ادھورے خواب

چند دن پہلے ایک قریبی دوست کے ساتھ اسلام آباد شہزاد ٹاؤن جانے کا اتفاق ہوا۔ دراصل میرا دوست کینیڈا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں بس اسی سلسلے میں ہم پاکستان میں سب سے بڑی پرائیویٹ کمپنی جیری گئے جو دنیا کے مختلف ممالک کے لئے ویزا پراسیس کرتی ہے۔ چونکہ اپوائنٹمنٹ کا وقت دس بجکر تیس منٹ تھا، ہم تقریباً نو بجے پہنچے۔ وقت کافی تھا تو اردگرد کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
پریشانی کی حد تک حیرانی ہوئی۔ وجہ اس پریشانی کی یہ تھی کہ مرد حضرات کی ایک نا ختم ہونے والی لمبی قطار لگی ہوئی تھی اور ہر کوئی اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ ساتھ ہی ایک لامحدود قطار خواتین کی بھی تھی، اور ان قطاروں میں تقریباً ”ہر عمر کے لوگ تھے۔ کسی کے پاس فائل تھا تو کسی نے شولڈر بیگ پکڑا تھا اوپر سے آفتاب بھی پورے آب و تاب سے چمک رہا تھا۔
ان قطاروں کے بالکل سامنے چھوٹی بڑی گاڑیوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، کوئی آ رہا ہے تو کوئی جا رہا ہے۔ ایک ہوش ربا نظارہ تھا۔
یہ منظر کوئی خوشگوار احساس دینے سے عاری تھا اس لئے کہ احساس جرم سے دل بوجھل ہو رہا تھا کہ ہم من حیث القوم کہاں جا رہے ہیں؟ کیا ہمارا ملک اور ہمارا سکہ اتنے سستے ہو گئے ہیں کہ ہر کوئی ان دونوں کو روندتے ہوئے گزر رہے ہیں۔ ایک اچھی اور خوشگوار زندگی کی امید لئے قابل لوگ دنیا کے مختلف ممالک میں دوسرے درجے کا شہری ہونے پہ فخر کرنے کے لئے اپنی مٹی کو خیرباد کہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔
روزانہ کی بنیاد پر اتنے لوگوں کا ویزا پراسیسنگ، درخواستوں پر عمل درآمد، درخواستوں کا قبول اور مسترد ہونا، بائیو میٹرک وغیرہ سب کچھ یہاں ہوتا ہے۔ ان میں اکثر لوگوں کو ویزا دوسرے ملک کے لئے ہو بھی جاتا ہے۔ پریشانی کی بات یہ ہے کہ یہاں کا بہترین دماغ دوسرے ملکوں میں اپنی خدمات انجام دیتا ہے۔ اور ملک خداداد کے حاکموں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
دراصل ملک کے کرتا دھرتا تو ہے ہی ذمہ دار لیکن اس مٹی کے باسی ہونے کے ناتے ہم پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ہم نے بھی کبھی اس ملک کو سنوارنے میں از خود کچھ نہیں کیا، اپنی ہر کمزوری کا ذمہ دار ہم نے حاکم وقت کو ٹھہرایا۔
ہم ہر وقت اپنی قسمت کا رونا روتے ہیں۔ یہ بات بالکل ماننے کے قابل ہے کہ یہاں قابلیت کی کوئی وقعت نہیں، یہاں میرٹ کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ لیکن اس کا یہ طریقہ نہیں ہونا چاہیے کہ اپنی صلاحیتیں ہم دوسروں کے پاس گروی رکھیں۔ یہ کم ازکم اپنی مٹی کے ساتھ انصاف نہیں۔
یورپ اور مغرب میں ہم جیسے لوگوں کو دوسرے درجے کے شہری کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور پھر اسی طرح کا سلوک جو دوسرے درجے کے لوگوں سے روا رکھا جاتا ہے بھی ہم برداشت کرتے ہی ہیں۔ کیونکہ روزی روٹی کا مسئلہ ہوتا ہے۔ جس کے لئے سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
قابل اور با صلاحیت لوگوں کا اس طرح چلے جانا ایک المیہ ہے۔ اور اس حقیقت کو یورپ اور مغرب بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ ایشیائی ممالک میں ذہانت، استعداد اور قابلیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ اور ہماری ترقی میں ان ایشیائی باشندگان کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔
آخر وجہ کیا ہے کہ ہم اپنا ملک چھوڑنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں؟ جو میرے ذہن میں ہیں شاید آپ کے اذہان میں بھی یہی ہے کہ حاکمین وقت کے پاس وقت ہی نہیں کہ ان باصلاحیت لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کریں۔ ان کو ریونیو سے کام ہے کہ جو پاکستانی باہر ہیں وہ زر مبادلہ کی مد میں ملک کو پیسے بھیجتے رہیں، چاہے وہ پردیس میں خوش ہوں یا پریشان، اس سے سرکار کا کوئی سروکار نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جو لوگ تعلیم یافتہ ہیں ان کو ان کی تعلیمی استعداد کے مطابق روزگار کے مواقع نہیں ملتے جس کی وجہ سے برین ڈرین ہوتا ہے۔ اور تیسری وجہ جو میری سمجھ میں آتی ہے کہ زیادہ پیسہ کمانے کی دھن میں یہاں اپنا سب کچھ داؤ پہ لگا کر یہ لوگ باہر ممالک چلے جاتے ہیں۔
بہرحال ہر دو صورت میں یہ ایک الارمنگ صورت حال ہے، کیونکہ جس تیز رفتاری سے برین ڈرین ہو رہا ہے کچھ ہی عرصہ بعد یہاں قحط الرجال جیسی صورت حال پیدا ہو جائے گی جو نا تو عوام کے حق میں بہتر ہو گا اور نا ہی ریاست کے حق میں۔

