اردو اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان

اسٹیبلشمنٹ، اردو، میڈیا منیجمنٹ، ذہن سازی، شہری پاکستان، قوم پرست رجحانات، عمران خان، الیکشن 2018، آج 2024 اس پوسٹ کو جو مرضی عنوان دے لیں لیکن ہے یہ اردو کی اثر پذیری کے حوالے سے، اردو جو پاکستان کی قومی زبان ہے جو ہمارے مقتدر طبقات ہمارے لئے پسند کی ہے جبکہ خود وہ اپنے لئے انگریزی کو پسند کرتے ہیں۔ اور وہ جو خود تو انگریزی بولنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم پاکستانیوں پر حکومت اردو کے ذریعے

Read more

لاہور اور پنجاب پر نئی آفت

مجھے لگتا ہے کہ پنجابیوں کی قریب کی نظر بہت تیز ہے اور وہ فوری فائدے کو فوراً بھانپ لیتے ہیں جبکہ ان کی دور کی نظر بہت زیادہ کمزور ہے اور انہیں مستقبل کے خدشات اور تباہی کا ادراک نہیں ہوتا یا وہ اس طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور اپنی قومی شناخت اور زبان کے قتل کے بعد اب قومی خودکشی کی راہ پر بھی خراماں خراماں گامزن ہیں یہ تکلیف دہ سطور یوں لکھنا

Read more

ساتویں مردم شماری کے نتائج اور ہمارا مستقبل

ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان کی مشترکہ مفادات کونسل نے اپنے پچاسویں اجلاس میں ملک بھر میں سال 2023 میں ہونے والی ساتویں مردم شماری کے نتائج کی متفقہ طور پر منظوری دے دی اور اب نوٹیفیکیشن کے اجراء کے بعد یہ نافذ العمل ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس مردم شماری پر ملک کے ہر کونے سے شکوک و شبہات اور سوال اٹھائے جا رہے تھے یک دم اس پر اتفاق رائے کیسے ہو گیا؟ تو یہ

Read more

اٹھارویں ترمیم ، سندھ اور باقی صوبے

اٹھارہویں ترمیم کے بعد اب ملک بھر کے صوبوں میں سماجی بہتری کے تقریباً معاملات کا دار و مدار صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر ہے۔ اس سلسلے کی ایک مثال صوبہ سندھ سے ہے جہاں صوبائی حکومت نے صحت کارڈ جیسے منصوبوں کے ذریعے نجی اسپتالوں کو فنڈز کی منتقلی کے بجائے صوبہ بھر میں جدید سرکاری اسپتالوں کا نظام قائم کیا جہاں نا صرف صوبے کے عوام کا علاج مفت ہوتا ہے بلکہ دوسرے صوبوں سے بھی لوگ مفت

Read more

بلاول کے منتظر پنجاب اور پنجابیوں کی نئی نسل

محترم فرخ سہیل گوئندی کی کتاب ”میں ہوں جہاں گرد“ پڑھتے ہوئے معلوم ہوا کہ ترکی نے اپنے ملک میں موجود کرد ریجن میں کرد آبادی پر کردش زبان پڑھنے اور لکھنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے اور درمیان میں کچھ عرصہ تو پبلک مقامات پر بھی انہیں اپنی زبان بولنے کی اجازت نہیں تھی حالانکہ کرد وہاں کی سب سے بڑی اقلیتی آبادی ہے اور ترکی کی کل آبادی کے بیس فیصد کے لگ بھگ ہیں۔ یقیناً ایسا

Read more

مشرق کی بیٹی

اس عورت نے جو اگر زمانہ قدیم کا کوئی کردار ہوتی تو دیوی پکاری جاتی، کیا کیا ظلم نہیں دیکھا، جھیلا اور سہا لیکن کبھی ظلم کے جواب میں ظلم نہیں کیا ہاں ظالم کو ضرور للکارا لیکن جب بھی بدلہ لینے کی طاقت ملی تو معاف بھی کر دیا انہیں کون کون سی نفرت کا نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن کبھی جواب میں نا ہی نفرت کی نا ہی نفرت سکھائی بلکہ محبت اور درگزر کو اپنی طاقت بنایا

Read more

برصغیر کے مسلمانوں کا یرغمال مذہبی رجحان

ہندوستان میں 1857 کے بعد مسلمانوں کی (علامتی ہی سہی) حکومت کے خاتمے اور انگریز کے قابض ہونے کے بعد مسلمانوں کا اعتماد اور حوصلہ شدید مجروح ہوا ان کا احساس حکومت اور احساس ملکیت جاتا رہا اور جس برتے پر وہ پراعتماد طور پر مملکت کے امور میں شریک کار تھے وہ جاتا رہا اور انہوں نے نفسیاتی طور پر ہتھیار ڈال دیے، عوام تو سرے سے ڈھے گئے سیاسی قیادت یا کوئی اجتماعی تنظیم سازی تھی ہی نہیں،

Read more

اوورسیز پاکستانی

اوورسیز پاکستانی ہماری معاشی اور معاشرتی لائف لائن ہیں، انہوں نے پچھلے سال 29 ارب ڈالر پاکستان بھیجے اس مالی سال 32 ارب ڈالر اور آئندہ مالی سال 36 ارب ڈالر کا تخمینہ ہے اس مالی سال ہماری کل برآمدات صرف 30 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 70 ارب ڈالر ہیں تو یہ جو 40 ارب ڈالر کا سیدھا سیدھا خسارہ ہے اس میں سے 32 ارب ڈالر انہیں اوورسیز پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے زرمبادلہ کے ذریعے ادا کیے جائیں گے

Read more

ہیجان کے بعد

اب جبکہ ہیجان تھم چکا ہے تو کچھ متفرق باتیں عرض کرنی ہیں ہمارا آئین اپنی ساخت میں بہترین ہے اور اس میں خود اپنی اصلاح کی لچکدار گنجائش بدرجہ اتم موجود ہے اور اس پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد سے یہ ہمیں ایک باقاعدہ اور عظیم قوم بنا سکتا ہے عمران خان کی حکومت نہیں رہی لیکن وہ خود اور ان کی جماعت موجود ہیں اور پورے پاکستان میں اپنی موجودگی رکھتے ہیں اور گو کہ

Read more

ہم کون تھے، ہم کون ہیں

ہم دنیا کا سب سے پرانا سماجی اور معاشی نظام تھے، ہمارا ہر گاؤں ایک کمیون تھا، ہر گاؤں ازخود اپنی بنیادی ضروریات زندگی میں خودکفیل تھا، بنیادی ضرورت کے ہنر مند اور پیشہ ور جیسے بڑھئی، لوہار، جولاہے، کمہار، موچی، نائی، قصائی، تیلی وغیرہ ہر گاؤں میں موجود ہوتے تھے اکثریت کسانوں اور اس کے بعد چرواہوں کی ہوتی تھی یہ پیشے یا ہنر ضرورت اور مہارت کی بنیاد پر کوئی بھی سیکھ اور اپنا سکتا تھا نا ہی

Read more

پاکستانی ہوائی اڈے امریکا کو دینا درست ہو گا؟

اب پاکستانی قوم کو یہ نیا جھانسہ بلکہ خوف بیچا جا رہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد اگر ہم نے اس کو فوجی اڈے فراہم نہ کیے تو بھارت اپنے مقبوضہ کشمیر میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کر دے گا اور یہ کہ اس طرح امریکہ ہمارے سر پر آ کر بیٹھ جائے گا اور سی پیک کو متاثر کرے گا اور چین اور پاکستان کے رابطے کے راستوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت

Read more

”امریکی انتخابات کا ایک پریشان کن زاویہ اور پاکستان کی مماثلت“

شمال مشرق اور مغربی امریکہ کی جن ریاستوں میں سفید فام آبادی کہیں ستر کہیں اسی اور کہیں نوے فیصد کے قریب ہے وہاں پر وہ اپنے کمفرٹ زون میں ہیں اور انہیں بطور سفید فام کسی چیلنج کا سامنا نہیں تھا وہاں انہوں نے نسبتاً آزاد ذہن کے ساتھ میرٹ پر ڈیموکریٹ کو ووٹ کیا جبکہ وسطی اور جنوبی ریاستوں کے سفید فام امریکی جنہیں رنگداروں کے ڈیموگرافک دباؤ اور روزگار میں مسابقت کا سامنا ہے اور جو اپنے طرز زندگی میں تبدیلی کے خطرات سے خائف ہیں وہ ڈونالڈ ٹرمپ کی شکست پر افسردہ اور غصے میں ہیں اور ڈونالڈ ٹرمپ کی ہار کے باوجود ان کو ڈالے جانے والے غیر معمولی پاپولر ووٹ اس کا کھلا اظہار ہیں

Read more

مسلم لیگ نون کی کمزوری اور اس کے اثرات

بد قسمتی سے اس وقت مسلم لیگ نون کے پاس کوئی سیاسی نظریہ نہیں۔ نا ہی نظریاتی کارکن، نا ہی ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل سطح تک تنظیمی اسٹرکچر، نا ہی رابطہ دفاتر، اور نا ہی ملک گیر موثر موجودگی۔ زیادہ سے زیادہ کچھ بڑے لیڈر اور کچھ الیکٹیبل ہیں اور ان کے ڈیرے اور اوطاقیں۔ لیڈر اگر جیل جائیں گے اور الیکٹیبل کسی دوسری پارٹی میں، تو پھر وہ کوئی نتیجہ خیز تحریک کیسے چلا سکتے ہیں! انہیں کئی دفعہ کئی سالوں کا وقت ملا، مگر ان کی توجہ جوڑ توڑ اور مخالفین کی ٹانگیں کھینچنے کی طرف رہی۔ نا ہی وہ اپنی پارٹی کا کوئی واضح اور منفرد منشور یا بیانیہ تشکیل دے سکے اور نا ہی کسی عوامی ضرورتوں اور پذیرائی پر مبنی کسی نظریے کے تحت نظریاتی کارکنوں کی کوئی کھیپ تیار کر سکے۔

نا کوئی اسٹڈی سرکل، نا ہی اپنے کارکنوں کی تعلیم و تربیت کا کوئی نظام و انتظام کیا اور نا ہی اپنی پارٹی میں ذیلی تنظیموں کے ادارے قائم کیے۔ ہر موقع پر بس ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اختیار کیے رکھی وقتی فائدوں کے لئے وقت کے ساتھ بدلتے پاپولر نعروں پر مبنی موقف اپنائے، جو کہ کبھی کبھی تو متضاد بھی رہے، کبھی کسی کی حمایت کر کے جیت گئے۔ کبھی کسی کی مخالفت کر کے۔ خود اپنا کوئی موقف کوئی پروگرام پیش کرنے اور اس پر کامیابی حاصل کرنے میں نا کام رہے۔ اب جب کہ وہ نواز شریف کی سربراہی میں حکومت مخالف تحریک کی طرف بڑھ رہے ہیں، تو ان کی نظریاتی، تنظیمی اور حکمت عملی کی یہ کمزوریاں واضح ہو کر سامنے آ رہی ہیں۔

Read more

کملا ہیرس کی نامزدگی اور پاکستانی

انڈین ماں اور جمیکن باپ کی بیٹی کملا ہیرس کو آج ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے آئندہ امریکی انتخابات میں نائب صدر کے عہدے کے لئے باقاعدہ نامزد کر دیا گیا ہے جبکہ صدر کے لئے جو بائیڈن کو نامزد کیا گیا ہے کملا ہارس کی نامزدگی سے انڈین کمیونٹی بہت خوش ہے جبکہ کمیلا ہیرس انڈیا بلکہ جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والی پہلی فرد ہیں جو امریکی نظام مملکت میں اس درجہ تک پہنچی ہیں، اس میں

Read more

فاشزم کا ہم صرف نام ہی سنتے ہیں

بھارت میں مسلمان لگ بھگ بیس کروڑ ہیں اور کل آبادی کا پندرہ فیصد، بالکل محب وطن بھی ہوں گے لیکن سماجی دباؤ اور سرکاری پالیسیوں نے ایسا کس کر اور دیوار سے لگا کر رکھ دیا ہے کہ ہر سطح پر، ہر فورم پر، ہر جگہ پر جے ہند جے ہند کرتے پھرتے ہیں اور پھر بھی انہوں نے اتنی جارحیت سے شک اور نفرت کی نوک پر رکھا ہوا ہے کہ ہر گھڑی جان و آبرو کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور ان سے مزید پسپائی کے مطالبے کیے جاتے ہیں۔ کبھی پاکستان کو برا بھلا کہنے کے، کبھی بندے ماترم پڑھنے کے اور کبھی اپنے مذہب کو برا بھلا کہنے کے، کہیں ان کی مذہبی رسومات کی ادائیگی سے روکنے کے۔

Read more

جب بے نظیر نے برستی گولیوں میں بوسنیا کا دورہ کیا

دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں بھونچال آ گیا جب پاکستان کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا کہ وہ سراجیوو جائیں گی۔ بوسنیا میں تین سال سے جنگ جاری تھی اور سابق یوگوسلاویہ کی نسل پرست سرب افواج نے نہتے مسلمانوں کی نسل کشی کا خونی کھیل شروع کر رکھا تھا، ایک لاکھ بے گناہ مسلمان شہید ہو چکے تھے، لاکھوں ہجرت کر چکے تھے، ہزاروں مسلمان خواتین کی بے حرمتی کی گئی تھی اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو عقوبت خانوں میں اذیتیں دی جا رہی تھیں اور اکثر مقامات پر یہ ظلم عالمی امن فوج کی موجودگی کے باوجود ہو رہا تھا، نومولود مسلم اکثریتی ملک کے دار الحکومت سراجیوو کے محاصرے کو دو سال ہو چکے تھے اور زندگی پر موت کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔

Read more

لاک ڈائون میں خوراک کی تقسیم کیسے کی جائے

اٹھارویں ترمیم کے بعد زیادہ تر مالی اور انتظامی اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، قابلِ تقسیم رقم کا % 57.5 صوبوں کو ملتا ہے۔ جبکہ صرف % 42.5 وفاق کے حصے میں آتا ہے، موجودہ ابتلاء میں صوبے اس رقم کا درست استعمال کریں اور اپنی انتظامی صلاحیتوں کو موثر انداز میں استعمال کر سکیں تو کسی ہا ہا کار اور چیخ پکار کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، اہم مسئلہ یہ ہے کہ صوبوں نے خود تو

Read more