سعودی امن کوششیں


سعودی عرب کی نوجوان قیادت کچھ کر گزرنے کے اصول پہ شب و روز مصروف عمل دکھائی دیتی ہے۔ اندرون ملک پرانی روایات سے ہٹ کر کچھ نئی سوچ اور نت نئے امکانات کا ایک وسیع پیمانے پہ کام جاری ہے، نئے شہر آباد کیے جا رہے ہیں، کھیلوں کو بام عروج پر پہنچانے کے دنیا کے مشہور ترین کھلاڑیوں کو منہ مانگے داموں خرید کر گویا یہ یقینی بنایا جا رہا ہے کہ وہ اچھے اثرات چھوڑیں گے تاکہ نوجوانوں کی صحتمند سرگرمیوں میں شمولیت یقینی بنائی جائے۔

ادھر ترکی، قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کو قائم کرنے چین و جاپان کے ساتھ باہمی اشتراک عمل سے کاروبار کو ترقی دی جا رہی ہے۔ ایران کے ساتھ امن معاہدے کی پاسداری کر کے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ اس کے بہت دور رس مثبت نتائج ممکن ہوسکتے ہیں جس سے سعودی یمنی تناؤ میں واضح کمی آئی ہے، شام کی خون آشامی میں بھی خاصا فرق ثابت ہوا ہے۔ سوڈان میں جاری قبائلی لڑائی میں امن کوششیں بھی انتہائی قابل قدر ہیں۔ مگر جس حکمت عملی نے پوری دنیا کو انگشت بدنداں کر دیا ہے وہ روس اور یوکرائن کے درمیان امن مذاکرات کا انعقاد ہے جو عنقریب جدہ میں ہوں گے۔

اس عمل مذاکراتی عمل میں تیس سے زائد ممالک کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے امریکی سیکورٹی ایڈوائزر جیک سولہون بھی شریک محفل ہوں گے۔ توقع ہے اگر روسی خطے میں امن کی کوئی سبیل نکل آئی تو دنیا میں بڑی خوفناک جنگ کے خدشات کمتر ہوسکتے ہیں اور جس غذائی قلت سے بہت سے افریقی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک متاثرہ ہیں وہاں خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ سعودی عرب کی یہی خوبی ہے کہ اب اس کا عالمی سطح پہ نیا تعارف بحیثیت امن مصلح کار کے طور پہ ہو رہا ہے۔

سعودی سفارتکاری کو اس وقت ایک نہایت اہم کامیابی ملی جب روس اور امریکی قیدیوں کا تبادلہ کروایا گیا۔ دوسری طرف بین المذاہب کانفرنس کا انعقاد ریاض میں کروایا جا میں مسلمان، عیسائی اور یہودی ربیوں کو مدعو کر کے ایک نئی شروعات کی گئی جس سے خاصی بہتری آئی ہے۔ سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی کے بعد سعودی سفارتکاری کا اثر یہ تھا کہ فوری طور پہ سعودی وزیر خارجہ نے اپنے ہم منصب سے ٹیلی فون پہ بات کر کے مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کیا اور زور دیا کہ وہ تمام مذاہب اور الہامی کتابوں کے تقدس کا خیال رکھیں اور یہ بات عالمی امن کی ضامن ہے۔ اقوام اور افراد کی بہتری اور نشوونما اسی طور ہو سکتی کہ وہ وقت کے تقاضوں اور عالمی شعور کے مطابق فیصلے کرے۔

زمانہ چونکہ قیامت کی چال چل رہاھے تو ایسے میں امن عالم کی ہر کوشش کو سراہا جانا چاھیئے۔

Facebook Comments HS