تحفظ خوراک کے عالمی مسائل
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں 780 ملین سے زیادہ لوگوں کو بھوک کا سامنا ہے اور دنیا بھر میں پیدا ہونے والی تمام خوراک کا تقریباً ایک تہائی برباد یا ضائع ہو جاتا ہے اور تقریباً تین بلین لوگ صحت مند غذا کے حصول کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس حوالے سے ترقی پذیر ممالک کو اضافی مسائل کا سامنا ہے کیونکہ محدود وسائل اور قرضوں کا بوجھ انہیں ایسے نظام ہائے خوراک پر ضروری سرمایہ کاری سے روکتے ہیں جن سے پورے سماجی پیمانے پر غذائیت سے بھرپور خوراک حاصل کی جا سکتی ہے۔
موسمیاتی بحران کے پیچھے خوراک کی غیرمستحکم انداز میں پیداوار، پیکیجنگ اور صرف کا بھی کردار ہے اور یہ شعبے دنیا بھر میں ایک تہائی گرین ہاؤس گیسوں (جی ایچ جی) کے اخراج، دنیا میں تازہ پانی کے 70 فیصد استعمال اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کے ذمہ دار ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے عالمگیر بھوک پر قابو پانے، کاروباروں اور حکومتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے اور غذائی پیداوار پر متواتر موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات میں کمی لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
24 تا 26 جولائی اقوام متحدہ کے زیراہتمام ’نظام ہائے خوراک سے متعلق کانفرنس + 2 جائزے کا موقع‘ میں 160 ممالک سے 2، 000 سے زیادہ شرکا نے نظام ہائے خوراک کے بارے میں 2021 میں ہونے والی پہلی کانفرنس میں کیے گئے وعدوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔ شرکا نے اس حوالے سے حاصل ہونے والی کامیابیوں، ترجیحات کا ازسرنو تعین کرتے ہوئے اپنی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کی نشاندہی کی۔ کانفرنس میں خوراک کے ضیاع، موسمیاتی تبدیلی، صحت بخش خوراک، شراکت، سائنس و ٹیکنالوجی، قدیمی باشندوں کے علم اور خوراک کی نقل و حمل کے حوالے سے زرعی غذائی نظام میں تبدیلی لانے سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاسوں، بات چیت کے ادوار اور ذیلی اجلاسوں کا سلسلہ بھی شامل رہا۔
سیکرٹری جنرل نے اپنے خطاب میں اس حوالے سے عملی اقدامات کے لیے تین شعبوں کا حوالہ دیا۔ پہلی بات یہ کہ پائیدار نظام ہائے خوراک پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام ہائے خوراک پر سرمایہ کاری نہ ہونے کا عملی مطلب لوگوں کو بھوکا مارنا ہے۔ انہوں نے حکومتوں سے کہا کہ وہ ایس ڈی جی کے حصول کی رفتار بڑھانے کے ایک اقدام پر عمل کریں جس کی رو سے اس معاملے میں تمام ضرورت مند ممالک کو طویل مدتی مالی وسائل کی فراہمی کے لیے سالانہ کم از کم 500 بلین ڈالر جمع کیے جانا ہیں۔
دوسرے شعبے کا تذکرہ کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے حکومتوں اور کاروبار کرنے والوں سے کہا کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون کریں اور نظام ہائے خوراک وضع کرنے میں منافع پر لوگوں کو ترجیح دیں۔ اس میں تمام افراد کے لیے تازہ اور صحت بخش خوراک کی دستیابی میں اضافہ کرنے، منڈیوں کو کھلا رکھنے اور تجارتی رکاوٹوں اور برآمدی پابندیوں کا خاتمہ کرنے کے نئے طریقوں کا کھوج لگانا بھی شامل ہے۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ روس کی جانب سے بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمد کے معاہدے کے حالیہ خاتمے سے یہ صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔
اس معاہدے نے یوکرین کی بندرگاہوں سے لاکھوں ٹن خوراک کی برآمد کو ممکن بنایا تھا اور اقوام متحدہ کی جانب سے روس کے ساتھ اس کے ہاں پیدا ہونے والی خوراک اور کھادوں کی برآمد کے ایک متوازی معاہدے سمیت ان دونوں اقدامات نے عالمگیر غذائی تحفظ اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمد کے معاہدے کے خاتمے سے انتہائی بدحال لوگوں کو سب سے زیادہ نقصان ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمگیر غذائی تحفظ برقرار رکھنے میں روس اور یوکرین دونوں کا اہم کردار ہے اور انہیں امید ہے کہ ماسکو اس فیصلے کو واپس لے گا۔
روم میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام ’نظام ہائے خوراک سے متعلق کانفرنس + 2 جائزے کا موقع‘ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں وسائل کی فراوانی ہے لیکن اس کے باوجود لوگوں کا متواتر تکالیف سہنا اور بھوکوں مرنا شرمناک ہے۔
تحفظ خوراک سے مراد ایسی مثالی صورتحال ہے جس میں کسی علاقہ کے تمام افراد فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے لیے درکار اور محفوظ خوراک تک ہمہ وقت دسترس رکھتے ہوں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق تحفظ خوراک چار عناصر پر منحصر ہے : خوراک کی پیداوار، خوراک تک معاشی رسائی، رسد میں استحکام اور خوراک کا صحیح استعمال۔ تحفظ خوراک نہایت ضروری عمل اس لئے بھی ہے کیونکہ قومی پیداواری سرگرمیوں کے لیے صحت مند افراد درکار ہوتے ہیں اور بھرپور اور صحت مند خوراک ہی صحت مند افراد بنا سکتی ہے۔ وگرنہ پیداوار اور معیشت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چنانچہ غذائی تحفظ بالواسطہ یا بلا واسطہ انسان، ریاست، سماج اور معیشت سب کے تحفظ کا ضامن ہے۔
چین نے فوڈ سیکورٹی کا بخوبی ادراک کرتے ہوئے اسے عالمی ترقیاتی اقدامات میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی، بین الاقوامی فوڈ سیکورٹی تعاون کے اقدامات کو آگے بڑھایا، خوراک کے زیاں میں کمی کے تناظر میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا ہے اور تمام ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ خوراک کی تجارت کو کھلا رکھیں اور بین الاقوامی فوڈ انڈسٹری چین اور سپلائی چین کو ہموار کریں۔ یہ چین کا ہی خاصہ ہے کہ وہ فوڈ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور مزید منصفانہ اور معقول عالمی فوڈ سیکیورٹی گورننس سسٹم کو فروغ دینے کے لئے عالمی قوتوں کو یکجا کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ بھوک سے پاک ایک ہم نصیب عالمی معاشرہ قائم کیا جا سکے۔
یو این ایف ایس ایس + 2 کا انعقاد 2021 کے اقوام متحدہ کے فوڈ سسٹم سمٹ کے تناظر میں کیا گیا تھا، جس نے 2030 تک عالمی غربت اور بھوک کو کم کرنے کے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کو پورا کرنے کے لئے عالمی خوراک کے نظام کو تبدیل کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔ تاہم، روس اور یوکرین کے مابین تنازعہ کے آغاز اور توانائی کی قیمتوں میں عالمی اضافے اور اس کے بعد عالمی اقتصادی ترقی کی سست روی کے بعد سے ان اہداف تک پہنچنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل آمنہ محمد نے کہا کہ ایس ڈی جیز کو بچانے کے لیے وسیع تر کوششوں اور خوراک کے نظام کو سب کے لیے کارآمد بنانے کے لیے روزانہ کی ٹھوس کوششوں میں اس اجتماع کے جذبے کو آگے بڑھا نے کی ضرورت ہے۔


