چینی و روسی خارجہ پالیسی کے تضادات


کبھی کبھی لگتا ہے کہ اللہ نے جب یہ کائنات تخلیق کی ہوگی تو شاید اس کا آغاز برصغیر سے کیا ہو گا۔ جتنی خوبصورتی و رعنائی اور دلکشی اس خطے کو عطا کردی کہ اس کو کل عالم کے لئے نمونہ بنا دیا اسی وجہ سے لوگ اس خطے کی فتوحات پہ ہزارہا ہزار میل کا سفر کرتے کرتے پہنچتے اکثر تو ہانپتے کانپتے کہیں راہوں میں ہی مارے جاتے اور جو خوش نصیب اس میں بطور فاتح داخل ہوتے تو وہ بھی چند سو سال کے اندر اسی کے ہو جاتے۔ بہرحال آج بھی یہی جذبہ وقتی تقاضوں کے مطابق محو استعمال ہے۔

روسیوں کا بھی گرم پانیوں تک حصول ہی دراصل وجہ تھی جس کی وجہ سے انہوں نے افغانستان کو تاراج کیا پھر جو ہوا وہ سب کو معلوم ہے اب اسی گرم پانی کی تلاش میں ہی یوکرائن کے محاذ پہ پچھلے ڈیڑھ سال سے سر بھٹک رہا ہے مگر کامیابی کے امکانات روز بروز معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ وقت کئی مرتبہ ثابت کرچکا ہے کہ طاقت کے بے جا استعمال سے مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جاسکتا بلکہ باہمی مشاورت اور اشتراک عمل سے ہی آگاہی کی راہیں وا ہوتی ہیں۔

بڑا پن دکھانے کے لئے بعض اوقات تھوڑا جھکنا بھی پڑ جاتا ہے جس سے آپ کے قد و قامت میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ زور آزمائی سے آپ کا کمزور و ناتواں ہمسایہ ہو سکتا ہے کہ آپ کا بازو اگر توڑنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو تو کم از کم مروڑ ضرور دے گا۔ دنیا میں کاروبار بڑھانے کے لئے مارکیٹنگ کرنا لازم ہے اور یہ کام بھی وہیں کامیاب ہو سکتا ہے جن ممالک کے ساتھ آپ کے تعلقات دوستانہ ہوں اور ان تعلقات کو استوار کرنے کے لئے لازم ہے کہ آپ ان کی خواہشات اور معاملات کی نزاکتوں کو سمجھیں اور پہلے سے جن مشکلات میں وہ پھنسے ہوئے ہیں ان کی مدد و تائید کی جائے۔

بالکل اسی پالیسی پہ چینی حکومت عمل پیرا نظر آتی ہے۔ انہوں نے 2017 میں اپنی پارلیمان میں ایک قانون بنایا جس کے تحت وہ دنیا کے ساتھ خیر خواہی کا ہاتھ بڑھانے آگے بڑھانے کے لیے روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کا آغاز کیا۔ اس کے تحت وہ چین سے دور ہزارہا میل دور تک روڈ بنائیں گے جس سے کاروبار تیز ہو گا اسی نظریے کے مطابق انہوں نے پاکستان میں CPEC منصوبے کا آغاز کیا، وسط ایشیائی ریاستوں کے ذریعے یورپ کے ساتھ روڈ کا منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے، ادھر مشرق وسطیٰ کو کسی صورت کوئی نظرانداز نہیں کر سکتا اس کے لازم تھا کہ سعودی عرب اور ایران کے مابین جو ایک طویل اور گہری سردمہری تھی اس کا خاتمہ کرایا جائے، شام کے اندر ترقیاتی کام کا بیڑا اٹھایا جائے، فلسطین اور اسرائیل کے مابین کوئی پائیدار امن معاہدہ کیا جائے جو خطے کی سلامتی و خوشحالی کا ضامن ہو۔ سعودی ایرانی امن و سلامتی معاہدے کا دائرہ کار متحدہ عرب امارات، یمن، لبنان، عراق و لیبیا تک کارآمد ہو سکتا ہے اس سے شام میں جاری بارہ سالہ خون آشامی میں بھی خاصی نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ خاک و خون میں بکھرتی لاشوں کے بجائے اب وہاں گل و لالہ کھلنا شروع ہوچکے ہیں۔

چین نے عقل دانش مندی اور تدبر اخلاق سے مزین جو پالیسی مرتب کی ہے وہ دنیا کے لئے مشعل راہ ہے۔ اس نے اپنی پالیسی کو بڑھانے کے لیے تین اہم ترین پہلو مدنظر رکھے ہیں اولا ”بذریعہ سڑک کا نظام، دوئم سمندری راستوں کا انتخاب اور وہاں قابل بھروسا عملداری، سوئم انٹرنیٹ کے ذریعے مواصلاتی نظام جو اس کے اور دوستوں کے مابین طویل عملداری قائم رکھنے کے کام آئے گا۔ اس سے ڈیٹابیس بھی قائم کرنے اور اس کی بنیاد پہ آئندہ کے لائحہ عمل کی راہیں استوار ہوں گی۔

کیونکہ وقت آن پہنچا ہے کہ محض تیل و گیس پہ یکسر انحصار نہیں کیا جاسکتا اگرچہ اس کی فی الحال نمایاں ضرورت ہے مگر مستقبل بین خطرات کی مطابق مستقبل سولر انرجی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے منصوبہ جات میں ہے جہاں صاف توانائی پہ دنیا بھروسا کرے گی وقت نے موجودہ ایندھن کو ماحول دوست نہیں پایا جو نہ صرف انسان بلکہ ماحول کی خرابی کا منبع ہے۔

چین نے اپنا دائرہ اثر قائم کرنے کے لئے جو پالیسی بنا کر عملدرآمد شروع کیا کاش وہ روسیوں کو بھی کبھی اتنا سوچنے سمجھنے کا موقع ملتا تو بہت سے جنگی تباہ کاریوں سے بچا جاسکتا تھا مگر ہوا نہیں ایسا اور اب بھی اس کے امکانات کم ہی نظر آتے ہیں۔

Facebook Comments HS