عمران خان اور توشہ خانہ کیس: چند گزارشات


عمران خان کو سیشن عدالت اسلام آباد نے توشہ خان کیس میں مس ڈیکلریشن کا مرتکب ثابت ہونے پر 3 سال کی سزا سنا دی۔ عمران خان پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے توشہ خانہ سے تحائف وصول کیے، کچھ خرید کیے مگر الیکشن کمیشن کے ساتھ جمع کروائے گئے گوشواروں میں انہیں ظاہر نہیں کیا۔

مزے کی بات یہ ہے کہ عمران خان نے اس الزام کو کبھی غلط نہیں کہا۔ اسے تسلیم کیا مگر تکنیکی بنیادوں پر کیس کو طول دیا۔ خان صاحب کا اعتراض یہ تھا کہ یہ استغاثہ ایک Unauthorised شخص کی جانب سے دائر کیا گیا۔ میری دانست میں جو استغاثہ تھا وہ قانون تھا اور اس میں کوئی قانونی سقم نہیں تھا۔ دوسرا اعتراض تھا کہ عجلت میں کارروائی کہ گئی۔ تیسرا اعتراض تھا کہ خان صاحب کو اپنے دفاع میں گواہ پیش نہیں کرنے دیا گیا۔ اور سب اہم اعتراض جو ہر ملزم کو جج پہ ہوتا ہے وہ تھا یعنی کہ جج صاحب جانبدار ہیں یا جج صاحب بک گئے ہیں۔

اب انہیں اعتراضات پر تجزیہ درج ذیل ہے۔

پہلے اعتراض پر عرض ہے کہ روٹین کے اختیارات جو کہ اسپیشل نہ ہو وہ تمام ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز کو حاصل ہیں لہذا ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کی جانب سے دائر کردہ استغاثہ قانونی ہے اور قابل سماعت ہے۔ اس لئے 2 مرتبہ ڈسٹرکٹ کورٹ نے بھی یہی فیصلہ دیا۔ اور حتمی فیصلہ میں بھی یہی رائے اختیار کی۔

عجلت میں کارروائی پر اعتراض ہونا سمجھ سے بالاتر ہے جب جوڈیشل پالیسی ہی یہ ہے کہ مقدمات کا جلد سے جلد فیصلہ کیا جائے مزید جب نواز شریف کے کیس میں نظیر موجود ہے جب چھٹی کے دن بھی عدالت لگائی جاتی رہی۔ مزید عمران خان نے 11 ماہ تک ٹرائل کو تاخیری حربوں سے لٹکائے رکھا تو عجلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

رہا سوال گواہ پیش کرنے کا تو عدالت نے 342 کے بیان کے بعد عمران خان کو گواہ پیش کرنے کا موقع دیا مگر وہ پیش نہ کر سکے اور عدالت نے ان کا یہ حق ختم کرنے کا حکم صادر فرمایا۔

سب سے اہم اعتراض جانبداری کا پے تو یہ اعتراض ازل سے ابد تک ججز پر لگتا ہے، لگتا رہے گا۔ کیونکہ جب بھی ملزم کو سزا کا خدشہ ہو تو جج کے کردار پر سوال اٹھاتا ہے اس قبل نواز شریف نے بھی ارشد ملک پر ایسے ہی اعتراضات اٹھائے تھے۔

میری دانست میں ایک درست فیصلہ ہے۔

باقی عدالتی تاریخ میں جتنے مضحکہ خیز واقعات دیکھنے کو ملے ہیں، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کچھ بھی ممکن ہے۔ ہمایوں دلاور کا وکلا کے ساتھ رویہ قابل مذمت ہے۔ مزید میں اس عدالتی فیصلہ کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔

Facebook Comments HS