بد قسمتی سے اس وقت مسلم لیگ نون کے پاس کوئی سیاسی نظریہ نہیں۔ نا ہی نظریاتی کارکن، نا ہی ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل سطح تک تنظیمی اسٹرکچر، نا ہی رابطہ دفاتر، اور نا ہی ملک گیر موثر موجودگی۔ زیادہ سے زیادہ کچھ بڑے لیڈر اور کچھ الیکٹیبل ہیں اور ان کے ڈیرے اور اوطاقیں۔ لیڈر اگر جیل جائیں گے اور الیکٹیبل کسی دوسری پارٹی میں، تو پھر وہ کوئی نتیجہ خیز تحریک کیسے چلا سکتے ہیں! انہیں کئی دفعہ کئی سالوں کا وقت ملا، مگر ان کی توجہ جوڑ توڑ اور مخالفین کی ٹانگیں کھینچنے کی طرف رہی۔ نا ہی وہ اپنی پارٹی کا کوئی واضح اور منفرد منشور یا بیانیہ تشکیل دے سکے اور نا ہی کسی عوامی ضرورتوں اور پذیرائی پر مبنی کسی نظریے کے تحت نظریاتی کارکنوں کی کوئی کھیپ تیار کر سکے۔
نا کوئی اسٹڈی سرکل، نا ہی اپنے کارکنوں کی تعلیم و تربیت کا کوئی نظام و انتظام کیا اور نا ہی اپنی پارٹی میں ذیلی تنظیموں کے ادارے قائم کیے۔ ہر موقع پر بس ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اختیار کیے رکھی وقتی فائدوں کے لئے وقت کے ساتھ بدلتے پاپولر نعروں پر مبنی موقف اپنائے، جو کہ کبھی کبھی تو متضاد بھی رہے، کبھی کسی کی حمایت کر کے جیت گئے۔ کبھی کسی کی مخالفت کر کے۔ خود اپنا کوئی موقف کوئی پروگرام پیش کرنے اور اس پر کامیابی حاصل کرنے میں نا کام رہے۔ اب جب کہ وہ نواز شریف کی سربراہی میں حکومت مخالف تحریک کی طرف بڑھ رہے ہیں، تو ان کی نظریاتی، تنظیمی اور حکمت عملی کی یہ کمزوریاں واضح ہو کر سامنے آ رہی ہیں۔
Read more