غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی!


عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معیشت کے حوالے سے 120 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی کنٹری رپورٹ اسی ہفتے جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں ان تمام وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے جن کی بدولت پاکستان کی معیشت کو موجودہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رپورٹ میں مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی بات کی گئی ہے۔ عالمی ادارے کی اس رپورٹ میں خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام تر ذمہ داری ہمارے ملک کے پالیسی سازوں پر عائد نہیں کرتی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو گزشتہ برسوں میں سیلاب، یوکرین جنگ سے اجناس کی قیمتوں میں عالمی اضافے کی وجہ سے بھی چیلنجز کا سامنا رہا۔ مزید یہ کہ ماحولیاتی تباہی کی وجہ سے پاکستان کو گزشتہ بیس سال میں سالانہ 2.2 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بیرونی اور داخلی مالیاتی حالات سخت ہونے کے باعث معیشت کو بڑے جھٹکے لگے ہیں۔ ان جھٹکوں نے معاشی حالات کو بگاڑ دیا اور کرونا کے بعد کی بحالی کے عمل کو بھی روک دیا۔ نتیجتاً افراطِ زر میں اضافہ ہوا، غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر بہت کم سطح تک گر گئے اور مالی اور بیرونی دباؤ شدید ہو گیا۔

رپورٹ میں پاکستان کے معاشی چیلنجز کو پیچیدہ قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو غیر معمولی خطرات کا سامنا ہے۔ ان خطرات سے نبٹنے کے لئے متفقہ پالیسیوں کے مستقل نفاذ کے ساتھ ساتھ بیرونی شراکت داروں کی جانب سے مسلسل مالی مدد کی ضرورت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کو 28 ارب ڈالر، اگلے سال 27 ارب ڈالر اور مالی سال 2025 میں 31 ارب ڈالر کے لگ بھگ بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہو گی۔ اور یہی وجہ ہے کہ 2023 میں ناکافی بیرونی فنانسنگ نے معاشی ترقی میں کسی خاطر خواہ پیش رفت کو روکے رکھا۔

گلوبل وارمنگ اور اس سے پاکستان کی معیشت پر ہونے والے اثرات کا رپورٹ میں بہت تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔ اس سال جنوری میں اقوام متحدہ کے زیر صدارت منعقد ہونے والی ”Conference on Climate Resilient Pakistan“ میں پاکستان کے لئے 10.9 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں اس فنڈ کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اگلے پانچ سالوں میں پاکستان کو اس فنڈ کی شدید ضرورت پڑنے والی ہے۔

رپورٹ میں مالی سال 2024 کے لئے پیش کردہ بجٹ کی اہمیت پر کافی زور ڈالا ہے۔ بجٹ پر عملدرآمد اور آئی ایم ایف پروگرام کے معاہدوں کا مستقل نفاذ معاشی خطرات کو کم کرنے اور میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 میں مہنگائی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ مالی سال 2025 تک کچھ بہتری نظر آنا شروع ہو گی۔ ٹیکس محصولات میں بہتری عوامی مالیات کو مضبوط بنانے اور بالآخر سماجی اور ترقیاتی اخراجات بڑھانے کے لئے بہت اہم ہے۔ غیر ضروری اخراجات پر نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہو گا تا کہ بجٹ پر عمل درآمد میں مدد مل سکے۔ رپورٹ میں جاری مالی سال میں مہنگائی کی متوقع شرح 25 فیصد اور جی ڈی پی کی نمو 2.5 فیصد رکھی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والی حکومت طے شدہ معاہدوں کو کتنا سیریس لیتی ہے کیونکہ عالمی ادارے کی رپورٹ میں بار بار یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پالیسی مستحکم نہیں رہتی جس وجہ سے معاشی صورتحال مزید خراب ہونے کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ آنے والے چند سالوں میں پاکستان کے پاس پالیسی سے انحراف کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ حکومت کو مشکل فیصلے لینا ہوں گے۔ غریب عوام پر بوجھ مزید بڑھے گا مگر رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس اب بہت کم مارجن رہ گیا ہے۔ غلطی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

Facebook Comments HS

محمد ارسلہ خان

محمد ارسلہ خان پاکستان میں روس کے اعزازی قونصل ہیں

muhammad-arsallah-khan has 11 posts and counting.See all posts by muhammad-arsallah-khan