ایمسٹرڈیم کی سائیکلیں، منشیات اور ۔ ۔ ۔ مکمل کالم


سیانے کہہ گئے ہیں کہ زندگی میں شارٹ کٹ نہیں لینا چاہیے، شارٹ کٹ کے عادی لوگ عموماً منزل مقصود پر نہیں پہنچ پاتے اور اُن کا ہاضمہ بھی اکثر خراب رہتا ہے۔ نہ جانے یہ سیانے لوگ کون تھے جو ایسی باتیں کر گئے اور ہم نے انہیں سچ مان لیا۔ نیروبی سے ایمسٹرڈیم براہ راست پرواز جاتی ہے مگر ہم نے کینیا ائر لائن کی وجہ سے شارٹ کٹ لینا مناسب نہ سمجھا اور ’وایا دوحہ‘ ایمسٹرڈیم پہنچے۔ گویا جو سفر نو گھنٹے میں ممکن تھا ہم نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ساڑھے چودہ گھنٹے کا بنا دیا۔ عمل سے بنتی ہے زندگی جنت بھی جہنم بھی۔

ایمسٹرڈیم میں موسم خاصا خوشگوار تھا، جب ہم پہنچے تو دھوپ نکلی ہوئی تھی مگر ایسی کہ جیکٹ اتارو تو ٹھنڈ لگتی اور پہن کر رکھو تو گرماہٹ محسوس ہوتی۔ تھوڑی دیر بعد بارش شروع ہو گئی مگر ایسی کہ اگر چلتے رہو تو بھیگنے کا احساس نہ ہو اور اگر رُک جاؤ تو جل تھل ہو جائے۔ ہوٹل میں چیک اِن کر کے کمرے کا جائزہ لیا تو پتا چلا کہ کافی کا سامان تو موجود ہے مگر پانی نہیں، ریسپشن فون کر کے پوچھا تو جواب ملا کہ آپ بے فکر ہو کر نلکے کا پانی استعمال کریں، ایمسٹرڈیم کا پانی بالکل صاف ہے اور اپنی شفافیت کی بدولت یورپ میں دوسرے نمبر پر ہے۔ سُن کر طبیعت خواہ مخواہ بشاش ہوئی حالانکہ دو دہائیاں پہلے تک ہمارے شہروں میں بھی نلکے کا صاف پانی ملا کرتا تھا، وہی ہم پیتے تھے، منرل واٹر کی بدعت تو بہت بعد میں شروع ہوئی۔

ہوٹل کے بالکل سامنے میٹرو سٹیشن تھا، دوستوں سے طے پایا کہ کمرے میں سامان رکھتے ہی شہر کا چکر لگایا جائے سو ہم نے ایک دن کے لیے میٹرو کا پاس بنوا لیا، قیمت نو یورو تھی، بولے تو اٹھائیس سو روپے۔ اگلے دو دن تک ہم یہی ضرب تقسیم کرتے رہے۔ ایک تو یورپ کی مہنگائی، اوپر سے ایمسٹرڈیم، یہاں برگر بھی سولہ یورو میں ملا جو زہر مار کرنا پڑا، رہی سہی کسر ہمارے روپے نے نکال دی جو ردّی ہو چکا ہے۔ یورپ کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا موازنہ کرنا ہوتو فقط میکڈانلڈ کے برگر کی قیمت معلوم کر لیں، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کون سا شہر کتنا مہنگا یا سستا ہے، ایمسٹرڈیم میں ایک ’meal‘ (طعام) کی قیمت اگر سولہ یورو تھی تو برلن میں یہی برگر ہمیں آٹھ یورو میں ملا۔ ہیں تلخ بہت بندہ ’مجبور‘ کے اوقات!

ایمسٹرڈیم کا مرکزی علاقہ دام سکوائر کہلاتا ہے، یہاں سیاحوں کی بھیڑ رہتی ہے اور ویسا ہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے جیسا یورپ کے دیگر شہروں میں ہے، کھانے پینے کی دکانیں، سڑک کے کنارے بنے ہوئے کیفے، شہر کے درمیان رواں دواں نہر، شاپنگ مالز، سووینئر شاپس، بل کھاتی ہوئی ٹرام، پر شکوہ گرجا گھر، میوزیم اور کچھ تاریخی عمارتیں۔ لیکن اِن تمام باتوں کے علاوہ بھی ایمسٹرڈیم میں تین چیزیں ایسی ہیں جو اِس شہر کو باقی یورپی شہروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ سائیکلیں، منشیات اور طوائفیں۔

ایسا نہیں ہے کہ یورپ کے باقی شہروں میں یہ سب کچھ مفقود ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ایمسٹرڈیم میں آسانی اور فراوانی کے ساتھ یہ چیزیں دستیاب ہیں۔ یورپ میں لوگ سائیکلوں پر سفر کرتے ہیں مگر جو جذبہ ایمسٹرڈیم میں دیکھا وہ کہیں اور نہیں ملا، شہر میں جتنے بندے ہیں اُس سے زیادہ سائیکلیں ہیں، ہالینڈ کے وزیر اعظم کی سائیکل بھی اسی لیے مشہور ہوئی تھی کہ وہ بھی سائیکل پر ہی دفتر آیا جایا کرتا تھا۔ شہر کے چپے چپے پر سائیکل اسٹینڈ بنے ہیں، آپ مشین میں ٹوکن ڈال کر سائیکل کرائے پر حاصل کریں اور استعمال کر کے کسی بھی دوسرے اسٹینڈ پر چھوڑ کر چلے جائیں۔ سڑک پر سائیکل چلانے کے لیے علیحدہ راستہ موجود ہے، یہاں سائیکل سوار بہت تیز رفتاری سے سائیکل چلاتے ہیں اور اکثر پیدل چلنے والوں کی بھی پروا نہیں کرتے اور اگر غلطی سے کہیں کوئی گاڑی والا انہیں چھو کر گزر جائے تو آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور اچھا خاصا ہرجانہ وصول کر کے جان چھوڑتے ہیں۔

ایمسٹرڈیم میں ’ہلکی پھلکی منشیات‘ کا استعمال بھی ممنوع نہیں ہے، کافی شاپس پر یہ منشیات مل جاتی ہیں تاہم آپ کسی راہ چلتے شخص سے نہیں خرید سکتے، اِس معاملے میں حکومت یوں تاثر دیتی ہے جیسے اُس نے منشیات پر پابندی لگا رکھی ہو حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں فقط اِس لیے آتی ہے کہ انہیں حشیش وغیرہ خرید کر پینے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔

ایمسٹرڈیم کا دام سکوائر اپنے قحبہ خانوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، یہاں گلیوں میں چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں جن کے آگے شیشے لگے ہیں، شیشے کے پیچھے نیم برہنہ عورتیں کھڑی ہوتی ہیں اور گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں جسم فروشی کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور بعض مخصوص علاقوں میں قحبہ خانے بھی ہوتے ہیں مگر ایسا شاید ہی کسی دوسرے شہر میں ہوتا ہو جیسا ایمسٹرڈیم میں ہوتا ہے، یہاں جس طرح عورتیں سر عام نیم برہنہ کھڑی دیکھیں ویسا منظر میں نے تھائی لینڈ یا برطانیہ میں دیکھا تھا۔ تاہم ایک لحاظ سے ایمسٹرڈیم اِن شہروں سے یوں مختلف ہے کہ یہاں مخصوص گلیات میں ٹرانس جینڈر مرد بھی کھڑکی میں کھڑے ہو کر گاہکوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ گویا ’تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا، ورنہ گلشن میں علاجِ تنگی داماں بھی ہے‘ !

ایمسٹرڈیم ایک خوبصورت اور صاف ستھرا شہر ہے، اِس شہر میں آپ نہر میں کشتی چلا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں، یہ نہر پورے شہر میں پھیلی ہے، اسے دیکھ کر وینس یاد آ جاتا ہے، وینس کی طرح ایمسٹرڈیم میں بھی نہر کا پانی گھروں اور عمارتوں کی دیواروں سے ٹکراتا ہے۔ یہاں نہر کے کنارے ’بوٹ ہاؤس‘ بھی ہیں، یہ ایک قسم کا کشتی کا گھر ہے جس کی کم سے کم قیمت ایک ملین یورو ہے۔ پچاس سال پہلے ایمسٹرڈیم کی نہر ایسی نہیں تھی، یہ ایک جوہڑ کا منظر پیش کرتی تھی لیکن پھر حکومت نے اِس کی صفائی کا بیڑا اٹھایا جس کے بعد چند سال میں ہی نہر کی شکل بدل گئی، اب اِس میں کشتیاں چلتی ہیں، سیاحوں کو شہر کا چکر لگوایا جاتا ہے اور گرمیوں میں لوگ بے فکری سے نہاتے ہیں۔ لاہور کی نہر میں بھی یہ سب کچھ ہوتا تھا مگر ہماری نہر اب ذرا ’بیمار شمار‘ رہتی ہے۔

نہر کی سیر کے دوران ٹور گائیڈ نے بتایا کہ پورے شہر میں اِس نہر پر اٹھارہ سو پُل تعمیر ہیں، یہ چھوٹے چھوٹے پُل اتنے نیچے بنائے گئے ہیں کہ کشتیاں بمشکل ہی گزر پاتی ہیں۔ یہ ٹور گائیڈ خاصا دلچسپ آدمی تھا، سیاحتی علاقوں میں زیادہ تر ٹور گائیڈ ایسے ہی ہوتے ہیں، سیر کے دوران اُس نے ایمسٹرڈیم کے مہنگے ہوٹلوں کے بارے میں چٹکلے سنا کر سیاحوں کو خاصا محظوظ کیا، اُس کی مخولیا طبیعت سے میں نے اندازہ لگایا کہ یہ بندہ کسی وقت میں وزارت اطلاعات میں پبلسٹی افسر رہا ہو گا۔

ایمسٹرڈیم کی ایک اور خاص بات یہاں کے عجائب گھر ہیں، سیانے کہتے ہیں کہ وان گاف کا میوزیم اور رِکس میوزیم ایسی جگہیں ہیں کہ اگر آپ وہاں نہیں گئے تو سمجھو ایمسٹرڈیم نہیں گئے۔ اب ضروری نہیں کہ سیانوں کی ہر بات ٹھیک ہو، کچھ باتیں خواہ مخواہ بھی کی جاتی ہیں۔ جن سیانوں نے یہ باتیں کی تھیں وہ یقیناً ایمسٹرڈیم نہیں گئے، کیونکہ اگر وہ ایمسٹرڈیم گئے ہوتے تو ایک تیسرے میوزیم کا ذکر ضرور کرتے جو شاید کسی اور شہر میں نہیں، میں نے بھی وہ میوزیم باہر سے ہی دیکھا، دروازے پر تختی لگی تھی ’جسم فروشی کا عجائب گھر‘ ْ۔ ایمسٹرڈیم پورے یورپ میں اپنے قحبہ خانوں کی وجہ سے مشہور ہے حالانکہ یورپ کے کچھ شہر ایسے ہیں جہاں یہ کام ایمسٹرڈیم سے زیادہ بڑے پیمانے پر ہوتا ہے مگر وہ اِس کی تشہیر نہیں کرتے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے ڈچ حکومت نے یہ سب کچھ کمپنی کی مشہوری کے لیے کر رکھا ہے اور شہر کی برینڈنگ اِس انداز میں کی ہے تاکہ سیاحوں کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ ہماری اگلی منزل نیدر لینڈ کا دارالحکومت ’دَن ہاگ‘ تھی، وہاں ہمارے ساتھ کیا ہوا، اِس کا ذکر اگلے کالم میں!

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada