشتعال کی شکل بھی لے لیتی ہے۔

۔ سائنس اور دیگر موجودات کے علوم میں دلیل کا پیرایہ اول مشاہداتی حقیقت اور پھر منطق ہے جبکہ مذہب میں دلیل کا پیرایہ اول نصوص اور پھر منطق ہے۔

۔ سائنس اور دیگر موجودات کے علوم میں کوئی بات حتمی نہیں اور مبادیات تک کا تحقیق و تجربہ سے رد کیا جاسکتا ہے جس پر سب کا اتفاق ہوتا ہے لیکن مذاہب میں سب کچھ حتمی ہے جس میں اختلاف سمجھ کے اختلاف کی وجہ سے ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا۔ اسلام واحد مذہب ہے جس میں مبادیات پر اختلاف نہیں مگر اس کے علاوہ تمام امور پر اختلاف در اختلاف ہے۔

۔ سائنس اور دیگر موجودات کے علوم کو براہ راست سمجھنا مانع نہیں اور غیر حتمیت کے تصور کے باعث اختلاف کو ثابت کرنے پر قبول کیا جاتا ہے جبکہ مذاہب میں علوم کو براہ راست سمجھنا معیوب ہے اور حتمیت کے تصور کی وجہ سے اختلاف قبول نہیں کیا جاتا جس سے ایک نیاء گروہ جنم لیتا ہے جو آگے چل کر نیاء فرقہ اور پھر نیاء مذہب تک بن جاتا ہے۔ اسلام میں اختلاف کرنے اور اسے قبول کروانے کا ایک مخصوص ضابطہ بہرحال موجود ہے جس پر آج بھی عمل ہو رہا ہے۔ مسلمانوں میں جہاں کہیں اختلاف قبول نہیں کیا گیا وہ صرف اس ضابطہ کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے ہوا۔ یہ ضابطہ اسلام کے چار فقہ احناف، ملکیہ، شوافع اور حنابلہ میں طے شدہ ہے۔

۔ ریاضی، طبعیات، فلسفہ اور منطق کے علاوہ سائنس اور دیگر موجودات کے علوم ایک دوسرے کا حوالہ بالعموم نہیں دیتے نہ ہی ایک دوسرے سے متعلق کچھ بھی ان کا موضوع ہوتا ہے جبکہ مذاہب میں موجودات کے کسی علم کا حوالہ عموماً نہیں لیکن ان کو جا بجا موضوع بنایا گیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس تقابل کی نوبت آجاتی ہے۔

ان چند مذکورہ تضادات کے بعد کسی ذی شعور کے لیے ان دو متضاد اصناف کا تقابل لایعنی بن جاتا ہے اور یہ سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ جس طرح سائنس، فلسفہ اور دیگر موجودات کے علوم کو مذہب سے سمجھا یا ثابت نہیں کیا جاسکتا اسی طرح مذہب کو سمجھنے اور ثابت کرنے کے لیے سائنس، فلسفہ اور دیگر موجودات کے علوم غیر متعلق ہیں مذہب کی کسوٹی نہیں۔

مذہب کی ضرورت کسی کو ہو نہ ہو مگر اس پر بات کرنے کے لیے اس سے متعلق سیر حاصل معلومات اور اس کے رموز و ضوابط کی آگہی ضروری ہے جو اس پر بحث کے لیے درکار ہو۔ عالم یہ ہے کہ سائنس، فلسفہ اور دیگر علوم کی تحصیل تو اعلیٰ تعلیمی اداروں اور کتب سے ہوتی ہے مگر ان کا تقابل اس مذہب سے کیا جاتا ہے جو بچپن میں گھر والوں یا ایسے پیشواء سے حاصل کیا تھا جسے چند بنیادی امور سے زیادہ علم ہی نہ تھا۔