ساتویں مردم شماری کے نتائج اور ہمارا مستقبل
ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان کی مشترکہ مفادات کونسل نے اپنے پچاسویں اجلاس میں ملک بھر میں سال 2023 میں ہونے والی ساتویں مردم شماری کے نتائج کی متفقہ طور پر منظوری دے دی اور اب نوٹیفیکیشن کے اجراء کے بعد یہ نافذ العمل ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس مردم شماری پر ملک کے ہر کونے سے شکوک و شبہات اور سوال اٹھائے جا رہے تھے یک دم اس پر اتفاق رائے کیسے ہو گیا؟ تو یہ بلاوجہ نہیں ہوا گا یعنی سب کی سب خواہشیں پوری کی گئی ہوں گی اور خواہش بھی کیا صرف یہ کہ ہماری آبادی زیادہ لکھی جائے، کسی کے خوف کو آبادی بڑھا کر ختم کیا گیا ہو گا، کسی کے شوق کو آبادی بڑھا کر پورا کیا گیا ہو گا اور کسی کے خدشات کو آبادی بڑھا کر پورا کیا گیا ہو گا
اور یہ آبادی بڑھانے کی خواہش کیوں ہے صرف اس لئے کہ قومی اسمبلی میں نمائندگی کے ساتھ ساتھ نیشنل فنانس کمیشن کے ذریعے بھی اور دیگر تمام وسائل کی تقسیم میں بھی آبادی سب سے بڑے عنصر کے طور پر موجود ہے۔ پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری آبادی میں اضافہ رک نہیں رہا، ہماری آبادی میں کمی کیوں نہیں ہو رہی۔ بھلا آبادی کیسے کم ہو گی جب آبادی زیادہ ہونے سے زیادہ پیسے اور پاور ملیں گے تو مومن پیسے اور پاور کے لئے ہر جتن کرے گا، زیادہ بچے پیدا کرے گا اور مزید زیادہ لکھوائے گا
ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم قومی وسائل کی تقسیم کو کارکردگی سے مشروط کر دیں کہ کس صوبے سے زیادہ ٹیکس وصول ہوئے، کس صوبے نے تعلیم، صحت، زراعت اور انفراسٹرکچر وغیرہ میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھائی وغیرہ وغیرہ اور آبادی یا تعداد کا حصہ اس مالیاتی تقسیم میں صرف بیس یا پچیس فیصد تک محدود کر دیا جائے ( ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں قومی مالیاتی تقسیم میں آبادی کے حصے کا تناسب صرف پندرہ فیصد ہے )
لہذا اس بار بھی مردم شماری پر مبنی آبادی کو بنیاد بنا کر نیشنل فنانس کمیشن کے ذریعے قومی وسائل کو تقسیم کرنے کے عمل کے ذریعے ہم صرف مزید آبادی بڑھوانے اور لکھوانے کی ترغیب ہی دے رہے ہوں گے دوسری جانب یہ بھی اہم ہے کہ کیا عالمی ادارے ہماری آبادی کے اعداد و شمار کو وقعت دیں گے یا معاملات کو اپنے اندازوں کے مطابق لیں گے
اس کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ جس طرح مردم شماری میں مادری زبان کا اندراج کروایا جاتا ہے اور اسلام و دیگر مذاہب کا اندراج کرایا جاتا ہے اسی طرح آئندہ مردم شماری میں خود کو مسلمان لکھنے والے کے لئے اپنے مسلک کے اندراج کا خانہ بھی رکھا جائے جیسے سنی، شیعہ، دیوبندی، اہلحدیث، اسماعیلی وغیرہ تا کہ اس ضمن میں بھی صاف اور واضح صورتحال سامنے آ سکے اور ملکی سطح پر مبالغہ آمیز دعووں اور اس معاملے پر چھائی شدید دھند کا خاتمہ ہو سکے۔
دھندلکے سے چوروں اور چور دروازوں کا رشتہ بہت پرانا ہے۔


