(ایک ایبسرڈ قصہ) شمال کا پیامبر


بوتھم گڈا شمال کا لائٹ ہاؤس کیپر ہے۔ ناٹا قد، الجھے بال، حرکات میں پھرتی و چابک دستی، چہرے پر ایک بے سبب انکسار۔ صورت پر ٹھوس نروان جنوباً شمالاً تنا ہے، جو فوٹون کی طرح کبھی متحجر ہوتا ہے، تو کبھی لہر کی طرح ملگجا کر ایک حیران بدھا کا تاثر دیتا ہے۔ وہ بصارت کے اعتبار سے نارتھ سائٹڈ ہے، اور اس کے نظری ڈاکٹر نے اسے دور دیکھنے کے لئے نزدیک کا چشمہ دے رکھا ہے۔ وہ ایک ہی بات ایک ہزار دو سو گیارہ دفعہ دہرا سکتا ہے۔

اس کے لائٹ ہاؤس میں ایک دیو ہیکل ٹیلی سکوپ ہے جس کا رخ زمین کی جانب ہے۔ لائٹ ہاؤس کے چاروں طرف تیر کے نشام لگے ہیں جن کا رخ زمین کی جانب ہے، جن پر ظاہری حروف سے ”قطب شمالی“ لکھا ہے۔ اس کے لائٹ۔ ہاؤس کے دروازے پر ایک عدالتی حکم نامہ آویزاں ہے، جس پر جنوب سے شمال کی جانب اٹھتی تحریر میں لکھا ہے : قطب شمالی کہاں ہے؟ پوچھنے والے کو تا عمر جنوب تا شمال پیدل لایا، لے جایا جائے گا


آج بوتھم بہت چاق و چوبند اور بشاش ہے، جس پر اسے کچھ غصہ اور شرمندگی بھی ہے۔ اور ہو بھی کیوں نہ، ایک بات کو وہ ایک کروڑ ایک سو ایک ویں دفعہ ایک ایسے مجمعے کے سامنے دہرانے جا رہا ہے، جو پہلے ہی سے وہ بات تسلیم کرتا ہے۔

بوتھم لائٹ ہاؤس کی بالکونی میں نکل کر نیچے لگی کرسیوں کی جانب دیکھتا ہے جو ہنوز خالی ہیں۔ وہ نگاہ اٹھا کر دیکھتا ہے تو دور افق پر اسے ایک نکتہ سا حرکت کرتا نظر آتا ہے۔ جلد ہی یہ نکتہ بڑھتے بڑھتے ایک انسانی ہیولے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پھر یہ ہیولا ایک انسانی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ آج کی محفل کے شرکاء میں سے اول ہے۔ یہ شخص آ کر خاموشی سے ایک نشست سنبھال کر اوپر بوتھم کی جانب دیکھنے لگتا ہے، جو اسی کی طرف دیکھ رہا ہے۔

پھر ایک ایک کر کے شرکاء آتے جاتے ہیں، یہاں تک کہ کرسیاں بھر جاتی ہیں۔ کچھ شرکا کھڑے بھی ہیں۔ سب کے چہرے پر ایک بیزار اشتیاق ہے، جس کے سبب وہ جماہیاں لیتے بڑی توجہ سے بالکونی کی طرف ایک ٹک دیکھتے اونگھ رہے ہیں۔ بوتھم بالکونی میں کھڑا اپنی نبوت سے بے نیاز پیغمبر کی طرح مجمعے کی طرف، بلا تاثر دیکھ رہا ہے۔ مجمع چہ میگوئیوں میں مصروف ہے۔ یک لخت بوتھم اپنے دونوں ہاتھ اوپر بلند کر کے مجمعے کو سکوت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ مجمع خاموش ہوجاتا ہے۔ بوتھم مجمعے کی جانب دیکھ کر تقریر کا آغاز کرتا ہے :

شمال میں کھڑے ہو کر یہ سوال کرنا کہ شمال کہاں ہے، اس سے بڑی کسی حماقت کا تصور کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس سے بڑھ کر کوئی گناہ، مقدس الفاظ کی کوئی بے حرمتی، انسانیت کی تاریخ میں ہوئی ہوگی؟ مجمع جماہیاں لیتا، مشینی انداز سے نفی و اثبات میں سر ہلا رہا ہے۔ بوتھم دونوں ہاتھ اٹھا کر تقریر کے خاتمے کا اعلان کرتا ہے۔

:مجمع خاموشی سے اٹھ کر لائٹ ہاؤس کی طرف بڑھتا ہے اور کلاک وائز اس کا طواف شروع کر دیتا ہے۔ سب کہتے جا رہے ہیں

! شمال سے شمال کا پوچھنا حماقت ہے
! حماقت ہے! حماقت ہے! حماقت ہے! حماقت ہے
بوتھم اندر جا چکا ہے

Facebook Comments HS