جامعات میں نشہ و جنسی استحصال کیوں بڑھ رہا ہے؟
کچھ عرصہ قبل چیئرمین ایچ ای سی پنجاب ڈاکٹر شاہد منیر سے ایک ملاقات کے دوران میں نے پوچھا کہ جامعات میں منشیات کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ نوجوان لڑکیوں کو یہ لت زیادہ لگ رہی ہے۔
موصوف نے پاؤں پر پانی ہی نا پڑنے دیا اور میرے اس سوال کو محض خام خیالی، الزام اور جامعات کے خلاف پروپیگنڈا قرار دے دیا۔
گزشتہ دنوں جنوبی پنجاب کی سب سے پرانی، تاریخی اور اہم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے جو خبریں، انکشافات اور واقعات سامنے آرہے ہیں اس نے پورے ملک کو تشویش لاحق کر دی ہے۔
مائیں اپنا زیور بیچ کر، باپ اپنی خاندانی زمین کے بدلے یا خون پسینے کی کمائی لوٹا کر، گھر والے اپنا پیٹ کاٹ کر اور سارے علاقے کی طرح طرح کی باتیں سن کر، اپنے دل پر پتھر رکھ کر بچیوں کو اعلی تعلیم و تربیت کے لیے یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہیں لیکن جب وہاں سے ایسی خوفناک خبریں آئیں کہ ہزاروں بچیوں کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز نکل آئی ہیں تو ان پر کیا گزرتی ہوگی؟
اعلی تعلیم و تربیت کے حصول کے لیے یونیورسٹی بھیجی گئی بچی اگر وہاں سے منشیات کی عادی، جنسی ہراسانی یا اپنی مرضی سے جنسی تعلقات کو اپنا حق سمجھنے کے مرض میں مبتلا ہو کر نکلے گی تو والدین کے لیے یہ انتہائی تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔
ہمارے معاشرے کو اخلاقیات کی اس پستی تک لانے میں سب سے زیادہ گندا کردار احساس کمتری کے مارے اس طبقے نے کیا ہے جسے مغرب کی ہر گندگی و غلاظت بھی جدت و ترقی نظر آتی ہے اور وہ ہر موقع پر ناجائز جنسی تعلقات، منشیات کا استعمال اور دیگر قباحتوں کو ذاتیات قرار دے کر اس بنیاد پر انسان کو اچھا یا برا قرار دینا دقیانوسی اور قدامت پسندی سے تعبیر کرتے ہیں۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں اعجاز شاہ نامی سیکیورٹی انچارج گرفتار ہوا تو پولیس نے اس سے منشیات و جنسی استعمال کی ادویات برآمدگی کا دعوی کیا۔ پولیس کے مطابق اس سے 5500 کے قریب تصاویر اور ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں جن کو فرانزک لیب بھجوا دیا گیا۔ اس گرفتاری کے بعد باقاعدہ پورے گینگ کے ہونے کا انکشاف ہوا جس کے بعد مزید گرفتاریاں ہوئیں، انتہائی خوفناک انکشافات ہوئے، سنگین الزام لگے اور پولیس نے منشیات فروشی و جنسی غلط کاری میں ملوث پائے جانے کا دعوی کیا۔
پولیس کے سنگین الزامات کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کو ماننے سے انکار کر دیا اور تاحال وہ اس کو اپنے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں۔
وائس چانسلر کا کہنا ہے اس نے اس یونیورسٹی میں 25 نئے ڈیپارٹمنٹ بنا کر یونیورسٹی میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ قائم کیا ہے اور مزید یہ کہ یونیورسٹی کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے میرے خلاف یہ سازش تیار کی گئی۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے نا صرف اپنی صفائی دی بلکہ پولیس کے لگائے گئے الزامات کے مرکزی ملزم اعجاز شاہ کے بارے میں بھی کھلے الفاظ میں گواہی دی کے وہ شخص گزشتہ 8 سال سے یونیورسٹی کا ملازم ہے لیکن اس دوران آج تک اس شخص کے خلاف کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔
پولیس کے دعوے اور انتظامیہ کے موقف میں الجھنا فطری سی بات تھی کیونکہ یہاں رنجش کا بدلہ لینے کا جھوٹے مقدمات سے بہتر کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہوتا۔ جھوٹے مقدمہ سے کسی کو اس کی سوچ سے زیادہ ننگا، گندا اور تنگ کیا جاسکتا ہے۔
اس معاملہ میں بہتر جامع اور مضبوط موقف اس یونیورسٹی کے بچوں اور بچیوں کا ہو سکتا ہے جن کے بارے میں یہ تمام الزامات اور معاملات بیان کیے جا رہے جا رہے ہیں۔
اس دن کے بعد میں نے یونیورسٹی کے متعدد طلباء و طالبات سے رابطے کیے اور ان کا موقف لینے کی کوشش کی۔
طالبات سے بات کر کے ایک بات کا شدت سے احساس ہوا کہ بچیاں بہت خوفزدہ اور ڈری ہوئی ہیں اور لوگوں کے عجیب و غریب رویے اور سوالات سے خوفزدہ ہیں۔
بہت ساری طالبات نے گھر والوں کی پریشانی کی بابت بھی آگاہ کیا کہ وہ بہت پریشان ہیں کہ پتا نہیں آنے والے دنوں میں کس کس کی بیٹی کی عزت تباہ ہوگی اور کس کس کی ویڈیو نکل آئے گی۔ بہت ساری طالبات کے والدین نے مارے خوف کے بچیوں کو یونیورسٹی بھیجنا چھوڑ دیا ہے۔
طلباء و طالبات کی اکثریت نے یونیورسٹی میں منشیات کے استعمال اور جنسی استحصال کی بابت لگے الزامات کو عرصہ دراز سے جاری معمول کے واقعات قرار دیا۔
زیادہ تر نے بتایا کہ جو لڑکیاں ایسے کام کرتی ہیں وہ ایسے کاموں کے عوض اپنے ناجائز مطالبات بھی منواتی ہیں اور یونیورسٹی میں اپنا ایک خصوصی مقام بنوانے یا غیر معمولی اہمیت حاصل کرنے کے لیے متعلقہ لوگوں کے بھی ناجائز مطالبات تسلیم کر لیتی ہیں۔
کچھ لڑکیاں اچھے نمبروں کے لالچ، فیس میں رعایت یا ہاسٹل میں پروٹوکول حاصل کرنے کے لیے بھی اپنی اداؤں کا خوب استعمال کرتی ہیں۔
طالبات کا کہنا تھا کہ کچھ لڑکیوں کا متعلقہ لوگوں سے دوستیاں لگانا اور ان کے لیے سامان تفریح بننا باقی لڑکیوں کے جائز کاموں کے آگے بھی رکاوٹ بن جاتا ہے کیونکہ متعلقہ لوگ پھر ہر لڑکی سے یہی توقعات لگائے رکھتے ہیں اور ناجائز مطالبات پورے نا کرنے کی صورت میں جائز کاموں میں بھی ہر ممکن رکاوٹ ڈالتے ہیں اور جس کا جو اختیار ہوتا ہے وہ اس کا استعمال کرتے ہیں۔
طالبات کا کہنا تھا کہ تمام لوگ ایسے بھی نہیں ہیں کچھ لوگ بہت اچھے اور ایماندار بھی ہیں۔
یونیورسٹی کی ایک انتہائی فعال تنظیم کے لیڈر اور کچھ لڑکیوں نے مجھے بتایا کہ منشیات بیچنے والے لوگ اس کی عادی لڑکیوں کی مجبوری کا زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور انہیں منشیات پہنچاتے وقت اس کے ثبوت لے لیتے ہیں پھر ان کی وجہ سے سنگین نتائج، یونیورسٹی سے نکلوانے، پولیس کے حوالے کرنے اور والدین کو کرتوتیں بتانے کی دھمکیاں دے کر اپنی باتیں منوا لیتے ہیں۔
منشیات کی عادی لڑکیوں کے پاس کئی دفعہ منشیات خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے تو پھر یہ بیوپاری عزت نیلام کروا کر منشیات مہیا کرتے ہیں۔
لڑکیوں کو یہی لوگ جسم فروشی کے لیے ایمبولینسز کے ذریعے لوگوں کے بستروں تک پہنچاتے ہیں تاکہ باقی لوگوں کو یہی لگے کہ بچیاں بیمار ہو کر ہسپتال گئی ہیں۔
سیکیورٹی ملازمین کی اکثریت اپنی ڈیوٹی کے بعد رکشہ چلاتے ہیں اس وجہ سے یونیورسٹی کے آس پاس زیادہ تر رکشہ والے جب لڑکیوں کو کہیں ڈراپ کرنے جاتے ہیں تو اگر لڑکی کسی لڑکے کو ملنے باہر جائے یا کسی کے پاس بیٹھے تو اس کی ویڈیوز بنا لی جاتی ہیں اور پھر انہیں اس بنیاد پر بھی ڈرا دھمکا کر اپنی باتیں ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
میں نے ان سے کہا کہ اگر معاملات ایسے تھے تو آج تک اس سیکیورٹی انچارج کے خلاف ایک شکایت تک نہیں ہوئی جس پر انہوں نے اس بات کو جھوٹ قرار دیا اور بتایا کہ چند سال پہلے باقاعدہ اس کے خلاف پوری یونیورسٹی میں تحریک چلائی گئی تھی جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے اس تحریک کے سرگرم لوگوں کو تنگ کروانے کے لیے ان کے خلاف جھوٹی منشیات فروشی کی خفیہ اداروں کو رپورٹس دیں تاکہ ان بچوں کو مزہ چکھایا جا سکے لیکن جب اداروں نے تحقیقات کیں تو معاملہ اس کے برعکس نکل آیا اور اداروں نے الٹی ان کے ہی خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔
الزام ان کو دیتے تھے
قصور اپنا نکل آیا
گورنر پنجاب بلیغ الرحمن کو اپنے شہر کی یونیورسٹی کی حالت پر ترس کھاتے ہوئے معاملہ کی اعلی سطح پر تحقیقات کروانی چاہئیں وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کو چاہیے کہ ملک بھر کے کالجز اور یونیورسٹیوں میں طلباء و طالبات کے ٹیسٹ کرنا ضروری قرار دیے جائیں تاکہ منشیات کے عادی لوگوں سے باقی بچوں کو بچایا جا سکے۔
اگر اب بھی یہ اقدامات نا کیے جا سکے تو معاملات قابو سے باہر ہوجائیں گے۔


