اسلامی سنہری دور کا احیا کیسے ممکن بنایا جا ئے؟
پچھلے دو مضامین میں، میں نے ان سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ کیا وجوہات تھیں جن کے نتیجے میں مسلمان ایک روشن اور شاندار تہذیب پیدا کرنے میں کامیاب رہے اور پھر یہ کیسے ہوا کہ مسلمانوں کا سنہری دور زوال پذیر ہوا۔ اب سوال یہ ہے کہ کس طرح مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔
اسلامی تہذیب اپنے وجود کے پہلے پانچ سو سالوں میں پروان چڑھی۔ اس دور میں علم کے تقریباً تمام پہلوؤں پر مسلمانوں کا غلبہ رہا اور وہ علمی منظر نامے پر چھائے رہے۔ پھر انہوں نے اپنا زوال دیکھا۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ پچھلی سات صدیوں میں علمی دنیا میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ یہ وہ دور ہے جب مغرب میں سائنسی اور صنعتی انقلابات رونما ہوئے۔ اس دور میں مغرب نے آئزک نیوٹن اور البرٹ آئن سٹائن جیسے سائنسدان، باروچ اسپینوزا اور ژاں جیک روسو جیسے فلسفی، ایڈم اسمتھ اور جان کینز جیسے ماہر معاشیات، چارلس ڈارون اور فرانسس کرک جیسے ماہر حیاتیات، اور تھامس ایڈیسن اور مارکونی جیسے موجد پیدا کیے۔ غرض، علم کے ہر شعبے میں ان کی برتری نمایاں رہی۔
اس دوران، اسلامی دنیا میں شاید ہی ان کے ہم پلہ کوئی فلسفی، سائنسدان، ماہر معاشیات، یا موجد پیدا ہوا ہو۔ سٹیم انجن، کار، ہوائی جہاز، خلائی جہاز، ٹیلی ویژن، پینسلین، لائٹ بلب، انٹرنیٹ، ٹیلی فون، ۔ جیسے تکنیکی کمالات، یہ سب مغربی تہذیب سے آئے ہیں۔ ان سائنسی کا رناموں کے نتیجے میں علم کے نئے شعبوں، جیسے کہ فزیکل سائنسز، کوانٹم ٹیکنالوجی، سائیکاٹری، کمپیوٹر سائنس اور مائیکرو الیکٹرانکس، کی بنیاد رکھی گئی۔ شرمناک بات یہ ہے کہ ان علمی سرگرمیوں میں مسلمانوں کا کوئی رول نہیں رہا۔
آج مسلمان دنیا کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہیں۔ تاہم، ایک گروپ کے طور پر ، ان کا شمار علمی دنیا میں سب سے زیادہ پسماندہ قوموں میں ہوتا ہے۔ رجعت پسند سوچ اور فرقہ وارانہ تنازعات نے ان کی تخلیقی صلاحیتیں سلب کر لی ہیں۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے اور بڑی افرادی قوت ہونے کے باوجود اپنے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کا انحصار مکمل طور پر دوسرے ممالک پر ہے۔ مسلمان جہاں بھی موجود ہیں، عمومی طور پر ان کا شمار پسماندہ ترین طبقات میں ہوتا ہے۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح اس تاریک دور سے نکل کر جدید دنیا میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اگر مسلم معاشروں کو اپنے سنہری دور کو زندہ کرنا ہے اور ایک روشن خیال اور قابل فخر معاشرہ اپنی آنے والی نسلوں کے حوالے کرنا ہے تو ایک سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔ اس بلند مقصد کی تکمیل کے لیے نقطہ نظر میں انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
اس مضمون میں، میں اس موضوع پر اپنے ذاتی خیالات مختلف مکاتب فکر کے لیے نہایت احترام کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔
مسلم معاشروں میں ایک سماجی انقلاب برپا کرنے کے لیے دو اہم اجزاء پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ایک سادہ اسلام کا احیا ہے جو عقلیت کا احترام کرتا ہو۔
دوسرا تعلیمی شعبے میں اہم نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینا وقت کی ضرورت ہے جو تخلیقی ذہن اور آزاد سوچ کی پرورش پر زور دیتا ہو۔
اس مضمون میں، میں پہلی بات پر توجہ مرکوز کرتا ہوں۔ بعد میں ایک مضمون اس سوال کے لیے وقف کروں گا کہ ہمارے تاریک دور کو ختم کرنے کے لیے کس قسم کے تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے، اور اسے کیسے حاصل کیا جائے۔
سب سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے بارے میں ایک عام فہم نقطہ نظر اپنایا جائے۔ ایک سادہ اسلام کی طرف واپسی کے لیے ایک تحریک کی ضرورت ہے جو رسومات کی غیر ضروری اہمیت سے خالی ہو لیکن رواداری، دیانت، انصاف اور تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور ایک مہذب زندگی پر زور دیتی ہو۔
ایک معاشرہ صرف اسی صورت میں ترقی کرتا ہے جب اس پر ایسے قوانین لاگو کیے جائیں جو انصاف، رواداری اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہوں۔
ایسا معاشرہ جو افراد اور عوام دونوں کو یہ موقع فراہم کرتا ہو کہ وہ معاشرے کے اندر موجود تمام عناصر کی نشوونما کے لیے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔
ایسا معاشرہ جس میں، ہر کوئی قانون کے وسیع فریم ورک کے اندر اپنی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق طرز زندگی کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہو۔
ایسا معاشرہ جہاں اہمیت مذہبی عقائد اور رسومات کی بجائے انسانی اقدار پر ہو۔ جہاں انسان کے الفاظ کی اہمیت ہو۔ جہاں جھوٹ بولنا سب سے مکروہ فعل ہو، اور جہاں ایمانداری اور رواداری کا دور دورہ ہو۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں افراد کی زندگی ہر قدم پر اصول و ضوابط کی پابند ہو، تخلیقی صلاحیتوں سے محروم ہو تا ہے۔
سوچنے کی آزادی معاشرے کی صحت کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی کہ ایک صحت مند انسان کے لیے خون کا بلا روک ٹوک بہاؤ۔
اہم سوال یہ ہے کہ ایسا معاشرہ کیسے قائم کیا جائے؟
میرے نزدیک مسلمانوں کا اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ چودہ سالہ تاریخ میں روایات، اقوال، من گھڑت کہانیوں اور واقعات پر مشتمل ایسا مواد جمع ہو گیا ہے جس نے ان کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں بالعموم ایک ایسا معاشرہ پیدا ہوا ہے جس کا مذہب کی روح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام کا آغاز صرف ایک کتاب قرآن سے ہوا۔ لیکن اب مذہب کی بنیاد ایسی بے شمار کتابوں پر ہے جن کا احترام الہامی کتب کی طرز پر کیا جاتا ہے۔ ان میں حدیث کی متعدد کتابیں، فقہ کی متعدد کتابیں، اولیاء کرام کی لکھی گئی کتابیں، اور سیرت نبوی، تفسیر اور ابتدائی اسلامی دور کی تاریخ کی کتابیں شامل ہیں۔ ان سب کتابوں کو مذہب کا لازمی جزو مان لیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں درج ہر روایت کو ایسا سچ مان لیا گیا ہے جس کی صحت پر اعتراض ناقابل برداشت سمجھا جاتا ہے۔
ان متعدد ذرائع میں کسی بھی عمل کا جواز پیش کرنے کے لیے کوئی بھی مقدس قول یا روایت تلاش کر نا مشکل نہیں۔ یہ ذرائع اکثر خود متضاد ہوتے ہیں۔ کسی بھی فرقہ وارانہ منافرت کے لیے ان جلدوں میں کافی مواد موجود ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ امت ہر طرح کے تنازعات میں پھنسی ہوئی ہے جس میں ہر گروہ کو ان ذرائع میں موجود روایات کی بنیاد پر اپنی سچائی کا پورا یقین ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی زیادہ تر توانائیاں فرقہ وارانہ لڑائی جھگڑوں میں ضائع ہو رہی ہیں۔
یہی حال اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ اسلام کی بنیاد اللہ کی وحدانیت پر ہے۔ لیکن آج کا اسلام بعض خلفا۔ اولیا۔ اور اماموں کا مرتبہ اس مقام تک لے گیا ہے جہاں یہ بزرگ ہستیاں خدائی صفات کی مالک نظر اتی ہیں۔
بحیثیت انسان، قدرت کا دیا گیا سب سے بڑا تحفہ دماغ ہے۔ عقلی سوچ وہ سب سے طاقتور وسیلہ ہے جو ہمیں صحیح اور غلط کے درمیان فیصلہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اسلام سمیت کسی بھی عقیدے کے ماننے والوں کے لیے عقل کی بالادستی سے دست بردار ہونا قدرت کی طرف سے دیے گئے سب سے پیارے اور خوبصورت تحفے کو پھینک دینے کے مترادف ہے۔ میرے نزدیک مسلم دنیا کو درپیش سب سے بڑا بحران مذہب کے معاملات میں اور زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں عقلی رویہ سے دستبردار ہونا ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے معاشرے کی سطح پر روایات کے مقابلے میں عقلی رویے پر اعتماد کی بحالی سب سے پہلی شرط ہے۔
اس سے پہلے کہ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کروں، مسلمانوں کو کچھ حقائق سے روشناس کرانا چاہوں گا۔
جب رسول اللہ نے 632 عیسوی میں وفات پائی تو کوئی فرقہ نہیں تھا اور صرف ایک اسلام تھا اور ہدایت کا واحد ذریعہ قرآن تھا۔ خود رسول اللہ نے قرآن کے مجسم ہونے کا کردار ادا کیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیسے ہوا کہ فرقے بنے اور بنتے چلے گئے۔ ایک حقیقت جس کا ذکر مسلمانوں میں شاذ ہی کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ نبی کی زندگی کے بارے میں تقریباً تمام روایات ہمارے پاس آٹھویں صدی کے آخر میں ان کی وفات کے تقریباً 150 سال بعد کے ذرائع سے آئی ہیں۔ ساتویں صدی کے اواخر میں عبدالملک ابن مروان (685۔ 705) کے دور تک اسلامی عصری ذرائع بالکل ناپید ہیں۔ صرف چند مختصر اسلامی اور غیر اسلامی ذرائع ہیں جو نبی کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن ان کی زندگی کے بارے میں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کرتے۔ یہ مآخذ اگرچہ تاریخی نقطہ نظر سے انتہائی قیمتی ہیں لیکن اپنے اختصار کی بدولت رسول اللہ کی زندگی پر کوئی روشنی نہیں ڈالتے۔
پیغمبر اسلام (ص) کی مسلسل سیرت لکھنے والے پہلے شخص محمد بن اسحاق تھے۔ نبی کی زندگی کے بارے میں جو کچھ ہم جانتے ہیں ان کا منبع ابن اسحاق کی کتاب سیرت رسول للہ ہے جو آٹھویں صدی کے آخر (تقریباً 760 عیسوی) میں عباسی خلیفہ المنصور کی دعوت پر لکھی گئی تھی۔ ہر وہ چیز جو ہم ان کی زندگی کے بارے میں جانتے ہیں: ان کی پیدائش، ان کے چچا ابو طالب کی صحبت میں شام کا تجارتی سفر، 25 سال کی عمر میں امیر بیوہ خدیجہ سے ان کی شادی، 40 سال کی عمر میں کوہ حرا پر ان کی نبوت، ایک خدا، اللہ، کی عبادت کے لیے ان کی دعوت، ان کے قبیلے کی شدید مخالفت، 622 عیسوی میں ان کی مدینہ کی طرف ہجرت، غزوات بدر، احد اور خندق، فتح مکہ، ان کا آخری خطبہ، اور ان کی وفات، ان سب کی تفصیل کا ماخذ ابن اسحاق کی سیرت رسول للہ نامی یہ کتاب ہے جو پیغمبر کی وفات کے تقریباً 140 سال بعد لکھی گئی۔
قرآن مجید کے علاوہ کسی دوسرے ماخذ کی حرمت پر اجماع نہیں ہے۔ اسلامی فقہ کے قوانین متعدد افراد نے مرتب کیے جو کسی بھی موضوع پر باہمی احترام کے ماحول میں مختلف نتائج پر پہنچے۔ اسلامی فقہ کے قوانین نبی کی وفات کے تقریباً 150 سال بعد عباسی دور کے آغاز میں مرتب کیے گے تھے۔ عقلیت نے اسلامی فقہ کی تشکیل کی بنیاد رکھی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فقہ کی تشکیل عام لوگوں نے کی تھی جن کو مذہب کا حصہ بنانا غلط ہے۔ اور نئی بصیرت لانے کے لیے یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے تھا۔ آج بھی، ہر وقت نئے نئے مسائل سامنے آتے رہتے ہیں، ہر فرد کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ واحد متفقہ دستاویز یعنی قرآن کی روشنی میں اسلامی قوانین وضع کرسکے۔
حدیث کا پہلا سنجیدہ مجموعہ نویں صدی کے آخر میں، نبی کی وفات کے دو سو سال بعد مرتب کیا گیا۔ حدیث کے پہلے بڑے مجموعے کو کتاب کی شکل دینے والے فارسی عالم محمد البخاری تھے۔ ان کا مجموعہ صحیح البخاری 845 عیسوی کے قریب لکھا گیا تھا۔ دوسرا بڑا حدیثی مجموعہ، صحیح المسلم، البخاری کے ہم عصر، مسلم ابن الحجاج نے لکھا تھا۔ دوسرے حدیثی مجموعے سنن ابو داؤد، ابو داؤد ( 817۔ 889 ) نے، سنن الصغرا، النسائی ( 829۔ 915 ) نے، سنن ابن ماجہ، ابن ماجہ ( 824۔887) نے اور جامع الترمذی، ترمذی ( 824۔ 892 ) نے مرتب کیے۔ یہ تمام احادیث جمع کرنے والے ہم عصر تھے، اور ان کے مجموعے کو سنی روایات میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ دو سو سالہ پرانی روایات اور فرمودات کو کسی تعصب کے بغیر مکمل طور پر مستند انداز میں جمع کیا جا سکے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہم تو ایک سال، بلکہ ایک ماہ اور بعض اوقات ایک دن، پرانے الفاظ تک کو مکمل طور پر لفظ بہ لفظ نہیں یاد رکھ سکتے۔
مسلمانوں کی تاریخ اولین خلفا کے بارے میں متقی روایات سے بھری پڑی ہے۔ ان خلفا کی زندگی کے بارے میں بے شمار روایات زبان زد عوام ہیں۔ ایک حیرت انگیز مشاہدہ یہ ہے کہ ابوبکر اور عمر کا پہلا ذکر عرب کے بادشاہوں کی فہرست میں ملتا ہے جو سنہ 661 عیسوی میں ارمینی بشپ سیبیوس سے منسوب ایک تاریخ کی کتاب میں مرتب کی گئی تھی۔ ان عظیم خلفا کا تذکرہ ان عصری ذرائع میں مفقود ہے جو ہم تک پہنچے۔ ان کی موت کے بعد کئی دہائیوں تک ان تاریخ کی اہم شخصیات کی زندگیوں کے بارے میں کوئی براہ راست ذرائع موجود نہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ان کے بارے میں جو کہانیاں پڑھتے یا سنتے ہیں، وہ زیادہ تر تقویٰ کے جذبے کے تحت ان کی موت کے کئی دہائیوں، شاید صدیوں بعد ، لکھی گئیں۔ کربلا کے واقعات کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے جہاں عصری ذرائع موجود نہیں ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اسلامی تاریخ کے ان واقعات کا تذکرہ اس انداز میں کیا جاتا ہے جیسے کوئی آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہا ہو۔ سوچنے کی بات ہے کہ ٹیلیویژن اور انٹرنیٹ کے اس دور میں بھی ہم واقعات اور فرمودات کے بارے میں اتنی خود اعتمادی کا مظاہرہ نہیں کرتے جتنا ان ہزار سال پرانی روایات کے بارے میں کرتے ہیں۔
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اسلام سے وابستہ تقریباً تمام تاریخی روایات عباسیوں کے دور سے آئی ہیں جو بنو امیہ کے خلاف ایک ایسی خونریز بغاوت کے بعد اقتدار میں آئے تھے جس میں خاندان کی اموی شاخ کے زیادہ تر افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا اور تقریباً تمام اموی حکمرانوں کی قبریں مسمار کی گئی تھیں۔ تاریخی واقعات ہمیشہ ایک تعصب پیدا کرتے ہیں۔ یہ زبانی روایات اور ان کی تالیفات میں جھلکتے ہیں۔ اس طور ان تمام روایات کو مقدس سمجھنا ایک غلطی اور حماقت لگتی ہے۔ تقسیم ہند کے حوالے سے ہم نے اپنے دور میں ایسا تعصب دیکھا ہے۔ جناح، جنہوں نے پاکستان کے لیے تحریک کی قیادت کی، ہندوستان اور پاکستان میں بالکل مختلف انداز میں دیکھے اور سمجھے جاتے ہیں۔
ان مختصر مشاہدات کی روشنی میں، یہ واضح ہے کہ قرآن سے باہر اسلام سے متعلق تمام کتب اور روایات کو مذہبی طور پر مستند سمجھنے کا جواز نہیں۔ ان کتب کی صداقت کا وہی معیار ہے جو تاریخ کی کسی اور کتاب کا ۔ میرے نزدیک تو ان کتابوں کو مذہب کا حصہ قرار دینا مذہب کی توہین کے مترادف ہے۔ یہ ان انسانوں کی تحریریں ہیں جو ہم جیسے انسان تھے اور ہرگز ہرگز غلطی سے مبرا نہیں تھے۔ اس طرح ان کتابوں کو اور ان کے اندر پیش کیے گئے واقعات اور روایات کو الہامی سمجھنا اور ان کی بنیاد پر فرقہ بازی کرنا اور ایک دوسرے کو کافر قرار دینا مذہب سے مذاق لگتا ہے۔ اس طور میری سوچ کے مطابق اس تاریکی سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ اس مذہبی مواد سے نجات حاصل کی جائے جس نے ہم سے تخلیقی سوچ چھین لی ہے اور تاریک راہوں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔
ایک سائنسی سوچ سے لبریز اور تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور معاشرہ قائم کر نے کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام ذرائع میں سے کسی ایک کو بھی دین کا حصہ نہ سمجھا جائے۔ ان کو صرف اس دور کی ایک نامکمل اور دھندلی تاریخ کے طور پر دیکھا جائے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
ایک روشن خیال اسلامی معاشرے کے لیے اسلامی قانون کا واحد ماخذ قرآن مجید ہے اور مسلمانوں کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ ان تمام امور کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کے مجاز ہوں جن کا قرآن میں ذکر نہیں ہے۔ حدیث، فقہ، تاریخ اور روایات کے نام پر جو بیڑیاں ڈال دی گی ہیں، ان سے آزاد کرائے بغیر ایک ایسے معاشرے کا تصور ناممکن ہے جو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ اسلام کو ایک انقلابی احیا کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح کا نقطہ نظر اسلام کو معاشرے کے ارتقا کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے تمام فرقوں سے نجات حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ ان کی جڑیں تاریخ میں ہیں نہ کہ قرآن میں۔ ذرا سوچئے کہ، اگر قرآن سے باہر کے تمام ماخذات دین کا حصہ نہیں رہیں گے، اس صورت میں، وہ تمام فرقے جو صدیوں سے ایک دوسرے سے پرتشدد اختلاف کرتے رہے ہیں، فوراً ختم ہو جائیں گے۔
میرے نزدیک ایک اصلاحی تحریک جو دین کو آسان بناتی ہے اور اسے حدیث، فقہ اور تاریخ کے بہت بھاری وزن سے نجات دلاتی ہے، تنازعات کی اندھیری رات کو ختم کرنے اور، تاریخی واقعات کے بارے میں لامتناہی اور فضول بحثوں کو ختم کرنے کی شرط ہے۔ فرقہ واریت، اور تعصب سے پاک ایک سادہ اسلام کی طرف واپس جانے کا عزم مسلم معاشرے کو اس دنیا میں اس کے صحیح مقام پر بحال کرنے کی طرف اہم قدم ہو گا۔ ایک فلسفیانہ اور سائنسی سوچ کا راستہ کھل جائے گا۔
یورپی تاریخ سے سبق سیکھا جا سکتا ہے کہ رومی سلطنت کے زوال کے بعد یورپ ایک تاریک دور میں ڈوب گیا تھا، اور یہ اس وقت ہوا جب عیسائیت ریاست کے مذہب کے طور پر ابھر رہی تھی۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ مغرب میں سائنسی انقلاب کی پیدائش، جو 1543 میں کوپرنیکس کے ہیلیو سینٹرک تھیوری کی تشکیل سے منسوب ہے، اس اصلاحی تحریک کے عروج پر ہوئی جب 1517 عیسوی میں مارٹن لوتھر نے پوپ کے اختیارات کو چیلنج کرنے کے لیے اپنے پچانوے مقالات پیش کیے۔ مارٹن لوتھر کی تحریک نے عیسائی مذہب کو کیتھولک مذہب کی آلائشوں سے آزاد کیا، اور ایک سادہ پروٹیسٹنٹ مذہب کی بنیاد رکھی جس نے سائنسی انقلاب کو ممکن بنایا۔
اب تک میں نے اس بنیادی مسئلے کا ذکر کیا ہے کہ، اگر ہم روشن خیالی کے دور میں داخل ہونا چاہتے ہیں تو اسلام کیسا مذہب بننا چاہیے۔ لیکن جیسا کہ میں نے شروع میں ذکر کیا تھا کہ روشن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے اسلام میں یہ اصلاح ضروری تو ہے مگر یہ کسی بھی طرح سے کافی نہیں ہے۔ قوموں کی جماعت میں با عزت مقام حاصل کرنے کا آج کا تقاضا اپنی نوجوان نسل کو اعلیٰ معیار کی تعلیم دینا ہے۔ یہ مقصد، لفظوں میں سادہ ہے، مگر عملی طور پر زیادہ تر مسلم معاشروں کے لیے ایک بہت مشکل کام ہے، ایک فولادی عزم کے بغیر اس مقصد کا حصول ناممکن ہے۔ تعلیم کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ایسے ذہن پیدا کیے جائیں جو آزادانہ اور تخلیقی طور پر سوچنے کے قابل ہوں۔ جدید دور کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے لیے، مسلم ممالک میں رائج تعلیمی نظام پر نظر ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔


