فیمنزم کے باب میں چند مزید گزارشات
جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں فیمنزم ہمارے ماحول سے فی الحال بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ عورتوں کی تعلیم اور روزگار میں شرکت غیر ہے۔ میں اب اپ کو چند مثالیں دیتا ہوں۔ آپ کے لیے سمجھنا آسان ہو جائے گا کہ میرا مدعا کیا ہے۔ مثال کے طور پر مغربی ممالک میں یہ ہوتا ہے کہ جب لڑکا/لڑکی پندرہ سال کے ہوتے ہیں تو وہ اپنا کمانا شروع کر دیتے ہیں۔ یوں ان کا مکمل انحصار اپنے آپ پر ہوتا ہے، اور اپنے اوپر ان کا مکمل انحصار ان کی آزادی کا موجب بنتا ہے۔ جب کہ ہمارے یہاں ”بھائی“ جو ہیں وہی بہنوں کی شادیاں کرتے ہیں وہی پھر والدین کو سنبھالتے ہیں اور پھر بعد میں جب بہنیں چھٹیوں میں یا لڑ جھگڑ کر میکے آتی ہیں، خدانخواستہ طلاق ہو جائے یا کوئی معاشی تنگی ہو تو وہ اپنے بچوں سمیت بھائیوں ہی کے گھر رہتی ہیں۔ بھائی ہی بہنوں کے جہیز بناتے ہیں! ادھر عورت مکمل طور پر کبھی ایک مرد تو کبھی دوسرے تیسرے کی محتاج ہے۔ وہ آزادی لینے کے لیے تو تیار ہے لیکن خود مختار اور اپنی اس خود مختاری کے لیے عملی جدوجہد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ میں بارہا عرض کرتا ہوں کہ عورتوں کی خودمختاری کے بنا ان کی آزادی کی مانگ بے فائدہ ہے۔ محض نعرے اور فقرے بازی ہے! یہ آزادی کی فصل تب ہی کاشت اور فائدہ مند ہوگی جب اس کی بنیادوں میں اشتعال انگیز نعروں اور محض تقریروں کے بجائے کچھ عملی اقدام ہوں گے۔ جس عورت نے قدم قدم پر مرد کا محتاج ہونا ہے، بہترین رہائش سے لے کر ”ضرورت سے زائد اشیاء“ کے لیے بھی اللے تللے کرنے ہیں تو automatically مرد بھی اس سے محتاجوں اور مسکینوں والا سلوک ہی کرے گا۔ وہ اپنے احسانات گنوائے گا۔ یہاں تو بیس بائیس سال کا نوجوان جو ابا کے ٹکڑوں پہ عیاشی کر رہا ہوتا ہے، اگر باغی اور بدتمیز ہو جائے تو ابا اسے گھر سے نکال دیتے ہیں کہ جب تم نے میری بات ماننی ہی نہیں تو جاؤ اپنا راستہ دیکھو! اس صورتحال میں آپ خود بتائیے کہ یہاں ایک دم فیمنزم جیسی تحریک کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے، جدھر عورت ابھی تعلیم اور روزگار میں آئی ہی نہیں!
اب اس situation کو ایک اور طرح سے بھی سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی غریب کے دو بچے ہوں۔ ایک لڑکا اور دوسری لڑکی، اور ان دونوں میں سے اس نے کسی کو تعلیم کے لیے منتخب کرنا ہو تو وہ ظاہر ہے کسی ایک کا ہی کرے گا۔ وہ یقیناً اس کشمکش میں پھنسے گا کہ بیٹی صاحبہ نے اگر تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی گھر ہی بیٹھنا ہے اور اس کا کوئی محنت کرنے کا ارادہ نہیں ہے تو وہ پیسے ضائع ہی جائیں گے اور بالعموم ایسا ہوتا بھی ہے۔ ایسے میں جب اس کے پاس دونوں کو تعلیم دلوانے کے پیسے نہیں ہیں تو وہ کسی ایک کا انتخاب سوچ سمجھ کر ہی کرے گا۔ یہاں میں نچلے طبقے کی بات کر رہا ہوں۔ کیونکہ زیادہ پسماندگی نچلے طبقے میں ہی ہے، اور نچلا طبقہ اتنی دور دور کی سوچتا بھی نہیں۔ بلکہ اس کی نظر ظاہر اور جلد نتائج دینے والی چیزوں پر ہوتی ہے، تو اس صورتحال میں وہ تعلیم کے لیے لامحالہ بیٹے کا ہی انتخاب کرے گا۔ کیونکہ بیٹے سے اسے یہ امید یقیناً ہوتی ہے کہ اس کا یہ پیسہ جو وہ اس کی تعلیم پر لگا رہا ہے، ری ٹرن ضرور ہو گا۔ ایک اور بات، عورت کے سفر میں تعلیم حاصل کرنا بنیادی اور تھوڑا مشکل ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد روز گار تلاش کرنا اور سروائیو کرنا اتنا مشکل نہیں ہے۔ خواتین کے لیے بہت سارے میدان خالی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جو تعلیم حاصل کر چکی ہیں۔ ڈاکٹریٹ، وکالت اور انجینئرنگ وغیرہ کر چکی ہیں ان کا گھر بیٹھنا سمجھ میں نہیں آتا۔ دراصل ہمارے ہاں مرد عورت دونوں میں محنت سے بچنے اور مفت کھانے والا کیڑا موجود ہے!
یہ گزارشات محض اس لیے ہیں کہ فیمنزم کے لیے پہلے زمین تو ہموار کیجیے، زمین کو ہموار کیے بنا زہریلی کھاد سے فصل خراب اور نقصان دہ پیدا ہوتی ہے!


