حقوق مالاکنڈ جلسہ عام


امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے چکدرہ میں ”حقوق مالاکنڈ جلسہ عام“ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن کی ترقی پر کوئی خاص توجہ نہیں دی یہ علاقہ وسائل اور معدنیات سے مالامال ہے مگر یہاں سب سے زیادہ غربت ہے۔ سراج الحق کی اس بات سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو گا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں ترقی کے تمام امکانات موجود ہیں لیکن حکمرانوں کی عدم توجہی سے یہ ڈویژن ملک بھر کی طرح شہر ناپرساں کا منظر پیش کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کا شمار خیبر پختون خوا کے سب سے بڑے ڈویژنز میں ہوتا ہے۔ یہ ڈویژن نہ صرف رقبے اور اضلاع کی تعداد کے حوالے سے سب سے بڑا بلکہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی مجموعی نشستوں کے لحاظ سے بھی یہ دیگر ڈویژنز سے بڑا ہے۔ مالاکنڈ ڈویژن جو کہ اپر چترال، لوئر چترال، دیر بالا، دیر پائیں، باجوڑ، سوات، مالاکنڈ، شانگلہ اور بونیر کے نو اضلاع پر مشتمل ہے کی صوبائی اسمبلی میں 27 جبکہ قومی اسمبلی میں 12 نشستیں ہیں۔ اسی طرح یہ خیبر پختون خوا کا واحد ڈویژن ہے جس کی سرحد اگر ایک طرف گلگت بلتستان سے لگی ہوئی ہے تودوسری جانب دیر، باجوڑ اور چترال کے ذریعے اس کی سرحد افغانستان اور چترال کے ذریعے چین اور بالواسطہ طور پر واخان کی پٹی کے توسط سے وسطی ایشیائی ملک تاجکستان سے بھی ملی ہوئی ہیں جس سے اس کی بین الاقوامی اہمیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

دلکش قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ یہاں بدھا تہذیب کے آثار اور والئی سوات، نواب آف دیر اور مہتر چترال کے ادوار کے آثار قدیمہ بھی خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ مالاکنڈ کی ایک اور خاص بات اس خطے کے لاکھوں افراد کا روزگار کے لئے بیرون ملک مقیم ہونا ہے جن کی تعداد پاکستان کے کسی بھی ڈویژن سے سب سے زیادہ ہے۔ یہ تارکین وطن جہاں اپنے خاندانوں کی کفالت میں ہاتھ بٹھا رہے ہیں وہاں ان کا بھیجا جانے والا کثیر زرمبادلہ ملک کی معیشت کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ مالاکنڈ صوبے کا سب سے بڑا ڈویژن ہونے کے باوجود جہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر سہولیات کے حوالے سے کافی پسماندہ ہے وہاں امن و امان کے لحاظ سے بھی پچھلی دو دہائیوں سے متاثر چلا آ رہا ہے۔ سوات، دیر، بونیر، مالاکنڈ، شانگلہ اور باجوڑ کے اضلاع بدامنی کے شکار رہے ہیں لہٰذا اسی نسبت سے یہاں فوجی آپریشن بھی سب سے زیادہ ہوئے ہیں جس کا براہ راست اثر عام لوگوں کی زندگیوں پر پڑتا رہا ہے۔

مالاکنڈ میں جہاں زراعت، باغبانی، گلہ بانی اور سیاحت کا بے پناہ پوٹینشل موجود ہے وہاں تھوڑی سے توجہ اور منصوبہ بندی سے یہ علاقہ بجلی کی پیداوار کے سلسلے میں بھی صوبے کے ساتھ ساتھ ملک بھر کی ضروریات پوری کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو بجلی کی پیداوار کا اختیار ملنے کے بعد اگر صوبائی حکومت مالاکنڈ ڈویژن میں بجلی کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے پیداوار کے ذرائع سے استفادہ کرے تو اس سے نہ صرف صوبے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ بجلی کی اس پیداوار سے ہونے والی آمدنی کو صوبے کی مجموعی تعمیر اور ترقی کے لئے بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ بجلی کی پیداوار کے علاوہ مالاکنڈ کا دوسرا بڑا پوٹینشل سیاحت کا فروغ ہے۔ سیاحت کی بنیادی ضرورت امن و امان کو یقینی بنانے کے علاوہ سیاحوں کو درکار دیگر سہولیات کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی ہے جس میں اہم ترین نکتہ سڑکوں کی معیاری سہولیات کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقامات پر رہائش، خوراک، موبائل فون اور انٹرنیٹ پر مشتمل کمیونیکیشن کی جدید سہولیات کی فراہمی اہمیت کی حامل ہیں۔

حیران کن امر یہ ہے کہ سیاحت کے لئے مشہور مالاکنڈ ڈویژن میں صرف ایک چھوٹے درجے کا ائر پورٹ ہے جو بذات خود عرصہ دراز سے غیرفعال ہے۔ سوات کے اس ائر پورٹ کو جدید سہولیات اور وسعت کے ذریعے جہاں پورے مالاکنڈ ڈویژن کے بیرونی ملک مقیم لاکھوں شہریوں کی آسان نقل و حمل کے لئے بروئے کا ر لایا جا سکتا ہے وہاں اس ائر پورٹ کو سارے ڈویژن میں سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے بھی ایک اہم عامل کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے حتیٰ کہ یہاں سے چترال، کالام، مالم جبہ، بشام، بونیر، کمراٹ وغیرہ کے سیاحتی مقامات کے لئے پسنجر ہیلی کاپٹر سروس بھی فراہم کی جا سکتی ہے۔ سوات ائرپورٹ کی فعالیت سے اگر ایک طرف کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کوئٹہ کے اندرونی ملک سیاحوں کو آمدو رفت میں آسانی ہوگی تو دوسری جانب بیرون ملک سے بھی سیاحوں کی بڑی تعداد میں آمدو رفت کے مواقع پیدا ہوں گے۔

جہاں تک مالاکنڈ کے سیاسی منظر نامے کا تعلق ہے اس حوالے سے بھی مالاکنڈ بالعموم صوبے کی مجموعی سیاسی پوزیشن کی عکاسی کرتا رہا ہے بلکہ اگر اسے صوبے کے سیاسی بیرومیڑ سے تعبیر کیا جائے تو شاید بے جا نہ ہو گا۔ یہاں صوبے کے بعض ڈویژنز کے برعکس ہمیشہ ملا جلا سیاسی رجحان دیکھنے کو ملتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کچھ بھی یقینی طور پر کہنا مشکل ہوتا ہے۔ حرف آخر یہ کہ درج بالا تجاویز کے ساتھ ساتھ اگر مالاکنڈ کی وسعت اور اضلاع کے تعداد کو پیش نظر رکھتے ہوئے جماعت اسلامی کے حقوق مالاکنڈ ڈویژن کے جلسہ عام کے مطالبے کی روشنی میں اسے دو ڈویژنز میں تقسیم کیا جائے تو اس سے بھی اس ڈویژن کے انتظامی مسائل کافی حد تک حل ہو سکتے ہیں نیز اگر یہاں کی پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کم ازکم اگلے پانچ سال تک اسے ٹیکسوں سے چھوٹ دی جائے تو اس سے بھی اس پسماندہ علاقے کی تعمیر و ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

Facebook Comments HS