کہیں دیر نہ ہو جائے


عام طور پر ہم معاشی ، معاشرتی مسائل پر بات چیت زیادہ کرتے ہیں اور انہی کو اہم مسئلہ گردانتے ہیں اور وہ بھی اجتماعی سطح پر انفرادی حیثیت میں تو صرف ہم مذاق ہی اڑایا کرتے ہیں ۔
علامہ اقبال نے کہا تھا کہ غربت تمام جرائم کی جڑ ہے آپ اس سے اتفاق کریں یا ن کریں بیروزگاری بذات خود ایک جرم سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے اب یہ کافی حد تک نفسیاتی مسئلہ بھی بنتا چلا جارہا ہے اس کے ساتھ ساتھ مالی، معاشی ، برائی بھی ہے کہ جس سے مزید کئی اور برایئاں جنم لے رہی ہیں یہ مسئلہ جب بھیانک رخ اختیار کر لیتا ہے کہ جب یہ کسی ایک ایسے شخص کے ساتھ ہو کہ جس نے ساری عمر اینتہائی محنت کیساتھ جہد مسلسل کی چرح شبانہ روز محنت کی ہو آرام ، سستی ، کاہلی نام کا کوئی لفظ اس کی زندگی کی لغت میں موجود ہی نہ ہو ایسے میں اسے ہہر طرف صرف مایوسی ، ناکامی، اور ہر دروازہ بندنظر آتا ہے ۔
فکر معاش الگ سر اٹھا رہی ہوتی ہے یہ ایک ایسی شے ہے کہ جو انسان کو اعصابی تناو میں ڈال کے نفسیاتی طویہ خود بخود تبدیل ہونو شروع ہو جاتا ہے اور پر کمزور کر دیتی ہے سوچ کا زاویہ بھی تبدیل ہونا شروع ہوجاتا ہے ناقابل محسوس طریقے سے انسان خود کو بیکار ، دوسروں پر بوجھ سمجھنا اور محسوس کرنا شروع کردیتا ہے ۔ اسے اپنی زندگی غیرضروری لگنے لگتی ہے عجیب اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہو کر بھی دنیا میں خود کو تنہا اور بو جھ تصور کرتے کرتے سوچ کا ہر زاویہ منفی رخ اختیار کرنے لگتا ہے ۔
پھر ہمارے معاشرتی رویے بھی بیروزگار شخص کے ساتھ مختلف ہو جاتے ہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں ہمارے ہر جائز اور نا جائز کام اور غلطی کی ذہ دار بھی ہم اسی کو ٹھراتے ہیں ایسا شخص گھر کے بھی ہر کام کا ذمہدار قرار دیا جاتاہے چاہے وہ اسکی ذمہ داری ہو یا نہ ہو کیونکہ ہمیں وہ فارغ اور ناکام لگنے لگتا ہے ایسے میں بیروزگار شخص کو اپنی ہر جائز اور ضروری خواہش بھی ناجائز اور غیر ضروری لگنے لگتی ہے اور اس کا اظہار بھی نہیں کر سکتا کیونکنکہ وہ بیروزگا ر جو ہوتا اہے اور اس کے اردگرد موجود اشخاص بھی اس کی طرف سے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ اس کی طرف کسی کو مالی فوائد کی کوئی امید نظر نہیں آتی یہ سوچ انتہائی تکلیف دہ ہے اس پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔
ہم اس انسان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ ہی نہیں لگاتے جبکہ وہ بیکوقت کئی مسائل سے نمٹنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہوتا ہے معاشی ، معاشرتی اور خاص طور پر نفسیاتی طور پر ہمیں اس کا حاصلہ اور امید بن کر اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاِئیے اس کی دلجوئی کرنی چایئے بات چیت ااور خاص طور پر اداز گفتگو میں نرمی اختیار کرنی چایئے ، نجی معاشی ، معاشرتی معاملات میں جہاں تک ممکن ہو مدد اور رہنمائی کی ضرورت ہے کیونکہ ایسے ہے اوقات ہوتے ہیں کہ جب انسان ہر طرف سے مایوس ہو کر اپنے اللہ تبارک وتعالی کے وعدے کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے کہ وہ ذات بھی شاید اس پر مہربان نہیں رہی عجیب شکوے شکایات کا سلسلہ طویل ہو تے ہوتے انتہائی قدم اٹھانے کی وچ کے تمام تر زاویے سفر کرنے لگتے ہیں جب آپ کے پیارے آپ ہی کے رویوں سے مایوس ہو کر اپنی زندگی کے خاتمے کو تمام مسائل کا حل سمجھ کر اسی فانی دنیا کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں اپنے خالق اور اپنے لواحقین کے مجرم بھی بن جاتے ہیں اور خود کئی ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے کے باوجود دنیا و آخرت میں ایک اور دائمی ناکامی ان کا مقد بن جاتی ہے اپنوں کا خیال رکھیئے کہیں دیر نہ ہو جائے ۔

Facebook Comments HS