دانشور سورن کرکیکارڈ کی زندگی کے چند راز


یورپ کے سفر کے دوران جب میری ادیب ’شاعر اور جرنلسٹ دوست نصر ملک سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے سورن کرکیگارڈ کی ڈائری تحفے کے طور پر پیش کی۔ یہ ڈائری پیٹر روڈے کی تالیف ہے۔ پیٹر روڈے نے سورن کرکیگارڈ کی ڈائری کے دس ہزار صفحات میں سے دو سو صفحات کا چناؤ کر کے انہیں چھپوایا تا کہ کرکیگارڈ کے مجھ جیسے پرستاروں کو ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہو سکے۔ ڈائری کے یہ صفحات کرکیگارڈ کے جذبات‘ خیالات اور نظریات کا بھرپور اظہار ہیں جو ہمارا کرکیگارڈ ایک فلسفی اور دانشور سے تعارف کرواتے ہیں۔ میں ’ہم سب‘ کے قارئین کے لیے کرکیگارڈ کی ڈائری کے چند صفحات کا ترجمہ اور تلخیص پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے ان صفحات کو پڑھ کر آپ کے دل میں بھی میرے دل کی طرح دانشور کرکیگارڈ کو مزید جاننے کی خواہش سرگوشی کرے۔

سورن کرکیگارڈ کو اکیسویں صدی کے فلسفی وجودیت کے فلسفے کا بانی سمجھتے ہیں یہ علیحدہ بات کہ کرکیگارڈ کے دور میں لوگ EXISTENTIALISM کی اصطلاح سے نابلد تھے۔ کرکیگارڈ نے جس فلسفے کی بنیاد رکھی تھی اس پر ژاں پال سارتر نے ایک بلند و بالا عمارت تعمیر کی تھی۔ میں نے تراجم کے نیچے تاریخ بھی لکھ دی ہے تا کہ آپ کو اندازہ ہو کہ کرکیگارڈ نے دانائی کی یہ باتیں کب اپنی ڈائری میں رقم کی تھیں

دھوکہ

نجانے کتنے انسان اپنی ساری زندگی ایک ایسے طالب علم کی طرح گزار دیتے ہیں جو امتحان میں ساتھ بیٹھے دوست کے جواب بغیر سوچے سمجھے نقل کر لیتے ہیں اور دل ہی دل میں خوش ہو رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے استاد کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ 1837

دیوانگی

یہ کیسی دیوانگی ہے کہ میں ابھی ایک خیال کو پوری طرح رقم نہیں کر پاتا کہ اس کے پیچھے آنے والا دوسرا خیال میرے سامنے آ جاتا ہے اور میں اس میں کھو جاتا ہوں۔ 1837

آزادی

یہ کتنی دلچسپ بات ہے کہ نجانے کتنے انسان دوسروں سے اظہار کی آزادی مانگتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ گفتار کی آزادی سے زیادہ اہم افکار کی آزادی ہے جس کے لیے کسی خارجی اجازت کی ضرورت نہیں 1838

اداسی

ویسے تو میری بہت سے لوگوں سے سطحی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن میری ایک ہمراز بھی ہے جس کا نام اداسی ہے۔ میں جب بھی کسی محفل یا تقریب میں کسی انجانی خوشی سے ہمکلام ہوتا ہوں اداسی خاموشی سے مجھے اشارہ کرتی ہے اور میں خوشی کو چھوڑ کر اداسی کی خدمت میں حاضر ہو جاتا ہوں۔ میں یہ سب اس لیے کرتا ہوں کیونکہ اداسی میری دیرینہ اور باوفا محبوبہ ہے۔ 1841

تنہائی
ایک وہ دور تھا جب تنہائی ایک رحمت سمجھی جاتی تھی، ایک یہ دور ہے کہ تنہائی ایک زحمت بن گئی ہے۔ ایک وہ دور تھا جب تنہا رہنا جنت سمجھا جاتا تھا، ایک یہ دور ہے کہ جب تنہا رہنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ کسی جیل میں ہے۔ 1847

والد

بچپن میں میرے والد فوت ہو گئے۔ ان کی موت نے مجھے دکھی کر دیا اور پھر وہ دکھ میرے دل کا مستقل باسی بن گیا۔ میں اس دکھ کا کسی سے بھی ذکر نہیں کرتا کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی اور انسان میرے اس ذاتی اور داخلی دکھ کو سمجھ سکتا ہے۔

خدا

ساری دنیا کے سینکڑوں ہزاروں لاکھوں انسان صرف اس لیے خدا پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ بچپن میں ان کے والد نے انہیں بتایا تھا کہ خدا موجود ہے۔ 1848

مذہب

کسی بھی مذہب کے حوالے سے اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے جب ایک عورت کو ایک مرد خدا کے نام پر مذہب سکھا رہا ہو اور پھر اس پر یہ راز منکشف ہو کہ خدا سے محبت کے پیچھے اس مرد کی اپنی محبت چھپی ہوئی تھی۔ 1848

ڈاکٹر

میں نے اپنے ڈاکٹر سے کہا کہ بچپن سے میرے جسم اور روح میں ایک تضاد چلا آ رہا ہے جو مجھے دکھی رکھتا ہے۔ کیا میں اس تضاد کو اپنی قوت ارادی سے حل کر سکتا ہوں؟ میرے ڈاکٹر نے کہا نہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔ اگر تم نے اس کی کوشش کی تو تم ایک نفسیاتی بحران کا شکار ہو جاؤ گے۔ 1846

کتاب

آج کے دور میں کسی کا کتاب لکھنا اور چھپوانا ایک بے معنی کام ہو چکا ہے کیونکہ بہت سے لوگ ایسے موضوعات پر کتاب لکھنے لگے ہیں جن کے بارے میں انہوں نے نہ تو زیادہ غور و تفکر کیا ہے اور نہ ہی ان کا ان کی زندگی کے تجربے سے کوئی گہرا رشتہ ہے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میں صرف ان لکھاریوں کی کتابیں پڑھوں گا جنہوں نے اپنی کتاب کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی ہو یا انہیں ناقدین اور روایتی قارئین نے سولی پر چڑھا دیا ہو۔ 1846

تنہا رہنا

کسی بھی انسان کی شخصیت کے قد اور بلوغت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کتنا عرصہ تنہا زندگی گزار سکتا ہے اور اس بات سے بے نیاز ہو سکتا ہے کہ لوگ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ 1854

سچ

ہر دور میں سچ اقلیت کے پاس ہوتا ہے اور ایسی اقلیت روایتی اکثریت سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ اکثریت اپنی تعداد کی وجہ سے طاقتور دکھائی دیتی ہے۔ جب اکثریت اس اقلیت کے سچ کو قبول کرنے لگتی ہے تو اس سچ میں آلائشیں شامل کر دیتی ہے اور سچ کو ناخالص بنا دیتی ہے۔ اس صورت میں نیا سچ ایک نئی اقلیت کے پاس چلا جاتا ہے۔ 1850

پادری

ایک پادری عوام کو نیکی کی تبلیغ کرتا ہے لیکن اس پر خود عمل نہیں کرتا۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ ایک پولیس افسر خود تو چوریاں کرتا کرے لیکن عوام کو بھاشن دیتا پھرے کہ چوری کرنا سنگین جرم ہے۔ 1851

کامیابی

میری کامیابی کا یہ مطلب نہیں کہ میں کامیاب ہوا ہوں۔ میری کامیابی یہ ہے کہ میری وجہ سے ایک سچا خیال یا نظریہ کامیاب ہوا ہے چاہے اس کامیابی میں مجھے اپنی جان کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑی ہو۔ 1846

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail