دانائی کا سرچشمہ ۔ عارف عبدالمتین
آج سے نو ماہ پیشتر ایک شام نروانا ریسٹورنٹ کے لذیذ اور پر تکلف ڈنر کے دوران میں نے حامد یزدانی کو بتایا کہ میں نے اپنے شاعر چچا عارف عبدالمتین سے دانائی کے بہت سے راز سیکھے ہیں اور میرا ان سے محبت اور عقیدت کا ایسا رشتہ ہے کہ آج بھی میرے فون کی آنسرنگ مشین پر درویش کے میسیج میں ان کا یہ شعر سنائی دیتا ہے
جب کبھی آتے ہیں میرے پاس آپ
میں نکل جاتا ہوں خود کو ڈھونڈنے
حامد یزدانی نے چائے کی چسکی لے کر بڑے مدبرانہ انداز سے مسکراتے ہوئے جب مجھے بتایا کہ انہوں نے بھی اپنے عہد جوانی میں عارف عبدالمتین کے دانائی کے چشمے سے اپنی ادبی پیاس بجھائی ہے تو میں نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ ہم دونوں عارف عبدالمتین کی شاعری اور شخصیت کے حوالے سے ادبی محبت ناموں کا تبادلہ کریں۔ حامد یزدانی کو میرا مشورہ پسند آیا اور ہم دونوں نے خطوط کے تبادلے کا سلسلہ شروع کر دیا۔
اس ادبی محبت ناموں کے تبادلے کے دوران حامد یزدانی نے مجھے مشورہ دیا کہ میں عارف عبدالمتین کے بارے میں ایک کتاب مرتب کروں۔ میں نے حامد یزدانی سے کہا کہ کیوں نہ ہم مل کر ان کے اس ادبی خواب کو شرمندہ تعبیر کریں۔ حامد یزدانی مان گئے اور ہم ادبی ہم سفر بن گئے۔
جب حامد یزدانی اور میرے ادبی محبت نامے۔ ہم سب۔ پر چھپنے شروع ہوئے تو عارف عبدالمتین کے فرزند ارجمند اور میرے کزن نوروز عارف بھی اس ادبی پروجیکٹ میں شامل ہو کر ہمارے ادبی ہم سفر بن گئے۔
عارف عبدالمتین کے بارے میں کتاب مرتب کرنے میں اس وقت تیزی آئی جب نوروز عارف نے ہمیں بتایا کہ عارف عبدالمتین 1923 میں پیدا ہوئے تھے۔ میں نے سوچا اس حوالے سے ہم 2023 میں ان کا صد سالہ جشن ولادت منا سکتے ہیں۔
اس تبادلہ خیال کے بعد رفیق سلطان ’پرویز صلاح الدین اور امیر جعفری کے مشورے سے ہم نے مل کر فیمیلی آف دی ہارٹ کے ایک ادبی پروگرام کا اہتمام کیا جس میں نوروز عارف‘ حامد یزدانی ’امیر جعفری اور سارہ علی نے مقالے پڑھے اور عظمیٰ عزیز نے عارف عبدالمتین کی قد آدم تصویر اور کتابوں سے ایک دیدہ زیب بینر بنوایا۔
اس سیمینار میں جن حاضرین نے بڑے جوش و خروش سے شرکت کی ان میں عارف عبدالمتین کی بہو چندا ’پوتے سروش اور آزر اور پوتی ربیعہ بھی شامل تھے۔
کتاب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے حامد یزدانی اور میں نے نہ صرف سیمینار میں پیش کیے جانے والے مقالوں بلکہ پاکستان کے چند ادیبوں کے مضامین بھی یکجا کیے۔ ان مقالوں کے ہمراہ ہم نے عارف عبدالمتین کی مختلف کتابوں سے ان کی نظم و نثر کا انتخاب بھی شامل کیا۔ جب مسودہ تیار ہو گیا تو ہم نے کتاب نعیم اشرف کو پاکستان بھیجی۔ نعیم اشرف نے نہ صرف کتاب کی پروف ریڈنگ کی بلکہ اسے بڑے احترام و اہتمام سے آواز پبلیکیشنز 0300 521 1201 اقبال مارکیٹ راولپنڈی سے چھپوایا بھی۔
ہم نے کتاب کا نام عارف عبد المتین کے ایک مصرعے
عہد میرا مجھے پہچان نہ پایا عارف
سے مستعار لیا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ عارف عبدالمتین اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کے شاعر بھی تھے ادیب بھی تھے اور نقاد بھی۔ ان کی تخلیقات اب نصاب کا حصہ ہیں اور مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات ان کے خیالات ’نظریات اور تصنیفات پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تھیسس لکھ رہے ہیں۔ مجھے قوی امید ہے کہ ہماری ادبی کوشش ان طلبا و طالبات کے تحقیقی اور تخلیقی کام میں معاونت کرے گی۔
پاکستان میں کتاب چھپ گئی تو میں نے اپنی بھانجی وردہ سے کہا کہ لاہور سے واپسی پر وہ کتاب کی چند کاپیاں اپنے ساتھ لے آئیں۔ چنانچہ جب وردہ پاکستان سے لوٹیں تو اپنے سوٹ کیس میں لاہور سے چونسا آموں کے ساتھ چند کتابیں بھی تحفے کے طور پر لے آئیں۔
کتابیں ملنے کے بعد میں نے حامد یزدانی کو فون کیا اور حامد یزدانی، طاہرہ، میں اور عظمیٰ عزیز یکجا ہوئے اور ہم نے کتاب کی اشاعت کو سیلیبریٹ کیا۔ طاہرہ ہمارے لیے مٹھائی کا ڈبہ لے کر آئیں۔ پھر ہم نے نوروز عارف کو فون کیا اور مونٹریال جا کر انہیں کتاب کا تحفہ پیش کیا۔ عظمیٰ عزیز ان کے لیے بھی مٹھائی کے ڈبے لے کر گئیں تا کہ سب کا سب کو مبارک باد کے لڈو کھلائے جائیں۔ ہمیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ کسی بچے کی پیدائش کی طرح نو مہینوں میں کتاب چھپ گئی ہے۔
عارف عبدالمتین پر کتاب مرتب کرنے سے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے ایک ادبی قرض ادا کر دیا ہو۔ عارف عبدالمتین دانائی کا سرچشمہ تھے۔ ان کی دانائی کے چشمے سے فیض حاصل کرنے والوں کی طویل فہرست میں بہت سے دوستوں ’طالب علموں اور پرستاروں میں حامد یزدانی اور نوروز عارف کے ساتھ اب میں بھی شامل ہوں۔
یہ میری خوش بختی کہ میں نے اپنی زندگی کی چند شامیں عارف عبدالمتین کی قربت میں گزاریں اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ حامد یزدانی اور نوروز عارف کی معاونت سے میں نے عارف عبدالمتین کے بارے میں ایک کتاب مرتب کی۔
ایک دفعہ جب میری نوروز عارف اور چندا کے بیٹے سروش سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں عارف عبدالمتین کی زندگی کے چند واقعات سنائے اور کہا
میں عارف عبدالمتین کا بھتیجا تھا اور آپ میرے بھتیجے ہیں اور ایک دن آپ یہ واقعات اپنے بھتیجے کو سنائیں گے اور ہم نسل در نسل دانائی کے اس چشمے سے سیراب ہوتے رہیں گے۔
مجھے یاد ہے میرے والد عبدالباسط فرمایا کرتے تھے کہ بادشاہ اپنے بچوں کے لیے محل اور باغات لیکن ادیب اور شاعر ’صوفی اور دانشور اپنے بچوں کے لیے دانائی کی باتیں وراثت میں چھوڑ کر جاتے ہیں۔ عارف عبدالمتین سے دانائی کا یہ رشتہ ہم سب کے لیے باعث صد افتخار ہے۔
رخصت ہونے سے پہلے میں آپ کی خدمت میں عارف عبدالمتین کی ایک یک مصرعی نظم
کتبہ
زیر زمیں گیا ہے وہ اپنی تلاش میں
اور ایک آزاد نظم پیش کرنا چاہوں گا جو انہوں نے اپنے بیٹے نوروز عارف کے لیے لکھی تھی۔
ننھا گلچیں
صبح دم جبکہ ابھی
گھر کے ہر فرد کی رگ رگ میں لہو کی صورت
عشرت خواب کی سرشاری رواں ہوتی ہے
میرا بیٹا ’مرا نوروز جھٹک دیتا ہے
نیند کی کھولتے نشے کی گرانباری کو
اور چپکے سے دبے پاؤں نکل جاتا ہے
پھول چننے کے لیے ساتھ کے باغیچے میں
اور جب لوٹ کے آتا ہے یہ ننھا گلچیں
خالی کر دیتا ہے دامن کو سرہانے میرے
آنکھ کھلتی ہے تو ہر روز میں بستر پہ پڑا پاتا ہوں
کتنے ہی تازہ مہکتے ہوئے پھول
اپنے نوروز کی معصوم محبت کے دلآویز سجیلے پیکر
میں کہ ہوں عارضہ دل کا اسیر
ایک مدت سے مرا ڈھلتا پگھلتا ہوا جسم
موت اور زیست کے دوراہے پہ استادہ ہے
جانے کس لمحے یہ زنجیر تنفس کٹ جائے
اور میں راہ عدم کا وہ مسافر بن جاؤں
جس کی رفتار سے ملتا ہے قیامت کا سراغ!
سوچتا ہوں کہ جب اس لمحہ سیال کے بعد
صبح دم پھول مرے واسطے لائے گا تو بستر مرا خالی پا کر
میرا بیٹا ’مرا نوروز۔ یہ ننھا گلچیں
فکر و احساس کے کس اجنبی گرداب میں کھو جائے گا





