کس نے زیادہ خون بہایا؟ مذہب یا دہریت


پاکستان مذہبی دہشت گردی کے ہاتھوں ایک قیامت سے گزرا ہے۔ ہزاروں پاکستانیوں کی شہادت ایسا واقعہ نہیں جسے ہم فراموش کر سکیں۔ اور جیسا کہ خاکسار نے گزشتہ کالم میں عرض کی تھی کہ ایک مرتبہ پھر یہ المیہ زور پکڑ رہا ہے۔ ہمارے مشرق میں افغانستان ہے اور وہاں کچھ دہائیوں سے طالبان کے نام نہاد جہاد نے تباہی پھیلائی ہوئی ہے۔ قتل و غارت اور المیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جس نے اس ملک کو اپنے جبڑوں میں دبا رکھا ہے۔ ایک اور ہمسایہ ایران ہے اور جب وہاں پر 1979 کا مذہبی انقلاب آیا تو اس کے بعد بہت سے لوگوں کو سڑکوں پر گولیاں مار کر سزائے موت دی گئی۔ ہمارے مغرب میں بھارت ہے اور وہاں پر جب سے ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کا سیاسی غلبہ شروع ہوا ہے مسلمان مذہبی منافرت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ داعش کی بربریت ابھی ذہنوں میں تازہ ہے۔ جب ہم قدیم تاریخ پڑھتے ہیں تو یورپ میں مذہبی عدالتوں یعنی انکوئیزیشن کی قتل و غارت سے تاریخ کے صفحات سرخ نظر آتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں بہت سے دانشور بالعموم مذہب کو دنیا میں فساد کی سب سے بڑی وجہ قرار دیتے رہے۔ اور جب مشہور دہریہ مصنف کرسٹوفر ہچنز نے اپنی کتاب گاڈ از ناٹ گریٹ لکھی تو اس کے دوسرے باب کا عنوان ہی یہ تھا کہ مذہب لوگوں کو مارتا ہے۔ اور اس کتاب میں بھی انہوں نے اپنا یہ کلیہ دہرایا کہ مذہب ہر چیز میں زہر ملا دیتا ہے۔ کرسٹوفر ہچنز تو اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور دوسری دنیا کے نظریہ سے وہ ہمیشہ متنفر رہے۔ لیکن ان کے دوست رچرڈ ڈاکنس اب تک بہت سرگرمی سے ان نظریات کا پرچار کر رہے ہیں کہ ’میری سنو جو گوش نصیحت نیوش ہو‘ دنیا میں اکثر قتل و غارت اور فساد کا ذمہ دار مذہب ہے۔ لہذا ایک مرتبہ خدا کے وجود کا واضح انکار کردو، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

یہ نظریات سن کر ہمیں ٹھنڈے دماغ کے ساتھ تاریخی حقائق کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیا گزشتہ سو ڈیڑھ سو سال میں کسی معاشرے سے مذہب کا اثر ختم کیا گیا۔ کیا اس کے بعد اس معاشرے میں قتل و غارت اور مظالم کا سلسلہ ختم ہوا؟ کیونکہ اگر خون خرابے اور تنگ نظری کی وجہ مذہب ہے تو پھر ایسے معاشرے میں ہمیں ہر طرف امن و امان کا راج نظر آنا چاہیے۔ تاریخ میں ہمیں بہت سے ایسے حکمران نظر آتے ہیں جنہوں نے منظم طریق پر اپنے ملک میں قتل و غارت کرائی۔ کیا ان میں سب سے نمایاں قاتل حکمرانوں کے خونی رجحانات کی وجہ ان کے مذہبی عقائد تھے؟

اب یہ تجزیہ پیش کرتے ہیں کہ محققین کے مطابق گزشتہ صدی میں انسانیت کے نمایاں ترین قاتل کون کون تھے؟ یا دوسرے الفاظ میں وہ کون سے لیڈر تھے جن کے فیصلوں نے سب سے زیادہ تعداد میں انسانوں کو موت کے منہ میں پہنچا دیا۔ اب محققین نے اس لسٹ کی ترتیب میں کچھ ترامیم تجویز کی ہیں۔ بیسویں صدی کے بڑے قاتلوں کی فہرست میں اب سب سے نمایاں نام ایسا ہے جس کی تصویر دیکھ کر یہ یقین نہیں آتا کہ وہ صدی کے سب سے خونی انسان ہو سکتے ہیں۔ اور وہ ایسی شخصیت ہے جس کا ابھی بھی نام دنیا میں احترام سے لیا جاتا ہے۔ یہ شخصیت ماؤزے تنگ کی شخصیت ہے۔ مورخین کے نزدیک ان کے فیصلوں کے نتیجہ میں سب سے زیادہ تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔

تین اگست 2016 کے واشنگٹن پوسٹ میں یہ رپورٹ شائع ہوئی تھی کہ اب جب کہ پہلے کی نسبت زیادہ حقائق منظر عام پر آ چکے ہیں، اس لسٹ میں سب اوپر ماؤزے تنگ کا نام ہے۔ 1958 اور 1962 کے درمیان ان کے پروگرام گریٹ لیپ فارورڈ یعنی ترقی کی عظیم جست ساڑھے چار کروڑ افراد کی موت کا باعث بنی۔ جب انہوں زبردستی مشترکہ کاشت کاری کا پروگرام شروع کیا تو اس کے نتیجہ میں کسانوں کو ان کی زمینوں سے محروم کر کے روز کی روٹی کے لئے بھی سرکار کا مرہون منت بنایا گیا۔ خالی پیٹ نظریات سے نہیں بھرا کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ فاقوں سے مرنے لگے۔ بیس اور تیس لاکھ کے درمیان اشخاص کو اذیتیں دے کر مارا گیا یا سرسری سماعت کے بعد موت کی سزا دے دی گئی۔ ظاہر ہے کہ ماؤزے تنگ کوئی مذہبی جنونی نہیں تھے۔ وہ جو معاشرہ قائم کر رہے تھے، اس میں مذہبی خیالات کو زبردستی کچلا جا رہا تھا۔ اور ان کے لائے ہوئے انقلاب میں چین کو ایک دہریہ ریاست میں تبدیل کیا گیا تھا۔ اور بعد میں کلچرل انقلاب میں تو عام زندگی کی مذہبی رسومات پر بھی پابندی لگا کر ریاست نے اپنی رسومات رائج کی تھیں۔ ماؤ کی ریاست کی بنیاد مذہب اور خدا کے وجود کے انکار پر تھی۔

دوسرے نمبر پر ہٹلر کی قاتل شخصیت آتی ہے۔ ہٹلر کے جنون کی بنیاد نسلی برتری تھی۔ اسے مذہب سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ اور اگر کوئی یہودی نسل کا شخص مسیحی بھی ہوجاتا تو اس سے اس پر ہونے والے مظالم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جرمنی کے ہولوکاسٹ میں ساٹھ لاکھ افراد کو موت کی گھاٹ اتار دیا گیا۔

اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ اس خونی فہرست میں تیسرے نمبر پر کون ہے؟ بیسویں صدی کا تیسرا بڑا قاتل جوزف سٹالن ہے۔ سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد اس کی کارروائیوں کا خفیہ ریکارڈ منظر عام پر آ چکا ہے۔ آٹھ لاکھ کے قریب افراد کو سزائے موت دی گئی۔ سترہ لاکھ افراد گولاگ یعنی ان لیبر کیمپوں میں مارے گئے جہاں پر سزا یافتہ افراد کو بھجوایا جاتا تھا۔ اور چار لاکھ افراد جبری طور پر نقل مکانی کرانے کے عمل کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اگر کوئی اپنے نجی خط میں بھی نام لئے بغیر سٹالن پر کوئی تنقید کر دیتا تھا تو اسے گرفتار کر کے کسی لیبر کیمپ میں بھجوا دیا جاتا جہاں وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتا کہ بڑے صاحب کی شان میں گستاخی کیوں کی؟ سٹالن کوئی مولوی نہیں تھے ویسے تو شروع ہی سے روس کے کمیونسٹ انقلاب کی بنیاد مذہب کی نفی پر تھی لیکن خاص طور پر سٹالن کے دور میں مذہب کو جبر سے ختم کیا گیا تھا۔

یہ کالم نا مکمل رہے گا اگر کمبوڈیا کے کمیونسٹ ڈکٹیٹر پول پوٹ کا ذکر نہ کیا جائے۔ کیونکہ چین، روس اور جرمنی تو بڑے ملک تھے۔ لیکن اس ظالم نے تو کمبوڈیا جیسے چھوٹے ملک کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی کو موت کے منہ میں پہنچا دیا تھا۔ جب 1963 میں اس گروہ خمر روج نے اقتدار پر قبضہ کیا تو دہریت یعنی خدا سے انکار کو ریاست کی بنیاد قرار دیا گیا۔ شہری آبادی کو زبردستی کاشت کاری کرنے کے لئے دیہات میں بھجوا دیا گیا۔ بدھ راہبوں کو ان کی خانقاہوں سے نکال کر زبردستی کھیتی باڑی پر لگایا گیا۔ سب مردوں اور عورتوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ سیاہ لباس پہنیں۔ تحقیقات کے مطابق یہ نامعقول نظریاتی انقلاب پندرہ سے بیس لاکھ افراد کو نگل گیا۔

ان حقائق کی روشنی میں یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ گو دنیا کی تاریخ میں مذہبی جبر کے نام پر بھی بہت سے مظالم ہوئے ہیں۔ لیکن جب دہریت کو اس بات کی آزادی دی گئی ہے کہ وہ مذہب کو جبر کے ذریعہ ختم کرے تو اس کی قتل و غارت نے مذہب کے نام پر ہونے والی قتل و غارت کو بھی مات دے دی۔ ویسے تو ہم روز مذہب کے نام پر ہونے والے مظالم کے قصے سنتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت کہ گزشتہ صدی کے تین چار بڑے قاتلوں میں کوئی ایک بھی مذہبی جنونی نہیں تھا۔ ان میں خدا کے وجود کا انکار کرنے والوں کی اکثریت نظر آتی ہے۔

Facebook Comments HS