ترقی و خوشحالی کے اسباب


آج کل دنیا میں کسی قوم کی خوشحالی و بہبودی کو جانچنے کے لئے کچھ خاص معیارات مقرر کیے گئے ہیں جس سے اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں رہا۔ اقوام متحدہ اس سلسلے میں سالانہ ایک عالمی سروے کرواتی ہے اس کے حالیہ سروے برائے سال 2023 کے مطابق سب سے خوشحال ممالک میں سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں جبکہ سب سے بدقسمت ممالک میں افغانستان اور لبنان شامل ہیں۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ عوام کی فلاح و بہبودی کے لئے کس قدر کام کیا جا رہا ہے جو فلاح انسانیت کے کام آ سکتا ہے۔ قوت خرید، صحت عامہ کی سہولیات، تعلیم کی سہولیات، مستقبل کے حوالے سے پرامید ہونا بھی ضروری ہے کہ قوم خوشحال ہو سکے۔ مہنگائی ایک بہت اہم وجہ ہے لوگ کوچہ و بازار میں کس قدر خوشحال ہیں یا نہیں۔ شام و لبنان وغیرہ جیسے ممالک میں لوگ بڑھتی مہنگائی کے ہاتھوں ستائے ہوئے ہیں مستقبل کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ جبکہ عرب ممالک میں لوگوں کے روزگار کا مناسب انتظام کیا گیا ہے جس وجہ سے وہاں کے عوام خوشحال ہیں دیگر ضروریات زندگی کا بھی بھرپور انتظام کیا گیا ہے جیسے صحت اور رفاہ عامہ کے کام۔ اب لوگ دھڑا دھڑ تعلیم کے مدارج طے کر رہے ہیں، ملازمتوں اور کاروبار کرنے کے ذرائع بھی وافر میسر ہیں۔ سب سے بڑی ان حکومتوں کی کامیابی یہ ہے کہ وہاں انہوں نے مہنگائی پہ قابو پا لیا ہے جس سے لوگوں کی خوداعتمادی بڑھ رہی ہے اور وہ اپنے دیگر مشاغل میں شب و روز سرگرداں ہیں۔

جب کہ شام اور لبنان جیسے ممالک میں چونکہ مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے تو لوگ ظاہر ہے ناخوش ہی ہوں گے۔ مہنگائی کا بہترین اوسط درجہ 2 سے 3 فیصد ہونا قرار پایا ہے اس زائد شرح خطرناک حدود میں داخل ہوجاتی ہے۔

ہمیں وطن عزیز کے مفاد کو مدنظر رکھنا ہو گا کہ لوگ اپنے وطن کی محبت میں جڑے رہیں تو مناسب صحت عامہ، سماجی بہبود کے لئے کام کرنا ہو گا ہر بچے کو تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات میسر کرنا ہوں گی اور مہنگائی کے عفریت پہ قابو پانا ہو گا جو اس وقت خوفناک سطح تک بڑھ چکی ہے۔ خود اعتمادی و خود انحصاری سے یہ عزائم پایا تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS