پاکستان کی ترقی کا خواب
پاکستان کی آزادی کو سات دہائیاں گزر چکی ہیں مگر پاکستان ابھی تک ترقی یافتہ ممالک میں شامل نہیں ہوا بلکہ اب پاکستان کو ترقی پذیر ممالک میں بھی شامل نہیں کیا جاتا۔ اتنی مدت کسی ملک و قوم کے مستقبل کے خدو خال کو واضح کرنے کے لئے کافی عرصہ ہے مگر اب بھی آج پاکستان کا نوجوان اپنے بہتر مستقبل کے لئے یورپ اور عرب ممالک کی طرف دیکھتا ہے۔ اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد باہر منتقل ہونا چاہتی ہے۔ آخر اتنے گمبھیر مسائل کون سے ہیں؟
کسی ملک کی ترقی کا پیمانہ اس کے پاس موجود وسائل، زرمبادلہ کے ذخائر، معیشت کی مضبوطی، باسیوں کو سہولیات کی فراہمی سے کیا جاتا ہے۔
پاکستان کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے۔ اس کی رقبہ کا بہت بڑا حصہ قابل کاشت ہے اور ایک جدید نہری نظام سے جڑا ہوا ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال پاکستان کوئلہ کے 175 بلین ٹن ذخائر رکھتا ہے جبکہ قدرتی گیس کے ذخائر کا تخمینہ 885 بلین کیوبک میٹر لگایا گیا ہے۔
پاکستان کو ایک بہت بڑی افرادی قوت کی سہولت میسر ہے۔ پاکستان کی آبادی کا 64 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ پاکستان میں آبادی کا اتنا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ماہرین کے مطابق 2050 تک نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہو گا۔
یہ اور بہت سے اور قیمتی وسائل کے باوجود پاکستان کی ترقی کا رفتار کچھوے جیسا ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات میں چند ایک درج ذیل ہے۔
انرجی کا بحران
سال 2000 کے بعد سے انرجی بحران نے پاکستانی معیشت کا گلا دبا کر رکھا ہے۔ یہ نہایت آسان فارمولہ ہے جب آپ فیکٹری کو بجلی نہیں دیں گے تو فیکٹری بند ہوگی۔ پروڈکٹ کہا سے آئے گی؟ ان میں کام کرنے والے ورکر بے روزگار ہو گئے۔
وہی چیزیں آپ باہر سے منگوائیں گے تو زرمبادلہ خرچ ہو گا اور آپ کو وہ ہی چیزیں نہایت مہنگی قیمت پر ملیں گی۔ انرجی کا بحران حل کیے بغیر معیشت میں بہتری کا خواب خواب ہی رہے گا۔
دہشتگردی
ویسے تو آزادی کے پہلے دن سے ہی ہم نہایت ”امن پسند“ واقع ہوئے ہیں لیکن 2002 کے بعد پاکستان عملاً حالت جنگ کا شکار ہے۔ سٹیٹ بینک 2018 میں تسلیم کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 118 بلین ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس جنگ کہ وجہ ہزاروں لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ جب تک مکمل طور پر امن قائم نہیں ہوتا تو غیر ملکی سرمایہ کار تو کیا پاکستانی سرمایہ کار بھی اپنا سرمایہ پاکستان میں لگانے سے پہلے سو بار سوچے گا۔
دولت کی غیر منصفانہ تقسیم
پاکستان کی دولت چند ہاتھوں میں منقسم ہے۔ پاکستان کے مالدار ترین بیس فیصد لوگ پاکستان کے کل سرمایہ کا 49 فیصد رکھتے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں غریب ترین سات فیصد سرمایہ رکھتے ہیں۔ 2016 میں پاکستان کی 35 فیصد آبادی خط غربت کے نیچے تھی تو 2023 کے آخر میں یہ شرح بڑھ کر 37 فیصد رہنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر دس پاکستانیوں میں چار پاکستانی غربت کی زندگی گزارتے ہیں۔
کرپشن
بدقسمتی سے بحیثیت قوم ہم ایک نہایت کرپٹ قوم واقع ہوئے ہیں۔ چپڑاسی سے لے کر افسر تک اور وزیر سے لے کر سیکرٹری تک سارا معاملہ کرپشن پر چل رہا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن کو حق سمجھا جاتا ہے۔
جہاں کرپشن اور چوری کی بات ہو تو پاکستان کے عوام بالکل بھی پیچھے نہیں۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ چور اور چوری کو برا نہیں سمجھا جا رہا بلکہ اس کا ڈھٹائی کے ساتھ دفاع کیا جاتا ہے۔ ساری قوم ریاست کی املاک کو غنیمت سمجھ کر لوٹ کرتی ہے۔ بجلی چوری، گیس چوری اس قوم کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل 2021 نے پاکستان کو 180 میں سے 140 واں کرپٹ ملک قرار دیا ہے۔
بے روزگاری
جب کسی ملک میں امن اور معیشت کا یہ حال ہو تو ظاہر ہے روزگار کہاں سے ملے گا۔ 31 فیصد نوجوانوں کو بے روزگاری کا سامنا ہے۔ اور اس بڑے طبقہ میں خاصی تعداد عصری اداروں سے ڈگری ہولڈرز کی ہے۔ مایوس کن بات یہ ہے کہ حکومت مزید نوکریاں دینے کی موڈ میں نہیں اور ادھر سے لوگوں ہزاروں کی تعداد میں ڈگریاں لے کر بے روزگاروں کی لسٹ میں شامل ہو رہے ہیں۔
ناقص ٹیکس سسٹم
پاکستان کی مجموعی ٹیکس آمدنی کا نوے فیصد عام آدمی سے وصول کیا جاتا ہے۔
بڑے کاروباری حضرات بشمول سیاستدان ٹیکس ادا نہیں کرتے جبکہ عام آدمی سے دس روپے کی جوس پر بھی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
بیڈ گورننس یا ناقص طرز حکمرانی
یہ نہایت اہم مسئلہ ہے۔ سترہ گریڈ کا افسر اپنے آپ کو فرعون سمجھتا ہے جبکہ ایم پی اے ایم این اے تک عام آدمی کی رسائی ناممکن ہے تو بڑے افسران تک کون بات پہنچائے گا؟ اس سے عام آدمی میں نہایت منفی احساس جنم لیتا ہے۔
نظام تعلیم
پاکستان میں بدقسمتی سے کئی طرح کے نظام تعلیم رائج ہے۔ سرکاری سکولوں کا نظام اور مدارس کا نظام الگ کام کرتا ہے۔ جبکہ اپر کلاس کے لیے انگلش میڈیم ادارے موجود ہے۔ جبکہ انھی مہنگے اداروں سے فارغ التحصیل لوگ بیوروکریسی بشمول فوج میں اعلی عہدوں پر فائز ہو جاتے ہے۔ عام آدمی کو تعلیم سے ترقی کا نسخہ ابھی تک مذاق ہی لگتا ہے۔
الغرض پاکستان کو اپنے سمت متعین کرنی کی اشد ضرورت ہے۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا بلکہ ایک دہائیوں سے جاری غلط پالیسیوں غلط فیصلوں کی وجہ سے آج ہماری معیشت اور معاشرہ روبہ زوال ہے۔
یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ ملائیشیا اور سنگاپور جیسے ممالک نے پاکستان سے پنج سالہ منصوبے لے کر نافذ کیے اور ترقی کی۔ جبکہ ہم نے اپنا یاد کیا ہوا سبق بھول کر سب کچھ کھویا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس یوم آزادی پر سیاستدان بشمول سول سوسائٹی بیٹھ کر ایک لائحہ عمل طے کریں تاکہ اس ملک و قوم کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے اور اقوام عالم میں جگہ پا سکیں۔


