ذیابیطس یا شوگر


ذیابیطس یا شوگر ایک ایسا مرض جس میں انسانی بدن اپنے نظام ہضم میں اضافی شوگر (گلوکوز) کو بذریعہ انسولین کنٹرول کرتا ہے۔ اگر اسے آسان لفظوں میں بیان کیا جائے تو یہ صحت کی ایک ایسی حالت ہے جس میں انسانی بدن خوراک کو توانائی میں تبدیل کرنے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس میں خوراک کو جو ہم کھاتے ہیں کو گلوکوز میں تبدیل کرنے کے عمل کا نام ہے۔ جب انسانی بدن میں خوراک کے ہاضمے کے دوران شوگر کا لیول بڑھ جائے تو ہمارا لبلبہ انسولین کو جاری کرتا ہے جو اس کی مقدار کو ایک خاص لیول پر لانے کے لئے اثر انداز ہوتی ہے۔ شوگر کے مرض کی تین اقسام ہے۔ پہلی قسم کی شوگر یا ٹائپ اے، دوسری قسم کی شوگر یا ٹائپ بی اور تیسری قسم گیسٹیشنل شوگر کی ہے یہ حاملہ عورتوں کو حمل کے دوران لاحق ہوتی ہے۔

ذیابیطس کیسے ہوتی ہے؟ اس پر تحقیق جاری ہے اور حتمی رائے ابھی تک قائم نہیں کی جا سکتی کہ یہ بیماری کیسے انسان کو لاحق ہوتی ہے۔ تاہم خون میں شوگر کا بڑھ جانا اور لبلبہ کا انسولین کی پیداوار میں کمی کرنا ہی اس کے بنیادی عوامل میں شامل ہیں۔ ذیابیطس کی دونوں قسمیں ٹائپ اے اور بی جینیاتی طور یا ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کے باعث لاحق ہو سکتی ہیں۔ یہ کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے۔ ذیابیطس کی مندرجہ ذیل نشانیوں پر گہری نظر رکھنی چائے۔

1۔ بار بار پیشاب آنا
2۔ بار بار پیاس لگنا
3۔ بار بار بھوک لگنا
4۔ تھکاوٹ، کمزوری و فٹیگ کا محسوس ہونا
5۔ بدن میں سوئیوں کی چبھن محسوس ہونا
6۔ نظر کا دھندلا جانا
7۔ جلد پر بار بار خارش ہونا
8۔ زخم کا سست رفتاری سے صحت یاب ہونا
9۔ جلد کی انفیکشن میں اضافہ
10۔ انسانی رویے میں غیر متوقع تبدیلی

ابھی تک اس بیماری کا علاج تو دریافت تو نہیں ہو سکا لیکن سائنسدان وزن کم کرنے اور متوازن غذا کے علاوہ روزانہ ورزش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اچھی و متوازن غذا کے علاوہ فائبر سے بھرپور غذا کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے۔ ذیابیطس سے آنکھوں، گردوں، قلب اور اعصاب کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے۔ اس سے کینسر کے کچھ امراض کے پھیلنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ شوگر کی دونوں اقسام ٹائپ اے اور بی میں کیا فرق ہے؟

ٹائپ اے ذیابیطس

اس میں انسانی جسم تھوڑی مقدار میں انسولین پیدا کرتا ہے یا بالکل پیدا نہیں کرتا۔ جس سے مدافعتی نظام کمزور پڑھنے سے لبلبہ پر حملہ ہوتا ہے اور انسولین بنانے والے خلیے تباہ ہو جاتے ہیں۔ اس ٹائپ کی ذیابیطس اکثر بچوں اور نوجوانوں میں تشخیص ہوتی ہے۔ لیکن یہ کسی بھی عمر میں لاحق ہو سکتی ہے۔ جن مریضوں میں اس کی تشخیص ہو تو انہیں ہر روز انسولین لینی پڑھتی ہے۔

ٹائپ بی ذیابیطس

اگر کوئی اس ٹائپ کی ذیابیطس کا مریض ہے تو اس میں انسانی جسم اتنی مقدار میں انسولین پیدا نہیں کرتا جتنی اسے ضرورت ہوتی ہے۔ اس قسم کی ذیابیطس عام ہے۔ اگر آپ موٹاپے سے متاثر ہیں یا ذیابیطس کے متاثرہ خاندانی پس منظر والے مریض ہیں تو یہ آپ کو کسی عمر میں لاحق ہو سکتی ہے۔ آپ اس سے صحت مندانہ ماحول و غذا، ورزش اور وزن کم کرنے سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔

گیسٹیشنل ذیابیطس

اس قسم کی ذیابیطس اکثر حاملہ خواتین کو لاحق ہوتی ہے اور بچے کے پیدائش کے بعد اکثر مائیں خود بخود اس سے صحت یاب ہو جاتی ہیں۔ لیکن اگر یہ بچے کے پیدائش کے بعد بھی رہے تو پھر عمر کے کسی دور میں دوبارہ بی ٹائپ ذیابیطس لاحق ہو سکتی ہے۔ حاملہ عورتوں میں دوران حمل اس کی تشخیص ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ وہ لوگ جو موٹاپے کا شکار ہیں اور جن کے خون میں گلوکوز کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔ لیکن ابھی تک ٹائپ بی ذیابیطس کی ان کی تشخیص نہیں ہوئی تو انہیں ”پری ذیابیطس“ کے مریض کہا جاتا ہے جن کو بی ٹائپ کی ذیابیطس کا مرض مستقبل میں لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ان کو ہارٹ اٹیک کا خدشہ بھی خطرہ بڑ جاتا ہے۔

دوسری اقسام کی ذیابیطس

ذیابیطس کی ایک اور قسم اتنی زیادہ پہچان نہیں رکھتی اسے ”مونو جینک ذیابیطس“ کہا جاتا ہے۔ جو ایک جین کی تبدیلی کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔

ذیابیطس سے کیسے نپٹا جا سکتا ہے؟ اس کی روک تھام میں ایسے چند ضروری اقدام لینے چاہیے جن میں سر فہرست وزن کم کرنا، روزانہ کی بنیاد پر ورزش کرنا، صحت مند خوراک کا استعمال اور سگریٹ سے پرہیز لازمی امور ہیں۔ اس کے لئے ہم سب کو اکٹھے مل کر اس مرض سے لڑنا ہو گا۔ ایک دوسرے کو اس بارے آگاہ کرنا ہو گا۔ صحت مند معاشرے کے لئے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لینا ہی احسن عمل ہے۔

Facebook Comments HS