دیسی کتے بمقابلہ ولائتی کتے
کتا ایک ایک وفادار جانور ہے اور اس کی وفاداری ضرب المثل ہے اور یہ بھی انسانوں کی طرح دنیا کے ہر خطے میں پایا جاتا ہے۔ وفاداری ”کتے کی خاص پہچان ہے لیکن یہ اب انسانوں میں ناپید ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں انسان کی حالت ابتر ہو رہی ہے وہیں جانور بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ان میں کتوں کی حالت سب سے پتلی ہے۔ اس خطے کے کتے جو دیسی کتے کہلاتے ہیں ان کی شہروں گلی محلوں میں تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشرے میں کتوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہے، جب ان کی آوارگی بہت بڑھ جاتی ہے تو“ کتا مار مہم ”شروع کردی جاتی ہے۔ اسی طرح کی ایک مہم انسانوں کے خلاف بھی چلتی رہتی ہے جس“ کو پلس مقابلہ ”کہتے ہیں۔ انسانوں کی طرح کتوں کا مرنا بھی معمول بن چکا ہے۔
پسماندہ معاشروں کا یہی المیہ ہوتا ہے کہ وہاں معاشی ابتر حالات اور غربت کے سائے لمبے ہونے کے نتیجہ میں صرف انسان ہی نہیں جانور بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔ اگر دونوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہو تو انجام موت ہوتا ہے۔ سائنس اور تحقیق سے چونکہ ہمارا کوئی لینا دینا نہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم جدید ترین تحقیق سے لاعلم رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ماہرین نے کتوں کے بارے طویل تحقیق کے بعد انکشاف کیا تھا کہ کتا صرف وفادار ہی نہیں بلکہ اس کی یاداشت بھی غیر معمولی ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق ماضی میں کتوں کے سامنے جو کچھ بھی کیا جاتا رہا ہو، وہ ان کو یاد رہتا ہے۔ مزید یہ کہ جن باتوں سے مالک خوش ہوتا ہے، ان کو کتے خاص طور پر یاد رکھتے ہیں اور پھر اپنے ردعمل سے مالک کو خوش کرتے ہیں۔ اسی طرح کتے لفظوں اور موسیقی کو سمجھنے کے لئے دماغ کو اسی طرح استعمال کرتے ہیں جیسے انسان کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں کتوں کی حیثیت انسانوں سے کم تر نہیں بلکہ ان کو گھر کے فرد جیسی حیثیت حاصل ہے۔
ہر موسم کے مطابق ان کے کھانے اور رہنے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے۔ تمام حقوق کی حفاظت کی جاتی ہے۔ کتوں کو کچھ کہنا جرم سمجھا جاتا ہے۔ گلی بازاروں میں کوئی کتا، کتوں کی طرح آوارہ پھرتا نہیں ملے گا۔ یا تو وہ اپنے گھر میں ہو گا، یا پھر اپنے مالک کے ساتھ گھومتا دکھائی دے گا۔ بے گھر کوئی کتا کہیں دکھائی نہیں دے گا، اگر کہیں ایسا دکھائی دے تو ادارہ اس کو تحویل میں لے لیتا ہے۔ دنیا کے کچھ خطوں میں انسانوں اور کتے کی دیکھ بھال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
کتے کی خوش بختی یا بد بختی کا تعلق اس خطے سے ہے جہاں وہ ہوتا ہے۔ اگر وہ مغربی کتا ہے تو پھر باعزت کتا ہے۔ اگر کسی مشرقی ملک سے تعلق ہے پھر وہ صرف کتا ہے۔ اقبال کے شاہین جان ہتھیلی پر رکھ کر مشرق وسطیٰ کے ممالک چھوڑ کر یورپ جانے کی جو کوششیں کر رہے ہیں وہ بلاوجہ نہیں ہیں بلکہ اس کے پس پردہ وہ تحفظ اور سہولیات ہیں جو انسانوں ہی کو نہیں بلکہ ”کتوں“ کو وہاں میسر ہیں۔ آج کی دنیا میں کہیں انسانوں کی زندگی کتوں سے بدتر ہو چکی ہے اور کہیں کتوں کو انسانوں سے حد درجے بہتر سہولیات میسر ہیں۔
ماہ جون میں یوکرین میں سیلاب آنے پر انسانوں کے ساتھ جانور بھی متاثر ہوئے تو فوری طور پر کتوں و دیگر پالتو جانوروں کو نئے گھر مہیا کیے گئے۔ کرونا کی وبا کے دنوں میں جرمنی میں کم و بیش 94 لاکھ کتوں کے لئے ایک قانون متعارف کرایا گیا تھا جس کے مطابق لوگوں کے لئے لازم قرار دیا گیا تھا کہ دن میں کم از کم دو بار کتوں کو باہر ہوا خوری کے لئے لے جانا لازم ہو گا۔
اس وقت جرمنی کے ہر پانچویں گھر میں ایک کتا ہے۔ ان میں جرمن شیفرڈ اور چھوٹی ٹانگوں والے کتے ”ڈاگس ہونڈ“ بھی شامل ہیں۔ ہمارے ہاں تو انسانی تفریق کے بعد کتوں کے مابین بھی ”دیسی“ اور ولائتی ”کتے کی شناخت موجود ہے۔ بہت ابتر حالت کو کتے سے منسوب کر کے بولا جاتا ہے۔ جب کسی دل جلے کا حال پوچھا جائے تو جواب ملتا ہے کہ“ کتے جیسے گزر رہی ہے ”، جب فکر مندی سے پوچھا جائے کہ بھائی ایسا کیا ہو گیا؟ تو پتہ چلتا ہے کہ موصوف کی شادی ہو گئی ہے۔ اب یہاں کتے کا کیا قصور؟
کہیں چند ساسیں اکٹھی مل بیٹھیں تو بہوؤں کا ذکر چل نکلتا ہے تو بھی ایسے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ ”اس نے تو میری کتے جیسی کر کے رکھی ہوئی ہے“ ۔ یہ باتیں مشرق میں تو سچ ہیں جبکہ مغرب میں جھوٹ ہیں۔ اردو زبان میں بہت سے محاورے ایسے ہیں جن میں کتوں کی سچ مچ میں کتے جیسی کی گئی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ کتے اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایسا سب کچھ ہمارے ہاں ہی ممکن ہے۔ انسانوں اور بچوں پر ہاتھ اٹھانا بلکہ تشدد کر کے مار دینا روز کا معمول ہے جبکہ مغربی ممالک میں کتوں کو ”ہش“ بھی نہیں کر سکتے۔
2014 میں مجھے جرمنی پہنچے ایک سال ہی ہوا تھا۔ دوپہر کے وقت دریا کنارے پارک میں جرمن زبان کتاب لئے بینچ پر بیٹھا تھا کہ ایک بڑی عمر کی جرمن خاتون کتے کے ساتھ آئی اور مسکرا کر مجھے دیکھا اور بینچ پر بیٹھ گئی۔ مجھے لگا کہ میری امی کی عمر کی ہے۔ گلابی جرمن زبان میں جب بات کی تو وہ میری دادی جان کی عمر کی نکلیں۔ خاتون نے پیلے رنگ کا ٹینس نما گیند نکالا اور کتے کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا۔ وہ گیند کو دور پھینکتی تو کتا بھاگ کر دانتوں میں جکڑ کر لے آتا۔
میں نے محسوس کیا کہ کتا جب سامنے خاتون کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو مجھے کن آنکھوں سے دیکھتا ہے، یوں میں الرٹ ہو گیا۔ اسی دوران غیر شعوری طور پر میں نے ہاتھ کے اشارے سے کتے کو ”ہش“ کر دیا۔ اس پر جرمن خاتون کا جو رد عمل تھا وہ میرے لئے حیرت انگیز ہی نہیں بلکہ ناقابل یقین بھی تھا۔ اس نے منہ سے تو کچھ نہ بولا لیکن کھڑے ہو کر سخت ناراضگی اور غصے سے دیکھا اور کتے کو دریا کنارے لے گئی اور وہاں پانی سے کتے کو نہلایا۔
ولائتی کتوں کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ یہ بھونکتے کم ہیں اور کام زیادہ کرتے ہیں۔ گھروں کی حفاظت ہی نہیں کرتے بلکہ بچوں سے کھیلتے بھی ہیں۔ ان کی انسانوں سے بڑھ کر دیکھ بھال یونہی نہیں کی جاتی بلکہ اس کی وجہ ٹیکس ہے۔ کتے ٹیکس بہت دیتے ہیں اور حکومتوں کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہوتے ہیں۔ جرمن کے ایک شماریات کے ادارے سٹیٹیکٹس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال پالتو کتوں کے ٹیکس کی مد میں ریکارڈ وصولی ہوئی اور 401 ملین یورو اکٹھے ہوئے۔
اس سے پہلے 2020 میں 308 ملین یورو اکٹھے ہوئے تھے جبکہ 2011 میں کتا ٹیکس آمدنی صرف 275 ملین یورو تھی۔ یہ ٹیکس صوبائی و ضلعی سطح پر میونسپلٹی وصول کرتی ہے۔ ایک سے زائد کتے رکھنے پر دوسرے کتے کی شرح ٹیکس بڑھ جاتی ہے۔ یوں ملکی ترقی میں ہاتھ بٹانے میں کتے کسی سے کم نہیں۔ کتے صرف گھروں تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ ملکی و عالمی سیاست کے اندر بھی موجود ہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جہاں انسان ناکام ہوا وہاں کتے نے کامیابی حاصل کی۔
جنرل ایوب خان کو جب اتارنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو پھر یہی دیسی کتا کام آیا تھا اور سالوں سے نہ ہونے والا کام دنوں میں ہو گیا تھا۔ اسی طرح پرویز مشرف نے جب اقتدار پر قبضہ کیا تھا تو ابتدائی دور کی تصاویر میں وہ بغل میں دو کتے لئے عالمی سیاسی افق پر نمودار ہوئے تھے۔ دونوں کتوں کو روشن خیالی کی علامت بتایا گیا تھا۔ کچھ مہینوں بعد اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں علماء کے ساتھ اجتماعی ملاقات کے موقع پر انجینئر سلیم اللہ (پگڑی والے ) نے جب ان سے سوال کیا کہ جناب نے صدارتی ریفرنڈم میں احمدیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شامل کر کے ان کے ووٹ لے کر اقتدار پکا کر لیا ہے، اے چنگی گل نہیں اے (مفہوم) ۔ اس کے چند دنوں بعد ہی روشن خیالی کی علامت دونوں کتے دم دبا کر ایسے بھاگے کہ آج تک ان کا علم نہیں ہو سکا۔ اسی طرح چند ہفتے قبل ایک ویڈیو وائرل تھی کہ روس کے صدر پوٹن سے جاپان کا ایک وفد ملنے کو آیا تو پوٹن اپنے کتے کے ساتھ ملنے آئے اور کچھ دیر کتے سے کھیلتے رہے جبکہ وفد ہاتھ ملنے کا منتظر تھا۔ یہ بھی سیاسی و سفارتی عقلمندوں کے لئے کسی پیغام سے کم نہیں۔ ثابت ہوا کہ انسان ہی انسان کی کتے جیسے کرنے میں دیر نہیں لگاتا، سیاست میں آج کل یہی ہو رہا ہے۔
آج کے کتے محو حیرت ہیں کہ انسان کو کیا ہو گیا ہے؟ کتے ہم ہیں لیکن کتوں جیسی حرکتیں انسان کرنے لگا ہے۔ انسان ہی انسان کے ہاتھوں تشدد کا شکار نہیں ہے بلکہ بہت سے ممالک میں کتوں کے ساتھ بھی وحشیانہ ظلم کیا جاتا ہے۔ اسی ہفتے کی خبر ہے کہ سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا میں کتوں اور بلیوں کے گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ یہاں دہائیوں سے کتوں کا گوشت فروخت ہوتا تھا جو انسان کھاتے تھے۔


