کیا نفسیاتی دباؤ سے نجات ممکن ہے


ہمارا ذہن بے لگام اور غیرارادی خیالات کا ریسنگ ٹریک ہے۔ ہر لمحہ بے ہنگم سوچیں ہمارے بالا خانے میں گھمن گھمیریاں کھاتی رہتی ہیں۔ ہمارے سر میں ہر وقت کوئی بولتا رہتا ہے۔ ہم اسے چپ کرانے کی سکت نہیں رکھتے ہیں۔ وہ بولتا جاتا ہے اور ہم اسے سنتے رہنے پر مجبور ہیں۔

شتر بے مہار خیالات ہمارے نفسیاتی دباؤ کا بنیادی سبب ہیں۔ ہر خیال زبردستی ہمیں اپنے کندھوں پر سوار کرتا ہے اور پھر کچھ ہی دیر بعد ہمیں کسی اور خیال کے حوالے کر کے معدوم ہوجاتا ہے۔ ہم کٹی پتنگ کی مانند خیالات کے بہاؤ پر بہتے رہتے ہیں۔ منفی خیالات جو سب کچھ چھن جانے کے خوف سے عبارت ہوتے ہیں، وہ نفسیاتی دباؤ کی شدت میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ نفسیاتی دباؤ جسے فرنگی کی زبان میں سٹریس سے تعبیر کیا جاتا ہے سے نجات کے لئے لازمی ہے کہ ہم ان خیالات کو اپنی شناخت بنانے سے ان کا کر دیں جو کسی بندر کی طرح ایک شاخ سے دوسری شاخ تک اچھلتے کودتے رہتے ہیں۔ ہمارے سر میں جو باتونی ہمہ وقت بولتا رہتا ہے اس کی سنی ان سنی کر دیں۔ وہ جو ہمارے اندر بولتا ہے وہ خوف اور غم کی اولاد ہے اور خوف و غم کی نسل کو بڑھانا اس کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔ اس باتونی کو اپنے ذہن کے تخت سے نیچے اتار دیں۔ اس باتونی کا واحد کام خیالات کے بلبلے پیدا کرنا ہے اور ہمارے ذہنی سکون کو غارت کرنا ہے۔ یہ سارے بے لگام خیالات مایا ہیں جو ہمیں حاضر و موجود سے بیزار کرتے ہیں۔ ان خیالات کے وجود کا ایک ہی مقصد ہے کہ ہمیں ماضی اور مستقبل کی غلام گردشوں میں سفر در سفر کرتے رہنے پر مائل رکھیں تاکہ لمحہ موجود ہماری توجہ سے محروم ہو جائے۔ زندگی زمانہ حال میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے ذہن کا بے لگام گھوڑا ہمیں ماضی کی یادوں کی جانب لے جاتا ہے یا پھر مستقبل کے سہانے خواب دکھا کر ہمیں زمانہ ء حال سے بیزار کرتا ہے۔

نفسیاتی دباؤ ہمارے نفسیاتی تصورات کی وجہ سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ ہم زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق بسر کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری دیرینہ خواہش ہوتی ہے کہ سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہو اور یہ کائنات اور ہماری زندگی ہمارے نفسیاتی تصورات کے سانچے میں ڈھل جائے۔ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔ ہمارے کنٹرول میں کچھ نہیں تھا، ہمارے کنٹرول میں کچھ نہیں ہے اور ہمارے کنٹرول میں کبھی بھی کچھ نہیں ہو گا۔ جب ہمارے اختیار میں کچھ نہیں ہے تو پھر نفسیاتی دباؤ کا ہونا بے معنی ہے۔ ہماری پریشانی اس وجہ سے ہے کہ ہم اپنی زندگی کا ہر پہلو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بے اختیاری کے سبب ہم کچھ بھی اپنے کنٹرول میں نہیں رکھ سکتے ہیں۔ ہم نہ پیدا اپنی مرضی سے ہوئے ہیں اور نا ہی اپنی مرضی سے وفات پائیں گے۔ پیدائش اور وفات کے درمیان زندگی کے مختصر وقفے میں بھی ہمارے اختیار میں کچھ نہیں ہے تو پھر نفسیاتی دباؤ کے ہونے کا کوئی سبب نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دنیا اور اس میں رہنے والے لوگ اپنی مرضی کے مطابق چلتے ہیں اور ہم جب انہیں کنٹرول کرنے کی سعئی ناکام کرتے ہیں تو سوائے فرسٹریشن کے اور کچھ ہاتھ نہیں آتا ہے۔

ذہن کے بے لگام خیالات کو نظرانداز کیجئے اور اپنے خدا کو اپنی زندگی کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا کر نہایت اطمینان سے مسافر بن کر زندگی بسر کریں۔ کوشش ضرور کریں لیکن اگر نتیجہ اپنی مرضی کے مطابق برآمد نہ ہو تو اداس نہ ہوں اور نتیجہ اگر اپنی مرضی کے مطابق نکل آئے تو اسے منجانب اللہ سمجھیں۔ یہ نفسیاتی دباؤ کو ختم کرنے کا تیر بہدف نسخہ ہے۔

Facebook Comments HS