محمد حمید شاہد کی کتاب: اندر کا آدمی
محمد حمید شاہد، یہ نام ادب کی دنیا میں یقیناً بہت پرانا ہے، نقاد بھی ہیں۔ مجھے ان کے نام اور کام سے واقف ہونے میں بڑا وقت لگا۔ بڑی مدت۔ مطالعے کا شوق رکھتے ہوئے، محمد حمید شاہد صاحب کے نام سے انجان رہنا ایک اپنی طرز میں نقصان تو ہے نہ!
پہلی بار، ان کے نام سے واقفیت ہوئی جب ان کا ایک ناول ”مٹی آدم کھاتی ہے“ دیکھا۔ بک کارنر کے پورٹل پر۔ کتاب کا سرورق اتنا خوبصورت تھا کہ جلد ہی خرید لی کتاب۔ یہ کتاب میرے پاس کئی ایک ماہ تک موجود رہی، میں نے نہ پڑھی۔ اور پھر ان کے خودنوشت کی بازگشت مارکیٹ میں سنائی دینے لگی۔ ان کی خود نوشت ”خوشبو کی دیوار کے پیچھے“ بک کارنر جہلم سے شایع ہو کر آ گئی۔ میں نے پڑھنے کی کوشش کی، میں نے کچھ صفحات پڑھے بھی، کچھ سے مراد کوئی سو صفحات تک، میں نے کتاب رکھ دی۔ میں نے محمد حمید شاہد صاحب کو فیس بک پر فرینڈ ریکوئیسٹ بھیجی اور ان باکس میں بھی عرض کیا کہ شرف قبولیت بخش دیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ان کی طبیعت درست نہیں اور فرینڈ لسٹ بھی فل ہے تو فی الحال فالو پر گزارا کیجیے۔ میں نے کہا سر بہتر۔ حقیقت بھی یہی تھی ان کی فرینڈ لسٹ فل تھی۔
پھر اتفاق یوں ہوا کہ ان کی ایک کتاب ”اندر کا آدمی“ کے نام سے میں نے سنگ میل پبلیکیشنز سے منگوا لی، وہ دراصل انتخاب تھا عرفان جاوید صاحب کا، اس کا مقدمہ بھی ان کا ہی لکھا ہوا تھا۔ میں نے دو کتابیں عرفان جاوید صاحب کے انتخات کی ایک ساتھ رکھیں، ایک ”اندر کا آدمی“ جس میں انتخاب عرفان جاوید صاحب کا تھا اور افسانے تھے جناب محمد حمید شاہد صاحب کے، دوسرا بھی انتخاب عرفان جاوید صاحب کا تھا اور افسانے تھے آصف فرخی صاحب کے، کتاب کا نام تھا ”سمندر کی چوری“ ۔
میں نے محمد حمید شاہد صاحب کے افسانوں کے انتخاب والی کتاب ”اندر کا آدمی“ پڑھنا شروع کردی، الفاظ کے چناؤ، اور تکنیکی حساب سے تو میں نہیں سمجھا سکتا لیکن، محمد حمید شاہد صاحب کے افسانوں نے اور ان کے انداز نے مجھے متاثر کیا، اس کتاب میں ان کے بیس عدد افسانے شامل ہیں، اور یہ افسانے مجھے پڑھنے کے دوران محسوس ہوا کہ توجہ طلب ہیں، کہیں کہیں پر یہ انتہائی توجہ مانگتے ہیں، ارتکاز، مکمل طور پر ایک آدھ لائن چھوڑ دیں تو الفاظ اور سطروں کے یا مکالموں کے مفاہیم گم ہو جاتے ہیں دلچسپی مفقود ہو جاتی ہے۔ بس اسی طرح میں نے پڑھنا شروع کیا۔
ہوا یوں کہ میں نے مقدمہ پڑھنے کو آخر تک ٹال رکھا ہے۔ میں نے سوچا کہ مقدمے کے تاثر سے میری تحریر اثر نہ پکڑ لے۔ اسی لیے مقدمہ نہیں پڑھا، پھر ان کا پہلا افسانہ ”شاخ اشتہا کی چٹک“ پڑھا۔
بینکر ہیں نہ محمد شاہد حمید صاحب، ان کے ساتھ اس لیے زیادہ بھی انسیت محسوس ہوتی ہے۔ ان کو بولتے ہوئے بھی سنا دیکھا ہے، وہ پختہ بولتے ہیں، مضبوط، دھڑلے سے اور بھرپور۔ میں نے مارکیز کا ناول ”اپنی سوگوار بیسواؤں کے نام“ ان کا افسانہ پڑھنے کے بعد خریدا اور اب تک پڑھ نہیں پایا شاید اس ناول کا الگ تقاضا ہو۔ بڑی محنتیں ہیں، کہاں مارکیز کے افسانے میں موجود بوڑھے کو اپنے ایک کردار سے لا ملا جوڑا۔
میں نے مشاہدہ کیا، خیر میرا مشاہدہ بھی کیا مشاہدہ ہو گا، سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہو گا۔ افسانہ لکھنے والے، ناول لکھنے والے، اپنی حدود آپ بناتے ہیں مطلب یہ کہ اس وقت وہ تخلیق کار بن جاتے ہیں۔ وہ ایک زندگی کے حقائق پر نہیں ٹھہر جاتے وہ اس سے آگے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ محمد حمید شاہد صاحب وہ نابغہ روزگار افسانہ نگار ہیں، ناول نگار کہیے یا پھر نقاد جو آپ کے تخیل کو بیدار کرتے ہیں میں سمجھتا ہوں یہ ہنر اکثر افسانہ نگاروں کے پاس ہے۔ اندر کا آدمی میں جو انتخاب ہے افسانوں کا وہ کمال ہے۔ ان افسانوں کو پڑھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ صاحب افسانہ کا مطالعہ اور مشاہدہ کتنا وسیع ہے۔ اس وسعت میں بولیاں بھی سمو لی گئی ہیں۔ دیہاتی ٹھیٹ الفاظ، جگہ جگہ ملیں گے، پھر محبت کے لمس، چاہتوں اور وصل کی باتیں یا پھر اندیشے۔ اندیشوں اور وسوسوں کی گپھائیں، گھپ اندھیرے جیسے وسوسے۔ اور آخر میں سب آپ پر ہی چھوڑ دیتے ہیں کہ افسانہ ابھی باقی ہے یہ اختتام کسی نئی ابتدا کا شاخسانہ بھی ہو سکتا ہے۔
مجھے ایسا محسوس ہوا کہ محمد حمید شاہد صاحب نے جتنا سفر کیا ہے یا جن جن علاقوں کی باتیں کی ہیں ان سے ان کے جغرافیے، تاریخ، اور تہذیب کے مطالعے کی سمجھ آتی ہے۔ متنوع طرز کا مطالعہ، مشاہدہ اور تجزیہ اور تجربہ یہ ان کی تحریروں میں ثبوت کے طور پر موجود ہیں۔ منطقی اصولوں پر بنی گئی کہانیاں، ایک ماہر، اور سکہ بند افسانہ نویس کی خوبیاں ہیں۔ یہاں آپ کو محسوس ہو گا کہ، مکڑے کے جال کی طرح کہانی کی بنت جاری ہے۔ خیالات سے الفاظ تک کا سفر بڑی نفاست اور نازکی سے کیا گیا ہے۔ کچھ جگہوں پر مجھے ابھی صاحب کتاب سے رہنمائی درکار ہے میں نے وہ نوٹ بھی کی ہیں۔ وہ کہانیاں تو ٹھیک ہیں پڑھ لیں سمجھ بھی لیں لیکن ان میں جو اتار چڑھاؤ ہیں، آگے پیچھے باتیں ہیں، جو گھمن گھیریاں ہیں وہ کیسے بنتی ہیں یہ پوچھنا۔ یقیناً ایک لامتناہی سفر ہے مشاہدے کا، محنت کا اور مطالعے کا تبھی کوئی اس مقام پر پہنچ پاتا ہے۔ ابھی یہ مقام بھی کوئی ٹھہراؤ ہے، یا راستہ، آگے اور جہاں بھی ہیں۔ تخلیق کے، کرداروں کے۔ ان کی خود نوشت یقیناً ابھی ادھوری ہے۔ وہ کہتے ہیں نہ جانے کیا گزرے ہیں قطرے پہ گہر ہونے تک، میرا خیال ہے مرزا اسداللہ خان غالب کی غزل کا مصرعہ ہے، تصدیق نہیں کر رہا، کچھ اپنی یادداشت پر بھروسا۔ ایسے ہی ہیں ہمارے محمد حمید شاہد صاحب، ان کی آواز میں جو زندگی ہے، کھنک ہے، برجستگی ہے، کڑک ہے وہ دل کو لبھاتی ہے۔ گرفت ہے ان کے بیان میں، ان کے جیسچرز پوسچرز، اچھے بھلے لگتے ہیں جب یہ بات کریں تو دیکھا کریے۔
ایک بات کا اعتراف کرتا چلوں، میں نے اپنی زندگی میں گالیاں نہیں بولیں، نہ کسی کو دیں ہیں اب تک نہ یاروں کی محفل میں نہ کسی تنہائی میں۔
لیکن ایک لفظ ہے ہندی، اردو اور سندھی میں بھی استعمال ہوتا ہے ”پراسٹیٹیوٹ“ کے لیے لوگ اکثر بولتے ہیں استعمال کرتے ہیں گالی کے بطور یا کسی لڑکی یا عورت کے لیے۔ اس لفظ کو سن کر طبیعت مکدر ہو جاتی ہے۔ یقین مانیے، ایک کڑواہٹ زبان اور وجود یا کیفیت پر پھیل جاتی ہے۔ اس لفظ کا استعمال میں نے محمد حفیظ خان صاحب کے ناولز میں بھی پڑھا ہے، عرفان جاوید صاحب نے بھی اس لفظ کو استعمال کیا ہے، گلزار صاحب کے پاس بھی اس لفظ کے استعمال کو پڑھا، لیکن، اس لفظ کی جزئیات اور لذت کہیے بھلا یا پھر بھرپور کیفیات جو ناگوار نہیں گزرتیں طبیعت پر گراں نہیں پڑتیں۔ وہ میں نے فی الحال تین لوگوں کی تحریروں میں محسوس کیں، اور میرا بھی دل کیا کہ یہ لفظ لکھوں یا اس کا تذکرہ کروں لیکن نہیں۔ میں فی الحال تو جانتا ہوں کہ میں اس لفظ کو استعمال نہیں کر سکوں گا۔ لیکن مذکورہ بالا تینوں حضرات کے ہاں، جی ہاں ایک تو سعادت حسن منٹو صاحب، دوسرے محمد اقبال دیوان صاحب اور تیسرے ہیں محمد حمید شاہد صاحب۔ یہ اس لفظ کو اپنی مکمل جزویات کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔
کیسے محمد حمید شاہد صاحب، کہانی کا بیانہ تبدیل کرتے ہیں، کس طرح وہ فرسٹ پرسن ہو کر کہانیاں سناتے ہیں، اس کی جھلکیاں میں آپ احباب کو نیچے دکھاتا ہوں
ان کا پہلا افسانہ جو میں نے پڑھا وہ ہے شاخ اشتہا کی چٹک، یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو روزگار کے سلسلے میں شہر آتا ہے وہاں اس کا مالک اسے اپنی بیٹی کا رشتہ دے دیتا ہے، پیسہ اس کے پاس آ جاتا ہے اور وہ عیاشیوں کے سامان میں پڑ جاتا ہے، اس کا اختتام بڑا ہی معنی خیز انداز میں ہوتا ہے
” مگر میری کہانی کا المیہ یہ ہے کہ اپنے خاتمے پر اس سے سارا رومان اور لذت منہا ہو گئی ہے۔ شکیل اپنے ساتھ بھاگ جانے والی لڑکی سے بھی اوب چکا ہے۔ جس عمر میں اسے یہ سیکھنا تھا کہ شدید اور الہڑ جذبوں کو توازن کیسے دیا جاتا ہے وہ سدھائے ہوئے جذبوں سے نمٹتا رہا۔ وہ واپس آیا تو سیدھا گھر نہیں گیا میرے پاس آیا شاید وہ اپنے گھر کی دہلیز ایک ہلے میں پار کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا۔ اسے میں رات بھر حوصلہ دیتا رہا اور سمجھاتا رہا اگلے روز جب میں اس کے ساتھ اس کے گھر گیا تو اس کے بیٹے نے اس پر پستول تان لیا تھا۔ صفیہ نے واقعی اپنے شکیل کو معاف کر دیا تھا تب ہی تو اس نے یوں پستول تاننے پر اپنے بیٹے کی چھاتی پیٹ ڈالی تھی۔ شہباز نڈھال ہو کر دہلیز پر بیٹھ گیا۔ صفیہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر اسے الانگھا اور اپنے شوہر کی طرف لپکی۔ دہلیز پر بیٹھے نوجوان کے ہاتھ میں جنبش ہوئی اور اگلے ہی لمحے گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ایک کربناک چیخ میرا وجود چیر گئی“
مذکورہ بالا اقتباس میں الفاظ کا چناؤ، ان کی گھڑت، ان کی بناوٹ اور درست جگہ استعمال دیکھیے۔
پھر ان کا ایک افسانہ ہے ”تماش بین“
اسکی ابتدا ایک خوبصورت جملے سے ہوتی ہے۔
عورت اور خوشبو ہمیشہ سے میری کمزوری رہے ہیں ”شاید مجھے یہ کہنا چاہیے تھا کہ عورت اور اس کی خوشبو ہمیشہ سے میری کمزوری رہے ہیں“ ۔
اس میں کچھ اور بھی اقتباسات ہیں، لیکن اس طرح مضمون طوالت پکڑ لے گا، اور۔
ایک اور افسانہ ہے ”جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی!“
اس افسانے کو میں نے شروع کیا پڑھنا اور رکھ دیا، گھمن گھیریاں باتوں کی، حقیقی کہانی اور اس میں موجود ایک اور کہانی کی گھمن گھیریاں محسوس ہو رہی تھیں۔ ریمنڈ کارور، کیتھڈرل، کہانی کے تانے بانے بنتے جا رہے ہیں ایک سین سے دوسرا سین ایک کردار سے دوسرا کردار ماضی حال، اور فرضی ناموں کی تکرار، جب وہ لکھتے ہیں
” محض کسی اندھے کو نابینا کہہ دینے سے صورتحال کو ڈھنگ سے نہیں سمجھا جا سکتا“ ۔
” جب کہ میرے اندر یقین اتر چکا ہے کہ تعلق کے ناموجود ہونے یا معدوم ہونے سے بھی کہانیاں پھوٹ سکتی ہیں اور پھر ہم پر ایسی افتاد آ پڑی ہے کہ شناخت کا سوال بے ہودہ اور اخلاص کے معتبر پانیوں سے گندھا ہوا تعلق فضول سی شے ہو گیا ہے“ ۔
ایک جگہ یہ الفاظ توجہ کھینچ لیتے ہیں
” گرمجوشی اور خالی ہن۔ تمہارے لیے یہ دو لفظ ہیں، لغت سے نکالے گئے دو لفظ۔ تم نہیں جانتے یہ ایک ساتھ زندگی کے فریم میں نہیں آ سکتے“ ۔
یہ افسانہ میں نے بہت غور کے ساتھ پڑھا، میں پہلی مرتبہ اٹک رہا تھا، بھٹک رہا تھا خیال کا سرا ہاتھ سے دھیان سے چھوٹ رہا تھا لیکن پھر میں نے مکمل کر لیا۔ اس پر پھر سے ”ری۔ ریڈ“ کا ٹیگ لگا دیا ہے پھر سے فرصت سے پڑھنا پڑے گا اور زیادہ توجہ کے ساتھ۔
ایک افسانے میں لکھتے ہیں
” عورت اپنی زندگی میں صرف ایک ہی مرد کو چاہتی ہے، ہاں صرف ایک مرد کو۔ میں نے تمہیں چاہا ہے۔ تمہیں روح تک بسایا ہے۔ تمہارے لیے خواب دیکھے ہیں۔ تم سے امیدیں باندھی ہیں۔ بس تم میرے من کے اندر اترے ہو۔ تم اور صرف تم میرا پیار ہو۔ یاد رکھنا۔ میں تمہیں زندگی بھر نہ بھلا سکوں گی۔“
جب وقت میں یہ سطریں پڑھ رہا تھا مجھے محسوس ہوا کہ اس طرح تو کوئی بھی لڑکی اور خاتون میرے لیے نہیں بچی اس روئے زمین پر۔ چھتیس برس عمر کے گزر چکے ہیں۔ شادی نہیں کی۔ اور ان الفاظ کی بازگشت۔ جو ملے گی کسی کے خیالوں میں۔ خیر یہ تو اس وقت کے خیالات تھے۔ (ہاہاہا)
ایک نقاد کی نگاہ سے تو میں نہیں پڑھ سکتا، میرا علم اور تجربہ اس ضمن میں کیا ہو سکتا ہے سوائے اس کے کہ چند ایک افسانے پڑھے ہیں، ہاں یہ بات ہے کہ جب فون پر بات ہوئی محمد حمید شاہد صاحب سے تو میں نے انہیں اپنا تعارف کرایا پھر انہیں بتایا اور ایک سمسیا بھی بتائی کہ ”مٹی آدم کھاتی ہے“ مجھے کنفیوز کر رہا ہے، میں نے پڑھنے کی سعی کی ہے لیکن اس طرف شاید توجہ مرکوز نہیں کر پایا۔
ہوتا یوں ہے، ایک افسانہ پڑھ لیا، ایک کتاب پڑھ لی لیکن اس کی جزئیات نہ سمجھیں ان خیالات کو نہ چھوا تو بات نہیں بن پاتی میرے پڑھنے کا یہی اسٹائل رہا ہے کہ بات پوری سمجھ کر پڑھو اس کی جو تیکنیک ہے اس کو بھی سمجھو رمز کو سمجھو اور مرکزی خیال کو اور موضوع کو بھی، اسی لیے الفاظ کا بہاؤ، جملوں اور فقروں کے کٹاؤ، خوبصورتی کو دھیان میں رکھنا پڑتا ہے۔ کیا خوبصورت بامعنی جملہ ہے نہ۔
میرا خیال ہے باقی کے افسانے آپ احباب بذات خود مطالعہ فرمائیں تو افسانوں، محمد حمید شاہد صاحب اور تحریروں کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔






