شادی یا گڑیوں کا کھیل


چار بچوں کی ماں 27 سالہ سیما غلام حیدر نے پاکستان سے بھاگ کر ہندوستان میں سچن مینا نامی شخص سے شادی کرلی۔ پب جی کھیلتے کھیلتے دونوں کے درمیان محبت ہو گئی جس کے خاطر سیما نے اپنے شوہر ہی کیا اپنے مذہب اسلام تک کو چھوڑ کر ہندو دھرم اختیار کر لیا۔

ایک ہندوستانی لڑکی دو بچوں کی ماں انجو، اپنے فیس بکی دوست نصیر اللہ سے ملنے ضلع دیر بالا، صوبہ خیبر پختونخوا پہنچ گئیں۔ میڈیا کے مطابق اس نے عیسائیت ترک کر کے اسلام قبول کیا اور نصیر اللہ کے ساتھ باقاعدہ نکاح بھی کر لیا۔

یہ کیا ماجرا ہے؟
اس طرح کے واقعات کو دیکھ کر ذہن ماؤف ہوجاتا ہے۔
محبت اتنی بھی اندھی نہیں ہونی چاہیے۔
نہ زمان کی پروا
نہ مکان کی پروا
نہ مذہب کی پروا
نہ عمر کی پروا
نہ پس منظر کی پروا۔
یہ محبت ہے کہ حماقت؟
یہ اعتماد ہے کہ جہالت؟
کم ازکم صورت تو قابل قبول ہونی چاہیے۔

شادی کوئی کھیل ہے کہ بس چند باتیں کر کے سرحدات اور حدودات تک روند ڈالا جائے۔ یہ محض دو بندوں کا کوئی جذباتی اور جاہلانہ تعلق نہیں بلکہ دو خاندانوں کا ملاپ ہوتا ہے جس کی بنیاد اعتماد، بھروسا اور ممکن حد تک مستقبل تک کا تحفظ ہے۔

یہ رشتہ بہت پاکیزہ، بہت سنجیدہ اور بہت گہرا ہے۔ یہ معاملہ نسلوں کی بقا کا ہے۔
میڈیا نے بہت ساری چیزوں کو نارملائز کرایا۔
بھاڑ میں جائے کوئی تہذیب، کوئی کلچر، کوئی اقدار اور کوئی روایات و آداب۔
بغاوت کی یہ روش ہرگز بھی قابل قبول اور قابل ستائش نہیں۔
یہ حوصلہ افزائی تباہی لاتی ہے۔ جو دروازہ معمولی کھل جائے تو پھر چوکھٹ کھلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
تاویلات بہت
وکالتیں بہت
وضاحتیں بہت
صفائیاں اور دلائل بہت

لیکن ہزاروں چیزوں کے لئے یہی ایک ٹھوس دلیل کافی ہے کہ اگر محبت نامی چیز واقعی اتنی آندھی ہوتی ہے تو اس کے زیر اثر فیصلے کرنا اور وہ بھی زندگی بھر کے لیے تو یہ تو سراسر حماقت اور جہالت ہے جو فرحت اور سکون تو ہرگز بھی نہیں لا سکتی۔ آنکھیں بند کر کے چلنے کا انجام تو گہری کھائی میں گرنا ہی ہوتا ہے۔

اللہ کے بندو،

بچوں کے ماؤں کا صرف باتوں پر اعتبار کر کے گھر کی چوکھٹ ہی کیا سرحدات تک روند ڈالنا محبت اور وقار ہرگز نہیں بلکہ اسے بے حیائی، بے شرمی، بے وفائی اور بغاوت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اپنے ہم مذہب، ہم وطن، ہم شکل، ہم زباں اور بچوں کے باپ کو دغا دینی والی عورت لائق اعتبار کیسی ہو سکتی ہے کہ اسے عمر بھر کا ساتھی چنا جائے۔

یہ عورت پاکستانی ہے یا ہندوستانی قابل رحم ہے اور اسے کوئی نفسیاتی عارضہ لاحق ہے۔
جو مرد ہے اور قبولیت کے لیے بے تاب ہے وہ یا تو نادان اور کم عقل ہے اور یا اس کے مقاصد کچھ اور ہیں۔

دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔ لیکن یہ عمل کم ازکم قابل تعریف، قابل فخر اور قابل تقلید تو ہر گز بھی نہیں۔

پاکستانی سیما کے شوہر نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق سندھ کے ضلع خیرپور سے ہے اور وہ کافی عرصے سے روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ ان کے مطابق ان کی اپنی اہلیہ سے محبت کی شادی ہوئی تھی جس میں گھر والوں کی رضامندی شامل نہیں تھی مگر بعد میں برادری کے فیصلے کے بعد سب راضی ہو گئے تھے۔ اس نے کراچی میں ذاتی گھر بھی خریدا تھا جسے اس کی بیوی نے فروخت کر کے رقم ساتھ لے کر بھاگ گئیں۔

انجو (فاطمہ) کے والد گایا پرساد تھامس نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’جس طرح سے وہ اپنے دو بچوں اور شوہر کو پیچھے چھوڑ کر بھاگی ہے، اس نے تو اپنے بچوں تک کا نہیں سوچا، اگر انجو کو یہی کرنا تھا تو پہلے اپنے پہلے شوہر سے طلاق لیتی، اب وہ ہمارے لیے مر گئی ہے‘ ۔

انہوں نے کہا کہ ’میں بھارتی حکومت سے اپنی بیٹی کو پاکستان سے واپس بھارت لانے کی اپیل نہیں کروں گا، میری درخواست ہے کہ اسے پاکستان میں ہی مرنے دیں‘ ۔

لڑکی کے والد کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کے بچوں کا کیا ہو گا، شوہر کا کیا ہو گا؟ اس کی 13 برس کی بیٹی اور پانچ برس کے بیٹے کا کیا ہو گا؟ اس نے اپنے بچوں کا اور شوہر کا مستقبل برباد کر دیا‘ ۔

بے بس شوہر اور لاچار باپ کی باتوں میں غور و فکر کے لیے کافی چیزیں موجود ہیں۔
عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS