ہم کامیاب کیوں نہیں ہوتے؟



نوکری یافتہ ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ آپ اپنے ہم عصروں سے ایک قدم آگے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اکثر سہیلیاں یا ملنے والے مجھے کہتے ہیں کوئی نوکری ہوتو بتانا۔ اگر چہ میں نے بے روزگاری کا سفر نہیں کاٹا مگر مجھے اندازہ ہے کہ پڑھائی سے نوکری تک کے سفر کے درمیان جتنی بے یقینی اور بے بسی ہوتی ہے وہ ہماری نسل کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ انسان اپنے آپ کو ناکارہ محسوس کرنے لگتا ہے گھر والوں اور دوستوں کی عام سی باتیں بھی چبھنے لگتی ہیں۔

یقین کریں دوستو! آج کل کے دور میں ویلا بیٹھا انسان کسی کو نہیں بھاتا۔ جب آپ کے آس پاس ترقی کے کام کرنے کے اتنے مواقع موجود ہوں اور آپ ایک مخصوص کام یا نوکری کرنے کی ضد لیے بیٹھے رہیں۔ خیر میں بتا رہی تھی کہ لوگ مجھے نوکریوں کے بارے میں بتانے کا کہتے ہیں اور میں بتاتی ہوں اس کے بعد شروع ہوتی ہے اصل کہانی۔ یہاں اب لوگوں کی تین اقسام ہیں پہلی وہ جو ہر نوکری کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں یہ تو اس جگہ پہ ہے آسامیاں کم ہیں میری قابلیت اتنی نہیں وغیرہ وغیرہ۔

دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو ہر قسم کی نوکریوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتے ہیں بار بار میسج کر کے پوچھیں گے کیسے اپلائی ہو گا؟ ویب سائٹ کون سی ہے؟ کئی دفعہ تو ایڈ  پڑھے بنا ہی پوچھا جاتا ہے تب ہنسی بھی آتی ہے اور غصہ بھی آتا ہے کہ بھئی آپ نے اتنے سال پڑھائی میں لگائے اور نوکری کے لیے اپلائی کرنا بھی نہ سیکھا؟ یا تو آپ اتنے ہی سنجیدہ ہیں نوکری حاصل کرنے کے لیے کہ اشتہار کو پڑھنا بھی گوارا نہیں کیا؟

پھر نوٹس اور کتابیں اکٹھی کر کے سرہانے رکھتے رہیں گے کہ پڑھنا ہے پڑھنا ہے لیکن پڑھیں گے نہیں۔ تیسری قسم ان لیجنڈز کی ہے جو ہر نوکری پر صرف اس لیے اپلائی کر دیں گے کہ اپلائی کرنا ہے لیکن نہ تیاری کریں گے اور نہ ٹیسٹ دینے جائیں گے۔ پڑھائی اور نوکری سے متعلق بہت سارے فیس بک اور واٹس ایپ گروپس کا حصہ ہوں گے لیکن نہ بھی ایکٹو ہو کر پڑھیں گے اور نہ کچھ سیکھیں گے۔ یہ ہم سب لوگوں کا المیہ ہے کہ جس نوکری پر ہمارے آنے والے مستقبل کا دار و مدار ہے اسے حاصل کرنے لیے ہماری سنجیدگی کا یہ عالم ہے۔

ذرا دیر کو بیٹھ کر یہ سوچنے کے بجائے کہ اس کے پاس نوکری ہے اس لیے یہ ایسی باتیں کر رہی ہے اپنی پڑھائی مکمل کرنے سے لے کر اب تک کے عرصے میں اپنی نوکری حاصل کرنے کے لیے کی گئی کوششوں کا جائزہ لیں۔ کیا اتنے سالوں میں آپ کو ایک بھی موقعہ نہیں ملا؟ یا آپ نے دیے گئے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں سنجیدگی نہیں دکھائی؟ کیا آپ نے اپنے آپ کو چیلنج دیا؟ اپنی ناپسندیدہ نوکری کر کے مگر اس سے کچھ سیکھ کر آگے بڑھے؟

کتنی پرائیویٹ نوکریاں سرکاری نوکری کی آس میں گنوائی کتنے کام کرنے کے مواقع اپنی تن آسانی کے ہاتھوں کھوئے؟ یاد رکھیں! چاہے آپ لڑکا ہیں یا لڑکی جب اٹھارہ سال کی عمر کے بعد آپ اپنے دیگر معاملات میں خود مختار ہو جاتے ہیں تو معاشی خود مختاری کو پہلے نمبر پر رکھیں۔ کسی چھوٹے کام سے شروع کریں مگر اپنا خرچہ آپ اٹھانے کی عادت بنائیں۔ سرکاری نوکری یا شادی کی آس میں اپنے سنہری سال مت گنوائیں۔ چاہے گھر سے کام کریں کسی چھوٹے پیمانے پر کام کریں مگر اپنے والدین پر بوجھ نہ بنیں۔ یاد رکھیں! دنیا میں خوش قسمتی نام کی چیز محض ایک فلسفہ ہے جب تک آپ کسی چیز کے حصول کے لیے محنت نہ کریں۔ ایک چھوٹے عرصے کے لیے اپنا ایک مقصد بنائیں اور اس کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کریں امید ہے آپ ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔

Facebook Comments HS