دولے شاہ کے چوہوں کا ہائر ایجوکیشن کمیشن


20 جون 2023 ء کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ ڈاکٹر شائستہ سہیل نے ملک بھر کی جامعات (یونیورسٹیز ) کے نام جاری کردہ خط میں جامعات کی حدود میں ہندو تہوار ”ہولی“ سے دور رہنے کی ہدایت کا پروانہ جاری کیا ہے۔ مذکورہ مکتوب میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ”اپنی ثقافت اور معاشرتی قدروں سے کلی طور پر منقطع سرگرمیوں کا عمل پذیر ہونا نہایت بدقسمتی اور ملک کی اسلامی شناخت سے انحراف ہے“ ۔ ڈاکٹر شائستہ کے مطابق ہندو تہوار ”ہولی“ کا منایا جانا تشویش کا باعث ہے۔ یونیورسٹی کے پلیٹ فارم سے دور و نزدیک تک دیکھے جانے والی اس سرگرمی نے ملک کے تشخص (image) کو بری طرح مجروح کیا ہے۔

قبل ازیں 6 مارچ 2023 ء کو کراچی یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبا ء کے ارکان نے ہولی کا تہوار مناتے ہوئے ہندو طلباء کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اسی روز لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں ہولی منانے والے ہندو طلبا اور طالبات کو اسلامی جمعیت طلبا کے ارکان نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہندو طلباء نے انتظامیہ سے مبینہ طور پر ہولی منانے کی اجازت بھی لے رکھی تھی۔ کیا بھلا ہوتا اگر محترمہ شائستہ سہیل اپنے خط میں ملک بھر کی جامعات کے طلباء کو اسلامی جمعیت طلباء کی تقلید کرنے کی ہدایت فرما کر ملکی تشخص کے تحفظ ایک ہی بار کافی و وافی بندوبست کر دیا ہوتا۔ قبل ازیں ان کی خاموش تائید یہ تنظیم یہ فرض کما حقہ ادا کر رہی ہے جس کے روح پرور مناظر عموماً اخبارات کی زینت بنتے دیکھے جاتے ہیں۔

دوسری طرف ہائر کمیشن کی مہم جوئی کی خبر کے باعث جب پاکستان کے بیرونی دینا کے لئے خود تراشیدہ تشخص پر آنچ آئی تو حکومت کے کان کھڑے ہوئے۔ چنانچہ وزیر تعلیم رانا تنویر حسین کے ذریعے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اپنا نوٹس واپس لینے کے لئے کہہ دیا گیا۔ علاوہ ازیں اس واقعہ پر بلا ضرورت شور مچانے والوں کا منہ بند کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ کے ذریعے خبر دی گئی کہ HEC کی جانب سے مذہبی تہوار کی حوصلہ شکنی کرنے پر رانا تنویر نے سخت ایکشن لیا ہے۔ تا ہم حکومت کی جانب سے لئے گئے مبینہ سخت ایکشن کی نوعیت کے بارے کسی قسم کی تفصیل اخفا کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ کسی صحافی کے اہل حکم سے اس بارے سوال پوچھنے کی زحمت نہ کرنے پر کسی کو چنداں حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

ہمارے ہاں مذہب کی بنا پر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ نفرت اور امتیاز پر مبنی رویوں کی جڑیں ریاست کے قوانین، پالیسیوں اور اس کی معتبر ترین دستاویز (دستور پاکستان) میں پائی جاتی ہیں جن سے رسنے والے اثرات معاشرتی زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کر چکے ہیں۔ چنانچہ گاہے گاہے شائستہ سہیل جیسے افسران کی بدولت ایسے واقعات منظرعام پر آ جاتے ہیں جن کے باعث عوام الناس اور دنیا بھر کے لئے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ حسن سلوک کا خود تراشیدہ خیالی بت دھڑام سے پاش پاش ہو جاتا ہے۔ یاد رہے مہذب دنیا میں ایسے واقعات کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں سرکار کی جانب سے نہایت چابکدستی سے ”گونگلووں سے مٹی جھاڑنے“ کی واردات ایک طے شدہ پالیسی کے تحت انجام دی جاتی ہے۔ چنانچہ اپنی بگڑی ہوئی صورت پر ایسے اشتہارات، احکامات یا واقعات سے

لاتعلقی یا منسوخی کا اشتہار کا میک اپ چڑھا دیا جاتا ہے۔ 16 ستمبر 2015 ء کو پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے ایک اشتہار شائع کروایا جس میں خاکروب کی اسامیوں کو غیر مسلم شہریوں کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ قومی کمیشن کے توسط سے یہ خبر بی بی سی پر شائع ہو گئی تو اہل حکم کو جاگ آٰئی۔ اگلے ہی روز ایک تصحیح ( کوریجنڈم) جاری کی گئی جس میں درستی فرما دی گئی تھی۔ تاہم جہاں پر درستی مقصود تھی اس طرف دیکھنے کی زحمت نہیں فرمائی گئی۔

کئی برس قبل شاہدرہ لاہور میں آٹھویں جماعت کے امتحانات میں خانہ داری کے عملی امتحان میں ایک ممتحن نے ایک مسیحی بچی کے ہاتھ کا بنایا ہوا کھانا چکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ سرکاری اسکولوں میں مسیحی بچوں کو کمرہ جماعت میں موجود گلاس میں پانی پینے سے انکار، مسیحی ہونے کے باعث اسکول میں داخلہ دینے سے انکار کی خبریں بھی کبھی کبھار سطح پر آ جاتی ہیں تاہم ایسے واقعات کے سدباب کے لئے اقدامات اٹھانے کے مجاز افسران بجائے خود اس چلن کو ایک اخلاقی معیار سمجھتے ہیں۔

اسلامی جمعیت طلباء اور دیگر مذہبی جماعتوں کا عمومی چلن ہے کہ وہ اپنے نقطہ نظر اور تصور حیات اور معیارات کو حتمی اور آفاقی جانتے ہوئے اس کو مذہب، ثقافت اور مذہب کے نام پر کسی بھی صورت (بزور جبر و تشدد) نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ڈائریکٹر اسی تصور حیات و کائنات پر یقین رکھتی ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ انہیں معلوم نہ ہو کہ پاکستان مختلف مذاہب، ثقافتوں اور قدیم تہذیبوں کا گہوارہ ہے۔ سکھ دھرم کے بانی گرو نانک ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے تھے۔

یہاں پر جگہ جگہ دیگر مذاہب کے اہم مقامات اور نشانات موجود ہیں۔ محترمہ شائستہ سہیل کو معلوم ہو کہ پاکستان میں کسی ایک گروہ کے خیال اور تصور کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ہری پور میں سوئے بدھا کا مجسمہ، خیبر پختونخوا میں پھیلے سٹوپا، سندھ اور دیگر علاقوں میں تاریخی اہمیت کے حامل مندروں اور اس علاقہ میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کی رنگا رنگی سے بھری خوبصورتی کو اس سر زمین سے مٹانا ہو گا۔

ہمارے ہاں ہر شعبہ زندگی میں نفرت و امتیاز کی فصل بونے والے بدبو دار تعلیمی نصاب و پالیسی سے تراشے ہوئے ڈاکٹر شائستہ جیسے ”دولے شاہ کے چوہے“ اپنے سروں پر جڑے خیال و تخلیق کو جامد و ساکت رکھنے والے کڑے ہر صورت دیگر لوگوں کے سروں پر بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ محدود تصور حیات کی بصارت کے باعث دولے شاہ کے چو ہے ملک میں پھیلی کثیر المذہب ثقافتوں اور روایت کی رنگا رنگی سے انحراف و انکار کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ یہ یک رنگی قائم کرنے کی پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت پاکستان سے ہندو اور سکھوں کے افراد کو یہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور کر کے ملک کے تنوع کی ایک طبقہ کا رنگ چڑھانے کی کوشش کی گئی تھی جس پر آج تک عمل درآمد جاری ہے۔ اگر یہ کھیل تب خطرناک تھا تو اب کیسے مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS