میرا سنکی دوست اور توہین عوام ایکٹ
میرا ایک دوست دماغی طور پر تو بظاہر بالکل ٹھیک ٹھاک ہے لیکن مزاجاً سنکی ہے۔ آج کل اس کے دماغ پر ایک ہی بھوت سوار ہے اور وہ ہے ’توہین عوام‘ کا۔ وہ جس سے بھی ملتا ہے اسے کہتا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ جس تیز رفتاری سے قانون سازی کر رہی ہے وہ قابل دید ہے لیکن اسے قابل تحسین بنانے کے لیے پارلیمنٹ کوایک اور قانون فوراً بنانا چاہیے جس کا نام ’توہین عوام ایکٹ 2023‘ رکھا جائے۔
کل جب میں اس سے ملا تو اس نے بڑی شد و مد سے اس معاملے پر ایک تقریر جھاڑنا شروع کر دی۔ اس کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ اس ریاست میں ہر طاقتور ادارے کو توہین سے بچانے کے لیے قانون موجود ہے لیکن آئین کے مطابق جو لوگ ریاست ہیں یعنی پیپل آف پاکستان ان کو توہین سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔ میں نے اس جھلے کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ ایک تو 25 کروڑ لوگ بہت زیادہ ہوتے ہیں اور ان کو توہین سے محفوظ رکھنا کوئی آسان کام نہیں، دوسرا تم اپنے یوٹوپیا سے باہر آ جاؤ اور تیسرا یہ کہ چھوٹی موٹی گالی گلوچ اور پولیس کے ہاتھوں مار پیٹ سے یہ لوگ اب امیون ہو چکے ہیں لہذا پنجابی محاورے کے مطابق اب ایک نیا کٹا کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔
لیکن اس معاملے میں اس کا جنون قیس کے جنون سے کچھ کم نہیں اور اس کا خیال ہے کہ اشرافیہ کے اس پہاڑ کو وہ فرہاد کی طرح کھود کر عوام کے لیے اگر کوئی نہر نہیں تو چھوٹی موٹی نالی تو نکال ہی لے گا۔ وہ مجھ سے صرف یہ چاہتا ہے کہ میں اس کا نقطہ نظر آپ کے سامنے پیش کر دوں۔ اس کی بات تو بہت طویل ہے لیکن میں اختصار سے عرض کرتا ہوں۔
وہ کہتا ہے کہ اگر عوام کے نمائندے عالی شان محلوں اور کوٹھیوں میں رہیں اور انہیں منتخب کرنے والے گندے نالوں کے کناروں پر ٹوٹے پھوٹے مکانوں میں زندگی کے دن پورے کریں تو کیا یہ توہین عوام نہیں ہے؟ اگر آبادی کا ایک بڑا حصہ دو وقت کی باعزت روٹی سے بھی محروم ہو تو کیا یہ توہین عوام نہیں؟ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا اس شہر میں کوئی ایسا علاقہ ہے جہاں منشیات کا کاروبار نہ ہوتا ہو۔ جب میں نے کہا کہ میرے مشاہدے میں ایسا کوئی علاقہ نہیں تو اس نے فوراً اگلا سوال داغ دیا کہ کیا ایسا پولیس کی ملی بھگت یا عملی تعاون کے بغیر ممکن ہے؟ میرے چہرے پر سراسیمگی دیکھ کر اس نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور بولا ’ایگزیکٹلی۔ تم بتاؤ جب عوام کی حفاظت پر جرائم پیشہ لوگوں کو مامور کر دیا جائے تو کیا یہ عوام کی توہین نہیں؟ اگر لوگ گندے پانی میں اپنے جوتے ایک ہاتھ میں پکڑ کر اور دوسرے ہاتھ سے شلوار کو اونچا کرتے ہوئے سکول، دفاتر اور بازار جا رہے ہوں تو وہ تمہیں کوئی معزز شہری معلوم ہوتے ہیں؟ اگر اڑھائی کروڑ بچے سکول نہ جائیں اور جو سکول جائیں وہ ایسے ماحول میں پڑھیں جو گائے بھینسوں کے رہنے کے بھی قابل نہ ہو تو کیا یہ توہین عوام نہیں؟ اگر لوگ بغیر علاج کے بلک بلک کے جان دے دیں یا ایک ایک بستر پر تین تین مریض لٹائے جائیں تو کیا یہ عوام کی توہین نہیں ہے؟‘
چونکہ میری دانست میں وہ عزت اور توہین کا ایک بالکل ہی نیا اور ناقابل عمل مفہوم اپنے دماغ میں لے کر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ لیکن کہاں صاحب! آج اس کا جنون کچھ زیادہ ہی عروج پر تھا۔ اب اس کے ہونٹوں کے کنارے پر جھاگ بننا بھی شروع ہو گیا تھا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے خاموش رہنے کو کہا اور پھر گویا ہوا۔
’اگر ایک مقدمے میں مدعی اور مدعی علیہ سالہا سال تک اس اس لیے عدالت جاتے رہیں کہ ان کی عدالت میں حاضری ضروری ہے اور عدالت اپنا کام صرف اگلی تاریخ دینا ہی سمجھ لے تو کیا یہ توہین عوام نہیں؟ اگر سپریم کورٹ جیسی بڑی عدالت 20، 30 سال تک مقدموں کے سننے کے لیے وقت نہ نکال سکے تو کیا یہ عوام کی توہین نہیں ہے؟ اگر کسی شخص کو پھانسی دینے کے بعد سپریم کورٹ اسے باعزت بری کر دے تو کیا یہ عوام کا مذاق اڑانا نہیں؟‘ میں نے اسے درمیان میں ٹوک کر کہا کہ یہ اکا دکا واقعات ہیں جن میں جیل حکام کی غفلت کو بھی دخل ہے۔ صرف سپریم کورٹ پر الزام دھرنا درست نہیں۔ اس نے بہت درشتی سے پوچھا تو گویا ان لوگوں کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں تھی جنہیں پہلے بغیر کسی جرم کے سالہا سال ان کی آزادی سے محروم رکھا گیا اور پھر زندگی سے بھی محروم کر دیا گیا۔ کیا ان واقعات کے بعد کسی نے کوئی اصلاحی اقدامات کیے۔ کیا سپریم کورٹ نے 60 ہزار سے زائد زیر التوا مقدموں کو نمٹانے کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی۔ کیا یہ 25 کروڑ لوگوں کی توہین نہیں کہ ان کی آزادی اور زندگی کسی کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ’۔
اس کی اس طویل تقریر سے، جس کا اختتام اب مجھے کہیں نظر نہیں آ رہا تھا، اکتا کر میں نے اس سے پوچھا کہ پھر کیا کریں؟ یہ تو بتاؤ۔ لیکن اس کا ہذیان اب بہت بڑھ چکا تھا۔ اس نے کہا کہ ریاست عوام سے ہوتی ہے اور عوام کے لیے ہوتی ہے۔ عوام کو نظر انداز کر کے محض جغرافیہ کو محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔ سوویت یونین جیسی سپر پاور ایسا نہیں کر سکی۔ لہذا جب تک ہم عوام کی توہین میں خاطر خواہ کمی نہیں لے آتے کسی ادارے کو توہین کے قانون کا تحفظ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ اگر گلیوں میں گٹر کا گندا پانی بہہ رہا ہو تو متعلقہ افسران کو توہین عوام ایکٹ مجریہ 2023 کے تحت سزا دی جانی چاہیے۔ اگر عدالت مقدمے نہیں سنتی اور ان پر فیصلہ نہیں کرتی تو ججوں کو توہین عوام کے جرم میں سزا ہونی چاہیے۔ اگر پارلیمنٹیرینز اور افسران کا معیار زندگی عوام کے معیار زندگی سے بلند ہو تو توہین عوام قانون کے تحت انہیں ان عہدوں کے لیے نااہل قرار دے دینا چاہیے۔ اگر کسی علاقے میں لاقانونیت بڑھ جائے اور غیر قانونی دھندے شروع ہو جائیں تو پولیس کے متعلقہ افسران کو توہین عوام قانون کے تحت سزا دی جانی چاہیے۔
میں نے ہونقوں کی طرح اس کو دیکھا۔ میں سمجھ گیا تھا کہ میرا یہ دوست صرف مزاج کا نہیں، دماغ کا بھی سنکی ہے۔ وہ آئیڈیل ازم کا شکار ہے۔ چونکہ وہ تازہ تازہ کسی مغربی ملک کی سیر سے واپس آیا ہے لہذا وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بھی ویسا ہی چاہتا ہے۔ اس کے خیال میں یہ سب کچھ نہایت آسانی سے ممکن ہے۔ اس کی دیوانگی اسے یہ سمجھنے نہیں دے رہی کہ قابض قوتیں قبضہ نہیں چھوڑتیں۔ وہ انتہائی زوال کے زمانے میں بھی اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے قانون سازی کرتی ہیں۔


