سفر پی ایم لیپ ٹاپ کی امید کا

کچھ ہفتوں قبل اڑتی اڑتی خبر سنی کہ وزیراعظم کی جانب سے مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبہ کو لیپ ٹاپ جیسی نعمت سے فیض یاب فرمایا جائے گا۔ خبر کی پرواز تکمیل کو پہنچی اور مستند ذرائع سے معلوم پڑنے پر یقین ہو گیا کہ یہ خبر مکمل سچائی پر مبنی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک کڑوا سچ بطور شرط منسلک تھا۔ وہ یہ کہ لیپ ٹاپ محض ہونہار طلبہ کو ہی تحفتاً پیش کیے جائیں گے تا کہ وہ اپنی صلاحیتوں میں مزید نکھار پیدا کر سکیں۔
معلوم ہونے پر کہ لیپ ٹاپ کے اہل صرف ہونہار طالب علم ہیں، وہ امید جو ایک دم بیدار ہو گئی تھی اسی رفتار سے جھاگ کی مانند بیٹھ گئی۔ وجہ یہ ہوئی کہ مجھے اپنی ہونہاری پر اچھا خاصا شبہ تھا۔ کچھ دیر تو یہ صدمے کی سی کیفیت رہی کہ کاش ہم بھی ہونہار ہوتے لیکن پھر ایک دم خیال آیا کہ ممکن ہے میں بھی ہونہار طالب علم ہی ہوں اور محض اپنی عجز و انکسار کے آڑے آ جانے کی بدولت اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہوں۔ یہ ایسا امید افزا اور تسکین بخش خیال تھا کہ امید پھر جاگ اٹھی اور اسی شوق کے عالم میں اپنا لیپ ٹاپ پکڑا تاکہ اس اسکیم کے لیے اپلائی کیا جا سکے۔
جلدی جلدی ویب سائٹ کھولی اور تیزی سے انگلیاں چلاتی ٹائپ کرنے لگی لیکن کیا دیکھنے میں آتا ہے کہ وہی لیپ ٹاپ جو کل تک اچھا خاصا کام کر رہا تھا اچانک اٹک اٹک کر چلنے لگا ہے اور وہی سکرین جو کل تک اپنے نور کے جلوے بکھر رہی تھی اس کی چمک ماند پڑ گئی ہے۔ یہ عالم دیکھ کر یکایک مایوسی کا غلبہ چھا گیا مگر صد شکر کہ یہ سب لمحاتی تھا۔ کیونکہ مجھے فوراً ہی خیال آ گیا کہ اب تو نیا لیپ ٹاپ ملنے ہی والا ہے تو پھر بھلا اس قدیم زمانے کی مشین کا غم کیوں منانا۔
اس خیال کے آتے ہی خوشی کی ایک لہر دل و دماغ میں کوند گئی اور روح تک سرشار ہو گئی۔ اسی سرشاری و سرمستی میں لیپ ٹاپ کے لیے اپلائی کیا اور اب ساتھ ہی یہ فکر غالب آ گئی کہ اس قدیم لیپ ٹاپ کو بھلا کس عزیز کو تحفتاً پیش کر کے خوش کیا جائے۔ دماغ بہت دوڑایا لیکن ایسا کوئی ذہن میں نہ آیا۔ لہذا وقتی طور پر تو اسے الماری میں رکھ دیا کہ چلو اگر کوئی نیا مالک نہ ملا تو نئے لیپ ٹاپ کے ساتھ اسے بھی تھوڑی سی جگہ گھر میں عطا کر دیں گے اگرچہ دل میں اب نیا لیپ ٹاپ ہی رہنے والا تھا۔
دن گزرتے گئے۔ جانے آفتاب کتنی مرتبہ طلوع ہو کر غروب ہوتا رہا اور جانے مہتاب نے کتنے چکر پورے کیے۔ مجھے تو بہرحال یہی لگا کہ صدیاں بیت گئیں۔ بالآخر وہ سورج بھی طلوع ہوا جس کی کرنیں خوشی کی نوید لے کر آئیں کہ انتظار تمام ہونے کو ہے۔ اس دن جب سورج عین شباب پر تھا اور اس کی جوانی کا اندازہ ہر شے کو قریب قریب بھسم کر دینے والی حرارت سے لگایا جا سکتا تھا۔ ایسے وقت میں یونیورسٹی سے ایک لسٹ موصول ہوئی جس میں طلبہ کی ترتیب وار اینٹری کی گئی تھی۔
غالباً شعبے کو جتنے لیپ ٹاپ ملنا تھے انھیں اسی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے تقسیم کیا جانا تھا۔ تھوڑے سے جوش اور تھوڑے سے ڈر کے ساتھ لسٹ کھولی کہ خدا جانے ہمارا نمبر کہاں ہو۔ اپنا نام دیکھا تو ایک امید سی بندھ گئی کہ کچھ ایسا دور بھی نہ تھا۔ لیکن ڈر بھی برقرار رہا کہ پہلا نمبر تو بہرحال نہ تھا کہ جو کسی صورت امید ٹوٹنے کا اندیشہ نہ ہوتا۔ ساتھ ہی یہ حکم بھی ہوا کہ ہم تمام طالب علم تین دن کے اندر اندر یونیورسٹی پہنچ کر اپنے ڈاکومنٹس کی تصدیق کروا لیں۔
میں نے دوسرے دن صبح ہی صبح اپنے ڈاکومنٹس نکالے اور انھیں فائل میں رکھ کر یونیورسٹی کی راہ لی۔ البتہ یہ الگ قصہ ہے کہ میں گھر سے نکلنے ہی پہلے کوئی چار پانچ مرتبہ اس بات کی تصدیق کر چکی تھی کہ تمام ڈاکومنٹس پورے تو ہیں؟ یہاں تک کہ ایک مرتبہ تو میں نے انھیں خاصا مشکوک نظروں سے بھی دیکھا کہ آیا یہ کاغذات اصلی تو ہیں نا؟ بہرحال اس کشمکش میں یونیورسٹی کا سفر طے کرنی لگی۔ سورج آج بھی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا لیکن مجھے گرمی کی حدت خوشی اور جوش کی شدت تلے کہیں غائب سی ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔
یونیورسٹی پہنچتے ساتھ ہی موسم نے کروٹ بدلی اور سورج نے بادلوں کا حجاب اوڑھ لیا۔ موسم کی یہ تبدیلی مجھے قدرت کی طرف سے امید کا ایک اشارہ معلوم پڑی۔ کاغذات کی تصدیق کروانے دفتر گئی تو عالم ہی کچھ اور تھا۔ وہاں ایسے ایسے چہرے دیکھنے کو ملے جن کو دیکھنے کا اتفاق زندگی میں پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ حیرت کی انتہا اس وقت نہ رہی جب معلوم ہوا کہ یہ نایاب چہرے ہماری ہی کلاس کے ہیں۔ اس وقت احساس ہوا کہ لیپ ٹاپ محض ہماری ہی امیدوں کا مرکز نہ تھا بلکہ اس کے امیدوار بے شمار طلبا تھے۔
فائلوں کا انبار طلبا کے شمار سے بھی کہیں زیادہ معلوم ہو رہا تھا۔ بہرحال میں نے تصدیق کروائی اور کاغذات کی نقل دفتر میں جمع کروا کر واپس گھر کی راہ پکڑی۔ سارے راستے یہی خیال رہا کہ لیپ ٹاپ کی امید رکھنی چاہیے یا نہیں۔ گھر پہنچ کر بھی اس سوال کا جواب نہ مل سکا۔ اسی کشمکش میں انتظار کرنے لگی کہ خدا جانے قرعہ کس کس کے نام نکلے۔
بالآخر انتظار تمام ہوا اور وہ لسٹ بھی موصول ہو ہی گئی کہ جس میں لیپ ٹاپ کے لیے اہل طالب علموں کی نشان دہی کی گئی تھی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ لسٹ کھولی اور ترتیب وار نام دیکھنے لگی۔ پہلا طالب علم تو اہل تھا ہی دوسرا اور تیسرا بھی اہل تھا۔ ارے واہ۔ چوتھا طالب علم بھی اہل تھا۔ اب حالت یہ تھی کہ سانس تک رکا ہوا تھا کہ خدا جانے آگے کیا معاملہ ہو گا۔ ’سبحان اللہ پانچواں طالب علم بھی اہل ہے‘ ۔ اب تو جان کنی کی حالت تھی کیونکہ اگلا نمبر میرا تھا۔ ’کیا معلوم قسمت نے کیا کھیل کھیلا ہو؟‘
ڈرتے ڈرتے نتیجہ دیکھا تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ وہ سانسیں جو رکی ہوئی تھیں بحال ہونے کی بجائے محسوس ہوا کہ ابدی طور پر رک ہی گئی ہیں۔ اسی حالت میں تھی کہ اچانک آنکھوں میں روشنی کوند گئی۔ اس سے پہلے کہ مجھے یہ خیال گزرتا کہ اس روشنی کا منبع وہ نور ہے جو فرشتوں کی آمد کے ساتھ برآمد ہوا ہے، میرے حواس بحال ہو گئے اور اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ دراصل وہ روشنی میرے پرانے لیپ ٹاپ کی سکرین سے پھوٹ رہی تھی۔
معجزاتی طور پر اس کی چمک واپس آ گئی جو کچھ دن پہلے ماند پڑ گئی تھی اور جب مزید دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس کی اٹک اٹک کر چلنے والی بیماری بھی کہیں غائب ہو گئی تھی۔ اس کی نور بکھرتی سکرین پر مدھم سا لکھا آ رہا تھا کہ فل حال آپ لیپ ٹاپ کے لیے اہل نہیں ہیں۔ لیکن سکرین کی چمک میں وہ اتنا مدھم ہو گیا کہ اس کی اہمیت ثانوی حیثیت اختیار کر گئی۔
میں نے اپنے پرانے لیپ ٹاپ کو سنبھالا اور احتیاط سے الماری میں اس کی جگہ پر رکھ دیا کہ بلاشبہ اس جگہ کے تمام حقوق فی الحال اسی لیپ ٹاپ کے تھے۔

